• 9 اگست, 2022

حضرت محمد ؐ کا جانوروں سے حسن سلوک

اطفال کارنر
تقریر
حضرت محمد ؐ کا جانوروں سے حسن سلوک

آج اس ہستی کی سیرت مبارکہ کے ایک پہلو ’’جانوروں سے حسن سلوک‘‘ کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جو سراپا رحمت اور حسن سلوک کی اعلیٰ مثال تھا اور لا محالہ بے مثال تھا اور جو کامل تھا ہر ایک پہلو سے اور اُس کا ہر انداز نرالہ اور قابلِ تقلید تھا اِسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: 22) یقیناً تمہارے لیے اللہ کے اس عظیم رسول میں ایک کامل اسوہ حسنہ ہے۔ اور آپ کی سیرت بیان کرتے ہوئے اکثر یہ شعر ذہن میں آ جاتا ہے کہ

؎جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا، تیری شناسائی کا

آپ ؐ نوع انسان، حیوان، چرند پرند، نباتات اور حشرات الارض سب کے لیے بطور رحمت تھے۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ نے ایک سفر میں پڑاؤ کیا۔ ایک شخص نے جا کر ایک چڑیا کے گھونسلے سے انڈے نکال لئے۔ وہ چڑیا آ کر رسول کریم ؐ اور آپ ؐ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سر پر منڈلانے لگی۔ نبی کریم ؐ کی نظر اس پر پڑی تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اس پرندہ کو کس نے دکھ پہنچایا ہے۔ ایک شخص نے کہا ’’حضور میں نے اس کے انڈے اٹھائے ہیں‘‘ رسول کریم ؐ نے فرمایا ’’جاؤ! اس کے انڈے واپس اس کے گھونسلے میں رکھ دو‘‘

آپ نے شکاری پرندے نیز چیونٹی، شہد کی مکھی اور ہد ہد کو مارنے سے منع فرمایا۔ حشرات الارض پر رحمت کا اندازہ اس روایت سے بھی ہوتا ہے کہ آپ ؐ نے گھروں میں رہنے والے سفید رنگ کے چھوٹے بے ضرر سانپوں کو مارنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

اسی رحمت دوجہاں کو دیکھ کر حیوان بھی اپنے دُکھوں کا مداوا کروانے کے لیے بِلبِلاتے ہیں۔ ایک صحابی کی اونٹنی آپ کو دیکھ کر بِلبِلانے لگی۔ آپ ؐ نے اس صحابی رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا کہ ’’تم اپنی اونٹنی کا خیال نہیں رکھتے۔ جو یہ مجھ سے شکایت کر رہی ہے اس کا خیال رکھا کرو اور وقت پر چارہ اور پانی ڈالا کرو۔‘‘ آنحضرت ؐ کی رحمت کی گواہی لینی ہے تو اس فاختہ سے بھی جا کر لو جس کے بچوں کوصحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک سفر کے دوران اٹھا لیا اور فاختہ بھی فریاد لے کر آپ ؐ کے سر پر منڈلانے لگی۔ آپ ؐ نے فوراً اس کی فریاد کو سمجھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً اس کے بچوں کو واپس رکھو۔ کیا کسی کی رحمت اتنی پھیلی کہ ہر ذی روح نے اس سے فائدہ اٹھایا ہو۔ نہیں نہیں یہ ہمارے آقا ہی تھے جو رحمۃ للعالمین تھے۔

الغرض رسول کریم ؐ جانوروں سے بھی نہایت رحم اور شفقت کا سلوک فرماتے اور ہمیں بھی یہی تعلیم دی کہ جانداروں پر ظلم اور زیادتی ہر گز نہ کرو ان سے ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آؤ۔ آج ضرورت ہے اس امر کی کہ ہم بھی حسن سلوک میں آپ ؐ کی پیروی کریں۔

؎زہے خُلقِ کامل زہے حُسنِ تام
علیک الصّلوۃ علیک السّلام

(فرخ شاد)

پچھلا پڑھیں

اسیران راہ مولیٰ کی رہائی کے لئے دعا کی تحریک

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ