• 16 جنوری, 2021

برادرم مکرم سیف علی صاحب شاہد کا ذکر ِخیر

میرے بڑے بھائی مکرم سیف علی شاہد صاحب مورخہ 24 ستمبر 2020 کو سڈنی میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

مرحوم وفات سے پہلے دو مہینے سڈنی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔نماز جنازہ اتوار 27ستمبر کو پڑھائی گئی اور تدفین مقبرہ موصیاں سڈنی میں ہوئی اور تدفین کے بعد دعا مکرم انعام الق کوثر صاحب امیر و مشنری انچاج آسٹریلیا نے کروائی۔

خاندانی پس منظر

آپ کے والد محترم چوہدری رستم علی صاحب ولد مکرم خیردین صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ ننھیال کی طرف سے آپ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی حضرت چوہدری محمدعلی صاحبؓ کے نواسے اور مکرم چوہدری گامے خان صاحب کے پڑ نواسے تھے۔

خاندانی حالات

میرے بڑے بھائی مجھ سے ایک سال پہلے 1961 میں میٹرک کرکے حیدر آباد سندھ میں ملازم ہوگئے اور ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی۔ 1962ء میں خاکسارنے میٹرک کیا اور جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔جامعہ میں میری تعلیم کے دوران بڑی باقاعدگی کے ساتھ ہر ماہ مجھے اخراجات کے لئے بذریعہ منی آڈر رقم بجھواتے رہے۔بعد ازاں میرے چھوٹے بھائی مکرم عمر علی طاہر صاحب جامعہ میں داخل ہوئے تو پھر ان کو بھی ساری تعلیم کے دوران اخراجات کیلئے رقم بجھواتے رہے۔والدین نے ہمیں وقف کیا تھا لیکن ہماری تعلیم میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔ پھر ساری زندگی ہمارے ساتھ بہت حسن سلوک کیا۔والدین کی بیماری کے دوران بڑی تندہی سے علاج معالجہ کرتے رہے خصوصاً والد صاحب کافی لمبا عرصہ بیمار رہے۔بھائی جان مسلم کمرشل بینک میں ملازم تھے لیکن کبھی بھی ان کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہیں برتی اگر گھر آنے کی ضروت ہوتی تو فوری طور پر گھر آجاتے اور ہمیشہ پورا خیال رکھا۔چونکہ ہم دو بھائی مربی سلسلہ تھے یعنی میں اور میرے چھوٹے بھائی مکرم عمر علی طاہر صاحب سابق مبلغ گیمبیا اس لئے والدین کی مکمل ذمہ داری انہوں نے اٹھائی ہوئی تھی۔

اپنے بچوں کے سلسلہ میں بہت دکھ جھیلے لیکن انتہا کا صبر دکھایا اور کبھی معمولی بھی لغزش نہ دکھائی۔پہلے بڑے بیٹے عزیزم شاہد محمود22 سال کی عمر میں بوجہ کینسر وفات پاگئے لیکن اس کے علاج کے سلسلہ میںکوئی کسر نہ چھوڑی بلکہ کبھی کوئی عزیز صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتا تو اسے بھی تسلی دیتے۔پھر دوسرے بیٹے عزیزم مبارک محمودمبلغ سلسلہ تنزانیہ میں بیمار ہوئے اور حضور انور کی ہدایت پر انہیں پاکستان لایا گیاتو کراچی میں ان کے علاج کی ہر ممکن کوشش کی۔ حضور انور کی خدمت میں راہنمائی کیلئے باقاعدہ لکھتے رہنا ان کا معمول تھا اسی طرح مرکز سے مسلسل رابطہ تھا اور عزیزم کے متعلقہ دفتر کو بھی گاہے بگاہے مطلع کرتے رہتے تھے۔ان کی رہائش چونکہ میر پور خاص میںتھی اس لئے گھر کا اوپر والا حصہ خالی کیا تاکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ مکمل آرام سے رہیں اور کسی قسم کا کوئی خلل واقع نہ ہو ۔پھر جب عزیزم صحت یاب ہوکرربوہ شفٹ ہوئے تو اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھا ۔ پانچ سال بعد جب بیماری دوبارہ آگئی تو اپنے چھوٹے بیٹے مکرم انعام الرحمان وحید کو ربوہ بھیج دیا تا کہ اس کا خیال رکھا جاسکے۔ ربوہ میں قیام کے دوران جب کبھی شوکت خانم ہسپتال جانا ہوتا تو خود بھی میرپورخاص سے آجاتے یا پھر مکرم انعام الرحمان وحید اور میرے چھوٹے بھائی مکرم عمرعلی طاہر صاحب ساتھ ہوتے۔غرض علاج میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔پھر جب عزیزم مبارک محمود کی وفات ہوئی تو بے انتہا صبر دکھایا اور ساتھ اس کی تین بچیوں اور بیوی کو سنبھالتے رہے۔ عزیزم مبارک محمود کی فیملی کاتا دم آخر ہر ضروت کا خیال رکھا۔ اسی طرح جب جرمنی میں مقیم بیٹے عزیزم مظفر الاسلام بیمار ہوئے تودو سال مسلسل سڈنی سے آکراس کی دیکھ بھال کرتے رہے اور اس کی ہر ضروت کا خیال رکھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب وہ صحت یاب ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔

پاکستان میں جماعتی خدمات

آپ نے 1966ءسے جماعتی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ کو بطور سیکریٹری مال اور سیکریٹری وقف جدید جماعت احمدیہ کنری سندھ خدمت کی توفیق ملی۔28 اگست 1989 ءکوحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو صدر جماعت میرپور خاص مقرر فرمایا اور 1990ء میں امارت کے قیام تک آپ اس خدمت پر فائز رہے۔

8ستمبر2008ء کومحترم ڈاکٹر عبد المنان صدیقی صاحب کی شہادت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے آپ کی تقرری بطور امیر ضلع میر پور خاص فرمائی۔ آپ آسٹریلیا روانگی تک امیر ضلع میرپور خاص رہے۔

تنظیمی خدمات

آپ 1966ءتا1977ء ناظم ضلع اطفال اور معتمد ضلع تھرپارکر رہے۔1977ءتا1984ءقائد ضلع تھرپارکر خدمت کی بھی توفیق پائی۔

پہلے آپ 1986 تا1988 اور پھر 1990تا1991میں بطورناظم ضلع انصار اللہ میر پور خاص خدمت کی توفیق پائی علاوہ ازیں 1999ءتا 2008ء ناظم ضلع انصار اللہ میرپور خاص کے ساتھ ناظم علاقہ میر پور خاص بھی رہے۔

آسٹریلیا میں رہائش

2014ء میں سڈنی آسٹریلیا شفٹ ہو گئے ۔وہاں جا کر بھی جماعتی خدمت میں پیش پیش رہے۔ 5 جولائی 2014ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے آپ کی قضاء بورڈ آسٹریلیا میں بطور ممبر تقرری فرمائی ۔2016ء میں آپ نائب صدر اول مجلس انصار اللہ آسٹریلیا مقرر ہوئے۔اسی طرح 2016ء سے تا دم آخر بطور سیکرٹری رشتہ ناطہ خدمت کرتے رہے۔ مگر عملاً محترم امیر صاحب و مبلغ انچارج کے دفتر میں جو بھی خدمت ہوتی اس کو بجا لانے کی کوشش کرتے۔ خواہ وہ ڈاک کا کام ہوتا یا دفتر میں آنے والوں کی مہمان نوازی۔ ہسپتال داخل ہونے سے ایک روز قبل تک دفتر جاتے رہے۔

پسماندگان

آپ نے پسماندگان میں بیوہ محترمہ ناصرہ منصورہ صاحبہ کے علاوہ4 بیٹے اور14پوتیاں اور ایک پڑپوتی سوگوار چھوڑے ہیں۔آپ کے تین بیٹے عزیزم خالد محمود،عزیزم مظہر محمود اور عزیزم انعام الرحمان وحیدآسٹریلیا میں ہیں اور خدمت دین میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ایک بیٹے عزیزم مظفر الاسلام Hof جرمنی میں ہیں اوروہ خدمت دین کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔

آپ کے ایک بیٹے عزیزم مبارک محمود تنزانیہ میں بطور مبلغ سلسلہ مصروف عمل رہے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ کا بخوبی ساتھ نبھایا اور ہرمشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑی رہیں۔ کبھی کوئی شکوہ شکایت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے دو بھائی واقف زندگی ہیں۔ خاکسار حیدر علی ظفرمبلغ سلسلہ و نائب امیر جرمنی اور مکرم عمر علی طاہر صاحب سابق مبلغ سلسلہ گیمبیا اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد جرمنی میں مقیم ہیں اور سیکرٹری امورعامہ کے دفتر میں اعزازی طور پر خدمت کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم بھائی جان سے مغفرت کا سلوک کرتے ہوئے اپنے قرب میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

(از حیدر علی ظفر مبلغ سلسلہ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جنوری 2021