• 29 نومبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں(قسط نہم)

پریس کے ساتھ رابطہ

واشنگٹن میں بھی اور یہاں سے ڈیٹن کے علاقہ میں بھی پریس کے ساتھ رابطہ رکھا گیا۔ واشنگٹن میں مڈل ایسٹ کے حالات کے بارے میں CBS والوں نے انٹرویو لیا اور میامی فلوریڈا میں دکھایا۔ اس کے علاوہ ڈیٹن میں بھی ایک ہفتہ قیام کے دوران چینل نمبر2 اور چینل نمبر22 نے مسجد آکر نماز جمعہ کے دن انٹرویو لیا اور مڈل ایسٹ کے حالات کے بارے میں نشر کیا۔

York میں جمعہ پڑھایا۔ یہاں پر 3 اخبارات والے آئے اور 2 ٹی وی چینل کےنمائندگان آئے۔ ہر دو چینلز نے اسی دن کی نشریات میں ہماریPeace Prayer اور انٹرویو کا حصہ دکھایا۔ اور 3 اخبارات نے خبریں دیں۔

ڈیٹن کے علاقہ میں ہیوبر ہائٹس سے اور فیئر بورن سے جو اخبارات نکلتے ہیں ان میں انٹرویو شائع ہوا۔

یہاں واشنگٹن کے سب سے بڑے اخبار USA Today جس کے 6 ملین ریڈرز ہیں ،میں ایک سوال آیا تھا کہ امریکہ کو 15 جنوری کے بعد کیا کرنا چاہئے؟ خاکسار نے اس کا جواب بھجوایا تو وہ بھی شائع ہوا۔ اس اخبار میں انٹرویو بھی شائع ہوا تھا۔

اس کےعلاوہ فرنٹیئر پوسٹ جو پاکستان میں پشاور اور لاہور سے شائع ہوتا ہے ،اس کے نمائندہ سے فون پر رابطہ ہوا۔ انہوں نے بھی ہمارے پریس ریلیز کی خبر بنا کر پاکستان بھجوائی۔ اسی طرح انہیں احمدیوں پر مظالم کے بارے میں بھی خاکسار نے تفصیل سے آگاہ کیا ۔اس پر بھی انہوں نے ایک سٹوری بنا کر اخبار کے لئے بھجوائی۔

گورنر آف اوہایو کو مبارک باد کا خط

اوہایو کے نئے گورنر کا 4 سال کے لئے انتخاب ہوا۔ ان کو خاکسار نے مبارک باد کا خط لکھا۔ ان کی طرف سے شکریہ کا جواب بھی آیا۔

ڈیٹن میں نئے سال کی آمد پر یہاں کانگرس مین کے دفتر گیا اور سب کو نئے سال کی مبارک باد بھی دی۔ اسی طرح دیگر سرکاری محکموں میں بھی جا کر انفرادی طور پر لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں نئے سال کی مبارک باد دی۔ پریس کے نیوز ڈائریکٹرز سے خصوصاً چینل نمبر22، چینل نمبر2، ڈیلی ڈیٹن نیوز کے دو رائٹرز سے اور ہیوبر ہائٹس کے اخبار کے ایڈیٹر اور فیئربورن کے ایڈیٹر اور زینیا گزٹ کے ایڈیٹر سے فون پر رابطے کے علاوہ وہاں جا کر بھی ان سے ملا۔

واشنگٹن کے چینل نمبر4 سے رابطہ کیا گیا۔ وہ مسجد آئے۔ انہوں نے مڈل ایسٹ کے بارے میں نصف گھنٹہ تک خاکسار کا انٹرویو لیا۔ اس کے بعد خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ جو محترم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے پڑھائی کو پوری کوریج دی۔ اس کے بعد جماعت کے مختلف احباب سے انہوں نے انٹرویو لیا جن میں خاص طور پر محترم شیخ مبارک احمد صاحب اورمحترم مسعود ملک صاحب شامل تھے۔ قریباً 2 گھنٹے انہوں نے مسجد میں گزارے اور کہنے لگے کہ آج شام کی نشریات میں یہ دیں گے۔ مگر انہوں نے کوئی خبر نہیں دی۔ خاکسار نے 2 دن بعد پھر ان سے رابطہ کیا تو کہنے لگے کہ ہمارے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ وہ کچھ اور موضوع چاہتے تھے۔ اس وجہ سے ہم نشر نہیں سکے۔

اس کے علاوہ ڈیٹن اور علاقہ کے دیگر پریس اور اخبارات کے ساتھ بذریعہ فون بھی رابطہ رکھا گیا۔

سفارتخانوں سے رابطہ

عرصہ زیر رپورٹ میں مندرجہ ذیل سفارتخانوں سے رابطہ کیا گیا:
1۔ آسٹریلیا: آسٹریلیا کے سفیر صاحب سے ملاقات کا وقت لے لیا گیا تھا۔ مگر 4 روز بعد سفارتخانے سے فون آیا کہ سفیر صاحب کو آسٹریلیا جانا پڑ گیا ہے اس وجہ سے وہ تو ملاقات نہ کر سکیں گے البتہ مسٹر کرسٹوفر لیمب Mr۔ Christopher Lamb جو کہ منسٹر ہیں وہ آپ سے ملاقات کریں گے۔ چنانچہ خاکسا ربرادر رشید صاحب سیکرٹری تبلیغ واشنگٹن کو ساتھ لے کر ان سے ملاقات کے لئے گیا۔ ان کی خدمت میں قرآن کریم شارٹ کمنٹری اور حضور کا آسٹریلیا میں فرمودہ خطاب کی کاپی پیش کی۔ ملاقات ایک گھنٹہ 10 منٹ تک رہی۔ مختلف موضوعات مثلاً موجودہ مڈل ایسٹ کے حالات کے بارے میں، جماعت احمدیہ اور دیگر مسلمانوں میں فرق کے بارے میں بہت ہی اچھے اور دوستانہ ماحول میں بات ہوئی۔ خاکسار ان کے ساتھ مستقل طور پر یہاں سے بھی رابطہ رکھے گا۔ یہ مسٹر لیمب دیگر ممالک میں آسٹریلیا کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ مڈل ایسٹ کے تعلق سے خاکسار نے اپنا موقف بیان کیا نیز یہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر آپ کی حکومت وہاں پر امن کے لئے کوشش کرے تو ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔

2۔ جاپان: جب جاپان کے سفارتخانے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گلف کے حالات کی وجہ سے سفیر صاحب تو آج کل بہت مصروف ہیں ان کی بجائے سفارتخانے کے منسٹر آف پبلک آفیسرز آپ سے ملاقات کریں گے۔

چنانچہ مکرم محترم ملک مسعود صاحب،مکرم برادر رشید صاحب اور مکرم عبدالشکور صاحب کے ساتھ خاکسار ان سے ملنے گیا۔ ان کا نام Mr. Hideaki Ueda ہے۔ 20 منٹ ملاقات رہی۔ انہیں جاپانی زبان میں ترجمہ قرآن مجید پیش کیا گیا۔ وہ بہت حیران ہوئے۔ پھر مختلف سولاات کئے۔ خاص طور پر یہ سوال کہ مسلمان دہشت گردی پھیلاتے ہیں کیا آپ کا مسلک بھی ایسا ہی ہے؟ خاکسار نے اس کا تفصیل کے ساتھ جواب دیا۔

3 ۔ ٹوگو لینڈ کے سفارتخانے سے جب رابطہ کیا گیا تو پہلے 3، 4 دن تک یہی کہتے رہے کہ آپ کی درخواست پر غور ہو رہا ہے۔ پھر انہوں نے کہہ دیا کہ سفیر صاحب بہت مصروف ہیں وہ ملاقات نہیں کر سکتے۔

4۔ اٹلی کے سفارت خانے میں ابھی مسئلہ زیر غور ہے ان کےساتھ رابطہ کیا جاتا رہے گا۔ ان شاء اللہ

5۔ سپین کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ہمارے سفیر صاحب مڈل ایسٹ کے حالات کے بارے میں ضروری مشورہ کرنے کی خاطر سپین گئے ہوئے ہیں۔ جب آئیں گے پھر آپ کو مطلع کیا جائے گا۔

6۔ ۔ گوئٹے مالا کے سفارتخانے میں جب سفیر صاحب سےملنے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ ہمارے پرانے سفیر صاحب کل واپس گوئٹے مالا جا رہے ہیں۔ ابھی نئے سفیر نہیں آئے۔ جب نئے سفیر آئیں گے تو پھر آپ سے رابطہ کریں گے۔

گھانا کے سفارتخانے میں وہاں کے ایک منسٹر سے خاکسار کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ فون پر ان سے اکثر گفتگو ہوتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے سفیر صاحب انگلستان گئے ہیں کیونکہ وہ ورلڈ بنک کے ہمارے ملک کے نمائندہ بھی ہیں۔ وہاں میٹنگ سے جب واپس آجائیں گے تو پھر آپ کے ساتھ ملاقات کا وقت لے لیا جائے گا۔

8۔ سیرالیون کے سفیر صاحب کے ساتھ بھی خاکسار کا فون پر رابطہ ہواا ور دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔ الحمدللہ۔

اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ رابطے کے اچھے نتائج پیدا فرمائے۔ آمین

مارچ 1991ء کی رپورٹ میں پریس کے ساتھ رابطے میں جو مساعی کی گئی اس بارے میں یہ لکھا گیا:

پریس کے ساتھ رابطہ

حضور ؒکے خطبات یکم فروری، 8 فروری ،15 فروری اور 22 فروری 1991ءسے اہم پوائنٹس نکالے گئے اور مکرم محترم میجر فضل احمد صاحب سیکرٹری پبلیکیشن کی خدمت میں عرض کی گئی کہ وہ ان کا انگریزی ترجمہ کردیں۔ چنانچہ انہوں نے جو ترجمہ بھجوایا اس کا ایک پریس ریلیز تیار کیا گیا جو 24 پوائنٹس پر مشتمل تھا۔ یہ پریس ریلیز اپنے علاقہ کے 12 اخبارات کو دیا گیا جس میں سے 8 اخبارات نےانہیں شائع کیا۔ اکثر اخبارات نے پہلے تو شائع کرنے سے انکار کیاکہ یہ بہت بے ٹوک موقف ہے لیکن جب فون پر یا بذریعہ ملاقات ان کو یہ باور کر ایا گیاکہ آپ کے ملک میں جب خیالات کی آزادی ہے تو پھر آپ ہمارے خیالات کو بھی شائع کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 8 اخبارات نے شائع کیا۔ ایک اخبار نے پورے کے پورے 24 پوائنٹس شائع کئے جبکہ دیگراخبارات نے کم۔ کسی نے خبر کی صورت میں اور کسی نے لیٹر ٹو دی ایڈیٹر میں اور کسی نے Opinion والے صفحہ پر جگہ دی۔ الحمدللہ۔ اسی طرح رمضان المبارک کا بھی ایک پریس ریلیز 2 اخباروں کو دیا گیا۔ الحمدللہ۔

حضور ؒکی خدمت میں 8 مختلف اخبارات کے 9 تراشے ارسال کئے گئے ہیں۔ایک اخبار نے مذکورہ بالا پریس ریلیز اور رمضان کے بارے میں ایک ہی خبر دی۔ اور ڈیٹن ڈیلی نیوز نے خاکسار کا رمضان کے بارے میں انٹرویو مسلمانوں کے دوسرے گروہ کے ساتھ شائع کیا۔ TVکے چینل 2اور چینل 22سے بھی رابطہ ہے۔ الحمدللہ۔ ان سب اخبارات کا بذریعہ فون شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

اپریل 1991ء کی رپورٹ میں پریس کے ساتھ رابطہ کے سلسلہ میں حسب ذیل کام ہوا۔

ٹی وی چینل نمبر2 نے خاکسار کے ساتھ فون پر رابطہ کیا کہ وہ ‘‘کردوں’’کے مسائل کے بارہ میں خاکسار کا انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ خاکسار نے شام کو ان کو بلا لیا اور انٹرویو دیا۔ اسی طرح چینل نمبر22کو بھی انٹرویو دیا۔ ہر دو چینلز نے شام کی خبروں میں خاکسار کا انٹرویو نشر کیا۔ اس کے علاوہ عید الفطر کے لئے بھی ہر دو چینل آئے اور شام کی خبروں میں ہماری عید کی جھلکیاں خبروں کےسا تھ دیں۔ حضورؒ کا عید کا پیغام بھی ہر دو ٹی وی چینلز کو دیا گیا۔

یہاں کے سب سے بڑے اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز نے بھی انٹرویو لیا اور وہ شائع ہوا۔ اسی طرح ’’کردوں‘‘ کے بارے میں بھی ایک اور اخبار نے خاکسار کا خط شائع کیا۔ اس سلسلہ میں مکرم ملک مسعود احمد صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری امریکہ اور مکرم میجر فضل احمد صاحب سیکرٹری پبلیکیشن نے بھی خاکسار کی مدد فرمائی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔

خاکسار نے ڈیلی ڈیٹن نیوز، فیئر بورن، زینیا گزٹ، Troy News، ہیوبر ہائٹس اور TV چینلز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ڈائریکٹر صاحبان سے بھی رابطہ ہے۔ ایڈیٹر صاحبان اور رائٹرز کے ساتھ بھی فون پر بات چیت ہو رہی ہے۔

اس دوران خاکسار کا تبادلہ ڈیٹن سے ہیوسٹن ٹیکساس میں ہوا۔ وہاں جا کر پریس کے ساتھ رابطے کی جو کوشش کی گئی اس کی جھلک یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سلسلہ میں خاکسار کو جو اپنی رپورٹ کی کاپی ملی وہ مئی 1992ء کی ہے۔

ہیوسٹن مئی 1992ء کی رپورٹ: اس رپورٹ میں خاکسار نے لکھا کہ:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پریس کےساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ یہاں کے ٹی وی کے قریباً 4 چینلز والوں کےساتھ مسلسل رابطہ کیا جارہا ہے۔ ان سب کو اپنی تقاریب میں آنے کی دعوت دی جارہی ہے لیکن ابھی تک کوئی نہیں آیا۔ الحمد للہ اخبارات نے خبریں دینی شروع کر دی ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پر (ہیوسٹن میں) دوسرے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور ہم عددی لحاظ سے ان کے مقابلہ پر کم ہیں۔ خاکسار نے مزید لکھا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ گزشتہ عید پر مسلمانوں نے جو اپنا پریس ریلیز دیا اس میں لکھا تھاکہ وہ یہاں پر 20 ہزار کی تعداد میں ہیں۔ لیکن جو پریس ریلیز ہم نے بھجوایا تو اس میں صرف عیدالفطر کی اسلام میں اہمیت کے بارے میں اور عید کے پروگرامز کے بارے میں لکھا تھا۔ اس پر پریس اور میڈیا والوں نے ہم سے فون پر پوچھاکہ آپ کو کتنے لوگوں کی آمد متوقع ہے کہ وہ عیدالفطرپر حاضر ہوں گے (یاد رہے اس وقت ہماری تعداد کم و بیش 200/250 تھی۔ اگر اردگرد کی جماعتیں جب آجاتی تھیں تو تعداد میں سوڈیڑھ سوکا مزید اضافہ ہو جاتا تھا) خاکسار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ : خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ناامید نہیں ہیں ۔ تبلیغ کے ذریعہ اپنی تعداد بڑھانی ہے اور پریس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہےا ور وقت آئے گاکہ یہ لوگ احمدیت کی خبریں بھی شائع کریں گے۔ ان شاءاللہ۔ خاکسار نے ایک تبلیغی اشتہار بھی شائع کرایا۔ اس رپورٹ کے لکھنے تک متعدد عیسائیوں کے گالیوں سے بھرے فون بھی آئے لیکن اور لوگوں نے اچھے ریمارکس بھی دیئے۔ ان شاء اللہ اس سے بھی تبلیغ کی راہ کھلے گی۔

کل 12 تراشے ارسال کئے گئے ہیں ۔ا یک اخبار نے پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کے بارے میں پوری رپورٹ شائع کی ہے۔

اس رپورٹ پر مکرم محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (امیر جماعت احمدیہ امریکہ) نے یہ نوٹ دیا۔

’’الحمد للہ بہت اچھا کام کیا گیا ہے۔ جماعتی بھی اور پریس سے رابطہ بھی تراشے اور دوسری رپورٹ بھی مل گئی ہیں۔‘‘ دستخط مرزا مظفر احمد 6/8/92

مارچ 1993ء کی رپورٹ کا پریس کےساتھ رابطے، رد عمل اور اچھے نتائج پر مشتمل حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

وائس آف ایشیا: یہ اخبار ہندوستانیوں کا ہے۔7ہزار کے قریب اس کی اشاعت ہے۔ قریباً پاکستانی، ہندوستانی، بنگلہ دیشی لوگ خصوصیت کے ساتھ اسے پڑھتے ہیں۔ اس میں Promised Messiah has Come کا 13 ہفتوں کے لئے اشتہار دیا گیا۔ بہت سے پاکستانیوں اور بنگالیوں کوبذریعہ فون جماعت کا تعارف کرایا گیا۔ چند نمونے حضور کی خدمت میں پیش ہیں۔ ایک خاتون مکرمہ عابدہ اکمل صاحبہ نے پہلے ہی دن ایک گھنٹہ فون پر بات کی۔ انہیں جماعت کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایا۔ وہ اپنے مولویوں کو ظالم اور برا بھلا کہہ رہی تھیں۔ مجھے فرمانے لگیں کہ آپ ایک مضمون ضرور اخبار میں لکھیں کہ آپ لوگ مسلمان ہیں۔ پھر اس نے براہینِ احمدیہ منگوائی۔ خاکسار نے اگلے دن براہین احمدیہ اور دوسرا لٹریچر بھی اسے بھجوایا۔ اس کا شکریہ کا فون آیا۔ پھر اسے حضور کا جمعۃ الوداع کی ویڈیو کیسٹ بھجوائی۔ اس کا پھر شکریہ کا فون آیا۔ اسی طرح اس خاتون کے ساتھ رابطہ ہے۔ اسی طرح ایک اور دوست انور صاحب نے کال کی۔ انہوں نے لٹریچر منگوایا۔ اسی طرح ایک بنگالی دوست نے احمدیت کے بارے میں فون پر ہی نصف گھنٹہ تک معلومات حاصل کیں۔ خصوصاً عید سے ایک روز قبل اسی اخبار سے بے شمار مسلمانوں نے ہم سےعید کا پوچھا۔ کیونکہ مسلمانوں نے اگلے دن عید منائی تھی۔ ہماری عید کی خبر اس اخبار میں بھی آئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹی وی پر بھی آئی۔ ہماری ایک امریکن بہن کا انٹرویو بھی عید کے بارے میں ٹی وی پر نشر ہوا۔ الحمدللہ۔

ٹی وی کے چینل نمبر13 پر جو یہاں کا سب اہم چینل ہے، یہ جماعت کی پہلی خبر تھی۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ

ایک اور پاکستانی دوست مکرم راجہ آصف صاحب بھی زیر تبلیغ ہیں۔ دو مرتبہ تو یہ حضور کا خطبہ جمعہ بھی سن چکے ہیں۔ انہیں مزید خطبات کی کیسٹ دی جارہی ہے۔ اچھے سلجھے ہوئے نوجوان معلوم ہوتے ہیں۔

3نائیجیرین دوست مسجد آنا شروع ہوئے ہیں۔ انہیں بھی لٹریچر دیا ہے۔ ان میں سے ایک کے بھائی تو نائیجیریا میں احمدیہ کلینک میں ڈاکٹر بھی ہیں۔ لیکن یہ خو د احمدی نہیں ہیں۔

2 بعض سیرالیونین سے بھی رابطہ ہوا ہے۔

ایک مارکیٹ میں جانے کا اتفا ق ہوا۔ وہاں پر سات پاکستانیوں اور انڈین سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی عید کا موضوع بنا کر اپنے ہی مولویوں کو برا بھلا کہا۔ خاکسار نے انہیں بتایا کہ مولوی کے چنگل سے نجات حاصل کریں اور پھر احمدیت کے بارے میں ابتدائی باتیں بھی ہوئیں۔

اخبار وائس آف ایشیا میں اشتہار کی وجہ سے اور پھر ٹی وی پر خبر آنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بڑا شدید رد عمل ہواہے۔ ہمیں بھی دھمکیوں والے فون آتے رہے اور ٹی وی والوں کو بھی۔ عید کے روز ہم نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے امن رہا۔

ایک نائیجیرین مسلمان کے گھر گیا۔ اس کے گھر بچہ پیدا ہوا تھا۔ اس کے کان میں اذان بھی دی اوراسے تحفہ بھی دیا۔

پریس سے بھی رابطہ رہا۔ یہاں کے سب سے بڑے اخبار Houston Chronicle میں ہماری عید کی اطلاع کی خبر کے ساتھ حضور انور کے لائیو خطبہ کا اعلان بھی شائع ہوا اور ہماری خبر کے نیچے دوسرے مسلمانوں کی خبر آئی۔ اس اخبار کی اشاعت ہفتہ و اتوار کو 6 لاکھ سے زائد ہے۔

ٹی وی پر بھی ہزاروں لوگوں نے ہماری عید کا منظر دیکھا۔ جبکہ باقی مسلمانوں کی کوئی خبر نہیں آئی۔

Houston Post نے اگرچہ خبر تو نہ دی لیکن عید کا اور درس قرآن کا کیلنڈر والے سیکشن میں تھوڑا سا ذکر کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ وائس آف ایشیا میں ایک خط بازنیا کے بارے میں شائع ہوا۔

یونیورسٹی آف آسٹن میں احمدیہ بک سٹال

آسٹن جو TXکا دارالخلافہ ہے، ہیوسٹن سے 150 میل دور ہے۔اس یونیورسٹی میں ہمارے4نوجوان طلباء زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے چند روز ہوئے احمدیہ مسلم سٹودنٹ آرگنائزیشن کے تحت اپنی رجسٹریشن کرائی اور 30-31مارچ کو دو دن یونیورسٹی کے زیراہتمام مختلف ممالک کا کلچرل شو تھا۔ ہمارے طلباء نے بھی اجازت لی۔ ہیوسٹن سے ہم قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم اور دوسری کتب اور لٹریچر ساتھ لے کرگئے اور دو دن سٹال لگایا۔ ہمارے سٹال پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکن اور ایفرو امریکن کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا، ایران، کویت، یمن، الجزائر، چین، جاپان، فلپائن، ملائیشیا، فلسطین، کوریا، مصر، تیونس، انڈونیشیا کے ملکوں کے طلباء آئے اور اپنی اپنی زبانوں میں تراجم قرآن کریم دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لٹریچر بھی لے کر گئے۔

سٹال پر جماعت احمدیہ کا بینر بھی آویزاں تھا۔ ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ میں بھی احمدی ہوں۔ وہ عرصہ 5 سال سے یہاں رہ رہا ہے۔ اس کا ایک بھائی بھی ہے۔ اس سٹال کے لگانے سے دو احمدی بھی ہمیں خداتعالیٰ کے فضل سے مل گئے۔ الحمد للہ

ایک اور نوجوان آیا اس نے کہا میں حیدرآباد دکن سے ہوں اور اس وقت میری ’’احمدیت‘‘ پر Presentation ہے اس کے سوال کے جواب دیئے اس نے ’’مرزا غلام احمد‘] کتاب بھی خریدی۔

اس موقعہ پر یورنیورسٹی کی طرف سے Human Rights پر ایک ریلی بھی ہو رہی تھی۔ خاکسار ریلی کے چیئرمین کے پاس گیا اور تقریر کرنے کے لئے وقت مانگا۔ انہوں نے خوشی کے ساتھ 5 منٹ اجازت دی۔ حالانکہ صرف یونیورسٹی کے طلباء ہی جو کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق آسکتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی ایک موقعہ پیدا کر دیا۔ تقریر کے بعد طلباء نے خوب تالیاں بجائیں۔ خاکسار سے پہلے ایک مسلمان طالبعلم کی تقریر تھی۔ اگلے دن خاکسار نے ان سب کو جوبلی کے Pens کا تحفہ دیا۔ ایک پاکستانی نوجوان حذیفہ بھی Human Right انٹرنیشنل کی تنظیم میں کام کرتا ہے اس سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس نے کہا آئندہ آپ کو بھی بلائیں گے۔ بہت سے لوگ ہمارے سٹال پر Jesus in India اور Where Did Jesus Die کی کتب دیکھ کر حیران ہوئے اور انہوں نے یہ کتب خریدیں۔ ایک اندازے کے مطابق قریباً 200 طلباء ہمارے سٹال پر آئے، قریباً 80 طلباء نے سوالات کئے، 60 طلباء میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ 55 ڈالر کی کتب اور لٹریچر فروخت ہوا۔ الحمدللہ

بعض مسلمان طلباء نےجن میں مصری اور پاکستانی تھے ہمارا سٹال دیکھ کر بہت جوش دکھایا۔ ایک مصری تو غصے میں تھا کہ آپ لوگ کافر ہیں۔

بہرحال اس سٹال سے آسٹن میں ایک ہلچل مچی ہے۔ خاکسار نے اپنے نوجوانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا مطالعہ بڑھائیں اور سوال و جواب کی مجالس کریں۔

نوٹ: ہمارے یہ طلباء جن میں مکرم ناحیل محمود احمد صاحب، مکرم خالد کڑک صاحب، مکرم حماد ملک صاحب اور سید نعمان خضر صاحب ہیں خداتعالیٰ کے فضل سےا س یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے اب مختلف مقامات پر نہ صرف جاب کر رہے ہیں بلکہ دینی خدمات بھی احسن رنگ میں بجا لا رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔ بہت اخلاص کے ساتھ انہوں نے ہمیشہ تبلیغ و تربیت کے کاموں میں حصہ لیا۔

مئی 1993ء کی رپورٹ (ہیوسٹن) میں خاکسار نے لکھا کہ :
1۔ مکرم جاوید راح صاحب سے مسلسل رابطہ ہے۔ ان سے تبلیغی اشتہار کے ذریعہ رابطہ ہوا تھا۔ انہیں لٹریچر بھجوایا گیا وہ انہوں نے آگے اپنے مولوی صاحب کو دیا ہے۔ فون پر جاوید صاحب سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اب کہہ رہے تھے کہ ان کے گھر ایک نشست ہوجائے جس میں ان کے مولوی صاحب اور ایک دو دوست اور ہوں گے۔

2 ۔ محترمہ عابدہ اکمل صاحبہ سے بھی دو مرتبہ فون پر تفصیلی بات ہوئی۔ وہ براہین احمدیہ پڑھ رہی ہیں۔

3۔ ایک دوست جو شیخوپورہ ماناوالے کے ہیں سے فون پر رابطہ ہوا۔ انہوں نے بھی ہمارا تبلیغی اشتہار پڑھا تھا۔ سب سے پہلے درثمین کا مطالبہ کیا جو انہیں دے دی گئی۔ یہ ربوہ آکر حضور کی تقاریر جلسہ سالانہ کی سنتے رہے ہیں۔ اب جمعہ میں باقاعدگی کے ساتھ آرہے ہیں اور حضور کا خطبہ سن کر جاتے ہیں۔ ان کا نام ہاشم خان صاحب ہے۔ انہیں محضر نامہ بھی دیا گیا تھا ایک ہفتہ میں پڑھ کر واپس کر گئے اب دعوت الامیر لے کر گئے ہیں۔ عنقریب پاکستان میں جائیں گے۔ اچھے صاحب ذوق شاعرانہ طبیعت رکھنے والے ہیں۔

4۔ ایک دوست رابرٹ آشٹن نے فون کیا وہ اپنے کسی مقصد سے فون کی ڈائریکٹری دیکھ رہے تھے کہ انہیں احمدیہ کے تحت ہمارا فون ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 50 ء میں احمدی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد سے رابطہ نہیں رہا کبھی کہیں اور کبھی کہیں۔ ان کے ساتھ فون پر مسلسل رابطہ ہے یہ کافی دور رہتے ہیں۔ 55 سال سے زائد کی عمر بتاتے ہیں۔ کار وغیرہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جاب کرتے ہیں۔

5۔ برادر محمد جاہ آف سیرالیون جو زیرتبلیغ ہیں ان کےساتھ فون پر بھی رابطہ رہا اور مشن بھی تشریف لائے۔ یہ بیعت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیار ہیں ۔

6۔ اسی طرح ایک اور دوست محمد عبداللہ صاحب آف نائیجیریا۔ یہ نائیجیریا بھی گئے تھے۔ جانے سے پہلے ملے تو کہنے لگے کہ ایک سوال ہے میں نے کہا پوچھیں۔ کہنے لگے کہ احمدیت ٹھیک ہے میں نے کتب پڑھ لی ہیں لیکن احمدی غیراحمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اب میں نائیجیریا اپنے گاؤں 2 ہفتوں کے لئے جارہا ہوں کیا کروں گا؟ اسے سمجھایا گیا کہ کیا کرنا ہے۔ پھر سفر کے لئے اسے دعوۃ الامیر کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ وہاں اس کے گاؤں کے امام صاحب کے لئے بھی یہی کتاب دی گئی۔ وہ واپس آگئے ہیں کہنے لگے کہ امام صاحب شکریہ بھی ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے کتاب پڑھ کر کہا کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے ٹھیک ہے اور آگے وہ کتاب دوسروں کو پڑھنے کے لئے دے رہے ہیں۔ ان کے لئے بھی حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے۔
(نوٹ: یہ خداتعالیٰ کے فضل سے احمدی ہوئے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نائیجیریا کی ایک سٹیٹ کے گورنر ہیں۔ گزشتہ دنوں نائیجیرین احمدی وفد بھی انہیں ملنے گیا تھا۔ میرے ساتھ ابھی تک ان کا رابطہ ہے۔ الحمد للہ)

7۔ ایک خاتون نے ہمارا تبلیغی اشتہار پڑھا جن کا نام تنویرالرحمٰن ہے۔ انہوں نے لٹریچر کا مطالبہ کیا جو فوراً بذریعہ Mail انہیں بھجوایا گیا۔

8۔ ایک اور دوست سعید اقبال صاحب نے فون کیا کہ انہوں نے بھی تبلیغی اشتہار پڑھا ہے۔ وہ مڈل ایسٹ سے آئے ہیں اور لٹریچرچاہتے ہیں خاکسار فوراً خود جا کر انہیں جہاں انہوں نے کہا تھا لٹریچر پہنچا یا۔ پھر ان کا شکریہ کا فون بھی آیا۔ اس وقت وہ لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

9۔ ایک اور شخص کا جمعرات کی را ت کو ساڑھے گیارہ بجے فون آیا کہنے لگے کہ آپ کے خلیفہ صاحب کا خطبہ جمعہ کس وقت کس چینل پر آئے گا جو انہیں بتایا گیا۔ کہنے لگے میرے پاس تو ڈش انٹینا نہیں ہے خاکسار نے انہیں کہا کہ آپ یہاں آجایا کریں یا اپنا ایڈریس دے دیں ہم ریکارڈ کر کے آپ کو Mail کر دیا کریں گے ۔

10۔ راجہ آصف صاحب اور ان کے دوست خالد صاحب سے بھی بذریعہ فون رابطہ ہے۔ انہیں بھی اسلامی احکامات پر عمل کی تلقین کی جاتی ہے کتب وغیرہ پڑھنے کا ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

11۔ ایک جاپانی اور ایک امریکن پادری جو کہ ’’سن مون‘‘ کے پیروکار ہیں، مشن آئے ان کے ساتھ بذریعہ فون رابطہ ہوا تھا۔ دو تین مرتبہ مشن بھی آچکے ہیں۔ انہیں Life of Mohammad ہر دو کو ایک ایک کتاب تحفہ دی گئی۔

’’Rev Moon‘‘ کو کورین میں قرآن کریم۔ ان کے پیروکاروں نے ڈاؤن ٹاؤں ہیوسٹن میں ایک جلسہ کیا جس میں Rev Moon نے ½ 1گھنٹہ تقریر کی ۔ اس موقعہ پر خاکسار بھی مدعو تھا۔ خاکسار جماعت کے ممبران (5ممبران) کے ساتھ وہاں گیا۔ اس موقعہ پر ان کی تقریر کے بعد خاکسار کو بھی موقعہ دیا گیا۔ خاکسار نے جماعت کا مختصر تعارف کرایا اور انہیں کورین زبان میں قرآن کریم دیا۔ اسی طرح اسلامی اصول کی فلاسفی اور لائف آف محمد انگریزی میں دی گئی۔ ان کی طرف سے شکریہ کا خط بھی آیا۔ حاضرین نے بھی اسے بہت پسند کیا۔ قریباً 7 سو کی حاضری تھی۔ (اس کی خبر بھی اخبار میں آئی)

پریس سے رابطہ: اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرصہ زیر رپورٹ میں پریس اور ٹی وی کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا۔ ہمارے ہونے والی تقریبات کی 9 خبریں یہاں کے 4 مختلف اخبارات میں آئیں۔ یہ تبلیغ کا بھی ذریعہ بنیں الحمدللہ اور اس کے ذریعہ رابطے بڑھے۔ Promised Messiah has come. کا اشتہار 4 مرتبہ اس ماہ میں شائع ہوا۔ Voice of Asia نے اس سلسلہ میں بہت تعاون کیا۔ الحمدللہ۔ انڈو پاک کمیونٹی میں جماعت کا خوب خبروں کے ذریعہ اور اشتہار کے ذریعہ چرچا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے مثبت نتائج پیدا فرمائے۔ آمین

جولائی 1992ء کی رپورٹ میں خاکسار نے پریس کے ساتھ رابطہ اور پھر اس کے نتائج کے بارے میں اور اس سے جو تبلیغی فوائد حاصل ہوئے ، کے بارے میں لکھا:
1۔ حضور انور نے جو جلسہ سالانہ امریکہ کے لئے پیغام دیا تھا اس کی روشنی میں ایفرو امریکن کمیونٹی میں جا کر تبلیغ کرنے کا لائحہ عمل تجویز ہوا اور اس پر عمل کیا گیا۔ پہلے دن خاکسار اور مکرم رانا کلیم صاحب اس علاقہ میں گئے۔ ایک میز لگا کر کتب رکھی گئیں اور ہم دونوں نے 4 گھنٹے تک اس علاقہ میں پمفلٹ تقسیم کئے۔ اس دوران وہاں پر چرچ والوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان سب کو لٹریچر دیا گیا۔ انہوں نے تقریر کرنے کی دعوت دی۔ اگلے روز کلیم صاحب، عامر ایوبی صاحب، مرزا مظفر صاحب اور خاکسار ان کے چرچ گئے۔ ان کی باتوں کو ہم نے سنا پھر انہوں نے خاکسار کو تقریر کے لئے بلایا۔ موقع کی مناسبت سے خاکسار نے 20 منٹ تقریر کی اور عجیب اتفاق ہے کہ بائبل کا جو حصہ انہوں نے حاضرین کو سنایا اس میں آنحضرت ﷺ کے آنے کی پیشگوئی تھی۔ بس اس کو خاکسار نے موضوع بنایا اور اس طرح تبلیغ کا اچھا موقع میسر آیا۔ اب مہینے میں کم سے کم دو مرتبہ اسی جگہ جا کر تبلیغ کرنے کا پروگرام ہے۔ حضور کی خدمت میں دعا کی خاص درخواست ہے۔

2۔ ہمارا تبلیغی اشتہار Voice of Asia میں آرہا ہے لوگوں کے فون آتے ہیں ۔ ایک شخص مکرم جاوید راح صاحب سے کافی عرصہ سے فون پر بات ہو رہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مولوی صاحب کے ساتھ خاکسار کی گفتگو اپنے گھر میں رکھی۔ ہم مندرجہ ذیل دوست اُن کے گھر گئے۔ مرزا مظفر صاحب، داؤد منیر صاحب ، کلیم صاحب، ڈاکٹر شیخ اعجاز صاحب اور خاکسار۔ موضوع ہم نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ وفات مسیح ہو گا۔ انہوں نے اپنا موضوع معراج، مردوں پر فاتحہ،قرآن خوانی اور آنحضرت ﷺ نور تھے یا بشر رکھا۔ ان کے مولوی صاحب انتہائی سخت کلام تھے۔ جوکچھ عرصہ قبل ہندوستان سے آئے تھے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے احسن پیرایہ میں پیغام حق پہنچانے کی توفیق دی۔ اس بات کو انہوں نے بھی فون پر تسلیم کیا۔ وہ کہنے لگے کہ ہم یقیناً اپنے مولوی صاحب کے رویہ سے پریشان تھے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے مولوی صاحب آرہے ہیں ان کے ساتھ گفتگو ہو گی۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ (خداتعالیٰ کے فضل سے یہاں یہ گفتگو بہت موثر ثابت ہوئی تھی جس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا تھا۔ الحمدللہ)

3 ۔ایک شاپنگ سنٹر میں بھی ایک ناصر اور 5 اطفال اور ایک خادم نے 100 کاپیاں پمفلٹ کی تقسیم کیں۔

4۔ پریس میں ایک تبلیغی اشتہار اردو زبان میں مسیح موعودؑ کی آمد کے بارے میں شائع کرایا۔ 2 آدمیوں نے مزید رابطہ کیا۔ ایک کے تو گھر جا کر نصف گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔ اور انہیں پڑھنے کے لئے لٹریچر دیا گیا۔ ایک نے بذریعہ Mail لٹریچر منگوایا۔ا نہیں بھی فوری Mail کر دیا گیا۔ اب یہ اشتہار عرصہ زیر رپورٹ میں 2 ایشین اخباروں میں 4، 4 مرتبہ شائع ہو چکا ہے۔ ان شاء اللہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

5 ۔ عابدہ اکمل صاحبہ کا ذکر خاکسار کئی مرتبہ اپنی رپورٹ میں کر چکا ہے ان کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ یہ اپنے خاوند کو لے کر مشن ہاؤس بھی آئی ہیں اور خاکسار بھی ان کے گھر گیا تھا۔ اس کے بعد وہ مشن بھی آئے۔

یہاں (ہیوسٹن) کے سب سے بڑے اخبار ہیوسٹن کرانیکل کے مذہبی سیکشن کی ایڈیٹر کو خاکسار نے گھر بلایا تھا۔ انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی۔ ان کے ساتھ اخبار کی فوٹو گرافر بھی تھیں۔ انہوں نے خاکسار اور خاکسار کی اہلیہ صفیہ سلطانہ خانم صاحبہ کا بھی انٹرویو کیا۔ خاکسار کی اہلیہ سے بھی انہوں نے اسلام کے بارے میں سوالات کئے (جن میں خواتین کا پردہ، بچوں کی تربیت اور دیگر امور شامل تھے) خداتعالیٰ کے فضل سے یہ انٹرویو انہوں نے شائع بھی کیا۔ الحمدللہ

تبلیغی اشتہار اس ماہ 2 اخباروں میں شائع ہوا اس سے قبل یہی اشتہار 4-4 مرتبہ شائع ہو چکا ہے۔ کل 9 تراشے بھجوائے گئے۔

پریس کے ساتھ رابطہ میں یہ بات بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک خط مکرم کرنل فضل احمد صاحب کی مدد سے لکھ کر یہاں کے اخبارات کو بھجوایا گیا پھر جلسہ سالانہ یوکے کے موقعہ پر حضور کی (خلیفۃ المسیح الرابعؒ )کی تقاریر کا خلاصہ لکھ کر اخبارات کو پریس ریلیز کی شکل میں بھیجا گیا۔ ایک اخبار نے لندن کے حوالہ سے خبر دی۔ خاکسار نے ہر دو خبروں کی کاپیاں لندن حضورؒ کی خدمت میں بھجوائیں۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020