• 1 دسمبر, 2020

آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پرچار کرے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
یہ قرآن کریم کے اس حکم کے تحت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (الممتحنہ:9) اللہ تمہیں اس سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کر و اور ان کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

تو اس میں اس حکم کی طرف ہی اشارہ ہے جو دوسری جگہ ہے کہ اگر فساد کو روکنے کے لئے تمہیں تلوار اٹھانی پڑے تو اٹھا سکتے ہو۔ ایسے لوگ جو فتنہ اور فساد پیدا کرنے والے ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف تلوار اٹھائی ہے ان کے خلاف ایک قوم اور حکومت کی حیثیت سے اعلان جنگ کر سکتے ہو۔ لیکن اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا۔ جو تمہارے سے ٹکر نہیں لے رہا، جو تمہیں تنگ نہیں کر رہا، جو تمہارے سے جنگ نہیں کر رہا، جو تمہیں ختم کرنے کے درپے نہیں ہے، تو تمہارا یہ فرض بنتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان سے نیکی کرو، حسن سلوک سے پیش آؤ۔ اور یہی بات ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کا محبوب بنائے گی۔ اعلان جنگ ہے یا اعلان بیزاری صرف اُن کے ساتھ ہے جن کادنیا میں فساد کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ پس ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے اور محبت بڑھانے کی اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتا۔ لیکن جو امن میں رہ رہے ہیں ان کو بلاوجہ ان کا امن برباد کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں بھی واضح ہونا چاہئے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق اعلان جنگ کرنا یا ردّعمل کا اظہار کرنا حکومتوں کا کام ہے۔ ہرشخص جو چھوٹے بڑے گروپ کا ہے اگر اس طرح کرنے لگے تو اپنے ملک میں اپنی حکومتوں کے اندر ایک فساد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ اور بدقسمتی سے یہی چیزہے جو آج کل مختلف ملکوں میں، مسلمانوں میں جو شدت پسند بنے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہو رہی ہے۔ اپنے ملکوں میں فساد پیدا کیا ہوا ہے جس سے اسلام اور مسلمان بدنام ہو رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے جو بین الاقوامی سلامتی اور بین المذاہب تعلقات کے لئے بڑا اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ مَّرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (انعام:109) اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔ پھر اُن کے ربّ کی طرف اُن کو لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریقِ ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (سورۃ الانعام جزو نمبر7) یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں۔ اب دیکھو کہ باوجود یکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بُت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بد گوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ‘‘۔

(پیغام صلح۔ روحانی خزائن جلد23 صفحہ461-460)

تو یہ ہے معاشرے میں، دنیا میں امن و سلامتی قائم رکھنے کے لئے اسلام کا حکم۔ ہر گند کا جواب گند سے دینا اپنے اوپر گند ڈالنے والی بات ہے۔ مخالف اگر کوئی بات کہتا ہے اور تم جواب میں اُن کو اُن کے بتوں کے حوالے سے جواب دیتے ہو تو وہ جواب میں خداتعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی مثال دے کر مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ جب بھی بات کروتمہارے کلام میں حکمت کا پہلو ہونا چاہئے۔ یہ بھی نہیں کہ بزدلی دکھاؤ اور مداہنت کا اظہار کرو۔ لیکن مَوْعِظَۃُ الْحَسَنَۃ کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔ اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھو۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا یہ ایک انتہائی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ تمہارے غلط ردّ عمل سے غیر مسلم خدا تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور ایک مسلمان کو خدا کی غیرت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔ پھر تمہیں تکلیف ہو گی اور اپنے غلط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے خدا کو گالیاں نکلوانے کے پھر تم ذمہ دار ہو گے۔ اسی طرح دوسروں کے بزرگوں کو، بڑوں کو، لیڈروں کو جب تم برا بھلا کہو گے تو وہ بھی اس طرح بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپوں کو گالیاں مت دو۔ تو کسی نے سوال کیا کہ ماں باپ کو کون گالیاں نکالتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جب تم کسی کے باپ کو برا بھلا کہو گے تو وہ تمہارے باپ کو گالی نکالے گا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے خود اپنے باپ کو گالی نکالی۔ تو یہ سلامتی پھیلانے کے لئے اسلامی تعلیم ہے کہ شرک جو خداتعالیٰ کو انتہائی ناپسندیدہ ہے جس کی سزابھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں معاف نہیں کروں گا ان شرک کرنے والوں کے متعلق بھی فرمایا کہ ان سے اخلاق کے دائرہ میں رہ کربات کرو۔ تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ تمہارے اخلاق ایسے ہونے چاہئیں جو ایک مسلمان کی صحیح تصویر پیش کرتے ہیں۔ پس آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پرچار کرے۔ باقی رہا یہ کہ جو اسلام پر استہزاء کرنے سے باز نہیں آتے ان سے کس طرح نپٹا جائے۔ اس بارہ میں خداتعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے لوگوں کی بدقسمتی نے ان کے فعل ان کو خوبصورت کرکے دکھائے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھی باتیں کررہے ہیں اور ان لوگوں نے آخر پھر اس زندگی کے بعد خداتعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور جب وہ خداتعالیٰ کی طرف لوٹ کرجائیں گے تو خداتعالیٰ انہیں آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ پھر ان سے وہ سلوک کرے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ۔ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِ ۣ۔ الَّذِیۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَاَلۡقِیٰہُ فِی الۡعَذَابِ الشَّدِیۡدِ (قٓ:25 تا27) یعنی اے نگرانو! اور اے گروہو!! تم دونوں سخت ناشکری کرنے والے اور حق کے سخت معاند کو جہنم میں جھونک دو۔ ہر اچھی بات سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور شک میں مبتلا کرنے والے کو۔ وہ جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود بنا رکھا تھا۔ پس تم دونوں اسے سخت عذاب میں جھونک دو۔

(خطبہ جمعہ 22؍ جون 2007ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020