• 16 جنوری, 2021

مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کی 1954ء کی سالانہ رپورٹ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ بانی تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ کی براہ راست نگرانی اور راہنمائی میں ممبران تنظیم کی جن خطوط پر تربیت کی جاتی رہی ہے ان کی بدولت آج تنظیم کا نظام دنیا بھر میں پھل پھول چکا ہے اور جماعت کی ترقیات میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کے ابتدائی دنوں کی مساعی کا آج کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو یہ جان کر یقیناً ایمان کو تقویت ملتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ترقیات سے نوازا ہے۔ اس کی ایک مثال مالی قربانی کی ہے۔کبھی پوری مجلس کا جتنا بجٹ ہوا کرتا تھا آج اس سے کہیں زیادہ چندہ ایک خادم دینے کی توفیق رکھتا ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ لاہورکے ابتدائی سالوں کی خدمت دینیہ کی ایک سالانہ رپورٹ 1954ء سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ وسائل کی شدید کمی کے باوجود کس قدر شوق اور ذوق کے ساتھ تنظیم کے لائحہ عمل پر دل و جان سے عمل کرنے کی کوششیں ہوا کرتی تھی۔ تعلیم و تربیت کے علاوہ انسانی ہمدردی اور فلاحی کاموں کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ درج ذیل سالانہ رپورٹ مجلس لاہور کے حلقوں کی مساعی پر مشتمل رپورٹ ہے۔ اہم شعبوں سے متعلق مجلس کی مساعی کچھ یوں رہی تھیں :
شعبہ اعتماد کے تحت زعماء حلقہ جات اور ناظمین کے اجلاسات اور اجلاس عام باقاعدگی سے ہوتے رہے تھے ۔ مجلس کے تمام حلقہ جات سے ماہانہ رپورٹس بروقت لی جاتی رہیں کیونکہ مجلس میں ہر تین ماہ بعد حلقہ جات کے پہلی تین پوزیشنوں کا اعلان کیا جاتا تھا اور اول آنے والے حلقہ کو عَلم انعامی دیا جاتا تھا جس کا اعلان مجلس کے ماہانہ اجلاس عام میں کیا جاتا تھا۔ ذیل کی رپورٹ کے مطابق سال رواں میں حلقہ دھرم پورہ اول قرار پایا تھا۔ حلقہ بھاٹی گیٹ دوم اور حلقہ سلطان پورہ سوم قرار پایا تھا۔

اس سال مجلس کا کل بجٹ182روپے تھا جبکہ کل وصولی 375روپے، چودہ آنے اور نو پائی رہی تھی۔ اس میں مختلف دیگر مدات کی وصولی بھی شامل تھی جس میں سالانہ اجتماع، تعمیر دفتر، خدمت خلق، لوکل فنڈ سائیکل سٹینڈ، رسالہ خالد کی فروخت وغیرہ شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق شعبہ خدمت خلق کے تحت حلقہ محمد نگر میں دو خدام نے اجنبی اشخاص کو راستہ بتایا۔ حلقہ مصری شاہ میں، قلعہ گجر سنگھ، سلطان پورہ اور دھرمپورہ میں متعدد اصحاب کو ان کی جائے مقصود تک پہنچایا گیا۔ حلقہ محمد نگر میں ایک معذور شخص کے لئے کنویں سے پانی نکال کر اس کے گھر پہنچایا گیا۔ اسی طرح کے اور کام بھی کئے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خدام کو اجلاسات میں ترغیب دی جاتی رہی کہ دوران سفر وہ بوڑھوں، بیماروں اور عورتوں کے لئے اپنی سیٹ یا جگہ خالی کر کےان کے دے دیا کریں۔ رپورٹ کے مطابق دو خدام نے اس پر عمل بھی کیانیز الفضل نہ خریدنے والے احباب کو الفضل پڑھنے کے لئے دیا گیا۔ حلقہ بھاٹی گیٹ میں امریکی گندم مفت تقسیم کرنے کے لئے خدام کام کرتے رہے۔ یتامیٰ، بیواؤں اور مساکین کو مفت گندم پہنچائی گئی۔اسپتالوں میں تواتر کے ساتھ دورے کئے گئے۔ بیمار پرسی کے علاوہ ادویات کی خریداری میں مدد کی گئی۔

شعبہ تعلیم و تربیت کے تحت کتاب ’’فتح اسلام‘‘ کا ہر حلقہ میں درس دیا جاتا رہا جس کا امتحان اپریل میں ہونا تھا۔دھرمپورہ اور سلطان پورہ حلقوں میں یہ کتاب دو بار ختم کرائی گئی تھی۔قرآن کریم کا درس سات حلقوں میں شروع ہو چکا تھا۔ اسی طرح تقریروں کی تیاری کے لئے ’’بزم حسن بیاں‘‘ کا قیام بھی عمل میں آ چکا تھا۔ اسی طرح ایک آل پاکستان تحریری مقابلے کا اعلان کیا جاچکا تھا جس میں پہلی تین پوزیشنیں لینے والوں کو اجتماع پر انعام دینے تھے ۔

مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے زیر اہتمام ایک لائبریری قائم ہو چکی تھی جس میں ڈیڑھ سو کے قریب کتب جمع تھیں، روزانہ متعدد اخبارات و رسائل لائبریری میں آتے رہے تھے۔ تیس احباب کو مختلف کتب جاری کی گئیں تھیں ۔

شعبہ وقار عمل کے تحت حلقوں میں وقار عمل بھی ہوتے رہے تھے۔ بھاٹی گیٹ اور سلطان پورہ میں اپنی اپنی مساجد میں وقار عمل کئے گئے تھے۔ شعبہ اطفال کے تحت سات حلقوں میں مجلس اطفال الا حمدیہ قائم ہو چکی تھی اور مربی اطفال مقرر ہو چکے تھے، سلطان پورہ، مصری شال، دھرم پورہ اور بھاٹی گیٹ حلقوں میں اطفال کے باقاعدہ اجلاس شروع ہو چکے تھے اور ماہوار چندہ بھی لیا جانے لگا تھا۔

شعبہ ایثار و استقلال کے تحت خدام میں قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنے کی خاطر روزانہ ایک ایک گھنٹہ دفتر میں آتے رہے تھے۔دیگر کاموں میں خود کو پیش کرنے کی ترغیب کی جاتی رہی ۔ شعبہ تحریک جدید کے تحت نئی سکیم ’’لفافے بنانا‘‘ پر عمل درآمد شروع کیا گیا، کئی حلقوں کی طرف سے لفافے بن کر آئے جن کو فروخت کرکے رقم تحریک جدید میں جمع کرانا تھی۔ میلہ چراغاں کے موقع پر دو حلقوں کے خدام نے کچھ چیزیں میلہ میں فروخت کرکے اس کامنافع تحریک جدید میں جمع کروایا، مختلف طریقوں سے کام کرکے دس روپے تحریک جدید کی مدد میں جمع کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر خصوصی مساعی میں بھی کچھ کام کئے گئے تھے۔

10مارچ کو مغرب کی نماز کے بعد لاہور میں یہ روح فرسا خبر پہنچی کہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا ہے۔خبر ملتے ہی مجلس خدام الاحمدیہ کی عاملہ نے مقامی احباب کو فوراً اطلاع پہنچانے کا بندو بست کیا۔نماز عشاء سے قبل ہی احباب کی بڑی تعداد رتن باغ میں جمع ہو چکی تھی۔نماز عشاء کے بعد نہایت رقت و زاری کے ساتھ دعائیں کی گئیں ۔زعیم صاحب حلقہ رتن باغ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ روزانہ شام کو بذریعہ ٹیلیفون حضوؓر کی صحت کے متعلق تازہ ترین اطلاعات حاصل کریں اور رتن باغ پہنچائیں۔ اطلاع وصول ہونے پر ڈیوٹی پر موجود خدام اطلاع کی کاپیاں کرکے زعماء حلقہ جات کے ذریعےاحباب تک پہنچاتے رہے تھے ۔ حلقوں میں صدقہ جات اور بکروں کے ذبح کرنے کے انتظامات کئے گئے۔انفرادی بکروں کے علاوہ اجتماعی طور پر کل 15بکرے ذبح کئے گئے تھے۔ صدقہ کے طور پر نقد رقم بھی غریبوں میں تقسیم کی گئی اور یہ سلسلہ گیارہ روز تک جاری رہا تھا اور کل 36روپے صدقہ کی مد میں تقسیم کئے گئے تھے۔ اسی طرح حضور انورؓ کی کامل صحت یابی اور عمر درازی کے لئے ہر حلقہ میں نماز مغرب کے بعد سات دن تک اجتماعی دعائیں ہوتی رہیں ۔ 27مارچ کو خدام نے اجتماعی روزہ رکھا ۔ 11مارچ کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیغام وصول ہوا اس کو فوراً نماز جمعہ کے بعدتحریری طور پر احباب میں تقسیم کیا گیا، تمام زعماء حلقہ جات کی توسط سے لاہور کے احباب جماعت کے گھروں تک پہنچایا گیا ۔ اسی طرح شعبہ اشاعت میں ماہنامہ خالد کی ایجنسی کے تحت 50 خالد لاہور میں آ رہے تھے ۔ 13مارچ 1954ء کو مجلس کا سالانہ اجلاس عام نماز جمعہ کے بعد مسجد احمدیہ میں منعقد ہوا جس میں ملک شام کے ایک احمدی نوجوان سید سلیم الجابی نے ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی۔مکرم مولوی فضل الٰہی صاحب نے ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر کی۔ اجلاس میں کل حاضری ساڑھے تین صد کے قریب رہی تھی ۔ دوران سال مجلس کے ناظم صاحب عمومی، ناظم صاحب تعلیم و تربیت اور ناظم صاحب تحریک جدید نے دہلی دروازہ، چابک سواراں ، مصری شاہ، سلطان پورہ، محمد نگر، نیلا گنبد، کرشن نگر، دھرم پورہ، سنت نگراور بھاٹی گیٹ حلقہ جات کے دورے کئے ۔ مجلس کے قائد مکرم محمد سعید احمد صاحب تھے۔

(مرسلہ: منور علی شاہد (جرمنی))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جنوری 2021