• 30 نومبر, 2020

اقوال و افکار

مدیر کے قلم سے
اقوال و افکار
حاصل مطالعہ (قسط اول)

کچھ عرصہ قبل میرے ایک دوست جناب مقصود احمد خاں نے ایک کتاب بعنوان ’’تیسری آنکھ سے‘‘ (اقوال و افکار) خاکسار کوپڑھنے کیلئے دی۔ جو ایک مشہور و معروف دانشور، ادیب اور افسانہ نگار مسرت لغاری کی تحریر کردہ ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اپنے مجرب اور واردات قلب کو اقوال و افکار میں سمویا ہے۔ جس میں زمانے کی تلخیاں، بدسلوکیاں، کج ادائیاں اور اپنوں و غیروں کی ستم آرائیاں تجربے کے روپ میں ڈھلی ہیں۔ موصوفہ نے ان گیارہ صد سے اُوپر تجربہ شدہ اقوال و افکار کو 62 عناوین کے تحت جمع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کودو ظاہری آنکھوں کے سواایک روحانی آنکھ بھی عطا کر رکھی ہے۔ بعضوں نے اسے ’’کیمرے کی آنکھ‘‘ قرار دیا ہے، جس کو استعمال میں لاکر انسان کو اپنے مستقبل کی منزل کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہر انسان کے اندر ایک اور انسان موجود ہوتا ہے جو ظاہری انسان کو اچھائی اور بُرائی کی نشاندہی کرتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک مریض کے ساتھ مجھے اسپتال میں کچھ گھنٹے رکنا پڑا۔ اس دوران خاکسار نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ۔اس میں درج اقوال وافکار بہت اچھے لگے ۔ مفید پائے۔ موصوفہ کے تمام اقوال و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ خاکسار نے بھی بہتوں سے اختلاف کیا ہے۔ تاہم جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق پائے اور انسان کیلئے راہ ہدایت متعین کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر عنوان کے تحت ایک ایک، دو دو بغرض افادہ قارئین الفضل لندن آن لائن لندن کے لئے مسرت لغاری کے پیشگی شکریہ کے ساتھ یہاں جمع کیے جا رہے ہیں۔

رب رحیم و کریم :وہ اپنے حق میں کی ہوئی ناشکری اور احسان فراموشی دونوں کو معاف کر دیتا ہے لیکن انسان کے ساتھ انسان کی ان دونوں زیادتیوں پر اُسے پکڑ لیتا ہے۔

اگرہمارا ہر سانس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک احسان اور رحم و کرم ہے تو جواباً ہمارا ہر سانس سجدہ شکر کیوں نہیں ہے؟

روحانیت کیا ہے:ضرب المثل ہے ہر کمال کے نصیب میں زوال ہے مگر یہ مثال دنیاوی عروج و زوال کے حوالے سے ہے اگر آپ روحانیت کی راہِ پُرخار پر چل کر کوئی چھوٹا سا بھی کمال حاصل کرلیتے ہیں تو وہ زوال کی زد میں نہیں آسکتا ہے کیونکہ یہ کمال آپ ذاتی زوالِ ذات کے بعد حاصل کرتے ہیں اور زوال سے کمال تک پہنچنے کے بعد زوال نہیں آتا۔

حب رسولؐ: رب کو راضی رکھنا ہے تو اس کی مخلوق کو راضی رکھو اس کی مخلوق کو راضی رکھنا ہے تو اس کے محبوبؐ کو راضی رکھو۔

کتاب روشن و حکمت: ہر روز علی الصبح وضو کرکے کتاب روشن و اکمل کو ایک دوست کی طرح گلے لگا کر ملئے۔ پورا دن آپ اس کی پناہ میں رہیں گے لیکن اس کے ساتھ چھوٹی سی شرط یہ ہے کہ آپ پورا دن اس کے اندر درج شدہ دوستی کے اصولوں پر کاربند بھی رہیئے۔

مذہب:میرے نزدیک پورا مذہب صرف چار الفاظ پر مشتمل ہے ’’خدا دیکھ رہا ہے‘‘۔

زندگی:سال میں چار موسموں کی طرح انسان کے مزاج کے بھی چار موسم ہوتے ہیں اگر آپ سال کے چار موسموں کو برداشت کر سکتے ہیں تو اپنے تعلق داروں کے مزاج کی بہار، خزاں، گرمی اورسرد مہری کو برداشت کیوں نہیں کر سکتے؟ ایک عمل کو آپ موسموں کا نارمل پن کہتے ہیں اور دوسرا عمل نارمل زندگی گزارنے کا تقاضا ہے۔

موت:کبھی انسان نے خیال بھی کیا کہ جب وہ کسی سے تھوڑی دیر کے لئے ملنے جاتا ہے تو کتنی تیاری کر کے جاتا ہے اور جس مالکِ کائنات سے اس کی موت کے بعد دائمی ملاقات کے لیے جانا ہے پوری زندگی میں اس کے لئے کتنی تیاری کی ہے؟

ضمیر: ہمارے اندر ہمارا ضمیر ایک فلٹر کی حیثیت رکھتا ہے کیا حرج ہےاپنی ہر سوچ، ہر عمل اور ہر قول کو پہلے اس میں سے گزار لیا جائے؟

ضمیر ہر انسان میں ایک کمپیوٹر کی طرح نصب ہے جو ہماری روحانی طاقتوں سے روشنی لے کرچلتا ہے اس کی روشنی کبھی دھیمی نہیں پڑتی، فیل نہیں ہوتی نہ ہی اس میں (انسانی تخلیق) جیسے کمپیوٹر کی طرح وائرس آتاہے کہ بجلی چلی جائے تو بجھ جائے۔ وائرس آجائے تو بند ہو جائے بلکہ ہماری اسی شفاف ضمیر کی سلامتی پر کاروبارِ دنیا کا انحصار ہے خدانخواستہ جس روز دنیا بھر کے انسانوں کے ضمیر میں وائرس آگیا تو وہ دنیا کی زندگی کا آخری دن ہوگا سو کوشش کیجئے کہ اپنے ضمیر کے کمپیوٹر میں کھرا مواد فیڈ کریں یہ آپ کو کامیابیوں کا سوفیصد رزلٹ دکھائے گا۔

عبادت: مجھے یقین ہے کہ صحت اور درازیِ عمر کا راز عبادت میں ہے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ گھنٹوں کی عبادت کے بعد جائے نماز سے خالی ہاتھ، خالی دل اور خالی دامن اُٹھ آتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک معبود کے ساتھ رابطے میں آ جاتے ہیں مگر دوسری کیفیت آپ پر تب طاری ہو سکتی ہے یا ہوتی ہے جب آپ اندر باہر سے مکمل طور پر شفاف، کھرے اور خود آگاہ ہو جائیں۔

بات نماز کی نیت کی ہوتی ہے نیت نماز کی ہو تو اسی مٹی سے بھی تیمم کر کے مستجاب سجدہ کیا جا سکتا ہے جو کچھ دن پہلے نمازی کے پاؤں تلے موجود تھی لیکن اگر عبادت کے لیے نیت ٹھیک نہیں تو پھر پوری زندگی نماز کے لیے پاک صفوں پر بیٹھے رہو قبولیت کی گھنٹی نہیں بجے گی۔

کِردار:کسی کی طرف سے بلا جواز بدسلوکی پر آپ کے ردعمل کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ویسے ہی ہیں جیسا کہ اُس نے آپ کو سمجھا ہے۔

جس طرح پختہ رنگ کے کپڑے پر کوئی دوسرا نہیں چڑھتا نہ ہی خود اس کا اپنا رنگ اترتا ہے اسی طرح اگر آپ کی تربیت اور کردار بھی پختہ ہے تو نہ لوگ آپ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ آپ خود بگڑسکتے ہیں نہ ہی حوادث زمانہ آپ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

دنیا:جس طرح سونے پر کوئی دوسرا رنگ نہیں چڑھ سکتا اسی طرح اگر آپ بھی کھرے ہیں تو دنیا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

اس ناپائیدار اور خود غرض دنیا کے غرضی مت بنیں کیونکہ یہ کسی کی نہیں ہے اس نے بجائے خود روز حشر ختم ہو جانا ہے جب کہ آپ کے اعمال کا حساب حشر کے بعد بھی جاری و باقی رہے گا۔

آخرت:دنیا میں انسان کے کانوں کے لئے شیریں ترین آواز اس کا اپنا نام ہے لیکن آخرت میں جب حساب کے لئے اس کا نام پکارا جائے گا تو اپنا ہی پیارا نام نہ سننا چاہے گا۔

گناہ:حیرت ہے سودا لیتے وقت ہم جس دکاندار سے ایک بار دھوکہ کھا لیتے ہیں دوبارہ اُس سےسودا لینے کی غلطی نہیں کرتے مگر عام روزمرہ زندگی میں جو غلطیاں اور گناہ بار بار کرتے ہیں اس سے توبہ تائب نہیں ہوتے۔

جنت و دوزخ:حیرت کی بات ہے انسان نے خود کو گرمی کی شدت اور دھوپ کی حِدت سے بچانے کے لئے ٹھنڈی ہوا کو مشینوں میں قید کرلیاہے لیکن جہنم کا یہ قیدی روزِ محشر کی مائع آگ سے بچنے کے لئے کوئی چارہ نہیں کرتا۔

نیکی:جب بھی وقت ملے جس قدر بھی ممکن ہوسکے نیکی اور نیک جذبوں کی investment کرتے رہیں یہ سوچے بغیر کہ آپ کو اس دنیا میں اس کا کتنا profit ملے گا دوسری دنیا کے حساب میں آپ کا profit اصل زَرسے بڑھ رہا ہے۔

جس طرح حد سے بڑھی ہوئی مٹھاس ایک خاص حد کے بعد کڑوی لگنے لگتی ہے اسی طرح احسان فراموش شخص کے ساتھ آپ کی حد سے بڑھی ہوئی نیکی بھی ایک خاص مقام پر جا کر بدی میں بدل جاتی ہے ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نیکی کی ایک خاص مقدارجذب کرنے کے بعد باقی نیکی کو آپ کے منہ پر دے مارتا ہے۔ ظاہر ہے جاذب کاغذ میں جتنیcapacity ہوگی آپ اُسے کم یا زیادہ نہیں کر سکتے۔

جس طرح کوئی پیاسا انسان بھرے کنوئیں کے پاس آ کر اپنی پیاس بجھاتا ہے اور اس کا شکریہ ادا کئے بغیر واپس چلا جاتا ہے اس کے اس عمل سے نہ تو کنوئیں میں سے گلاس بھر پانی نکلنے سے کوئی کمی واقع ہوتی ہے نہ ہی وہ اس پر کوئی ردعمل ضروری سمجھتا ہے اسی طرح آپ بھی اگر اپنی فطرت میں نیک ہیں ، دریا دل ہیں جذبہ انسانیت سے لبریز ہیں تو لوگ آپ سے مسلسل اپنے مفادات کی پیاس بجھاتے رہیں گے،آپ کے احسانات کے بدلے میں آپ کی صاف و شفاف نیت پر کیچڑ اچھالتے رہیں گے صدمات پہنچاتے رہیں گے لیکن آپ نیکی کے آب حیات سے لبالب بھرے ہوئے کنوئیں کی طرح کسی بھی قسم کے ردعمل کا اظہار نہ کریں آپ پیاسوں سے پیاس بجھانے یا بُروں سے نیکی یا احسانات وصول کرنے کی رسید کس طرح لے سکتے ہیں؟

بدی، بدنیتی: جس طرح دو مخالف سمتوں سے آنے والی دو گاڑیوں کے ٹکرانے سے آواز پیدا ہوتی ہے اور شور سن کر لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور قصوروار و بے قصور کے لیے چھانٹی اور پکڑ دھکڑ شروع ہوجاتی ہے۔ گاڑیوں کے نمبر اور مجرم کا نام نوٹ کیا جاتا ہے اور معاملہ عدالت تک جا پہنچتا ہے بعینہٖ زمین پر بھی جب کبھی نیکی اور بدی کا تصادم ہوتا ہے تو آسمان پر بھی ایسا ہی شور اٹھتا ہے۔ طرفین کے نام پتے نوٹ کئے جاتے ہیں اور انصاف کے لئے عدالت سج جاتی ہے۔ سو قصور وار و بد کارباخبر ہیں وہ لمحہ لمحہ اُوپر درج ہورہے ہیں۔ ان کی ایف آئی آر کاٹی جارہی ہے۔
بدی اور بدنیتی سے بچیں یہ دونوں بدیاں دلدل کی مانند ہیں جس سے آپ کبھی بھی باہر نہیں نکل سکیں گے ایک پاؤں اندر اُترے گا تو دوسرا باہر آئے گامگر رہیں گے آپ کیچڑ ہی میں۔

عادت عجیب چیز ہے ایک بے جان چیز کے فعل کا بھی آپ وقت مقرر کر لیتے ہیں تو عین اسی ٹائم پر آپ کو وہ کام کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پر ٹائم پیس کو ایک مقررہ وقت پر آپ چابی دیتے ہیں، نہ دیں تو رک جاتی ہے اسی طرح انسان بھی جب بدی بدنیتی کا عادی ہو جاتا ہے تو اس سے باز نہیں رہ سکتا پھر کیوں نہ نیکی کو روح میں رچا بسا لیا جائے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ گزارہ نہ رہے؟

محبت:یہ جذبہ الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ کھرا جذبہ لفظ نہیں عمل ہوتا ہے جس طرح آپ بیک وقت منہ سے گالی دینے کے فوراً بعد مدمقابل سے محبت کا دعویٰ نہیں کر سکتے اِسی طرح کھری محبت کسی بھی مقام پر اور کسی بھی لمحے نفرت تخلیق نہیں کر سکتی۔

محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے جو آپ کو بھی خوبصورت کر دیتا ہے بلکہ محبت کرنے والے چہرے سے زیادہ خوبصورت چہرہ زمین کے چہرے پر اور کوئی چہرہ نہیں ہو سکتا ایسی خوبصورت محبت کسی بھی رشتے میں ہو سکتی ہے۔

نفرت:نفرت کرنا کسی بھی گناہ سے بڑا گناہ ہے بلکہ نفرت ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے کیونکہ جب آپ کسی سے نفرت کر رہے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کا اخلاقی معیار ختم ہو جاتا ہے اور جب اخلاقی معیار، اصول اور محبت ہی دل سے ختم ہو جائے تو گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اعمال: کسی کے ساتھ آپ کا اچھا یا بُرا سلوک دونوں دنیاؤں میں آپ کے نام پر ڈیپازٹ ہو رہا ہے بینک سے پیسے نکالنے کی طرح اس کا چیک بھی کیش کرانے سے پہلے چیک کر لیجئے آپ نے کیاڈیپازٹ کرایا تھا؟

انسان سارادن روپے پیسے کا حساب کرتا رہتا ہے اعمال کا حساب اس لئے نہیں کرتا کیونکہ اس کا یہ سارا گوشوارہ خسارہ ہے۔

جس طرح نظر کمزور ہو تو پڑھتے وقت کچھ صاف نظر نہیں آتا صفحات پر دھبے تیرتے نظر آتے ہیں اسی طرح اگر آپ کے اندر کی آنکھ شفاف نہیں ہے نظر نہیں رکھتی تو پھر صراط المستقیم کیسے نظر آسکتا ہے؟ ہر طرف آپ کو اپنے سیاہ اعمال کے دھبے ہی نظر آئیں گے۔

سچ:سچ اور جھوٹ قطعی اور حتمی طور پر دو الگ الگ خصوصیات ہیں اور آپ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے درجنوں جھوٹ بول سکتے ہیں مگر سچ کو جھوٹ قرار دینے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

جس طرح بانسری کے سینے سے سُر بہت اندر سے باہر آئے تو پُر اثر ہوتا ہے بانسری نواز کی باہری سیٹیاں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں بعینہٖ بات وہی پُراثر ہوتی ہے جو من کی گہرائیوں سے نکلے ظاہری، باہری اور لفظی ہوشیاری اس میں اثرپیدا نہیں کر سکتی۔

جھوٹ:یقین رکھیئے آپ جھوٹی قسم کھا کر کسی کو اپنی بات کا اعتبار نہیں دلا سکتے کیونکہ جب آپ قسمیہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں تو آپ کے چہرے کا تاثر اور لہجہ دونوں آپ کے خلاف سچ بول رہے ہوتے ہیں۔

جھوٹ اور سچ کی حقیقت ایسے ہے جیسے آپ دن کے وقت کسی کمرے میں بھاری سیاہ پردے گِرا کر اور روشنی کی تمام درزیں بند کرکے رات تخلیق کرلیں یا رات کو ہزاروں روشنیاں جلا کر اپنا کمرہ بقعہ نور کرلیں مگر دن اور رات کے دونوں حقائق اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ یہ دونوں کام آپ نے اپنی ذاتی اور جھوٹی تسلی کے لئے خود ہی تخلیق کر لیئے۔

رشتے رابطے:جس طرح محض ایک دانت کسی اندرونی خرابی کی وجہ سےاکیلا کھڑا نہیں رہ سکتا کھڑا رہ جائے تو دکھتا رہتا ہے یا ہلتا رہتا ہے اور آخرگِر جاتا ہے اسی طرح تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ بے غرض محبت کے انمٹ رشتوں اور رابطوں کی لڑی میں جڑے ہوئے ہیں الگ الگ ہو جائیں تو ہر فرد اپنی جگہ پر ڈانواں ڈول ہو جائے گا دکھی رہے گا اور آخر کار اپنی بنیاد سے اکھڑ جائے گا۔ یاد رکھیے آپ کسی بھی رشتے میں تنہا نہیں ہیں دانتوں کی طرح رشتوں کی بنیاد میں بھی خرابی پیدا نہ ہونے دیں ورنہ لڑکھڑا کر گِر پڑیں گے۔

پُرانے زمانے میں گھروں کی دیواریں اونچی ہوتی تھیں مگرقرب و جوار میں رہنے والوں کے دل آپس میں ملے ہوتے تھے آج کل جدید گھروں کی دیواریں گرا کر دلوں کے درمیان چڑھا دی گئی ہیں۔ دیوار کے پیچھے کیا قیامت اٹھ رہی ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں ہو پاتا۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020