• 5 اگست, 2021

کیا انبیاء سے اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے؟

اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔ اور یہ ضرور ہے کہ ایسا ہوتا تاکہ بشر خدا نہ ہو جائے۔ دیکھو حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق بھی یہ اعتراض بڑے زور شور سے یہود نے کیا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہت لیکر آیا ہوں اور وہ بات غلط نکلی۔ ممکن ہے کہ حضرت مسیح ؑکو یہ خیال آیا ہو کہ ہم بادشاہ بن جائیں گے۔ چنانچہ تلواریں بھی خرید رکھی ہوئی تھیں مگر یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔ بعد اسکے خدا نے مطلع کر دیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ میری بادشاہت روحانی ہے۔ سادگی انسان کا فخرہوتا ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے جو کہا سو سادگی سے کہا۔ اس سے ان کی خفت اور بے عزتی نہیں ہوتی۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہو گی مگر ہجرت مدینہ طیبہ کی طرف ہوئی۔ اور انگوروں کے متعلق آپؐ نے یہ سمجھا تھا کہ ابو جہل کے واسطے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عکرمہ کے واسطے ہیں۔ انبیا کے علم میں بھی تدریجاً ترقی ہوتی ہے۔ اس واسطے قرآن شریف میں آیا ہے قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا (طٰہٰ:115)۔ یہ آپؐ کا کمال اور قلب کی طہارت تھی جو آپؐ اپنی غلطی کا اقرار کرتے تھے۔ اس میں انبیاؑ کی خفت کچھ نہیں۔ ایک حکیم ہزاروں بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ اگر ایک ان میں سے مر جائے تو کیا حرج ہے۔ اس سے اسکی حکمت میں کچھ داغ نہیں آجاتا۔ کبھی حافظ قرآن کو پیچھے سے لقمہ دیا جاتا ہے تو اس سے یہ نہیں کہا جاتا کہ اب وہ حافظ نہیں رہا۔ جو باتیں متواتر ات اور کثرت سے ہوتی ہیں ان پر حکم لگایا جاتا ہے۔

(ملفوظات جلداول صفحہ 455تا 456 ایڈیشن1988)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جولائی 2021