• 22 ستمبر, 2021

معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہے

معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہے
دل پھر بھی گلابوں کے لئے ضد پہ اڑا ہے
یاد آئے ہیں پھر لوگ مجھے شہر جفا کے
اک تیر ستم یوں بھی میرے دل میں گڑا ہے
وہ جس سے عبادت کی طرح کی تھی محبت
وہ شخص زمانے کے لئے مجھ سے لڑا ہے
میت کو مری دیکھ کے بولا وہ ستم گر
اٹھ جائے گا پھر سے یہ اداکار بڑا ہے
جس موڑ پہ بدلی تھی ڈگر اس نے مبارکؔ
کہنا کہ اسی موڑ پہ دیوانہ کھڑا ہے

(مبارک صدیقی۔لندن)

جلسہ سالانہ

یوں ہی اک شان سے ہوتا رہے جلسہ اپنا
دل کی راحت کا یہ سامان رہے صدیوں تک
ہم پی مولیٰ کا یہ احسان رہے صدیوں
آسمانوں سے یوں ہی نور کے چشمے پھوٹیں
یہ سفر زیست کا آسان رہے صدیوں تک
تا قیامت رہیں ہم عشق محمد کے اسیر
ہم فقیروں کی یہی شان رہے صدیوں تک
یوں ہی رحمت کا شجر ہم پہ رہے سایہ فگن
یوں ہی ہر درد کا درمان رہے صدیوں تک
یوں ہی اک شخص لٹاتا رہے چاہت کے گلاب
یوں ہی وہ ہم پہ مہربان رہے صدیوں تک
ہم بھی ہوں اپنے سبھی قول نبھانے والے
ان کو بھی ہم پہ یوں ہی مان رہے صدیوں تک
ان کی خوشبو سے مہکتا رہے سارا عالم
جاری و ساری یہ فیضان رہے صدیوں تک
یہ گلستان سدا اس کی حفاظت میں رہے
ہاں خدا اس کا نگہبان رہے صدیوں تک
یوں ہی اک شان سے ہوتا رہے جلسہ اپنا
اس کی یہ اپنی ہی پہچان رہے صدیوں تک

(عبدالصمد قریشی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اگست 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اگست 2021