• 29 ستمبر, 2020

مکرم سید مجیب اللہ صادق صاحب کا ذکرِ خیر

جماعت احمدیہ لندن کے قدیمی ممبر، فدائی احمدی اور خدمتگار
مکرم سید مجیب اللہ صادق صاحب کا ذکرِ خیر

لندن جماعت کے فدائی اور قدیمی ممبر، رضاکار کارکن دفتر امیر صاحب یوکے اور سابق صدر جماعت ارلز فیلڈ مکرم سید مجیب اللہ صادق صاحب مورخہ 28مئی 2020ء کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ إنا للّٰه و إنا اليه راجعون آپ مکرم سید صادق علی صاحب اور مکرمہ سیدہ سلمیٰ بیگم صاحبہ بنت محترم سید محبوب عالم بہاری صاحب کے صاحبزادے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2020ء میں مکرم مجیب اللہ صادق صاحب کا ذکرِخیرکرتے ہوئے آپ کے تعلق باللہ، اخلاص ووفا، جماعتی خدمات، بچوں کی اعلیٰ تربیت اور دیگر محاسن کا تذکرہ فرمایا اور نمازِ جنازہ غائب بھی پڑھائی۔

آپ نےقادیان کی مقدس بستی میں آنکھ کھولی اور قادیان کے پاکیزہ ماحول میں جہاں حضرت مصلح موعود ؓکا بابرکت وجود اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صورت میں چلتے پھرتے فرشتے بچوں کی تربیت پر اپنا غیر معمولی نیک اثر ڈالتے تھے۔ اسی ماحول میں محترم مجیب اللہ صادق صاحب پروان چڑھےاور اس نیک تربیت کا اثر تادم واپس آپ کی شخصیت پر منعکس رہا اور برطانیہ میں گزرے 59سال اس تربیت پر اثر انداز نہ ہوسکے بلکہ آپ نے اپنے نیک اثرات یہاں کے مادہ پرست لوگوں پر ڈالے۔

آپ کے والد محترم سید صادق علی صاحب آف سہارنپور نے حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کے دست مبارک پر شرف بیعت حاصل کیا۔ آپ کے نانا حضرت سید محبوب عالم صاحب بہاری نے پارٹیشن کے وقت 19 ستمبر 1947ء کو قادیان میں مخالف کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش فرمانے کی سعادت حاصل کی۔ آپ کی شہادت کا تذکرہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ 14 مئی 1999ء میں فرمایا تھا۔ حضرت سید محبوب عالم صاحب کے بھائی حضرت سید محمود عالم صاحب سابق آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ وہ تاریخی شخصیت ہیں جنہوں نے 1907ء میں بہار سے قادیان تک پیدل انتہائی کٹھن، طویل اور پُرخطر سفر طے کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔

محترم سید مجیب اللہ صادق صاحب کے ابتدائی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے بیٹےمکرم ڈاکٹر سید کلیم اللہ صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد محترم چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔ انکے والد سید صادق علی صاحب ڈیرہ دُون میں فاریسٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تھے لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی خاطر قادیان میں اپنا گھر ’’سفینۂ صادق‘‘ تعمیر کیا اور بچوں کو قادیان کے پاکیزہ ماحول میں پروان چڑھایا۔ محترم مجیب صاحب کی والدہ جوانی میں ہی تقریباً 28 سال کی عمر میں اپنے کم سن بچوں کو پیچھے چھوڑ کر وفات پاگئیں۔ تب آپ کی بڑی ہمشیرہ مکرمہ شمسہ سفیر صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر سید سفیر الدین بشیر احمد صاحب مرحوم (مکرم عامر سفیر صاحب چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنزلندن کی دادای جان) نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالی۔ اتفاق سے آپ کو قادیان میں بہت مخلص اور ہمدرد ہمسائے بھی میسر تھے جن میں حضرت قاضی محمد نذیر صاحب قابل ذکر ہیں۔ ان کی ہمدردی، شفقت اور نگرانی آپ کو میسر رہی۔

قادیان کے مقدس ماحول میں بچپن کی نیک تربیت نے آپ کی شخصیت پر گہرے نقش ثبت کئے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کی عادت پختہ ہو گئی۔ مسجدنورآپ کے گھر سے قریب تھی۔ آپ بتایا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کیلئے مسجد نور جاتا تو راستے میں آموں کے پیڑ تھے۔ اندھیرے میں کہیں پتھر اور کہیں آم بھی گرے ہوتے۔ پاؤں سے ٹکراتے تو آم اور پتھر کا فرق معلوم ہوتا۔ راستے کے آموں سے فجر کے بعد لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ بچپن میں ایک بار عشاء کی نماز کے دوران آپ کی آنکھ لگ گئی اور مسجد میں سوتے رہے، بہت دیر ہوگئی۔ جب آنکھ کھلی تو لہراتے درختوں کی شاخیں اور ان کے سائے سے خوفزدہ ہوگئے۔ یکدم آپ کی نظر کونے میں موجود ایک بزرگ پر پڑی جو عبادت میں مصروف تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو نہایت شفقت اور پیار سے آپ کا حال دریافت کیا اور آپ کی پریشانی دور ہوئی۔ دریں اثناء آپ کے گھر والے بھی آپ کو تلاش کرتے مسجد پہنچ گئے۔

تقسیم پاک و ہند کا واقعہ بھی آپ کے بچپن میں ہی رونما ہوا اور ہجرت کے مصائب اور مشکلات سے آپ کو دوچار ہونا پڑا۔ آپ کے والد محترم قادیان میں ہی ٹھہر گئے تھے اور آپ بچوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا اور لاہور منتقل ہوگئے۔ یہ مشکلات کئی سال جاری رہیں۔ آپ لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہےیہاں تک کہ آپ کےوالد قادیان سے پاکستان آگئے اور پھر سب ربوہ رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ سے میٹرک کیا۔ اس زمانے میں ربوہ کی سرزمین کلر، شورزدہ اور غیر ذی زرع تھی اس لئے زمین پر چلنا دشوار ہوتا۔ پاؤں کلر میں دھنس جاتے اور شورزدہ گرد کپڑے خراب کردیتی۔ سانپ اور بچھو دیکھنا تو معمول کی بات تھی۔ ربوہ سے چنیوٹ تک کا سفر کٹھن ہوتا اور مخالفین کے حملوں کا بھی خوف رہتا تھا۔ لیکن احمدی اساتذہ انتہائی محنت اور محبت سےطلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق عالیہ کا درس دیتے اور اپنے پاک نمونہ سے انہیں متاثر کرتے اور اپنی دعاؤں سے ان کی کایا پلٹ رہے تھے۔ اپنے اساتذہ بالخصوص حضرت صوفی غلام محمد صاحب (والد محترم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد صاحب) کا بہت ذکر خیر کرتے تھے۔ آپ بتاتے تھےکہ ایک دفعہ امتحانی ہال میں ہم موجود تھے، امتحانات ہورہے تھے۔ ہمارے اساتذہ ہماری خیریت پوچھتے اور تسلی دیتے اور جب امتحان شروع ہواتو اساتذہ کو ہال چھوڑنا ہوتا تھا۔ اس دوران ہم نے اساتذہ کو روتے ہوئے ہماری کامیابی کے لئے دعائیں کرتے ہوئے سنا ہے۔ یہ واقعہ یاد کرکے آپ خود بھی آبدیدہ ہوجاتے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے سب افراد ایک جسم کے اعضاء کی مانند تھے۔

آپ کی بڑی ہمشیرہ مکرمہ شمسہ سفیر صاحبہ جو آپ کے لئے بمنزلہ والدہ کے تھیں، انکی شادی کے بعد انہیں اپنے شوہر مکرم ڈاکٹر سید سفیر الدین بشیر احمدصاحب جو قادیان سے وقف کرکے براستہ لندن گھانا بھجوائے گئے تھے (انہوں نے احمدیہ تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کماسی کے لئے شاندار خدمات بھی سر انجام دیں) ان کے پاس اکیلی لندن پہنچ کر وہاں سے کماسی گھانا چلی گئیں۔ آپ گھانا خدمات بجالانے کے بعد لندن منتقل ہوگئے تھے۔ مکرم مجیب اللہ صاحب تعلیم الاسلام کالج سے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم اور ملازمت کے لئے کراچی چلے گئے اور پھر 1961ء میں لندن اپنی ہمشیرہ شمسہ سفیر صاحبہ کے پاس آگئے۔ یوں آپ گزشتہ 59سال سے برطانیہ میں مقیم تھے۔

آپ جب لندن آئے تو اس زمانہ میں لندن شہر غیر ملکیوں کے لئے سہل مقام نہ تھا۔ یہاں نوکری ملنے کی بھی مشکلات تھیں۔ لیکن یہاں کے احباب جماعت کا آپس میں گہرا اور مضبوط محبت کا تعلق تھا۔ اور ممبران جماعت حصول ملازمت کے لئے اپنے اداروں میں بھی احمدیوں کی معاونت کرتے۔ آپ مولوی عبدالکریم صاحب آف لندن کی اس خدمت کا بارہا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ کس طرح انہوں نے کئی احمدیوں کو کار چلانی سکھائی اور بہت سے احمدیوں کو کام پر اپنی گاڑی میں لے جایا کرتے تھے۔

شادی و اولاد

مکرم سید مجیب اللہ صادق صاحب کی شادی مارچ 1968ء میں مکرمہ عائشہ صادق صاحبہ بنت مکرم بابو محمد عالم صاحب ریٹائرڈ اسٹیشن ماسٹر سے ہوئی۔ آپ مکرم ناصر احمد شمس صاحب سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ کی سب سے چھوٹی پھوپھی ہیں۔ آپ کی اہلیہ کو ربوہ میں جنرل سیکرٹری حلقہ دارالصدر غربی اور پھر نیشنل عاملہ لجنہ اماءاللہ برطانیہ میں بطور اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری، سیکرٹری تربیت، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری خدمتِ خلق اور شعبہ رشتہ ناطہ میں خدمت کی توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبیٹے اور دوبیٹیوں سے نوازا۔

(۱) مکرم سید شعیب صادق صاحب (۲) مکرم ڈاکٹر سید کلیم اللہ صادق صاحب (آپ ایم ٹی اے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ایم ٹی اے انٹرنیشنل اور ایم ٹی اے افریقہ کے ناظرین آپ سے بخوبی واقف ہیں)

(۳) مکرمہ سیدہ رضوانہ یحیٰ صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر محمد یحیٰ صاحب آپ لجنہ یوکے کی رشتہ ناطہ کمیٹی میں خدمت کر رہی ہیں۔ (۴) مکرمہ فرحانہ ڈار صاحبہ اہلیہ مکرم عاصم ڈار صاحب۔ آپ ریویو آف ریلیجنز میں پروف ریڈنگ کی ہیڈ اور لوکل مجلس میں نائب صدر لجنہ ہیں۔

الحمد للہ آپ کی اولاد جماعتی خدمات میں پیش پیش ہے۔ محترم سید مجیب اللہ صاحب نے بھرپور عائلی زندگی گزاری۔ آپ ایک باوفا شوہر اور شفیق باپ تھے۔ اپنے بچوں کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی لندن ہجرت سے پہلے بھی رہائش مسجد فضل کے پاس رکھی اور بعد میں اپنا گھر بھی مسجد فضل کے پاس بنایا اگرچہ آپ کوہیتھرو ائیر پورٹ پراپنی جاب کیلئے 22کلو میٹر کا روزانہ سفر کرنا پڑتا تھا لیکن آپ نے قربانی کرکے بچوں کی تربیت کے لئے یہ فیصلہ کیا۔ آپ نے بچوں کو دامنِ خلافت سے وابستہ کردیا تاکہ بچے مسجد اور جماعت کے ساتھ چمٹ جائیں۔ آپ باقاعدگی کے ساتھ اپنے بچوں کے ہمراہ مسجد فضل لندن میں حضرت خلیفة المسیح کی اقتداء میں نمازوں کی ادائیگی کے لئے جایا کرتے تھے۔

آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ آپ نماز فجر کے بعد حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ہمراہ ومبلڈن کامن میں صبح کی سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ آپ کو حلقہ ارلز فیلڈ میں بطور صدر جماعت خدمت کرنے کی بھی توفیق ملی اور پھر بعد از ریٹائرمنٹ آپ محترم امیر صاحب برطانیہ کے دفتر میں رضاکار کارکن کے طور پر 16سال تک خدمات بجا لاتے رہے۔ آپ یہاں بڑی جانفشانی کے ساتھ ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والے کارکنان آپ سے بہت محبت کرتے، آپ سے مزاح بھی کرلیا کرتےجس سے آپ لطف اندوز ہوتے اور خود بھی لطیف حسِّ مزاح رکھتے تھے۔ آپ کے ساتھی آپ کی خوبیوں پر رطب اللسان اور آپ کی جدائی پر آپ کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب کارکن دفتر امیر صاحب یوکے جن کو آپ کے ساتھ لمبا عرصہ اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا، وہ مجھے بتاتے ہیں کہ مکرم مجیب اللہ صادق صاحب ہمارے بہت ہی پیارے بزرگ تھے۔ آپ انتہائی وقت کی پابندی کرتے ہوئے دفتر حاضر ہوتے تھے۔ اپنی جاب پر وقت کے پابند تھے اور وہی روٹین آپ نے یہاں رکھی جو وقت مثلاً صبح نو بجے دفتر کھلنے کا ہے تو آپ نے پورے نو بجے پہنچ کر دفتر کھول دیناہوتاتھا۔ اگر ٹریفک کی وجہ سے کبھی تاخیر ہوگئی تو دفتر آکر کئی دفعہ معذرت کرنی کہ میں لیٹ ہوگیا۔ آپ ہمارے دفتر کی رونق تھے اوربہت ہنس مکھ تھے ہم ادب کےدائرہ میں رہتے ہوئےان سے مذاق بھی کرلیا کرتے تھے لیکن آپ نے اس کا کبھی برا نہیں منایا بلکہ مسکرا دیتےتھے۔

امیر صاحب یوکے کے دفتر میں آپ کی ٹیلی فون پر ڈیوٹی تھی۔ آپ دفتر آنے والے ٹیلی فونز سنا کرتے تھے۔ دو تین کام آپ روزانہ بڑی باقاعدگی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ صبح دفتر آکر آپ نے محترم امیر صاحب یوکے کو فون کرنا اور ان کی خیریت دریافت کرنی۔ پھر بیوی بچوں کو فون کرکے ان کا حال پوچھنا، اس سے ان کی تسلی ہوجاتی۔ ایک مستقل کام جو آپ صبح دس بجے سے پہلے کرلیا کرتے کہ۔۔۔۔۔۔۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو بھیجی جانے والی ڈاک تیار کرکے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری دے کر آتے اور وہاں سے اپنے دفتر کی ڈاک لے آیا کرتے تھے۔ ایک عادت اور خدمت جس میں آپ باقاعدہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔ کہ جونہی دس بجنے آپ نے اپنی سیٹ سے اٹھنا اور چائے بناکر سب دفتر والوں کو پیش کرتے۔ چائے ہم بھی بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ خدمت اپنے ذمہ لے رکھی تھی کہ میں چائے بناکر آپ سب کو پیش کرونگا۔ آپ جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے آخری دن دفتر سے گئے ہیں تو سب کو فرداً فرداً ملے اور وعدہ کیا کہ میں روزانہ آپ سے رابطہ کرکے اپنی خیریت بتاؤں گا اور آپ لوگوں کی خیریت دریافت کیا کروں گا۔ چنانچہ آپ روزانہ فون کرکے خیریت بتاتے بھی اور پوچھتے بھی تھے۔ اور جب آپ ہسپتال داخل ہوئے ہیں تو بڑے دکھ سے اظہار کیا کہ مجھے یہاں سے فون کرنے کی اجازت نہیں۔

اسی طرح آپ کے ساتھی مکرم مبشر احمد گوندل صاحب کارکن دفتر امیر صاحب UK آپ کے محاسن کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ سے میری شناسائی 1985ء میں اس وقت ہوئی جب ہماری ترجمانی کی ٹیم جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہونے کیلئے پاکستان سے آئی تھی۔ آپ مکرم منیر احمد فرخ صاحب سابق امیر ضلع اسلام آباد کے کلاس فیلو تھےاس لئے ہمارے یوکے کے قیام کے دوران کافی وقت ہمارے ساتھ گزارتے۔ ایک لمبے عرصے سے امیر صاحب یوکے کے دفتر میں ہمارے ساتھ رضاکارانہ خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ نہایت ذمہ داری سے اور باقاعدگی سے ڈیوٹی پر آتے، وقت کی پابندی کا بہت خیال کرتے۔ اگر کسی دن نہ آنا ہوتا، ایک دن قبل بتاتے کہ میں اس وجہ سے کل نہیں آسکوں گا۔ ملک سے باہر جانے کی صورت میں امیر صاحب سے اجازت حاصل کرتے۔

بیوی اپنے خاوند کے اخلاق عالیہ کی اولین گواہ ہوتی ہے۔ اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک ایک مومن کا فریضہ اور اس کی شان ہوتی ہے۔ محترم مجیب اللہ صادق صاحب کا اپنی اہلیہ کے ساتھ نصف صدی سے زائد ساتھ رہا ہے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ عائشہ صادق صاحبہ آپ کا ذکر خیر اور اوصاف حسنہ کا بیان ان الفاظ میں کرتی ہیں:
میرے میاں بہت محبت کرنے والے شوہر تھے۔ ہمارا ساتھ 52 سال کا تھا۔ یوں لگتا ہے وہ میرے وجود کا حصہ تھے۔ اس 52سال کے عرصہ میں شائد کچھ دن کے علاوہ ہم کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔ اپنے بچوں اور انکے بچوں کے ساتھ بھی اوروں کے بچوں کے ساتھ بھی ان کا پیار اور دوستی کا تعلق تھا۔ ہر کسی سے اس کی دلچسپی کے مطابق ان سے بات کرتے۔ بچوں کے ساتھ بچے بن کر کھیلتے۔ بچے چھوٹے تھے تو میرے ساتھ راتوں کوجاگتے اور میری مدد کرتے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے دینی و دنیاوی ہر لحاظ سے بہت بھرپورزندگی گزاری۔ برٹش ائیرویز کی ملازمت کے دوران ایک گھنٹہ طویل سفر کرکے کام پر جاتے لیکن گھر مسجد فضل کے قریب لیا تاکہ خلیفہ وقت کے سایہ تلے بچے پلیں۔ بچوں کو ہمیشہ چھوٹی عمر سے مسجد لیکر جاتے۔ ریٹائرمنٹ سے لیکر زندگی کے آخری ایام تک امیر صاحب کے آفس میں رضاکارانہ خدمت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ یہ اُن کی زندگی کے بہترین سال تھے جو انہوں نے بےحد انجوا ئے کئے۔ حضور کے اسلام آباد منتقل ہوجانے پر بار بار اس بات کا اظہار کرتے کہ بہت اداسی ہوگئی ہے، کوئی رونق نہیں رہی،حضور چلے گئے ہیں۔

نمازوں میں وقت کی پابندی کا بےحد خیال رکھتے تھے۔ ہمیشہ گھڑی پر اُن کی نظر ہوتی۔ بہت کم ہوا کہ انہوں نے نماز جمع کی ہو۔ اللہ کے فضل سے تہجد گزار تھے۔ بیماری کے ایام میں اگرچہ بہت کمزوری ہوگئی تھی، چکر آجاتے تھے۔ لیکن پھر بھی باوضو ہوکر نمازیں ادا کرتے۔ ہم عمرہ کے لئے گئے تو انکے گھٹنوں میں شدید تکلیف تھی، چلنا دشوار تھا۔ ہم وہیل چیئر لیکر گئے تھے لیکن بیٹھنے سے صاف انکار کردیا اور چل کر ہی کئی طواف کئے اور کہا کہ اس کا زیادہ ثواب ہے۔ اُن کو اپنے چندوں کی ادائیگی کی بےحد فکر رہتی تھی۔ بیماری کے دوران سب چندے ادا کئے۔ طبیعت بہت ہی سادہ تھی۔ صاف گو انسان تھے جن کا ظاہروباطن ایک ہی تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بہتوں کے دلوں میں گھر کر گئے۔ اپنی تکلیف کا بہت کم کسی سے اظہار کرتے۔ اپنی خدمت کروانا ان کو پسند نہیں تھا۔

آپ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے تھے اور نمازوں کی ادائیگی ہمیشہ وقت پر کرتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی انگلستان جیسے مادی ماحول میں اسی کا عادی بنایا۔ اس بارہ میں آپ کی بیٹی سیدہ رضوانہ یحیٰ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اباجان کی ایک بہت ہی اچھی عادت یہ تھی کہ نہ صرف یہ کہ نماز جمع کرنے کو ناپسند فرماتے تھے بلکہ ہر نماز کو علیحدہ عین اس کے صحیح وقت پر ادا کرتے تھے۔ انہیں مختلف میچز ٹی وی پر دیکھنے کا بہت شوق تھا مگر بارہا میں نے دیکھا کہ عین میچ کے درمیان میں اگر نماز کا وقت ہو جاتا تو وہ میچ چھوڑ کر پہلے نماز ادا کرتے۔ ہم اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے والدین نے ہمیں نمازوں پر قائم کرنے والا ماحول فراہم کیا اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ان کی اگلی نسلیں بھی ماشاء اللہ نمازوں کو قائم کرنے والی بن چکی ہیں۔

وفات سے پہلے آپ نے اپنے بچوں کو نصیحت کی کہ میرے بارے میں فکر نہ کرنا۔ میرا اللہ مجھے سنبھال لے گا۔ اور پھر آخری نصیحت یہ کی کہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ہمیشہ مضبوط رکھنا۔ اس نصیحت کے ساتھ آپ کی مطمئن روح اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئی۔

الحمد للہ آپ کے بیٹے ڈاکٹر کلیم صادق صاحب نے گزشتہ سال یوگنڈا سے واپسی پر جہاں وہ ہیومینیٹی فرسٹ کے کام کے سلسلہ میں گئےتھے، حضور انور سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اپنے والد صاحب کی طرف سے ایک مسجد تعمیر کروانا چاہتا ہوں۔ حضور انور ایدہ اللہ نے ازراہ شفقت اس کو منظور فرمایا۔ چنانچہ یوگنڈا کے ایک گاؤں رےٹوما (Rwetuuma) میں مسجد صادق اب تکمیل کے مراحل میں ہے۔ یہ مسجد محترم مجیب اللہ صادق صاحب کی نیک یادوں کو زندہ رکھنے کا باعث بنے گی۔ ان شاء اللہ

آپ کا خلافت کے ساتھ ایک مضبوط اور پیار کا رشتہ تھا۔ خلافت احمدیہ کے فدائی تھے اور اس کی نصیحت اپنی اولاد کو بھی کیا کرتے تھے۔ الحمد للہ کے آپ کی اولاد بھی دربار خلافت سے اٹھنے والی ہرآواز پر والہانہ لبیک کہنے والی ہے۔ آپ کے داماد مکرم ڈاکٹر محمد یحیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ نظامِ جماعت اور نظامِ خلافت سے ان کا تعلق بہت ہی مثالی تھا۔ اپنی آخری بیماری کے ایام میں جبکہ دل کے عارضہ کی وجہ سے ان کو سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی تھی،جب بھی ہم نے ان کو یہ بتایا کہ حضور انور کی خدمت میں آپ کی بیماری سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ہے تو ان کے چہرے پر ایک رونق اور بشاشت سی آجاتی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ان کو یہ سن کر بہت ہی اطمینان اور سکون ملا ہے۔

آپ بہت شفیق والد تھے لیکن اپنے بچوں کی بہت عمدہ طریق پر تربیت کی اور ان کو خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ وابستہ کردیا۔ آپ کے بیٹے مکرم ڈاکٹر کلیم صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ ابوجان بہت شفقت کرنے والے باپ تھے۔ بہت پیار سے باتیں سمجھاتے تھے۔ بچوں کے ساتھ بچوں والی باتیں اورسچے دل سے پیار کرتے تھے۔ بزرگوں کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آتے تھے۔ روازانہ بچپن سے ہی مسجد اور نماز سے تعلق رکھنے کی عادت ڈال دی۔ خلافت سے بہت پیار تھا اور ہم بچوں کے دل میں بھی یہ پیار ڈال دیا۔

صبح جب فجر کے لئے جگاتے تو بہت پیار سے جگاتے اور پھر لائٹ آن کرتے۔ ان ہی کی وجہ سے اب ہم سب اور ہمارے بچے روزانہ مسجد میں نماز پڑھنے کے عادی ہوگئے۔ آپ بہت نرم طبیعت کے تھے۔ کہتے تھے کہ میں سب سے پیار کرتا ہوں۔ بہت صاف گوتھے، کوئی چالاکی نہ تھی اورکبھی دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتے تھے۔ آپ اتنے نرم دل تھے کہ جانوروں کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ بچپن میں مجھے بہت شوق تھا کہ طوطا پالوں مگر ابوجان فرمایا کرتے تھے کہ کسی پرندہ کو پنجرے میں بند رکھنا ظلم ہے۔

آپ نے اپنی بہو کو ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا اور اس کو بیٹیوں جیسا پیار دیا۔ آپ کی بہومکرمہ مونا صادق صاحبہ بنت مکرم ناصر احمد شمس صاحب آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ آپ ایک فرشتہ سیرت انسان تھے۔ منکسر المزاجی اور تحمل ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ بچوں سے غیر معمولی محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے۔ بچے بھی جہاں ان کو دیکھتے ان سے چمٹ جاتے۔ مجھے ہمیشہ باپ کا پیار دیا۔ میری شادی کو بیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس سارے عرصہ کے دوران ہمیشہ مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح پیارکیا۔ آپ کی وفات کا صدمہ بہت بڑا اور گہرا ہے۔ لیکن ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔

آپ اپنے بچوں اور انکی اولاد سے بہت شفقت اور پیار کا تعلق رکھتے۔ اسی وجہ سے بچے بھی آپ کے ساتھ بہت مانوس تھے اور آپ کی صحبت میں رہنا پسند کرتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی نواسی مکرمہ ملیحہ فرید الحق صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میں نانا جان مرحوم کی اگلی نسل میں سے پہلی اولاد ہوں۔ یوں مجھے انکے ساتھ 24 سال گزارنے کا موقع ملا۔ مرحوم ناناجان بہت ہی محبت کرنے والے، شفیق انسان تھے۔ ہم سب بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے بلکہ بچوں کی خوشی اور ہنسی مذاق میں ہمارے ساتھ ہمیشہ شریک ہوتے۔ سب بچوں کو ہمیشہ انکے گھر رات رہنا بہت پسند تھا۔ آپ چونکہ قدرے اونچی آواز میں نماز پڑھنے کے عادی تھے اور تلاوتِ قرآن باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ اس لئے بارہا میری آنکھ انکی تلاوتِ قرآن کی وجہ سے کھلتی ہے۔

آپ بہت ملنسار اور دوستانہ تعلق رکھتے تھے اسی لئے آپ سے ملنے والے آپ کی اس خوبی کا بیان کرتے ہیں۔ آپ کے ایک دوست مکرم ڈینٹل سرجن ڈاکٹرفرید احمد صاحب آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ بہت عظیم دوست تھے۔ آپ سے میرا تعارف تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ صبح کی سیر کے دوران ہوا تھا۔ آپ ہر وقت سمارٹ لباس اور ٹائی میں ملبوس ہوتے تھے۔ میں آپ کو اس پر مذاق اور چھیڑخانی بھی کیا کرتا تھا۔ آپ بھی مجھے مذاق میں کہتے کہ آپ کو ٹائی پہننے سے کو ن روکتا ہے۔ ایک بار غیر ارادی طور پر اچانک آپ کی کار حضور رحمہ اللہ کی کار سے ٹکرا گئی اس پر آپ بہت خوف زدہ ہو گئے لیکن کمال شفقت کا مظاہرہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا۔ حضورؒ اپنی کار سے اتر کر باہر آئے اور دیکھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور مجیب صاحب کا حال پوچھا اور حضورؓ مسکرا دیئے گویا کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب خلافت خامسہ کا انتخاب ہو گیا تو میں مجیب اللہ صاحب کو ازراہ تفنن کہا کرتا تھا کہ اب آپ محتاط رہیں اور حضور انور ایدہ اللہ کی کار کے پیچھے نہ جائیں۔ آپ اس سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ آپ ایک بہت اچھے دوست تھے۔ مسکراہٹ ہمیشہ آپ کے چہرے پرہوتی اور متبسم چہرے کے ساتھ لوگوں سے ملتے تھے۔ یقیناً آپ کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔

عزیز رشتہ داروں کے ساتھ تو آپ کا مثالی سلوک تھا۔ آپ کی بڑی بہن شمسہ سفیر صاحبہ جنہوں نے آپ کی ماں بن کر دیکھ بھال کی تھی اور لندن میں انہیں کے ہاں مجیب صاحب قیام پذیر ہوتے تھے۔ مجیب صاحب کی شادی کے فوراً بعد مکرمہ شمسہ سفیر صاحبہ کے شوہر محترم ڈاکٹر سید سفیرالدین بشیر احمد صاحب انتقال کر گئے۔ محترم مجیب صاحب نے انکے کمسن پانچ بچوں کے لئے باپ کا کردار ادا کیا اور انکی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ اور تا وقت وفات ان سب سے مثالی تعلق تھا۔

مکرم محمد شریف عودے صاحب امیر جماعت کبابیر بیان کرتے ہیں کہ میں محترم مجیب صاحب کو گزشتہ 25 برس سے جانتا ہوں۔ آپ ایک شفیق ہمدرد، فراخ دل اور باپ کی طرح پیار کرنے والا وجود تھے۔ آپ انتہائی شریف النفس وجود تھے جو دوسروں کے لئے ہمیشہ خوشی کا سامان پیدا کیا کرتے تھے۔ چند سال قبل آپ اور آپکی فیملی کبابیر تشریف لائی تب سے ہمارا تعلق بہت مضبوط ہو گیا اور ہم ایک خاندان کی طرح ہو گئے۔ آپ بہت ملنسار تھے اور ہمیشہ ہماری فیملی کو ہر جلسہ پر اپنے گھر دعوت پر بلایا کرتے تھے۔

آپ اور آپ کی فیملی کی مہمان نوازی جو جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے ہوتی اس کا خاکسار بھی گواہ ہے۔ جلسہ کے مہمانوں کی حالت تو مہاجرین کی سی ہوتی ہے اورآپ نے ہمیشہ لندن کے رہائشی ہونے کے ناطے ان مہاجرین کے لئے انصار مدینہ کا کردار ادا کیا اور اخوت ومحبت اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےمہمانان کی مہمان نوازی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ جلسہ پر آنے والے مہمانان کی خدمت ثواب سمجھ کر کرتے تھے۔ 2017ء کے جلسہ سالانہ پر خاکسار کو بھی شمولیت کا موقع ملا اور آپ کے بیٹے کلیم صادق کے ہاں مہمانان جلسہ کے ساتھ پر لطف دعوت میں شریک ہوا۔ آپ نے صرف مدعو ہی نہیں کیا بلکہ مجھے گھر سے لے جانے اور چھوڑنے کی ڈیوٹی بھی ادا کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اموال و اخلاص اور نفوس میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

محترم سید طاہر احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اشاعت ایم ٹی اے مجھ سے محترم مجیب صاحب کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ آپ بہت ہی شریف النفس، ملنسار، محبت کرنے والے اور حد درجہ مہمان نواز تھے۔ اور شگفتہ حس مزاح رکھتے تھے۔ وہ مجھ سے جب بھی ملے بہت محبت سے پیش آتے رہے۔

دفتر میں آنے والے مہمانان اور عہدے داران سے ادب اور احترام کے ساتھ پیش آتے۔ خواہ عمر میں چھوٹے بھی ہوں تو بھی آپ احتراماً کھڑے ہو جاتےاور ان سے خندہ پیشانی سے ملتے۔ مکرم محمد زکریا خان صاحب امیر و مشنری انچارج ڈنمارک بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ آپ گلشن احمد کے خوبصورت پھولوں میں سے ایک پھول تھے۔ نہایت درجہ ملنسار، منکسر المزاج اور عمدہ مزاح کے مالک تھے۔ میں عمر میں ان سے بہت چھوٹا تھا۔ مگر آپ بڑے احترام سے کھڑے ہو جاتے اور فوراً چائے، کافی کی پیشکش اور لوازمات کے ساتھ خود پیش کر دیا کرتے تھے۔ میری توجہ ذرا ادھر ادھر ہو تی تو فوراً پوچھتے کسی چیز کی ضرورت ہے تو مہیا کر دیتے۔ لیکن سب سے بالا ان کے دل میں جماعت کی خدمت کی تڑپ اور خلیفۂ وقت کا ادب و احترام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ادھر اذان ہوئی، فوراً وضو کیا اور خلیفة المسیح کی اقتدامیں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد چل پڑے۔

مکرم حامدکریم محمود صاحب مبلغ ہالینڈ تحریر کرتے ہیں کہ1980ء میں خاکسار محترم ناصر احمد شمس صاحب کےہاں ہالینڈ گیا تو وہاں محترم مجیب اللہ صاحب بھی مع فیملی ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ان سےتعارف ہوا اور اکٹھےسیربھی کی۔ تب سے ان کےساتھ ایک پیار محبت کا تعلق ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ جلسہ یوکے پر جانے کا موقع قریباً ہرسال مل جاتا تھا ان سے ضرور ملاقات ہوتی۔ ہمیشہ بہت پیار سے اور مسکرا تے ہوئے ملتے حال احوال پوچھتے۔ ان کے بیٹے عزیزم کلیم اللہ صاحب سے بھی پیار کا تعلق پیدا ہوا جو آج تک قائم ہے۔ عزیزم کلیم کے گھر میں بھی متعدد بار دعوت پر جانے کا موقع ملتا رہا وہاں بھی ان سے ملاقات ہوتی اور ہمیشہ ہی بہت عزت و پیار سے ملاقات ہوتی۔

اپنے غیر مسلم ہمسایوں کےساتھ بھی مجیب صاحب کاحسن سلوک قابل تقلید تھا۔ آپ کے ہمسائے بھی آپ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ آپ بہت ہی نرم دل اور ہمدرد انسان تھے۔ آپ کے ساتھ والے مکان میں ایک80 سالہ معمّر خاتون مسز روز سپلمین اکیلی رہتی تھیں۔ رات کو بجلی گرجتی تو وہ بڑھیا خوف سے درمیانی دیوار کو زور زور سے کھٹکھٹاتی۔ آپ انسانی ہمدردی میں اپنی اہلیہ کو ساتھ لیکر اس کے پاس جاتے اور اُس کے اطمینان کی خاطر کافی دیر اُس کے پاس بیٹھے رہتے۔ وہ بہت کمزور اور ناتواں ہوچکی تھی۔ محترم مجیب صاحب نے اپنی بیٹیوں کو انکی خدمت پر مامور کیا ہوا تھا۔

آپ کی وفات پر آپ کے غیرمسلم ہمسائے بھی افسردہ تھے۔ آپ کی ہمسائی Sharon Betts نے کہا کہ آپ نہایت پاکباز اور پیارے وجود تھے۔ اگر کبھی ملاقات کو زیادہ وقت گزر جاتا تو آپ ہمارے گھر تشریف لا کر ہماری خیریت دریافت کرتے۔

اسی طرح آپ کے ہمسائے Mr.Charles اور انکی اہلیہ Mrs. Derdie کہتی ہیں کہ ہم آپ کو ہمیشہ اپنی حسین یادوں میں زندہ رکھیں گے آپ عظیم شخصیت اور نیک وجود تھے۔

سیکرٹری تربیت برطانیہ مکرم نثار آرچرڈ صاحب آپ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ میرا آئندہ امیر صاحب یو کے کے دفتر میں جانا پہلے کی طرح نہ ہو گا کیونکہ میں جب بھی امیر صاحب کے آفس جاتا تو مجیب اللہ صادق صاحب کے ڈیسک کے سامنے بیٹھتا تھا اور آپ بغیر کہے فی الفور میرے لئے عمدہ قسم کی کافی دیگر لوازمات کے ساتھ مجھے پیش کرتے تھے۔ اسی طرح جب بھی آپ کےحلقے میں تربیتی اجلاسات کے لئے جاتاتو وہاں مجیب صاحب ہمیشہ پہلی صف میں موجود ہوتے تھے۔ میں آپ کی کمی تو محسوس کرونگا لیکن اپنے اس پیارے دوست کو کبھی نہیں بھول پاؤنگا۔

محترم ناصراحمد شمس صاحب سیکرٹری فضل عمر فاونڈیشن آپ کی سیرت اور شمائل حسنہ کا خوبصورت احاطہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:۔

حیف در چشم زدن صحبتِ یار آخر شد
رُوئے گل سیر ندیدم کہ بہار آخر شد

بہت پیارے انکل مجیب صاحب کی وفات حسرت آیات نے بے حد دکھی اور اداس کر دیا ہے۔ آپ نہایت ہی فرشتہ سیرت انسان، اعلیٰ اخلاق کے مالک اور خلافت احمدیہ کے عاشق صادق تھے۔

آپ کا وجود نہایت شفیق بزرگ کی حیثیت رکھتا تھا ہر کسی پر پدرانہ شفقت کا سایہ محیط رہتا۔ اپنی اہلیہ، بچوں اور تمام عزیزوں کے لئے جہاں ایک سائبان کی حیثیت تھی۔ وہاں غیروں کے لئے غیر معمولی محبت اور شفقت کا سلوک روا رکھتے۔ منسکر المزاجی اور تحمل ان کی طبیعت کا فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔ اپنے تمام بچوں کی بھی نہایت احسن رنگ میں تربیت کی اور ان کو خلافت کا شیدائی اور اطاعت گزا ر بنانے میں اپنی ساری عمر صرف کر دی۔

بچوں سے غیر معمولی محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے اور بچے جہاں بھی ان کو دیکھتے دوڑ کر ان سے چمٹ جاتے۔ آپ بہترین اخلاق حسنہ سے متّصف تھے۔ جلسہ سالانہ یوکے پر مرکز سے آنے والے مہمانوں سے غیر معمولی حسن سلوک کا اظہار فرماتےاور انکی مہمان نوازی اور دلداری میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ آپ طبعاً کم گو اور خاموش طبع تھے۔ لیکن جو بھی آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا اور اسے یوں محسوس ہوتا کہ گزشتہ کئی نسلوں سے ہمارا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

آپ کی موجودگی ماحول اور مجلس کو ہمیشہ خوشگوار بنائے رکھتی اوروہاں سے اٹھنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ قریبی عزیزوں کو اصرارکر کے گھر پر مدعو کرتے۔ بہت وقت دیتے۔ ہنسی مذاق اور گفتگو میں پورا شامل ہوتے۔ مہمانوں کی پسند کے مختلف کھانے خود تیار کرواتےاور پھر بڑی محبت اور چاہت سے ایک ایک کے پاس جا کر ان کی خدمت میں پیش کرتے۔ جلسہ سالانہ بر طانیہ کے بعد اکثر یہ نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ ان کے بیٹے عزیزم مکرم ڈاکٹر سید کلیم اللہ صادق جو خاکسار کے داماد بھی ہیں کے ہاں ہر روز ایک دعوت ہورہی ہوتی لیکن ہر روز مہمان مختلف ہیں۔ ان سب احباب کویقین ہی نہیں آ رہاکہ اتنا پیارا اور مخلص وجود ہم سے جدا ہو گیا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو اس صدمہ عظیم کے برداشت کرنے کی طاقت، قوت اور ہمت عطا فرمائے۔ اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ اور ہماری اولادوں کو خلافت کا جانثار سپاہی بنائے۔ آمین۔

تمہیں کہتا ہےمردہ کون، تم زندوں میں شامل ہو
تمہاری خوبیاں قائم، تمہاری نیکیاں باقی

مورخہ 31 مئی 2020ء کو محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت برطانیہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ جنازہ سے قبل محترم امیر صاحب برطانیہ نے محترم مجیب صاحب کا بہت خوبصورت انداز اور محبت کے ساتھ ذکر خیر کیا کہ آپ ایک ممتاز شخصیت تھے۔ میرے انکے ساتھ غیر معمولی ذاتی مراسم تھے۔ میں انہیں اپنا ایک سچا دوست کہنے پر خوشی محسوس کرتا ہوں۔ آپ شریف النفس، صاف دل، متقی اور مخلص احمدی تھے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ ہمارے دفتر میں کام کرتے تھے اور آپ نے دفتر کا ماحول بہت خوشگوار رکھا ہوا تھا۔ ہم ہر صبح ایک دوسرے سے فون پر بات کرتے۔ جس طرح ہم نے مل کر کام کیا ہے اس سے ہم اطمینان محسوس کرتے تھے بلکہ اس سے پورا ماحول خوشگوار تھا۔ سب سے بڑھ کرخوشی کی بات یہ ہے کہ آپ نے اپنی اولاد اور ان کے بچوں میں خلافت اور جماعت سے محبت پیدا کردی ہے۔ اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑنا صدقہ جاریہ ہے۔ الحمدللہ آپ کی ساری اولاد بہت خدمتگار اور مخلص احمدی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد پر بھی اپنی برکتیں نازل فرمائے۔ اور ان کو اپنے نیک اور بزرگ والد کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

(محمد محمود طاہر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020