• 20 اکتوبر, 2020

ہم عملی نمونے قائم کرنے والے بنیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس یہاں پھر آپ نے ماں باپ کو اس دعا کے ساتھ اپنے عمل دکھانے کی ہدایت فرما دی کہ ہم ان کے پیش رَو ہوں۔ پیش رَو ہونے کامطلب ہی یہ ہے کہ ہم عملی نمونے قائم کرنے والے بنیں۔ پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار ہر دعا کے ساتھ اس بات کا اعادہ اور تلقین فرماتا ہے کہ اگر تمہیں صالح اولاد کی خواہش ہے تو اپنے عملوں کی طرف نظر رکھو۔

پھر اس بات کے ذکر میں کہ اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے اور کیوں ہونی چاہئے اور انسان کی پیدائش کا جو مقصد ہے اس کو بھی اولاد کی خواہش کرتے ہوئے سامنے رکھنا چاہئے یا اولاد کی پیدائش کے وقت بھی سامنے رکھنا چاہئے اور اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنی چاہئے، اپنی اصلاح کی بھی فکر ہونی چاہئے تا کہ اولاد بھی نیک صالح ہو، نہ کہ صرف دولت اور املاک کی وارث بنانے کے لئے اولاد پیدا کی جائے۔ اور یہ دعا کس ترتیب سے اور کس طرح کرنی چاہئے، ان سب باتوں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان کو سوچنا چاہئے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدودنہ کر دینا چاہئے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے۔ لیکن جب یہ ایک خاص اندازے سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:57) اب اگر انسان خود مومن اور عبدنہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشاء کو پورا نہیں کرتا ہے اور پورا حقِّ عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق و فجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کی اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی۔ صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اَور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔ خود کونسی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے۔‘‘ فرمایا ’’پس جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیاتِ صالحات کی بجائے اس کا نام باقیاتِ سیّئات رکھنا جائز ہو گا۔‘‘ (نیک صالح اولادنہیں ہو گی جو پیچھے رہنے والی ہو بلکہ برائیاں کرنے والی چیز پیچھے چھوڑ کے جائیں۔) فرمایا ’’لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مَیں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں‘‘ (بڑی اچھی خواہش ہے) ’’تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہو گا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔‘‘ (خواہش تو نیک اولاد کی ہو لیکن خود اپنے عمل اس سے مختلف ہوں۔ بہت سارے لوگ ہیں، آتے ہیں اور کہتے ہیں دعا کریں۔ نیک اولاد ہو۔ صالح اولاد ہو۔ اپنی نمازوں کے بارے میں یہی ان کا جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں کہ پوری نمازیں پڑھیں۔ جنہوں نے فرائض نماز بھی ادا نہیں کرنے ان کی نیکی کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذّاب ہے۔‘‘ (جھوٹا ہے۔) ’’صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنا وے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیاتِ صالحات کا مصداق کہیں۔ لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے اَملاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑی نامور اور مشہور ہو اس قسم کی خواہش‘‘ (آپ فرماتے ہیں ) ’’میرے نزدیک شرک ہے۔‘‘

پھر اس کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ’’ایک اَور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔ نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدّنظر رکھتے ہیں۔‘‘ (دعا کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے۔ تربیت کی طرف جو توجہ ہونی چاہئے وہ بھی نہیں ہے۔) فرمایا کہ ’’میری اپنی تو یہ حالت ہے‘‘ اپنے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔‘‘ فرمایا کہ ’’بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بیباک ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ اگر اولاد کو شروع میں نہیں روکیں گے، ان کو نہیں سمجھائیں گے۔ شروع شروع میں پیار سے بھی سمجھایا جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ برائیوں میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 14؍ جولائی 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020