• 15 اگست, 2022

مگر تم ہو کہ پہلوں کی مثالوں سے نہیں ڈرے

اندھیروں سے نہیں ڈرتے، اجالوں سے نہیں ڈرتے
خمارِ عشق ہے، سختی کے پیالوں سے نہیں ڈرتے

محمد مصطفیٰؐ کی ہے غلامی کا نشہ ہم کو
ہم ایسے چھوٹے موٹے تاج والوں سے نہیں ڈرتے

وہ بیوہ اپنے بچے سے یہ کہتی ہے کہ مسجد جا
کہ ہم وہ لوگ جو ایسے ملالوں سے نہیں ڈرتے

گزشتہ اک صدی کا یہ نتیجہ تم نہیں سمجھے
خدا والے تری بد مست چالوں سے نہیں ڈرتے

کئی آئے کہ ’’ہم کشکول ہاتھوں میں تھما دیں گے‘‘
مگر تم ہو کہ پہلوں کی مثالوں سے نہیں ڈرے

عدو لاچار ہو کر خود سے یہ تو پوچھتا ہوگا
کہ یہ کیوں جان جانے کے خیالوں سے نہیں ڈرتے

قمر! طاقت کا، دولت اور شہرت کا گھمنڈ اتنا
کہ یہ روزِ قیامت کے سوالوں سے نہیں ڈرتے

(سلمان قمر۔ یوکے)

پچھلا پڑھیں

اسلامی اصطلاحات کا بر محل استعمال (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ