• 20 ستمبر, 2020

لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر ۔۔۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ وہ خادم دین ہو بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔ نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے۔‘‘ (دین سکھانا بھی ضروری ہے۔ یہ نہیں ہے کہ باہر سے وقت نہیں ملا۔ دنیاوی پڑھائی میں مصروف ہیں، دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں اس لئے نہ خود دین سکھانے کی طرف توجہ دی، نہ بچوں کے لئے کوئی انتظام کیا۔ عقائد سکھانا دین سکھانا بڑا ضروری ہے۔) فرمایا ’’اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے‘‘۔ اب اخلاق کے بھی معیار ہیں۔ یہاں اخلاق کے معیار کچھ اور ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو دین میں اخلاقی معیار سکھائے ہیں وہ بہت اعلیٰ معیار ہیں۔ صرف دنیاوی اخلاقی معیار نہیں بلکہ وہ اخلاقی معیار ہمیں تلاش کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائے ہیں، جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے ثابت کر کے ہمیں دکھایا ہے۔ اور وہ اخلاقی معیار ہیں جو ہم نے آگے اپنی نسلوں میں قائم کرنے ہیں۔)

آپ نے فرمایا کہ: ’’یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اَقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔ جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرماوے اور یہ تب ہی میسر آ سکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر ایک شئے پر مقدم کرنے والے ہوں۔ اور آگے کھول کر کہہ دیا وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ اولاد اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔ اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 370 تا 373۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی اپنے آپ کے متقی ہونے کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلنے والا بنائے اور آگے پھر اولاد کے بھی متقی ہونے کی دعا ہے۔

پھر آپ فرماتے ہیں کہ اولاد کی پرورش ’’محض رحم کے لحاظ سے کرے، نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔ بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو‘‘۔ آپ فرماتے ہیں: ’’لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولاد دین کی پہلوان ہو۔ بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں‘‘۔ فرمایا کہ ’’اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے۔ اَور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔ صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے۔ مگر یاد رکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ381-382۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور خاص طور پر واقفین نَو کے والدین کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے کہ اپنے بچوں کو دین کی طرف توجہ دلائیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں۔ محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔ خدا کے واسطے نہیں کرتے۔ اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیّت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا پر نظر کرکے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمۃ الاسلام کا ذریعہ ہو۔ جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دیدے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اَور مِلک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔ مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تُو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن، اپنے بیگانے سب برابر ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔ ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔ اولاد ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو۔ یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد6 صفحہ351-352۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

(خطبہ جمعہ 14؍ جولائی 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020