• 1 اکتوبر, 2020

حضرت حکیم الامت نور الدینؓ کی عظمتِ شان حضرت مسیح موعودؑ کی نظر میں مقام

حضرت ملک غلام فرید ایم اے کا بیان ہے کہ
’’ایک دن حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ قادیان میں بک ڈپو کےپاس کھڑے ہوئے تھے۔مجھے دیکھ کر حضرت میر صاحب نے فرمایا ملک صاحب! میں آپ کو ایک روایت سناتا ہوں اس کوآپ یاد رکھیں۔ اس کے بعد فرمایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں حضرت خلیفہ اولؓ بیمار ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میری یہ ڈیوٹی لگائی کہ جب آپ حضرت مولوی صاحبؓ کو دیکھنے تشریف لے جائیں تو میں آپ کے ساتھ جایا کروں ۔ایک دن حضرت مولوی صاحب کی طبیعت کچھ زیادہ ناسازتھی۔حضرت مسیح موعود علیہ و السلام حسب معمول آپ کو دیکھنے کے لئے ان سیڑھیوں سےجو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان کے اوپرکے حصہ سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے مکان کے صحن میں اُترتی ہیں،حضرت مولوی صاحب کو دیکھنے کے لئے تشریف لا ئے. میں حضور کے ساتھ تھا۔ جب ڈاکٹروں نے اور خود حضرت مسیح موعودؑ نے بھی حضرت مولوی صاحب کو دیکھ لیا تو حضور نے باہرصحن میں تشریف لاکر ٹہلنا شروع کر دیا ۔اس وقت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ نے آپؑ پر چھتری سے سایہ کیا ہوا تھا۔حضور کچھ دیر ٹہلتے رہے اور پھر انہیں سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر تشریف لے گئے۔میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ چلا گیا۔اپنے مکان میں تشریف لاکر حضرت صاحب نے ایک الماری میں سے کچھ دوائیں نکا لیں اور حضرت اماں جانؓ کے دالان میں ہی زمین پر بیٹھ گئے اور ان دواؤں میں سے کچھ دوائیں نکال نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں پر رکھنی شروع کر دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فکرمندی کو دیکھ کر حضرت اماں جانؓ بھی آ کر حضور کے پاس بیٹھ گئیں اور جیسے کوئی کسی کو تسلی دیتا ہے اس طرح سے آپ نے حضور سے کلام شروع کرنا شروع کر دیا کہ جماعت کے بڑے بڑے عالم فوت ہو رہے ہیں حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی فوت ہوگئے مولوی عبدالکریم صاحب بھی فوت ہو گئے۔ خدا تعالیٰ مولوی صاحب کو صحت دے۔ حضرت اماں جانؓ کی با تیں سن کرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔

’’یہ شخص ہزار عبد الکریم کے برابر ہے۔‘‘

اتنی روایت سنا کر حضرت میر صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ملک صاحب! اس فقرے کو یا د رکھیں۔ بالکل یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائے تھے۔ خاکسار کے استفسار پر حضرت ملک صاحب موصوف نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیماری کا یہ واقعہ غالباً 1907ء کا ہے۔‘‘

(حیاتِ نور،حضرت عبد القادر سابق سوداگر مل 298۔299)

(شہباز اکبر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020