• 1 اکتوبر, 2020

چراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئے

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے
چراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئے

وہ حسن اس کا بیاں کیا کرے جو دیکھتا ہو
ہر اک ادا کے کئی قد نئے نکلتے ہوئے

وہ موجِ میکدۂ رنگ ہے بدن اس کا
کہ ہیں تلاطم ِمئے سے سبو اچھلتے ہوئے

تو ذرہ ذرہ اس عالم کا ہے زلیخا صفت
چلے جو دشتِ بلا میں کوئی سنبھلتے ہوئے

یہ روح کھنچتی چلی جا رہی ہے کس کی طرف
یہ پاؤں کیوں نہیں تھکتے ہمارے چلتے ہوئے

اسی کے نام کی خوشبو سے سانس چلتی رہے
اسی کا نام زباں پہ ہو دم نکلتے ہوئے

خیال و خواب کے کیا کیا نہ سلسلے نکلے
چراغ جلتے ہوئے آفتاب ڈھلتے ہوئے

اندھیرے ہیں یہاں سورج کے نام پر روشن
اجالوں سے یہاں دیکھے ہیں لوگ جلتے ہوئے

اتار ان میں کوئی اپنی روشنی یا رب
کہ لوگ تھک گئے ظلمت سے اب بہلتے ہوئے

وہ آ رہے ہیں زمانے کہ تم بھی دیکھو گے
خدا کے ہاتھ سے انسان کو بدلتے ہوئے

وہ صبح ہو گی تو فرعون پھر نہ گزریں گے
دلوں کو روندتے انسان کو مسلتے ہوئے

(عبید اللہ علیمؔ۔ 1998)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020