• 29 ستمبر, 2020

حضرت سردار مصباح الدین احمد صاحب

مبلغین برطانیہ کا تعارف
حضرت سردار مصباح الدین احمد صاحب

مکرم سردار مصباح الدین احمد صاحب صاحبِ کشف و رؤیا، زہدوتقویٰ والے بزرگ تھے۔ آپ کے دادا مکرم سہروردی امیر بخش صاحب علم و حکمت اور معرفت میں ایک مقام اور مرتبہ رکھتے تھے اور والد بزرگوار مکرم حکیم مہتاب الدین سہروردی صاحب بھی ایک روشن ضمیر اور درویش صفت بزرگ تھے۔ حنفی مسلک رکھتے تھے اور ذریعہ معاش حکمت اور زمیندارہ تھا۔

مکرم حکیم مہتاب الدین صاحب سہروردی کی نسل سے پانچ بیٹے ہوئے:
1)مکرم محمدعلی صاحب 2)مکرم احمد علی صاحب 3) مکرم غلام علی صاحب4) مکرم مصباح الدین صاحب 5) مکرم سراج الدین صاحب ۔ محترم سردار مصباح الدین صاحب کے چھوٹے بھائی مکرم سراج الدین صاحب بھی نوجوانی کی عمر میں قادیان آگئے اور خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ اس طرح دونوں بھائیوں کو حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کی شفقت بھری صحبت میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

آپ کی زندگی کا ابتدائی دور

مکرم سردار مصباح الدین صاحب اکتوبر1899ءکو پیدا ہوئے۔ مکرم سردار صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ سکول کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ سیالکوٹ شہر آئے۔ بچپن سے چونکہ نماز اور عبادت کے عادی تھے اس لیےسیالکوٹ آکر بھی انہیں کسی مسجد کی تلاش ہوئی اور یہ تلاش آپ کو کبوتروںوالی مسجد میں لے آئیجہاں اس مسجد کے تقویٰ شعار بزرگ امام حضرت مولوی فیض الدین صاحب رضی اللہ عنہ سیالکوٹی رہتے تھے۔ اس طرح ان کا تمام وقت حضرت مولوی صاحب کی صحبت میں گزرنے لگا۔ جنہوں نے انکی سعادت مندی اور دینی شغف کو دیکھتے ہوئے اپناشاگرد رشید بنا لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا وسیلہ پیدا کردیا کہ انکی صحبت میں رہ کرجہاں دینی اسباق سیکھنے لگے وہاں وہ اسکے ساتھ ساتھ روحانی فیض بھی پانے لگے۔ آپ نے حضرت مولو ی صاحب کی صحبت میں رہ کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی اطلاع پالی۔ اس طرح حضرت سردارصاحب سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت پر ایمان لےآئے۔

اہلیہ اور اولاد

مکرم سردار صاحب کی اہلیہ محترمہ حاکم بی بی صاحبہ ان کی زندگی میں ہی 65 سال کی عمر میں وفات پاگئی تھیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ نے بہشتی مقبرہ میں تشریف لے جا کر نماز جنازہ پڑھائی ۔ آپ کی اولاد میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کےنام حسب ذیل ہیں:۔

  1. مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ۔
  2. مکرم عبدالسبحان سامی صاحب مدفون احمدیہ قبرستان کراچی۔
  3. مکرم سردار عبد القادر صاحب مدفون احمدیہ قبر ستان فرینکفورٹ جر منی۔
  4. مکرم ناصر الدین احمد سامی صاحب مدفون ربوہ۔
  5. مکرم بشیر الدین احمد سامی صاحب مد فون بروک وڈاحمد یہ قبرستان۔
  6. مکرمہ صالحہ مسرت کوثرصاحبہ مقیم ربوہ۔
  7. مکرم ظفر اقبال صاحب مرحوم مدفون جرمنی۔

دور خلافت اولیٰ اور قادیان

آپ 1910ءکے لگ بھگ قادیان کے لئے روانہ ہوگئے۔ قادیان پہنچ کر حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ قادیان پہنچنے پر حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ازراہ شفقت تدریس و تعلیم کےلئے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں انتظام فرمادیا۔ اس طرح تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیااور صحبت صالحین بھی میسر ہوگئی اور حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کی مجالس درس قرآن کریم سے بھی فیض پانے لگے۔ سکول میں حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے مکرم میاں عبد الحئی صاحب کے ہم مکتب ہوئے اور رفتہ رفتہ یہ تعلق گہری دوستی میں بدل گیا۔ اسی ناطے حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے گھر آنا جانا روزمرہ کامعمول بن گیا اور حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ اور حضرت اماں جی رضی اللہ عنھاکی اس قدر شفقت کے زیر ِسایہ آگئے کہ انہوں نے انہیں اپنے منہ بولےبیٹے کا شرف عطا فرمایا۔ کئی بار انہیں ایسی سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضور رضی اللہ عنہ جب درس کے لئے مسجد اقصیٰ تشریف لےجاتے توقرآن کریم اٹھا کر ساتھ چلتے۔ جب 1947ءمیں ہجرت قادیان کا وقت آیا توخطرات کے پیش نظر انہیں اپنے گھر واقع باویاں سے نکل کر قادیان حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے مکان میں ہی منتقل ہونا پڑا جہاں سے پھر انہوں نے پاکستان کےلئے ہجرت فرمائی۔ ربوہ میں حضرت اماں جی رضی اللہ عنھا سے جب ملنے جاتے تو وہ اپنے بچوںکی طرح ان کے سر پر ہاتھ پھیرتیں اور کچھ نقدی رقم بھی ان کے ہاتھ پر رکھ دیتیں۔ حضرت اماں جی مکرمہ صغریٰ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات 6اور7اگست 1955ءکی درمیانی شب کو ہوئی اور جنازہ گھر سے اٹھایا گیا تو انکی چارپائی کو ان کے بیٹوں کے ساتھ حضرت سردار صاحب کندھا دے کر باہر لائے۔

حضرت سردار مصباح الدین صاحب کی انگلستان کے لئے روانگی

14اگست 1922ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مکرم سردار مصباح الدین صاحب کو لندن مشن میں کام کرنے کے لئے قادیان سے روانہ فرمایا۔ ان دنوں لند ن میں مکرم مبارک علی صاحب بنگالی بطور امام مسجدفضل اور مبلغ انچارج کام کر رہے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تعیناتی آرڈر لیکر لندن پہنچے اس آرڈر میں مکرم مبارک علی صاحب کےلئے جرمنی جانے کا ارشادبھی شا مل تھا۔ پس خدمت دین کے لئے یہ انکی پہلی تعیناتی تھی جس کے تحت وہ لندن مشن کے انچارج ہوئے۔

لندن میں تبلیغی مساعی

مکرم حضرت سردار مصباح الدین صاحب لکھتے ہیں:
مبلغین کرام اس سے پہلے جو اقدام عمل میں لاچکے تھے ان کو ہی آگے بڑھایا گیا۔ متعارف افراد سے مزید رابطہ کے لئے مشن ہاؤس میں ہفتہ وار اجلاس کا سلسلہ جاری تھا۔ اس و قت جماعت کا لٹریچر بھی اس قدر موجود نہ تھا اس لئے یہی اجلاس دعوت پہنچانے کا بہترین ذریعہ تھا۔ دوسری صورت ذاتی طور پر مل کر دعوت کا ذکر کیا جاتا تھا۔ ہائیڈپارک میں بھی تبلیغی کو ششوں کو جاری رکھا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی دعوت پہنچانے کے مواقع کے حصول کی طرف دھیان لگا رہتا۔ پس ایسا ہی ایک موقع میسر آگیا جبکہ اردن کے شاہ عبد اللہ پاشا لند ن تشریف لائے۔ اخبار میں یہ خبر پڑھ کر ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا، تو انہوں نے بصد خوشی ملاقات کا وقت دے دیا۔ اس وقت اس سر زمین میں مشن سے وابستہ ہم صرف پانچ فرد تھے۔ مکرم عزیز دین صاحب سیالکوٹ کے تیار کردہ کھیلوں کے سامان کے مینیجر تھے۔ دوسرے حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کے صاحبزادے مکرم میاں عبد الرحیم صاحب خالد (طا لب علم ) تیسرے مکرم سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب سکندر آباد کے صاحبزادے مکرم علی محمد عبد اللہ صاحب(طالب علم ) چوتھے مکرم راجہ محمد احمد جنجوعہ صاحب(طالب علم ) سمیت ہم پانچ پر مشتمل وفد لے کر دعوت سلسلہ پہنچانے کےلئے اردن کے حکمران کے ہاں پہنچے۔ وہ والہا نہ انداز سے ملے۔ اسی وقت عربی میں ایک تقریر تیا ر کر لی۔ اس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کی صداقت کے دلائل کا بیان تھا۔ مکرم میاں عبد الرحیم خالد صاحب چونکہ وفد میں تھے اس لئے خصوصیت سے حضرت اقدس علیہ السلام کے نشان کا ذکر کیا جو ان کے وجود کے متعلق تھا۔ الحمد اللہ ! شاہ اردن نے حضرت اقدس علیہ السلام کے ذکر سے روحانی اثر لیا اور اظہار خوشی کیا۔ زبانی گفتگو میں بھی جماعت کے خصوصی کو ائف اور اس کے پیغام کی وسعت کا ذکر کیا۔ اس موقع پر حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب اعجاز احمدی اور الاستفتاء موجود تھیں جو ان کی خدمت میں پیش کر دی گئیں۔ الحمد اللہ ! اس تقریب میں ایک عرب حکمران کو دعوت سلسلہ پہنچانے کی توفیق مل گئی۔

1924ء کا تاریخی سال

حضر ت سردار صاحب تحریر فرماتے ہیں:
‘‘میرے قیام لندن میں سال 1924ء بڑا اہم اور جماعت کے لئے ایک عظیم تاریخی واقعہ کے ظہور کا سال تھا۔ حضرت نیر صاحبؓ اور خاکسارحسبِ تو فیق تگ و دو اور جد و جہد کر رہے تھے کہ اس سال کے موسم خزاں میں ویمبلےکا نفرنس ہونے کا ذکر چل نکلا۔ نمائش کے منتظمین نے جہاں جسمانی ضروریات اور دلچسپی کا سامان اس میں مہیا کر نے کے پر وگرام کا اہتمام کیا وہاں روحانی ضروریات کا بھی خیال کر کے ایک مذہبی کانفرنس منعقد کر نے کا پرو گرام بھی رکھا۔ مذہبی مرکز کے طور پر اس وقت ہمارا مشن تعارف میں آچکا تھا، اس لئے مذہبی پروگرام کے انچارج نے ہم سے بھی رابطہ کیا اور پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ جس وقت یہ تجویز ہمارے پاس پہنچی اس وقت مکرم ملک غلام فرید صاحب لندن سےآچکے تھے۔ اسی طرح ان کے بھائی مکرم ملک نواب دین صاحب قادیان سے تجارتی صیغہ میں کام کے لئے آچکے تھے۔ یوں ہم اس وقت دو طالب علم ملاکر سات افرادِجماعت تھے۔ مذہبی پروگرام پیش کرنے والوں کی اس تجویز پر ہم نے اپنی بساط پر نظر ڈالی تویوں لگا کہ تصرف الٰہی کام کر رہی ہے۔ اسی وقت حضرت نیر صاحبؓ کے سامنے یہی آیا کہ اسلام کی نمائندگی جیسے اہم موقع کے لئے خود ان سے یا انکے ساتھیوں سے کہیں بہتر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا وجود ہے اس لئے تجویز ہوئی کہ کانفرنس کے منتظمین سے کہا جائے کہ وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کو دعوت دیں۔ اس کے بارے میں یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ اپنے رفقاء سے بھی مشورہ ہونا چاہیے۔ مشورہ لیا تو بعض کی رائے موافق نہ پائی گئی۔ اس تجویز کے حق میں چونکہ ہم دودیوانگی کی حدتک قائم تھے اور ادھر تصرف الٰہی بھی کا م کر ر ہا تھا اس لئے ہمارے رفقاء کی اکثریت ہماری مؤید ہو گئی اس طرح فرزانگی مات کھا گئی۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ بعض اوقات دیوانگی ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے بالکل ایسا ہی کانفرنس کےموقع پر ظہور میں آیا جس کے نتیجہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت میں دعوت بھیجنے کی تجویز کا فیصلہ ہو گیا۔ ادھر مرکز نے بھی یہاں سے کچھ معلومات حاصل کیں جس سے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی انگلستان آنے کی تفصیلات طے پاگئیں۔

لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ورود مسعود

مورخہ 22 اگست 1924ءکو جماعت احمدیہ کے اولو االعزم حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ لندن تشریف لائے۔حضورؓ کی آمد سے قبل پبلک اور پریس میں اسکا کھل کر تذکرہ ہو چکا تھا۔ اس لئے جونہی آپ نے مسیحی شان سے اس ملک میں قدم رکھا تو پریس پہلے ہی منتظر تھی ۔ آپؓ کی آمدپریس کی خاص توجہ کا مرکز بنی۔ استقبال میں کئی معزز شخصیات نے حصہ لیا۔پریس کے مقامی اخبارات کے علاوہ ملک کی روایات کے آئینہ دار اخبار ٹائمز ، ڈیلی ٹیلیگراف اور مارنگ پوسٹ نے بھی حضور ؓکی آمد کی وجہ سے وسیع پیمانے پر پورے انگلستان میں عوام کے سامنے ہمارے مشن کا تعارف کروادیا اور ان اخبارات کی بدولت دوسرے مغربی ممالک میں بھی حضورؓ کی آمد کی خبر اور جماعت کا تعارف پہنچ گیا۔ خاص طور پر کا نفرنس کے موقع پر جو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے پڑھے گئے مضمون کی مقبولیت ہوئیاس کا اندازہ بعد میں حضورؓ سے ملنے والوں کے والہانہ اشتیاق اور ہجوم سے پتہ لگتا ہے جو اپنی مثال آپ تھے۔ اسکے علاوہ حضورؓ کے قیام کے دوران جن جن افراد کو ملاقات کا موقع ملا ان پر حضورؓ کی شان، مرتبہ اور مقام کا جو اثر ہو ا وہ دیر تک قائم رہا۔

مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد

حضرت سردار صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’مسجد فضل لندن کے قیام سے جو برکتیں حاصل ہوئیں وہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں تعمیر ہونے والی مساجد کا محرک بھی ہوئیں۔ مسجد فضل لندن کی تعمیر سے پہلے ہمارے کام کی صورت ایک پائنیر کی تھی تا ہم مسجد کی تعمیر سے مشن کی شہرت سطح زمین سے اُچھل کر فضا میں آگئی۔ اور دنیا میں پھیل گئی ۔اس طرح ساری دنیا سے ہمارا رابطہ ہو گیا۔ اس مشن کی ترقی پزیر موجودہ صورت کی وجہ سے لندن مشن جماعت احمدیہ کے لئے ایک ایسی مرکز ی حیثیت اختیا ر کر چکا ہےجو دنیا بھر میں اشاعت اسلام کے لیے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت الی اللہ کے لیے ایک مرکز بن چکا ہے۔ جبکہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ہجرت کر کے اسی جگہ قیام پزیر ہیں۔ یہ سب مسجدفضل کی برکت ہے جس کے لئے 1924ء میں الٰہی تصرف سے ایک واقعہ رونما ہوا تھا کہ جو جماعت کی آئندہ پیش آنے والی اہم ضروریات کے لئے ضروری تھا۔‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی قادیان واپسی

مسجد فضل لندن کے سنگ بنیاد کی با برکت تقریب، ویمبلےکانفرنس میں تاریخی خطاب اور اپنے قیام کا تبلیغی مشن پورا کرنے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے واپسی کا پروگرام بنالیا اور حضرت مولوی عبد الرحیم نیر صاحب اور خاکسار (سردار مصباح الدین) کو اپنے ساتھ واپس وطن جانے کا ارشاد فرمایا۔ اس طرح سوا دوسال بطور مبلغ انگلستان کی سعادت پانے کے بعد حضور کا ہمسفر ہو کر قادیان واپس آگیا۔

(میری پونجی ص46)

لندن سے واپسی اور لاہور کے رؤسا اور اکابرین کو احمدیت کا پیغام

حضرت سردار صاحب تحریر فرماتے ہیں :
‘‘لندن سے واپسی پر ایک روزحضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے پبلک جلسوں یا مناظروں میں عام طور پر عوام ہی شامل ہوتے ہیں، خواص اپنے خاص ہونے اور و ضعداری سے ان جلسوں میں شامل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان تک ہماری تبلیغ نہیں پہنچتی۔اس غرض سے اگر اجازت ہو تو لاہور کے بڑے بڑے رؤسااوراکابر کو فرداًفرداً ملکر ان تک دعوت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پہنچاؤں۔ حضور کو یہ تجویز پسند آئی جو بعد میں انجمن میں پیش ہو کر منظور ہوئی اور خاکسار کو لاہور بھجوادیا گیا۔ لاہور جاکر وہاں کے مسلمانوں ، ہندؤوںاور سکھ اکابر کو ان کے گھر وں پر جاکر ملا اور سلسلہ کا تعارف کروایا اور ان میں سے ہر ایک کو دو دو کتب اسلامی اصول کی فلاسفی قیمتاً پیش کی گئیں۔ ا ن اکابر میں بڑے بڑے وکیل، تاجراورجج شامل تھے۔ چیف جسٹس سر شادی لال اور جسٹس بخشی نیک چندجیسے کھلے کھلے اسلام دشمنوں سے بھی ان کے مکان پر جاکر ملا اور سلسلہ کے کوائف سے آگاہ کیا اور کتب قیمتاً دیں۔ انہی دنوں مس سروجنی نائیڈ و بھی لاہور آئی ہوئی تھیں۔ ان سے بھی ملاقات کی گئی۔کتب قیمتاً دی گئیں اور سلسلہ کا تعارف کروایا گیا۔ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی ان دنوں لاہور میں تھے۔ ان سے روزانہ مشورہ لیا جاتا اور کا رکردگی بیان ہوتی تو بہت خوش ہوتے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت میں جب یہ رپورٹ پہنچی تو حضورؓ نے اپنے قلم سے عزیزم کو دلنواز لفظ سے مخاطب کر کے جو میرے نام خوشنودی کا والا نامہ بھجوایا تو اس وقت کے پرائیوٹ سیکرٹری، میرے واقف زندگی رفیق مکرم صوفی عبد القدیر صاحب جن کی نظر سے گزرکر وہ والانامہ میرے قادیان پہنچنے پر ملا تو کہا کہ میں اپنی تمام خدمات اور کار کر دگی آپ کے نام کر نے کو تیار ہوں کہ حضورؓ نے جس خوشنودی کا آپ سے اظہار کیا ہے وہ خوشنودی مجھے حاصل ہو جائے ۔ مشاورت کے اجلاس میں بھی حضورؓ نے اس عاجز کی اس خدمت کا تحسین بھرے الفاظ میں ذکر فرمایا۔‘‘

(ایضاً صفحہ 48 تا 49)

مکرم صوفی عبد القدیر صاحب پرائیویٹ سیکرٹری 17اکتوبر 1926ء سے فارغ ہوگئے اور ان کی جگہ مکرم شیخ یوسف علی صاحب بی اے کو قائمقام پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کیا گیااور مکرم سردار مصباح الدین صاحب کو شیخ صاحب موصوف کی جگہ اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کیا گیا۔

اگست میں حضوؓرڈلہوزی کے سفرپرتشریف لےگئے۔حضرت ام المومنینؓ بھی ہمراہ تھیں۔اس سفر میں مکرم سردار صاحب کو بھی قافلہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت سردار صاحب لکھتے ہیں:
’’ایک روز دفتر سے سیر کے لئے چھٹی ملی۔ اس قافلہ کے ہم دو افراد خوبصورت پہاڑوں کی سیر کو نکل کھڑے ہوئے اور چلتے چلتے اتنی دور نکل گئے کہ واپسی کا راستہ بھول گئے۔ پہاڑجنگلوں میں ایسے گم ہوئے کہ دن ڈھل گیا مگر ہمیں قیام گاہ کا راستہ نہ ملا۔ بھٹکتے بھٹکتے دور سے ایک چھوٹی سی بستی پر نظر پڑی جہاں سے اپنے راستہ کی راہنمائی حاصل کی۔ اس طرح صبح کے بھولے شام ڈھلے اپنی قیام گاہ پر پہنچے۔ اس دوران حضورؓ بہت پریشان رہے اور اِدھر اُدھر تلاش کے لئے خدام کو دوڑایا۔حضرت ام المومنینؓ کا بھی فکر کے مارے برا حال تھا۔ باربار پوچھتی تھیں کہ کچھ پتہ چلا۔ قیام گاہ پہنچتے ہی ہم نے فوراً حضرت ام المومنینؓ کی خدمت میں اطلاع دی تو آپ کمال شفقت سے پیش آئیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائیں اور اپنی فکر مندی اور بے چینی کا اظہار فرمایا۔‘‘

(ایضاً 50 تا 51)

آپ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ابھی ڈاک کی تعمیل بجا لا رہے تھے کہ حضر ت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نےمو رخہ 20 مئی 1928ء کو درس گا ہ کا افتتاح فرمایااور مکرم سردار صاحب کو بطور پروفیسر جامعہ احمدیہ میں شامل کیا۔ 1932ءتا1933ءمحترم سردار صاحب کو مسجد اقصیٰ قادیان میں ‘‘ذکر حبیب’’ کے موضوع پر ہفتہ وار اجلاس منعقد کروانے کی توفیق ملی۔ آپ کو لنگر خانے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ محتر م سردار صاحب کو ایک بار مسجد مبارک میں اعتکاف کی سعاد ت حاصل ہوئی۔ 1978ء میں لندن میں کسرصلیب کانفرنس ہوئی۔ اس تاریخی تقریب میں حضرت سر دار صاحب کو بھی شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔

آپ وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ مختلف کتب، رسائل اور روزہ مرہ کے اخبارات انگریزی اور اردو کا مطالعہ ان کی روح کی غذا تھی ۔ اخبارات باقاعدگی سے خود جا کر لاتے اور صفحہ بہ صفحہ پڑھتے ۔ جہاں کوئی اچھا مضمون یا شعر پسند آجاتا اس کا ترا شہ رکھ لیتے اور مضمون نگار کو اپنے تبصرہ سے نوازتے۔

پاکستان آنے کے بعد چنیوٹ میں سکونت

قادیان سے ہجرت کے بعد مکرم سردار صاحب نے چنیوٹ میں پڑاؤڈالا اور اس رنگ میں ایام گزارے کہ اگر صبح چنیوٹ تو شام ربوہ میں ۔ سالہا سال، زندگی بھر کوئی جمعہ ایسا نہیں آیا جو انہوں نے ربوہ جا کر نہ پڑھا ہو۔ پھر انکا یہ بھی معمول کہ جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے ہر ملنے والے کے گھر جا تے اور حال احوال دریافت کرتے اور حسب تو فیق تحفہ تحائف دیتے۔ ربوہ سے چھ میل دور رہتے ہوئے بھی جبکہ انہیں سواری کی بھی کوئی سہولت میسر نہ تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی پیسہ ہوتا پھر بھی نہ جانے کیسے ربوہ پہنچتے اور ہر جنازہ میں شرکت کرتے اور ہر تدفین میں حصہ لیتے۔ یہ خلافت اور مقامِ خلافت کی محبت تھی جو انہیں اِس صحرا نوردی پر اکساتی رہتی تھی۔

محترم سردار صاحب کا سفر آخرت

مور خہ یکم اگست 1988ء میں مکرم سر دار صاحب کی صحت زیادہ گرنی شروع ہو گئی ۔ ہسپتال لیجایا گیا لیکن دو دن کے بعد فرمایا کہ مجھے گھر واپس لے چلو۔ گھر آکر حالت زیادہ بگڑ گئی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر نے کہا اب یہ تھو ڑی دیر کے مہمان ہیں ۔ سردار صاحب پہلے خوب ہنسے اور پھر ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے اور اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

بلانے والا ہے سب سے پیارا
اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

میت حسبِ وصیت بہشتی مقبرہ ربوہ پہنچائی گئی۔ 3اگست1988ء کو بعد نماز عصر حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد، مورخ احمدیت نے نماز جنازہ پڑھائی اور مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب نے قبر تیا ر ہونے پر دعا کروائی۔

تعزیت نامہ

حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ؒ نے مکرم سردار صاحب کے بیٹے مکرم بشیر الدین سامی صاحب کو تعزیت کا خط بھیجا۔ اس میں حضور انورؒ نے فرمایاکہ ’’آپ کے والد صاحب کی وفات کا بہت صدمہ ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق ر حمت فرمائے اور اعلیٰ عِلیین میں جگہ دے اور آپ سب کو صبر جمیل کی توفیق دے میری طرف سے تمام عزیزوں کو تعزیت کا پیغام پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔‘‘ (اس مضمون کی تیاری کتاب میری پونجی مصنفہ: مکرمہ صفیہ بشیر سامی صاحبہ سے کی گئی ہے)

٭…٭…٭

(ندیم احمد بٹ۔ مربی سلسلہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020