• 15 اگست, 2022

بعض اسلامی اصطلاحات کا استعمال (حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ)

بعض اسلامی اصطلاحات کا استعمال
از ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ

28 ستمبر 2021ء کے روز نامہ الفضل ان لائن لندن کے صفحہ 8 پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی بعض اصطلاحات کا ذکر ہوچکا ہے اس کے تسلسل میں کچھ اور اصطلاحات ملاحظہ فرمائیں۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ورد

چوہدویں اور پندرہویں صدی ہجری کے سنگھم پر ایک کشفی نظارہ کا ذکر کر کے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے لا الہ الا اللہ کے درمیانی آواز میں نماز کے بعد ورد کرنے کی تحریک فرمائی اور اسے ساری جماعت کے ساتھ دہراتے رہے اور فرمایا۔

’’چند دنوں تک چودھویں صدی ختم ہو رہی ہے اس صدی کو خدائے واحد و یگانہ کی توحید کے ورد کے ساتھ الوداع کہیں لا الہ الا اللہ کا ورد کثرت سے پڑھیں کہ کائنات کی فضا اس ترانہ کے ساتھ معمور ہو جائے دن رات اٹھتے بیٹھتے بالکل خاموشی کے ساتھ اونچی آواز میں بھی نہیں…. لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ – لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے پڑھتے رہیں- اس ندا کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہیں اور اسی ندا کے ساتھ ہم اگلی صدی کا استقبال کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ‘‘

(سالانہ اجتماع انصار اللہ مرکزیہ 1980ء)

خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1980ء کے موقع پر اپنے کشف کا ذکر فرمایا ’’حالیہ دورہ کے دوران مجھےدو مرتبہ کشف میں ایک نظارہ دکھایا گیاکہ کائنات کی ہر شے خدا کی تسبیح اور اس کی وحدانیت کا ورد کر رہی ہے _ وہ واقعہ یوں ہے کہ میں سونے کی تیاری میں تھا لا الہ الا اللہ کا ورد کر رہا تھا آنکھیں میری بند تھیں مگر کشفی آنکھوں نے یہ نظارہ دیکھا کہ میرے آگے سےسمندر کی طرح کائنات کی ہر چیز ہلکے انگوری رنگ کے مائع کی صورت میں بہتی ہوئی گزر رہی ہے اور اس میں چھوٹے چھوٹے سفید چمکدار حصے تھے جو لا الہ الہ اللہ کی صوتی لہریں تھیں‘‘

(حیات ناصر جلد اول صفحہ621-622)

سلام کا تحفہ

’’حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی معہود کو سلام بھیجا تھا تو وہ صرف ایک شخص کے لئے نہیں تھا بلکہ مہدی علیہ السلام کی وساطت سے آپکی جماعت کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلامتی کی یہ دعا پہنچی ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام تو اب ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن آپ کے ماننے والے، آپ کے فدائی، آپ کی باتوں کو سن کر محمد رسول اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے والے اور دین متین اسلام کو دنیا میں پھیلانے والے تو موجود ہیں اور یہ سب اپنے اپنے رنگ میں اس اجتماعی کوشش میں حصہ لے رہے ہیں جو اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کے لئے شروع ہے اس لئے جماعت میں سے ہر ایک شخص کی بڑی عزت ہے اور بڑا وقار ہے خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی نگاہ میں۔ اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد آپ ایک دوسرے کو سلام نہ کہیں تو یہ بڑی عجیب بات ہوگی۔

میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جب بھی راستے میں ایک دوسرے سے ملیں سلام کہیں۔ ہماری فضا کو تو ہمیشہ السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی آوازوں سے گونجتے رہنا چاہیئے‘‘

(خطابات ناصر جلد دوم صفحہ238)

اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو

’’اپنے وقتوں کو ضائع نہ کریں۔ اپنی طاقتوں کو ضائع نہ کریں۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتےسوتے جاگتے، آرام کرتے اور کام کرتے غرض جس حالت میں بھی ہوں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (الفاتحہ: 2) کا کثرت سے ورد کریں‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ440)

بلدۃ طیبۃ و رب غفور یہ بڑا پیارا فقرہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک کمال موافقت رکھنے والا ماحول میں نے تمہارے لئے پیدا کر دیا ہے

رب غفور اس ماحول میں پورے کانشس (conscious) ہوتے ہوئے اور علی وجہ البصیرت تم اپنی کوشش کرو لیکن تمہاری کوشش میں نقص رہ جاتے ہیں انسان میں بشری کمزوریاں ہیں۔ جو نقص رہ جاتے ہیں ان سے تم گھبرانا نہیں‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ360)

’’ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزاریں اور جماعت کے اندر اتحاد اور اتفاق ککو ہمیشہ قائم رکھیں اور اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہ کریں کہ سب بزرگیاں اور ساری ولایت خلافت راشدہ کے پاؤں کے نیچے ہے‘‘

(تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد صفحہ114)

زبان کا استعمال

’’خدا تعالیٰ کے ذکر سے اپنے اوقاف کو معمور رکھو اور اس کی حمد کے ترانے ہر وقت گاتے رہو۔ اس کی حمد و ثناء میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ کہ ہر کام میں مشغول رہتے ہوئے اس کے ذکر سے زبان کے اعصاب اور دل کی تاروں کو حرکت دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔ حمد و ثناء کے ہلکے پھلکے بول میزان جزاء و سزا میں بڑے ہی وزنی ثابت ہوتے ہیں اور دلوں کےاطمینان کا باعث۔

فضول باتوں سے پرہیز کرو۔ اتنی ہی بات کرو جتنی کی ضرورت ہے۔ ایک بول سے مقصد حاصل ہوتا ہو تو دو بول نہ بولو۔ ارشاد نبوی ہے کہ بڑا مبارک ہے وہ جس نے قوت گویائی کی بہتات کو (ذکر الہی کے لئے) محفوظ رکھا مگر اپنے مال کی کثرت میں خدا کی راہ میں( بے دھڑک) خرچ کیا۔

قرآن پڑھو کہ تلاوت قرآن میں بڑی برکت ہے۔ قرآن جو اللہ کے ذکر سے بھرا ہوا ہے، قرآن جو ہمارے لئے ایک مکمل ہدایت ہے، قرآن جو خدائے واحد و یگانہ کی رحمانیت کو حرکت میں لاتا ہے، قرآن جو زبان کی کجیوں کو دور کرتا ہے قرآن جب ہمارے دل میں اترتا اور ہماری زبان پر جاری ہوتا ہے تو اس کی برکت سے ہماری زندگی کی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں۔ قرآن دلوں میں تقوی پیدا کرتا ہے اور انہیں مطہر بناتا ہے۔ قرآن خود، کلید قرآن ہےپس قرآن پڑھو، قرآن پڑھو۔

درود پڑھنا

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر آن اور ہرلحظہ درود اور سلام بھیج رہے ہیں۔ مظہر صفات الہیہ اور فرشتہ صفت بنو اور نبی پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو تا اس کی برکت سے ہماری زبانوں سے حکمت و معرفت کی نہریں جاری ہوں _ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود پڑھے تاکہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔

(الحکم 28 فروری 1903ء)

استغفار کرتے رہو اپنے لئے، اپنے اقارب اور اپنے بھائیوں کے لئے کثرت سے استغفار کرو کہ ہمارا خدا غفور و رحیم ہے اور استغفار روحانی ترقیات کی کلید ہے

دعائیں کرو، بہت ہی دعائیں کرو، اور سوز اور گریہ و زاری سے دعائیں کرو۔ تکبر کے ہر جذبہ کو دل سے نکال کے انکساری اور فروتنی کے ہر جذبہ سے دل کو معمور کر کے دعائیں کرتے ہوئے اپنے مولا کے سامنے جھک جاؤ کہ ہم کچھ بھی نہیں اور وہ سب کچھ ہے۔ دعا سے خدا ملتا ہے۔ دعا سے کامیاب زندگی حاصل ہوتی ہے‘‘

(حیات ناصر جلد اول صفحہ309-310)

تسبیح وتحمید اور درود شریف

’’میں چاہتا ہوں کہ تمام جماعت کثرت کے ساتھ تسبیح و تحمید اور درود شریف پڑھنے والی بن جائے اس طرح ہو کہ ہمارے مرد ہوں یا عورتیں روزانہ کم از کم دو سو بار تسبیح و تحمید اور درود شریف پڑھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا ہے یعنی

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ

اور ہمارے نوجوان پندرہ سال سے پچیس سال تک کی عمر کے تینتیس دفعہ یہ تسبیح اور درود شریف پڑھیں اور ہمارے بچے اور بچیاں جن کی عمر سات سال سے کم ہے جو ابھی پڑھنا نہیں جانتے ان کے والدین یا ان کے سرپرست (اگر والدین نہ ہوں) ایسا انتظام کریں کہ ہر وہ بچہ یا بچی جو کچھ بولنے لگ گئی ہے یا لفظ اٹھانے لگ گئی ہے ان سے تین دفعہ تسبیح و درود کہلوایا جائے……

آپ کھانا پکا رہی ہوتی ہیں آپ دیگچی میں چمچہ ہلا رہی ہوتی ہیں تا مسالحہ بھون لیں تو آپ اپنے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ پڑھ سکتی ہیں آپ ہاتھ کی حرکت کے ساتھ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ پڑھ سکتی ہیں اس طرح جو کھانا تیار ہوگا وہ کھانے والوں کے معدہ میں صرف مادی غذا سے بھی حصہ ملے گا۔

استغفار

ہماری جماعت کے ذمہ تمام دنیا میں اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنا ہے۔اتنی بڑی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ضروری ہے ہماری تمام بشری کمزوریاں اللہ تعالی کی مغفرت کی چادر کے نیچے دبی رہیں اور ان کا ظہور نہ ہو۔ اس غرض کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کے تمام مرد اور عورتیں جن کی عمر پچیس اور پندرہ کے درمیان ہے وہ دن میں33 بار، جن کی عمر 15 سے 7 سال کے درمیان ہے وہ دن میں 11 بار اور چھوٹے بچے جن کی عمر 7 سال سے کم ہے وہ روزانہ کم از کم 3 بار استغفار کیا کریں‘‘

(حیات ناصر جلد اول صفحہ619-620)

(ابن ایف آر بسمل)

پچھلا پڑھیں

اسلامی اصطلاحات کا بر محل استعمال (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ