• 4 فروری, 2023

اسے محبت ہے روشنی سے

کلید شہروں کی پا رہا ہے
وہ اور بھی جھکتا جا رہا ہے

وہ بانجھ کھیتوں میں امن بو کر
کمال فصلیں اُگا رہا ہے

اسے محبت ہے روشنی سے
دیا ہَوا سے بچا رہا ہے

پیام دے کے محبتوں کا
سکوں کی جانب بلا رہا ہے

کلی کلی مسکرا رہی ہے
بہار بن کر وہ چھا رہا ہے

عطا ہوئی ہے خدا کی نصرت
سمے کا پنچھی یہ گا رہا ہے

ہوائیں رحمت کی چل رہی ہیں
چمن چمن لہلہا، رہا ہے

تھا دینِ اسلام کا جو دشمن
نشانِ عبرت بنا رہا ہے

نشان تک بھی نہیں ہے باقی
یہ شہرِ زائن بتا رہا ہے

نہیں ہے منزلِ عشق آساں
یہ راستہ ہی بتا رہا ہے

ہر ایک پتھر جو راہ میں ہے
خدا خود اس کو ہٹا رہا ہے

ملی کلیدِ ظفر اسی کو
جو حق کا پرچم اڑا رہا ہے

(طاہرہ زرتشت نازؔ ۔ ناروے حال امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی