• 20 جون, 2021

خلافت ضامنِ امنِ حقیقی خوف سے خالی

خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کو
خلافت نے فرشتوں کا کیا مسجود آدم کو
خدا کا ہاتھ پنہاں ہے خلافت کے ارادوں میں
مرادیں حق کی شامل ہیں خلافت کی مرادوں میں
خلافت شہپرِ پروازِ آدم کی توانائی
یدِ بیضا خلافت ہے خلافت ہے مسیحائی
خلافت ناتوانوں کی توانائی کا سرمایہ
خلافت سے غریبوں پر خدا کے فضل کا سایہ
خلافت سے میسر دین کو تمکین ہوتی ہے
خلافت میں سراسر قوتِ تکوین ہوتی ہے
خلافت مرکزِ پرکارِ جوشِ کامرانی ہے
خلافت کیا ہے اکسیر حیات جاودانی ہے
خلافت ہے دلیل ایمان کی اور نیکو کاری کی
خلافت ہے دلیل امت پہ لطف و فضلِ باری کی
خلافت میں نہاں راز دوامِ شادکامی ہے
فدا ہے حریت جس پر خلافت کی غلامی ہے
خلافت سے عبادت زندگی کا نور پاتی ہے
نشاطِ جانفروز جلوہ ہائے طور پاتی ہے
خلافت عصمتِ صغریٰ عطا کرتی ہے ملت کو
ہلاکت سے مصیبت سے بچا لیتی ہے امت کو
خلافت کے وسیلے سے جہاں زیرنگیں کرلو
جہاں کا ذکر کیا کون و مکان زیرِ نگیں کرلو
خلافت ہی بالفاظ دِگر ہے قدرتِ ثانی
جہاں کی بزم میں آئینہ دار شان رحمانی
ہیں پھل نخلِ خلافت کے جہانگیری جہانبانی
خلافت ہے سراسر مہبطِ الطافِ ربانی
خلافت سے اشاعت حق کی دنیا کے کناروں تک
صداقت پھیلتی ہے ریگ زاروں کوہ ساروں تک
خلافت اُمت مرحوم میں موعودِ ربانی
بغیر اِس کے پنپ سکتی نہیں شاخِ مسلمانی
خلافت شاہبازوں سے ممولوں کو لڑاتی ہے
یہی آئینِ فطرت ہے خلافت غالب آتی ہے
خلافت سے شعور قوم کو تابندگی حاصل
اِسی کے فیض سے تنظیم کو ہے زندگی حاصل
خلافت ضامنِ امنِ حقیقی خوف سے خالی
اِسی سے وحدتِ باری کی پاتی ہے نمو ڈالی
خلافت سے حزف ریزے بہا پاتے ہیں گوہر کی
چمک ذروں میں ہوتی ہے نمایاں مہرِ انور کی
حصار عافیت ہے خیر و خوبی کا خزانہ ہے
خلافت سے جدا ہونا شعارِ فاسقانہ ہے

(کلام میراللہ بخش تسنیمؔ مرسلہ میر نسیم الرشید جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جون 2021