• 15 جنوری, 2021

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک خاوند کی حیثیت میں

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب

سب سے بہتر شخص

مقدس بانئ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ خَیْرُ کُمْ خَیْرُکم لِاَھْلِہِ یعنی تم میں سے سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ معاملہ کرنے میں سب سے بہتر ہے۔ آپؐ کے ان الفاظ کو اگر اس بارہ میں آپ کی تعلیم اور آپؐ کے تعامل کا خلاصہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ آپ کی خانگی زندگی یقینا ان الفاظ کی بہترین تفسیر تھی۔

رسول کریمؐ اور تعدد ازدواج

قومی اور ملکی اور سیاسی اور دینی ضروریات نے آپؐ کو مجبور کیا کہ آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کریں۔ اور یہ ایک قربانی تھی جو آپؐ کو ایک غیرنفسی ضرورت کے ماتحت کرنی پڑی۔ مگر آپؐ نے اس قربانی کی روح کو اس خوبی اور کمال کے ساتھ نبھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور باوجود اپنی خانگی ذمہ داری کی پیچیدگیوں کے معاشرت کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا جو دنیا کے لئے ہمیشہ کے واسطے ایک شمع ہدایت کا کام دے گا۔ میرے یہ الفاظ میری قلبی خوش عقیدگی کی گونج نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد ٹھوس تاریخی واقعات پر قائم ہے جنہیں کسی دوست کی خوش عقیدگی یا کسی دشمن کا تعصب اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتے۔

معاشرت کا کامل نمونہ

کثرت ازدواج کی وجہ سے جو اضافہ آپ کی خانگی ذمہ داریوں میں ہوا۔ اس کو آپ کی ان گوناگوں اور بھاری ذمہ داریوں نے اور بھی بہت زیادہ کردیا تھا جو ایک مصلح۔ ایک امام جماعت۔ ایک انتظامی حاکم۔ ایک جوڈیشل قاضی۔ ایک سیاسی لیڈر۔ ایک فوجی جرنیل اورایک بین الاقوام نظام جمہوریت کے صدر کی حیثیت میں آپ پر عائد ہوتی تھیں اور ہر شخص جو آپ کی خانگی زندگی اور گھر کی معاشرت کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتا ہے اس کا یہ پہلا فرض ہے کہ ان حالات کو پورے طور پر مدنظر رکھے جو آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں نے آپ کے لئے پیدا کررکھے تھے۔ میں نے یہ الفاظ اس لئے تحریر نہیں کئے کہ میں آپؐ کی زندگی کے حالات کو آپ کی خانگی معاشرت پر رائے لگاتے وقت ایک موجب رعایت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں بلکہ میں نے یہ الفاظ اس لئے لکھے ہیں کہ تایہ ظاہر ہو باوجود ان عظیم الشان ذمہ داریوں کے جو عام اسباب کے ماتحت یقیناً آپؐ کے خانگی فرائض کی ادائیگی کے رستے میں روک ہوسکتی تھیں۔ آپؐ نے معاشرت کا وہ کامل نمونہ دکھایا جو دنیا کے ہر شخص کو خواہ وہ کیسے ہی حالات زندگی کے ماتحت رہا ہو شرماتا ہے۔

مگر یہ مضمون اس قدر وسیع ہے اور اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس قدر مختلف پہلو انسان کے سامنے آتے ہیں کہ اس مختصر گنجائش کو دیکھتے ہوئے جو ایڈیٹر صاحب الفضل نے (جن کی تحریک پر میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں) اس کے لئے مقرر کی ہے اس مضمون پر زیادہ بسط کے ساتھ لکھنا تو درکنار معمولی اور واجبی تفصیل میںجانا بھی ناممکن ہے۔ پس میں نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند موٹی موٹی باتوں کے تحریر کرنے پر اکتفا کروں گا۔ وما توفیقی الاباللّٰہ

رسول کریمؐ کی پہلی شادی

سب سے پہلی شادی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ حضرت خدیجہ سے تھی۔ اس وقت آپ کی عمر صرف پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھیں اور بیوہ تھیں۔ گویا آپ نے عین عنفوان شباب میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی۔ بظاہر حالات یہ خیال ہوسکتا ہے کہ شاید یہ شادی کسی وقتی مصلحت کے ماتحت ہوگئی ہوگی اور بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کوئی خوشی کی زندگی نہیں گذری ہوگی کیونکہ جہاں بیوی کی عمر خاوند کی عمر سے اتنی زیادہ ہو کہ ایک کی جوانی کا عالم اور دوسرے کے بڑھاپے کا آغاز ہو تو وہاں عام حالات میں ایسا جوڑا کوئی خوشی کا جوڑا نہیں سمجھا جاتا مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خوشی کا اتحاد ہوا ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ کی خانگی زندگی میں نظر آتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ کامل محبت ایک دوسرے پر کامل اعتماد۔ ایک دوسرے کے لئے کامل قربانی کا نظارہ اگر کسی نے کسی ازدواجی جوڑے میں دیکھنا ہو تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ میں نظر آئے گا۔ کیا ہی بہشتی زندگی تھی جو اس رشتہ کے نتیجے میں دونوں کو نصیب ہوئی۔

پاکیزہ خانگی زندگی کا اثر

مجھے اس رشتہ کے کمال اتحاد کا احساس سب سے بڑھ کر اس وقت ہوتا ہے جبکہ میں اس تاریخی واقعہ کا مطالعہ کرتا ہوں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ اس غیر مانوس اور غیرمتوقع جلال الٰہی سے مرعوب ہوکر سخت گھبرائے ہوئے اپنے گھرمیں آئے اور ایک سہمی ہوئی آواز میں اپنی رفیق حیات سے فرمایا کہ مجھ پر آج یہ حالت گذری ہے اور مجھے اپنے نفس کی طرف سے ڈر پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت گھر میں بظاہر حالات صرف یہی میاں بیوی تھے۔ خاوند ادھیڑ عمر کو پہنچا ہوا۔ اور بیوی بوڑھی۔ گھر کی چاردیواری میں دوست ودشمن کی نظروں سے دور تکلف کا طریق بیرون از سوال تھا۔ دونوں پندرہ سال کے لمبے عرصہ سے ایک دوسرے کے رفیق زندگی تھے۔ ایک دوسرے کی خوبیاں ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ اگر کوئی کمزوری تھی تو وہ بھی ایک دوسرے پر مخفی نہ تھی۔ ایسی حالت میں جس سادگی کے ساتھ خاوند نے اپنی پریشانی اپنی بیوی سے بیان کی اور جس بے۔ساختگی کے عالم میں بیوی نے سامنے سے جواب دیا وہ اس مقدس جوڑے کے کمال اتحاد کا ایک بہترین آئینہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کو دیکھ کر حضرت خدیجہ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ تاریخ میں اس طرح بیان ہوئے ہیں:

کَلَّا وَاللّٰہِ!مَایُخْذِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ

’’ہے ہے ایسا نہ کہیں خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔ آپ رشتوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ اور لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ اخلاق جو دنیا سے معدوم ہوچکے تھے ان کو آپ نے اپنے اندر پیدا کیا ہے اور آپ مہمان نواز ہیں اور حق وانصاف کے رستے میں جو مصائب لوگوں پر آتے ہیں ان میں آپ ان کی اعانت فرماتے ہیں۔‘‘

حضرت خدیجہ کے یہ الفاظ اپنے اندر ایک نہایت وسیع مضمون رکھتے ہیں جس کی پوری گہرائی تک وہی شخص پہنچ سکتا ہے جو دل ودماغ کے نازک احساسات سے اچھی طرح آشنا ہو۔ ان الفاظ میں اس مجموعی اثر کا نچوڑ مخفی ہے جو پندرہ سالہ خانگی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کے قلب پر پیدا کیا۔ جو خاوند اپنی روزمرہ زندگی کے واقعات سے اپنی بیوی کے دل ودماغ میں وہ اثرات پیدا کرسکتا ہے جن کا ایک چھوٹے پیمانہ کا فوٹو ان الفاظ میں نظر آتا ہے۔ اس کی پاکیزہ خانگی زندگی اور حسن معاشرت کا اندازہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

حضرت خدیجہؓ کے انتقال کا صدمہ

حضرت خدیجہؓ ہجرت سے کچھ عرصہ قبل انتقال فرماگئیں اور ان کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ ہوا اور لکھا ہے کہ ایک عرصہ تک آپ کے چہرہ پر غم کے آثار نظر آتے رہے اور آپ نے اس سال کا نام عام الحزن رکھا۔ ان کی وفات کے بعد جب کبھی ان کا ذکر آتا تھا آپؐ کی آنکھیں پُر نم ہوجاتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی بہن آپ سے ملنے کے لئے آئی اور دروازہ پر آکر اندر آنے کی اجازت چاہی ان کی آواز مرحومہ خدیجہ سے بہت ملتی تھی۔ یہ آواز سن کر آپ بےچین ہوکر اپنی جگہ سے اٹھے اور جلدی سے دروازہ کھول دیا۔ اور بڑی محبت سے ان کا استقبال کیا جب کبھی باہر سے کوئی چیز تحفۃً آتی تھی۔ آپ لازماً حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو اس میں سے حصہ بھیجتے تھے اور اپنی وفات تک آپ نے کبھی اس طریق کو نہیں چھوڑا۔

بدر میں جب ستر کے قریب کفار مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے تو ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ،وسلم کے داماد یعنی زینب بنت خدیجہ کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔ جو ابھی تک مشرک تھے۔ زینب نے ان کے فدیہ کے طور پر مکہ سے ایک ہاربھیجا۔ یہ وہ ہار تھا جو مرحومہ خدیجہ نے اپنی لڑکی کو جہیز میں دیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا اور حضرت خدیجہ کی یاد میں آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ آپ نے رقّت بھری آواز میں صحابہ سے فرمایا یہ ہار خدیجہ نے زینب کو جہیز میں دیا تھا۔ تم اگر پسند کرو تو خدیجہ کی یہ یادگار اس کی بیٹی کو واپس کردو۔ صحابہ کو اشارہ کی دیر تھی۔ انھوں نے فوراً واپس کردیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کی جگہ ابوالعاص کا یہ فدیہ مقرر فرمایا کہ وہ مکہ جاکر زینب کو فوراً مدینہ بھجوادیں۔ اور اس طرح ایک مسلمان خاتون (اور خاتون بھی وہ جو سرورکائنات کی لخت جگر تھی) دارکفر سے نجات پاگئی۔ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زندہ بیوی کے متعلق کبھی جذبات رقابت نہیں پیدا ہوئے لیکن مرحومہ خدیجہ کے متعلق میرے دل میں بعض اوقات رقابت کا احساس پیدا ہونے لگتا تھا۔ کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان کی یاد آپ کی دل کی گہرائیوں میں جگہ لئے ہوئے تھی۔

دوسری شادیاں

حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپؐ نے حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کے ساتھ شادی کی اور ہجرت کے بعد تو حالات کی مجبوری کے ماتحت آپؐ کو بہت سی شادیاں کرنا پڑیں اور آپؐ کی خانگی ذمہ داریاں بہت نازک اور پیچیدہ ہوگئیں مگر بایں ہمہ آپؐ نے عدل وانصاف کا ایک نہایت کامل نمونہ دکھایا اور کسی ذرا سی بات میں بھی انصاف کے میزان کو اِدھر اُدھر جھکنے نہیں دیا۔ آپؐ کا وقت آپ کی توجہ آپ کا مال آپ کا گھر اس طرح آپؐ کی مختلف بیویوں میں تقسیم شدہ تھے کہ جیسے کسی مجسم چیز کو ترازو میں تول کر تقسیم کیا گیا ہو۔ اور اس خانگی بانٹ کے نتیجہ میں آپؐ کی زندگی حقیقۃً ایک مسافرانہ زندگی تھی۔ اور آپؐ کا پروگرام حیات آپؐ کے اس قول کی ایک زندہ تفسیر تھا جو آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ

کن فی الدنیا کعابری سبیلٍ

یعنی انسان کو دنیا میں ایک مسافر کی طرح زندگی گذارنی چاہیئے۔

بیویوں میں کامل عدل

مگر باوجود اس کامل عدل وانصاف کے آپؐ فرماتے تھے کہ اے میرے خدا میں اپنی طاقت کے مطابق اپنی بیویوں میں برابری اور مساوات کا سلوک کرتا ہوں لیکن اگر تیری نظر میں کوئی ایسا حق وانصاف ہے جس سے میں کوتاہ رہا ہوں اور جو میری طاقت سے باہر ہے تو تو مجھے معاف فرما۔ آپ کا یہ عدیم المثال انصاف اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپؐ کے دل میںاپنی ساری بیویوں کی ایک سی ہی قدر اور ایک سی ہی محبت تھی کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے اور خود آپؐ کے اپنے اقوال سے بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ کو اپنی بعض بیویوں سے ان کی ممتاز خوبیوں اور محاسن کی وجہ سے دوسری بیویوں کی نسبت زیادہ محبت تھی۔ پس آپ کا یہ انصاف محض انصاف کی خاطر تھا۔ جسے آپ کی قلبی محبت کا فرق اپنی جگہ سے ہلا نہیںسکا۔ مرض الموت میں جب کہ آپ کو سخت تکلیف تھی اور غشیوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی آپ دوسروں کے کندھوں پر سہارا لے کر اور اپنے قدم مبارک کو ضعف ونقاہت کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتے ہوئے اپنی باری پوری کرنے کے خیال سے اپنی بیویوں کے گھروں میں دورہ فرماتے تھے حتّٰی کہ بالآخر خود آپ کی ازواج نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ آپؐ عائشہ کے گھر میں آرام فرمائیں ہم اپنی باری خود اپنی خوشی سے چھوڑتی ہیں۔ اس عدل وانصاف کے توازن کو قائم رکھنے کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ آپؐ کی موجودگی میں آپ کی بعض بیویوں کا کسی بات پر آپس میں کچھ اختلاف ہوگیا۔ حضرت عائشہ ایک طرف تھیں اور بعض دوسری بیویاں دوسری طرف۔ دوسری بیویوں نے غصہ میں آکر حضرت عائشہ کے ساتھ کسی قدر سختی کی باتیں کیں۔ مگر حضرت عائشہ نے صبر سے کام لیا اور خاموش رہیں۔ ان کی خاموشی سے دلیر ہوکر ان بیگمات نے ذرا زیادہ سختی سے کام لینا شروع کیا جس پر حضرت عائشہ کو بھی غصہ آگیا اور انھوں نے سامنے سے جواب دیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود تھے اور آپ خوب جانتے تھے کہ اس معاملہ میں حضرت عائشہ حق پر ہیں اور حضرت عائشہ سے آپ کو دوسری بیویوں کی نسبت محبت بھی زیادہ تھی مگر چونکہ اس اختلاف کا کوئی عملی اثر نہیں تھا آپ بالکل خاموش رہے تاکہ دوسری بیویوں کے دل میں یہ احساس نہ پیدا ہو کہ آپؐ عائشہ کی پاسداری فرماتے ہیں۔ البتہ جب یہ نظارہ بدل گیا تو آپؐ نے حضرت عائشہ سے ازراہ نصیحت فرمایا چونکہ تم حق بجانب تھیں جب تک تم خاموش رہیں تمہاری طرف سے خدا کے فرشتے جواب دیتے رہے لیکن جب تم نے خود جواب دینے شروع کئے تو فرشتے چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے۔

تعلیم وتادیب کا خیال

تعلیم وتادیب کا یہ عالم تھا کہ آپؐ اپنے گھر میں ایک بہترین مصلح اور معلم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اور کوئی موقع اصلاح اور تعلیم کا ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔ قرآن شریف کی ایک مشہور آیت ہے:

قُوْۤااَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا

یعنی اے مسلمانو اپنے ساتھ اپنے اہل وعیال کو بھی ہر قسم کی معصیت اور گناہ اور دوسرے ضررساں رستوں سے بچاؤ۔

آپؐ اس آیت پر نہایت پابندی کے ساتھ مگر نہایت خوبی سے عمل پیرا تھے اور یہ آپؐ کی تعلیم وتربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ آپؐ کی ازواج مطہرات اسلامی اخلاق وعادت اور اسلامی شعار کا بہت اعلیٰ نمونہ تھیں۔

بشریت کے ماتحت ان سے بعض اوقات غلطی بھی ہوجاتی تھی لیکن ان کی غلطیوں میں بھی اسلام کی بو آتی تھی۔

حضرت عائشہؓ پر بہتان کا واقعہ

جب بعض شریر فتنہ پرداز منافقوں نے حضرت عائشہ پر بہتان باندھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا سخت صدمہ ہوا اور آپؐ کی زندگی بے چین ہوگئی۔ اس بے چینی کے عالم میں آپؐ نے ایک دن حضرت عائشہ سے فرمایا:
’’عائشہ اگر تمہارا دامن پاک ہے تو خدا عنقریب تمہاری بریت ظاہر فرمادے گا مگر دیکھو انسان بعض اوقات ٹھوکر بھی کھاجاتا ہے لیکن اگر اس ٹھوکر کے بعد وہ سنبھل جائے اور خدا کی طرف جھکے تو خدا ارحم الراحمین ہے۔ وہ اپنے بندے کو ضائع نہیں کرتا تم سے اگر کوئی لغزش ہوگئی ہے تو تمہیں چاہیئے کہ خدا کی طرف جھکو اور اس کے رحم کی طالب بنو۔‘‘

حضرت عائشہ کا دل پہلے سے بھرا ہوا تھا۔ اس خیال نے ان کے جذبات کو مزید ٹھیس لگائی کہ میرا رفیق زندگی اور میرا سرتاج بھی میرے متعلق اس قسم کی لغزش کا امکان تسلیم کرتا ہے۔ چنانچہ وہ تھوڑی دیر تو بالکل خاموش رہیں اور پھر یہ الفاظ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئیں کہ:

فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ علٰی مَا تَصِفُون۔ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بِثِّیْ وَحُزْنِیْۤ اِلَی اللّٰہِ

یعنی میرے لئے صبر ہی بہتر ہے۔ اور میں اس بات کے متعلق جو کہی جارہی ہے خدا کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگتی اور نہ میں اپنے دکھ کی کہانی خدا کے سوا کسی سے کہتی ہوں۔

یہ حضرت عائشہ کی غلطی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ ان پر کوئی بدظنی نہیں کی تھی بلکہ محض ایک اصولی نصیحت فرمائی تھی مگر آپؐ کے الفاظ نے حضرت عائشہ کے حساس دل کو چوٹ لگائی اور وہ اس غم میں اندر ہی اندر گھلنے لگ گئیں۔ لیکن اس پر کوئی زیادہ وقت نہ گزرا کہ حضرت عائشہ کی بریت میں وحی الٰہی نازل ہوئی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش خوش ان کے قریب گئے اور انہیں مبارک باد دی حضرت عائشہ نے رقّت بھری آواز میں جس میں کسی قدر رنج کی آمیزش بھی تھی جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں کسی کی شکر گزار نہیں ہوں بلکہ صرف اپنے خدا کی شکر گزار ہوں جس نے خود میری بریت فرمائی۔ سرورکائنات کے سامنے اس رنگ میں یہ الفاظ کہنا بھی ایک غلطی تھی مگر دیکھو تو یہ غلطیاں کیسی پیاری غلطیاں ہیں جن سے ایمان واخلاص کی لپٹیں اُٹھ اُٹھ کر دماغ کو معطر کررہی ہیں اور یہ سب باغ وبہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھا۔

امہات المومنینؓ کو نصیحت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں عموماً یہ نصیحت فرماتے تھے کہ تمہاری حیثیت عام مومنات کی سی نہیں ہے بلکہ میرے تعلق کی وجہ سے تمہیں ایک بہت بڑی خصوصیت حاصل ہوگئی ہے اور تمہیں اس کے مطابق اپنے آپ کو بنانا چاہیئے بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ تم مومنوں کی روحانی مائیں ہو۔ جیسا کہ میں روحانی باپ ہوں۔ پس تمہیں ہررنگ میں دوسروں کے واسطے ایک نمونہ بننا چاہیئے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم کوئی غلط طریق اختیار کروگی تو خدا کی طرف سے تمہیں دوہری سزا ہوگی کیونکہ تمہارے خراب نمونہ سے دوسروں پر بھی برا اثر پڑے گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جب کثرت کے ساتھ اموال آئے تو دوسرے صحابیوں کی طرح آپؐ کی ازواج نے بھی اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق حصہ مانگا۔ آپؐ نے فرمایا۔ اگر تمہیں دنیا کے اموال کی تمنا ہے تو میں تمہیں مال دئے دیتا ہوں لیکن اس صورت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں (کیونکہ میں اپنی زندگی کو دنیا کے مال ومتاع کی آلایش سے ملوث نہیں کرنا چاہتا) اور اگر تم میری بیویاں رہنا چاہتی ہو تو دنیا کے اموال کا خیال دل سے نکال دو سب نے یک زبان ہوکر عرض کیا کہ ہمیں خدا کے رسول کا تعلق بس ہے مال نہیں چاہیئے اور جب انہوں نے خدا کی خاطر دنیا کے اموال کو ٹھکرا دیا تو خدا نے اپنے وقت پر ان کو دنیا کے اموال بھی دے دیئے۔

محبت ودلداری

مگر اس تعلیم وتادیب کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت ودلداری کے طریق کو بھی کبھی نہیں چھوڑا حتّٰی الوسع آپ ہر بات میں اپنی بیویوں کے احساسات اور ان کی خوشی کا خیال رکھتے تھے۔ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت بے تکلفی اور تلطّف سے بات کرتے۔ اور باوجود اپنی بہت سی مصروفیتوں کے اپنے وقت کا کچھ حصہ لازماً ان کے پاس گذارتے حتی کہ سفروں میں بھی باری باری اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رکھتے اور آپ کی عادت تھی کہ اپنی بیویوں کی عمر اور حالات کے مناسب ان سے سلوک فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ جب بیاہی ہوئی آئیں تو ان کی عمر بہت چھوٹی تھی انہیں دنوں میں چند حبشی لوگ تلوار کا کرتب دکھانے کے لئے مدینہ میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی مسجد میں کرتب دکھانے کی اجازت دی۔ اور آپ نے خود حضرت عائشہ کو اپنی اوٹ میں لے کر اپنے حجرہ کی دیوار کے پاس کھڑے ہوگئے اور جب تک حضرت عائشہ اس تماشے سے (جو درحقیقت ایک فوجی تربیت کے خیال سے کرایا گیا تھا) سیر نہیں ہوگئیں۔ آپ اسی طرح کھڑے رہے۔

ایک اور موقع پر جبکہ حضرت عائشہ ایک سفر میں آپ کے ساتھ تھیں آپ نے ان کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کیا جس میں حضرت عائشہ آگے نکل گئیں۔ پھر ایک دوسرے موقع پر جبکہ عائشہ کا جسم کسی قدر بھاری ہوگیا تھا آپ دوڑے تو حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں جس پر آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ھٰذِہِ بِتْلِکَ یعنی ’’لو عائشہ اب اس دن کا بدلا اتر گیا ہے۔‘‘

ایک دن حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ بنت عمر نے حضرت صفیہؓ کے متعلق مذاق مذاق میں کچھ طعن کیا کہ وہ ہمارا مقابلہ کس طرح کرسکتی ہے ہم رسول اللہ کی صرف بیویاں ہی نہیں بلکہ آپؐ کی برادری میں آپ کی ہم پلہ ہیں اور وہ ایک غیر قوم ایک یہودی رئیس کی لڑکی ہے۔ حضرت صفیہؓ کے دل کو چوٹ لگی اور وہ رونے لگ گئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو حضرت صفیہ ؓکو روتے دیکھ کر وجہ دریافت کی۔ انہوں نے کہا عائشہ نے آج مجھ پر یہ چوٹ کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا واہ ! یہ رونے کی کیا بات تھی؟ تم نے یہ کیوں نہ جواب دیا کہ میرا باپ خدا کا ایک نبی ہارونؑ اور میرا چچا خدا کا ایک بزرگ نبی موسیٰؑ۔ اور میرا خاوند محمد (صلعم) خاتم النبین۔ پھر مجھ سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔ بس اتنی سی بات سے صفیہؓ کا دل خوش ہوگیا۔

نوجوانی کی حالت میں طبعاً محبت کے جذبات زیادہ تیز ہوتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کی طرف سے بھی محبت کا زیادہ مظاہرہ چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو علم النفس کے کامل ترین ماہر تھے اس جہت سے بھی اپنی بیویوں کے مزاج کا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے (جو آپ کی ساری بیویوں میں سے خوردسالہ تھیں) کسی برتن سے منہ لگا کر پانی پیا جب وہ پانی پی چکیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو اٹھایا اور اسی جگہ منہ لگا کر پانی پیا جہاں سے حضرت عائشہؓ نے پیا تھا۔ اس قسم کی باتیں خواہ اپنے اندر کوئی زیادہ وزن نہ رکھتی ہوں مگر ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاشرت پر ایک ایسی روشنی پڑتی ہے جسے کوئی وقائع نگار نظر انداز نہیں کرسکتا۔ الغرض محبت میں تلطف میں دلداری میں وفاداری میں تعلیم وتربیت میں تادیب واصلاح میں اور پھر مختلف بیویوں میں عدل وانصاف میں آپ ایک ایسا کامل نمونہ تھے کہ جب تک نسل انسانی کا وجود قائم ہے دنیا کے لئے ایک شمع ہدایت کا کام دے گا۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلِّمْ۔

(مطبوعہ الفضل 31مئی 1929ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جنوری 2021