• 20 ستمبر, 2020

’’میری چال چلو پوری پوری‘‘

یہ ترجمہ ہے آیت کریمہ آل عمران آیت 32 کے الفاظ فَاتَّبِعُوْنِیْ کا جو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے۔ بالعموم مفسرین اس کا ترجمہ میری اتباع کرو۔ میری پیروی کرو کے کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اتباع کو چال چلنے کے معنوں میں لیا ہے۔ جیسے اسی سورۃ کی آیت 69 میں حضرت ابراہیمؑ کے قریب وہ شخص قرار دیا جو اس کی چال چلے اور آیت 74 کے foot note میں تحریر فرماتے ہیں کہ اصل چال تو وہ ہے جو تمہارے دین کی چال ہے۔ یہ ترجمہ اتنا وسیع ترجمہ ہے جس میں اتباع، پیروی، اطاعت رسول تو آہی جاتی ہے۔ رسومات، بدعات اور غیر اسلامی رواج سے دوری، نفرت کا مفہوم بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔

اس اہم اسلامی موضوع میں آگے بڑھنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آیت کریمہ درج کرکے حضرت خلیفہ اولؓ کا ترجمہ بھی لکھا جائے۔

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ

(آل عمران:32)

کہ (اے محمدؐ) تم ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو (جیسا کہ میں اللہ کا محبوب بنا ہوں) تو تم میری چال چلو پوری پوری تو تم بھی اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اللہ غفور الرحیم ہے۔

اس آیت کے foot note میں تحریر ہے کہ اس آیت سے نبی کریمﷺ کی عظمت و شان کیسی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی اتباع طالب کو مطلوب اور محبّ کو محبوب بنا دیتی ہے۔

(درس القرآن صفحہ 113)

اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی محبت کو سیدنا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰﷺ کی پیروی اور آپ کی چال کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے تو اصحاب رسولؐ ہی ذہن میں آتے ہیں جنہوں نے دنیا کے سب سے پیارے وجود حضرت محمدﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپؐ کے ساتھ عہد وفا باندھا۔ آپ کی اطاعت کے وہ اعلیٰ نمونے دکھلائے کہ کہا جاسکتا ہے وہ پوری پوری چال چلے اور انہوں نے قدم بہ قدم وفا و محبت کے نمونے قائم کئے۔ حضرت امام الزمان مسیح و مہدی دوراں نے آپؐ کے متعلق فرمایا:

’’کَانُوْا لِخَیْرِ الرُّسُلِ کَالْاَعْضَاءِ‘‘

(سرالخلافہ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 341)

کہ وہ یعنی صحابہ خیر الرسل حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے لئے بمنزلہ اعضاء کے تھے یہ صحابہ، صحبت رسولﷺ سے نہ صرف انسان بلکہ بااخلاق اور باخدا انسان بن گئے۔ آپؐ کی صحبت نے انہیں خالص سونے کی ڈلی کی طرح روشن اور چمکدار بنا دیا۔ ایسے اعلیٰ انسان کہ وہ دنیا کے استاد، معلم اور خدانما وجود بن گئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’حضورﷺ کے فیض صحبت اور تربیت سے ……… وہ صحابہ گویا بشریت کا چولہ اتار کر مظہر اللہ ہوگئے تھے اور ان کی حالت فرشتوں کی سی ہوگئی تھی۔‘‘

ان صحابہؓ نے آنحضورﷺ کی اس طرح اطاعت کی جیسے نبض دل کی کرتی ہے۔ آپ ’’میری چال چلو پوری پوری‘‘ پر اس طرح پورا اُترے کہ وہ ایک جسم محسوس ہونے لگے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضورﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کواہل مکہ کی طرف بھجوایا تو آپ کے چچازاد ابانؓ بن سعید نے انہیں اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں رکھا اور گھومایا پھرایا۔ آپؓ نے حضرت عثمانؓ کا سادہ سا لباس دیکھ کر کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے! یہ کیا عاجزانہ سا لباس پہن رکھا ہے اپنی قوم کی طرح بڑا تہ بند پہن کر پلو لٹکا کر چلیں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا ہمارے آقا محمدؐ ایسا ہی لباس پہنتے ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ آپ مکہ میں آئے ہیں آپ خود تو طواف کرلیں۔ تب حضرت عثمانؓ نے فرمایا۔ ہم کسی کام میں پہل نہیں کرتے جب تک کہ ہمارے ساتھی حضرت محمدؐ وہ نہ کرلیں۔

(استیعاب جلد 1 صفحہ 62-64)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ سفر کررہے تھے کہ آپ اچانک گروہ سے الگ ہوکر ایک طرف چلے گئے اور یوں جاکر بیٹھ گئے گویا رفع حاجت کے لئے بیٹھے ہوں۔ واپس آکر بیان فرمایا کہ میں رفع حاجت کے لئے نہیں گیا تھا۔ دراصل ایک دفعہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا اور آپ اس جگہ رفع حاجت کے لئے بیٹھے تھے۔ اس لئے میں بھی اس جگہ جاکر بیٹھ گیا۔

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق چال ڈھال، گفتگو اور اخلاق واطوار کے لحاظ سے حضرت عبداللہؓ بن مسعود نبی کریمؐ کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ؐ فرماتے تھے کہ مجھے اپنی امت کے لئے وہی باتیں پسند ہیں جو عبداللہؓ بن مسعود کو مرغوب ہیں۔

(صحیح البخاری، کتاب الماقب)

ایک دفعہ رسول خداؐ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ دوران خطبہ حضورؐ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ مسجد سے باہر خطبہ سننے کے لئے آرہے تھے کہ وہ وہیں بیٹھ گئے۔ آنحضورﷺ نے انہیں مخاطب ہوکر فرمایا زَادَکَ اللّٰہُ حِرَصًا عَلٰی طَوَا عِیَۃِ اللّٰہِ وَعَلٰی طَوَاعِیَۃِ رَسُوْلِہ کہ اے عبداللہ بن رواحہ! اللہ اور رسول کی اطاعت کا تمہارا یہ جذبہ اللہ تعالیٰ اور بڑھائے۔

(اصابہ جزء4 صفحہ 66)

صحابہ کرامؓ تو آنحضورﷺ کی اطاعت میں ایسے ہی تھے جیسے لکیر کے فقیر ہوں۔ جنگ احزاب میں خندق کھودتے وقت جب چٹان آنے کی وجہ سے بعض صحابہ نے تجویز دی کہ جو لکیر سرکار دو عالم ﷺ نے لگائی ہے اگر اس سے دو چار فٹ اِدھر اُدھر خندق بن جائے تو کوئی حرج نہیں تو حضرت سلمان فارسیؓ (جن کی تجویز پر حفاظت مدینہ کے لئے خندق کھودی جارہی تھی) آڑے آگئے اور اعلان کردیا کہ جو لکیر میرے آقا نے کھینچی ہے اس سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوا جائے گا۔ اس پر صحابہ میں خفیف سا بحث مباحثہ بھی ہوا اور جب شور بلند ہوا تو آنحضورﷺ خیمہ سے باہر تشریف لائے اور کھدال منگوا کر اس چٹان کو توڑا اور اللہ تعالیٰ نے قیصروکسریٰ کی فتوحات کی خوشخبری دی۔ اگر حضرت سلمان فارسیؓ اس لکیر کی پیروی نہ کرتے تو ان عظیم فتوحات کی خبریں بھی نہ ملتیں۔

صحابہ کرامؓ تو آنحضورﷺ کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا کرتے تھے اور اس تگ و دو میں رہتے کہ جو فعل رسول خدا نے کیا وہی عمل یہ بھی کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن سلیمؓ سے بڑھ کر کسی کو آنحضرتﷺ سے مشابہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔

(سیرت صحابہؓ رسول از حافظ مظفر احمد صفحہ 505)

میری چال چلو پر دلوں کو موہ لینے کا ایک اور واقعہ قلم کی نوک سے قرطاس ابیض کی زینت بنانا چاہتا ہوں۔ حضرت طلحہ بن براء انصاریؓ نے جب بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار آنحضورﷺ سے کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں میں کبھی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضورؐ نے ازراہ امتحان فرمایا کہ خواہ میں والدین سے قطع تعلق کا حکم دوں تو بھی مانو گے۔ پھر حضورؐ نے فرمایا اچھا جاؤ اپنے باپ کو قتل کرکے آؤ۔ آپؓ فوراً اٹھے اور تعمیل ارشاد کے لئے چل پڑے تب آنحضورﷺ نے انہیں واپس بلوایا اور فرمایا ’’مجھے قطع رحمی کرنے اور رشتوں کے کاٹنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں نے چاہا تھا کہ تمہاری آزمائش کروں کہ بیعت میں شک و شبہ کی کوئی کسر (گنجائش) باقی نہ رہے۔‘‘

(سیرت صحابہؓ رسول از حافظ مظفر احمد صفحہ 500)

آنحضورﷺ کچھ عرصہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہاں فروکش رہے آپ کے گھر سے کھانا تیار ہوکر جاتا۔ جو کھانا پس خوردہ واپس آتا تو حضرت ابو ایوبؓ رسول خدا کی انگلیوں کے نشانات تلاش کرتے اور وہاں سے کھانا تناول فرماتے۔ ایک دن حضورؐ نے کھانا تناول نہ فرمایا اور کھانا اسی طرح واپس آگیا جس طرح بھجوایا گیا تھا۔ آپؓ کھانے کی رکابی کو دوبارہ آنحضورﷺ کے پاس لے گئے اوراپنے دل کی کیفیت کہہ ڈالی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ آج لہسن اور پیاز زیادہ تھا میں اسے پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابو ایوبؓ نے عرض کی کہ حضورؐ !جو چیز حضورؐ کو ناپسند ہے وہ آئندہ سے مجھے بھی ناپسند رہے گی۔

(اسد الغابہ جلد2 صفحہ81)

الغرض صحابہ نے اپنے آقا و مولیٰ کی اتباع میں جو چال چلی وہ تو ایک طویل داستان ہے۔ اسے ایک مختصر سے آرٹیکل میں بیان کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکنات میں سے ہے۔ جو چیز پیارے آقا کو پسند تھی صحابہ بھی وہی پسند کرتے۔ آنحضورؐ کو کدّو پسند تھا تو صحابہ نے بھی کدّو پسند کرلیا۔ حضرت ابوبکرؓ استغناء اور اطاعت کا نہایت اعلیٰ جذبہ رکھتے تھے۔ آنحضورﷺ نے سوال کرنے سے منع فرمایا تو آپؓ اونٹنی پر سوار ہوتے۔ چھڑی گرجاتی یا رسی چھوٹ جاتی تو آپؓ کسی کو نہ کہتے کہ یہ مجھے پکڑا دو کیونکہ آنحضورﷺ نے سوال کرنے سے منع فرمایا۔ آپؓ خود انٹنی کو بٹھاتے، نیچے اُترتے اور پکڑ کر دوبارہ سوار ہوتے۔

آج کل ہمارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ صحابہ کی سیرت و سوانح پرخطبات جمعہ ارشاد فرمارہے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ان خطبات کو نہ صرف غور سے سنیں بلکہ انہیں حرز جان بنائیں اور صحابہ کی سیرت کو اپنے اندر اُتارنے کی کوشش کریں تا ہماری محبت ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے بڑھے اور ہمارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کا اپنا محبوب بنادے۔ آمین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’صحابہ کرامؓ کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہنے کے لئے کیا کچھ نہ کیا۔ جو کچھ انہوں نے کیا۔ اسی طرح پر ہماری جماعت کو لازم ہے کہ وہی رنگ اپنے اندر پیدا کریں۔ بُدوں اس کے وہ اس اصلی مطلب کو جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ پا نہیں سکتے۔ کیا ہماری جماعت کو زیادہ حاجتیں اور ضرورتیں لگی ہوئی ہیں جو صحابہؓ کو نہ تھیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ رسول اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے اور آپؐ کی باتیں سننے کے واسطے کیسے حریص تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعودؑ کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہؓ کی جماعت سے ملنے والی ہے۔ وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ (الجمعہ:4) مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعودؑ والی جماعت ہے۔ اور یہ گویا صحابہؓ کی ہی جماعت ہوگی اور وہ مسیح موعودؑ کے ساتھ نہیں۔ درحقیقت رسول اللہﷺ کے ساتھ ہی ہیں۔ کیونکہ مسیح موعودؑ آپؐ ہی کے ایک جمال میں آئے گا اور تکمیل تبلیغِ اشاعت کے کام کے لئے وہ مامور ہوگا۔

اس لئے ہمیشہ دل غم میں ڈوبتا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو بھی صحابہؓ کے انعامات سے بہرہ ور کرے۔ ان میں وہ صدق و وفا، وہ اخلاص اور اطاعت پیدا ہو۔ جو صحابہؓ میں تھی۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 405)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی معرکہ آراء تقریر ’’اسوہ حسنہ‘‘ میں بڑے دلنشین انداز میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ہمیں اپنے ہر قول، ہر فعل اور ہر حرکت وسکون میں یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہمارا یہ کام محمد رسول اللہﷺ کے طریق عمل کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم حضورؐ کی کامل متابعت اختیار کرکے نقوش محمدیﷺ اپنے آئینہ قلب میں پیدا کرلیں۔ اسی تعلق میں حضورؓ نے فرمایا:
’’لوگ کہتے ہیں۔ اسلام نے تصویر بنانا منع کرکے آرٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ اسلام تو ہر مسلمان کو آرٹسٹ بناتا ہے۔ وہ تصویر بنانے سے نہیں روکتا بلکہ ادنیٰ اور بے نفع تصویریں بنانے سے روکتا ہے اور وہ تصویر بنانے کا حکم دیتا ہے جو اس دنیا میں بھی انسان کے کام آنے والی ہے اور آخرت میں بھی انسان کے کام آنے والی ہے۔

لوگ تصویریں بناتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔ وہ برش لے کر کبھی کتے کی تصویر بناتے ہیں۔ کبھی گدھے کی تصویر بناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کتے یا گدھے کی تصویر بناڈالی۔ مگر اسلام کہتا ہے۔ اے مسلمانو! تم میں سے ہر ایک شخص رات اور دن، صبح اور شام بچپن اور جوانی اور بڑھاپے میں عقل اور فہم کا بُرش لیکر محمد رسول اللہﷺ کی تصویر کھینچتا رہے جو ہماری تصویر ہے۔

پس اس تصویر کو کھینچو اور بار بار کھینچو یہاں تک کہ تم بھی محمدﷺ بن جاؤ اور چونکہ محمدﷺ ہماری تصویر ہے اس لئے جب تم محمدﷺ بنو گے تو محمد رسول اللہﷺ کی طرح تم بھی ہمارے قرب میں آجاؤ گے۔

پس ہر مسلمان آرٹسٹ ہے۔ ہر مسلمان مصور ہے۔ مگر وہ اس قیمتی چیز کی تصویر بناتا ہے جو دنیا کے لئے بھی مفید ہے اور آخرت کے لئے بھی مفید ہے۔ وہ لغو چیزیں نہیں بناتا جن سے بہتر تصویریں نیچر نے پہلے ہی تیار کی ہوئی ہیں۔ ورنہ اسلام ہر مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ جلوہ الہٰی قلب محمدﷺ پر پڑ رہا ہے۔ اس نے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے اس کی تصویر اپنے دل پر کھینچ لی ہے مگر تم میں سے ہر شخص کو خدا تعالیٰ سے اس قدر قریب ہونے کی توفیق نہیں ہے اس لئے تم محمد رسول اللہﷺ کے دل کی تصویر اپنے دلوں پر کھینچو۔ اس طرح اصل کو دیکھ نہ سکو تو اس کی تصویر سے تم ایک اور تصویر کھینچ سکو گے۔

غرض تمام انسان محمدی تصویر سے جمال الہٰی کی تصویر کھینچنے کے قابل ہیں۔ صرف ہمت کی ضرورت ہے اور کوشش کی ضرورت ہے ورنہ راستہ کھلا ہے اور ہمیشہ کھلا رہے‘‘

(اسوہ حسنہ از حضرت مصلح موعودؓ صفحہ 129-133)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020