• 1 اکتوبر, 2020

میں کیتھولک چرچ چھوڑ رہی ہوں

محترمہ ڈورس با ور جن کی عمر باون سال ہے۔ جرمنی کے مشہور میگزین شپیگل شمارہ نمبر پچیس جو کہ تیرہ جون سال دو ہزار بیس کومارکیٹ میں آیا ہے اس میں ان محترمہ کا انٹرویو شایع ہوا ہے جو کہ قاریین الفضل کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ محترمہ فرماتی ہیں کہ جرمنی کی حالیہ بشپ کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں کیتھولک چرچ کے ممبران کی بڑی تعداد چرچ کو چھوڑ رہی ہے جس میں یہ خود بھی شامل ہیں۔ کہتی ہیں کہ میں چرچ کی بہت سالوں تک بڑی سرگرم رکن رہی ہوں۔ چرچ جانا میری زندگی کے معمولات میں اس طرح شامل تھا جیسے روزانہ اٹھ کر دانت صاف کرنے کے لیے برش کرنا ہوتا ہے۔ چرچ کی سرگرمیوں میں بہت زیادہ شمولیت کے باعث اپنی کمیونٹی کی بھی انتہای سرگرم رکن شمار ہوتی تھی۔ سال دو ہزار سات سے جرمنی کے شہر کولن میں قایم شدہ سینٹ ایگنس کی کمیونٹی کی بھی سرگرم رکن بن گئی تھی۔ اور اپنی اس کمیونٹی میں بطور لیکچرر اور کمیونٹی مدد گار کی حیثیت سے پہچانی جاتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں شروع سے ہی چرچ کی سرگرمیوں اور پالیسیوں پر تعمیری تنقید کیا کرتی تھی۔ لیکن چرچ کے بارہ میں جو شبہات میرے ذہن میں اب پیدا ہوے ہیں وہ اچانک نہیں ہوۓ بلکہ انکا پس منظر کئی سالوں پرمحیط ہے۔ کہتی ہیں کہ سال دو ہزار اٹھارہ میں جب جرمن کیتھولک چرچ میں بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آے تو چرچ کے بارہ میں میرے شکوک نے بہت زیادہ شدت اختیار کر لی۔ جرمن چرچ میں پچھلے سالوں میں ایک ہزار چھ سو ستر مذہبی اکابرین نے تین ہزار چھ صد ستتر بچوں اور نوجوانوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ کہتی ہیں کہ ان رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد میں مستقل یہ سوچتی رہتی کہ کیا ان حالات میں مجھے چرچ میں اپنی خدمات جاری رکھنی چاہیں یا نہیں۔اسی طرح ان رپوٹس کے منظر عام پر آنے کےبعد چرچ کے سرکردہ اکا برین نے جو رویہ اپنا یا اس نے چرچ کے نظام پر میرے اعتماد کو بلکل چکنا چور کر دیا۔ رپورٹس کی اشاعت کے بعد نہ تو کسی عہدیدار نے استعفیٰ دیا نہ کسی کو ان زیا دتیوں کا ذمہ دار ٹھرایا گیا اور نہ ہی کسی مجرم کے خلاف کسی قسم کی کاروای کی گی۔ ان حالات کے پیش نظر میں نے چرچ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ لیکن پھر سال دو ہزار انیس میں ایک نئی اسکیم ماریا ۲۰ کے نام سے آغاز کیا گیا جس کے مطابق کیتھولک چرچ کی ان مذموم حرکتوں کی بیخ کنی کے لیے چرچ کے انتظامات میں خواتین کو موثر کردار دینے کا فیصلہ ہوا۔ اس نئےفیصلہ کے پیش نظر میں نے دوبارہ چرچ کے معاملات میں سر گرم ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ہی مجھ کو یہ احساس ہونے لگا کہ یہ سب کچھ ایک ملمع سازی اور دھوکہ ہے۔ اور پھر اسی سال فروری میں پوپ نے بھی چرچ معا ملات میں خواتین کے کردار کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کر کے سارے کیے کراۓ پر پانی پھیر دیا۔ ان تمام حقایق کی روشنی میں اب میں نے چرچ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے کا پکا عہد کر لیا ہے۔ میرا خد ا پر یقین قایم ہے لیکن کیتھولک چرچ اور اسکے نظام اور اس کے اکابرین پر اب مجھے کوی اعتماد نہی ہے اور میں اسی سال دو جولای کو کیتھولک چرچ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ رہی ہوں ۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: زبیر خلیل خان۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020