• 21 مئی, 2022

اللہ کے دین کی خاطر خرچ کرتے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
ایسے ایمان لانے والے جو اللہ کے دین کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور دین کامل اب اسلام ہی ہے جیسے کہ ہم سب کو معلوم ہی ہے۔ اور اس زمانے میں آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہی حقیقت میں مومنین کی جماعت کہلانے کی حقدار ہے اور یہی مومنین کی جماعت ہے۔ اور اس لحاظ سے فی زمانہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگوں سے مراد آپ لوگ ہی ہیں جو اس زمانے کے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بہترین مال خوشدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک نیت لوگوں کو خوشخبری دیتاہے کہ اے لوگو !تم جو میری راہ میں خرچ کرتے ہو مَیں تمہیں بغیر اجر کے نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ طاقت رکھتاہوں کہ تمہاری اس قربانی کو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ کر سکتاہوں۔ اور یاد رکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے اپنا دل کھولتے جاؤ گے اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت بھی دیتاچلا جائے گا۔ تم اس دنیا میں بھی اس کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے اور یہ اجر صرف یہیں ٹھہر نہیں جائے گا بلکہ اگلے جہان میں بھی اجر پاؤگے۔ اور پھر تمہار ی نسلوں کوبھی اس کا اجرملتارہے گا۔ اب دیکھیں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی کشائش، مالی وسعت ان کے بزرگوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہے۔ یہ احساس ہمیں اپنے اندر ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے، اجاگر کرتے رہنا چاہئے اور اس لحاظ سے بھی بزرگوں کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں اور آئندہ نسلوں کو بھی یہ احساس دلانا چاہئے کہ بزرگوں کی قربانی کے نتیجہ میں ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ نے بہت سارے فضل فرمائے ہیں۔ …

حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک واقعہ کہ ابتدائی ایام میں، جو شروع کے دن تھے، چندے وغیرہ مقرر نہ ہوئے تھے اور جماعت کی تعداد بھی تھوڑی تھی۔ ایک دفعہ کثیر تعداد میں مہمان آگئے۔ اس وقت خرچ کی دقت تھی۔ حضرت میر ناصرنواب صاحب نے میرے روبرو حضرت اقدس علیہ السلام سے خرچ کی کمی کا ذکرکیا۔ اور یہ بھی کہا کہ مہمان زیادہ آگئے ہیں۔ آپ گھر گئے، حضرت ام المومنین کا زیور لیا اور میر صاحب کو دیا کہ اس کو فروخت کرکے گزارہ چلائیں۔ پھردوسرے تیسرے دن، وہ زیورکی جو آمد ہوئی تھی، روپیہ آیاتھا، ختم ہوگیا۔ میر صاحبؓ پھر حاضرہوئے اور اخراجات کی زیادتی کے بارہ میں ذکرکیا۔ حضورعلیہ السلام نے فرمایاکہ ہم نے مسنون طریقے پر ظاہر اسباب کی رعایت کرلی ہے اب وہ خود انتظام کرے گا۔ یعنی جو مسنون طریقہ تھا، جو ہمارے پاس تھا وہ تو ہم نے دے دیاہے، خرچ کر لیا ہے اب خداتعالیٰ خود انتظام کرے گاجس کے مہمان ہیں۔ کہتے ہیں کہ دوسرے ہی دن اس قدر روپیہ بذریعہ منی آرڈر پہنچا کہ سینکڑوں تک نوبت پہنچ گئی۔ اس زمانہ میں سینکڑوں بھی بہت قیمت رکھنے والے تھے۔ پھر آپ ؑ نے توکل پر تقریر فرمائی، فرمایا: جبکہ دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپے پر اعتبار ہوتاہے کہ حسب ضرورت جس قدر چاہے گا صندوق کھول کر نکال لے گا۔ ایسا ہی متوکل کو خداتعالیٰ پر یقین اور بھروسہ ہوتاہے کہ جس وقت چاہے گا نکال لے گا۔ اور اللہ کا ایسا ہی سلوک ہوتاہے۔

تو دیکھیں اس سے ہمیں سبق مل رہاہے کہ اللہ تعالیٰ تواپنے بندوں کی ضرورتیں پوری کر لیتاہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری بہتری کی خاطر، ہماری بھلائی کے لئے، ہمیں بھی ان خوش قسمتوں میں شامل کر لیاہے جو ان نیک کاموں میں شامل ہوتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ 7؍نومبر 2003ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ