• 18 جولائی, 2024

ترانۂ نونہالان

غنچے، کلیاں ہی سہی، پَر رونقِ گلزار ہم
کھِل اٹھے جونہی، بنا دیں گے فضا گلنار ہم

دل میں ہر اِک کے لیے بس اُلفت و اخلاص ہے
نفرتوں سے دور ہیں اور پیار سے سرشار ہم

آج ہے وردِ زباں ہر آن کلمہ طیّبہ
کل کریں گے صدقِ دل سے بس یہی پرچار ہم

گو سپاہی ننھے سے ہیں لشکرِ اسلام کے
پر بنیں گے فوجِ احمدؐ کے سپہ سالار ہم

ذات میں چھوٹے محمدؐ بن کے ہم دکھلائیں گے
گرچہ ہیں اَطفال لیکن صاحبِ کردار ہم

ہاتھ گر کٹ بھی گئے، پرچم نہ گرنے پائے گا
مثلِ مُصعب ہیں، خلافت کے عَلَم بردار ہم

زندگی بھر اپنے وعدے کے رہیں گے پاسدار
سچ سے نسبت ہے ہمیں اور جھوٹ سے بیزار ہم

آؤ مل کر علم کی مَشعل سے پھر روشن کریں
بستی بستی قریہ قریہ کوچہ و بازار ہم

کام نیکی کے کریں گے اور رہیں گے عمر بھر
ہر برائی کے مقابل برسرِ پیکار ہم

(م م محمود)

(یہ ترانہ موٴرخہ 9؍ اگست مجلس اطفال الاحمدیہ کے شمارہ میں لگنے سے رہ گیا تھا۔
اس کو 9؍ اگست 2022ء کے شمارہ کا حصہ متصور کیا جائے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ