• 20 ستمبر, 2020

پس عقل مند انسان وہی ہے جو عارضی چیز کو مستقل چیز پر قربان کر دے

پس عقل مند انسان وہی ہے جو عارضی چیز کو مستقل چیز پر قربان کر دے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم اس عارضی چیز پر، اس عارضی زندگی پر مستقل زندگی کو قربان کر دیتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو یہ دنیا دار بہت بڑا اور عقل مند سمجھتے ہیں۔ پس ایک مومن اس کے برعکس کرتا ہے اور کرنا چاہیے۔ تب ہی وہ مومن کہلا سکتا ہے۔ وہ اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت اس کے دل میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت تمام دنیاوی محبتوں پر غالب آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اس لیے نہیں ہوتی کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں سزا ملے گی بلکہ اس لیے ہے کہ میرا پیارا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور جب یہ محبت کے جذبات ہوں گے تب ہی انسان خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ انسان کا اس دنیا کا ہر عمل آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ میرا خدا ہی ہے جو میری پرورش کے سامان کرتا ہے، میرا خدا ہی ہے جو مجھے اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ان میں ہر قسم کی نعمتیں شامل ہیں دنیاوی بھی اور روحانی بھی۔ اگر میں اس کی عبادت کا حق ادا کرتا رہا، اس خدا کو ہی سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھکا رہنے والا بنا رہا تو اس کی نعمتوں سے حصہ پاتا رہوں گا ان شاء اللہ۔ میں اگر اس کے بتائے ہوئے اوامر اور نواہی کے مطابق زندگی گزارتا رہا تو اس کے فضلوں کا وارث بنتا رہوں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا رہا تو وہ مجھ سے راضی ہو گا۔ پس یہ سوچ ہے اور اس کے مطابق عمل ہے جو یقینا ًاللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس کے انعاموں اور فضلوں کا حاصل کرنے والا بنائے گا اور یہی لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے ہیں، جن کے دل نرم ہوں گے اور ہوتے ہیں کیونکہ ہر لمحہ ان کے دل میں خدا ہوتا ہے۔ یہی ہیں جن کے ایک دوسرے کے لیے خدا تعالیٰ کی خاطر محبت کے جذبات ہوتے ہیں یعنی ان کی محبت اور بھائی چارہ ذاتی اغراض کے لیے نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ پر چلنے والے ہیں جن میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ عاجزی کے اظہار صرف اپنے مرتبے اور دولت کے لحاظ سے بڑے سے نہیں ہوتے، ان ہی کے سامنے عاجزی نہیں دکھاتے جو بڑے ہیں، رتبے میں بڑے ہیں یا دنیادار ہیں بلکہ غریبوں اور مسکینوں سے بھی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو سچائی پر ہر وقت قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قولِ سدید ہی خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور جھوٹ جو ہے وہ شرک کی طرف لے کے جاتا ہے۔ اور جب آخرت کی فکر ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور تقویٰ کی حقیقت جانتے ہیں تو پھر ایک شخص مومن کہلا کر پھر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے اور ان باتوں کے حاصل کرنے والے اور نیکیوں کی روح کو سمجھنے والے ہی ہیں جو دین کی خدمت میں بھی حقیقت میں سرگرم ہوتے ہیں ورنہ تو یہ جو خدمت ہے بظاہر یہ بھی کچھ مفادات کے حصول کے لیے ہو جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں سینکڑوں علماء ہیں جو دین کے نام پر بظاہربڑے سرگرم ہیں اور اندر سے دین کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، جن میں تقویٰ کی کمی ہے، جن میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا، جن کو آخرت سے زیادہ دنیا کے مفادات عزیز ہیں اور نام خدا اور آخرت کا لیتے ہیں۔ پس ان باتوں کی روح کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ظاہری خول نہ ہو بلکہ روح ہو، مغز ہو۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اکتوبر 2019)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020