• 30 نومبر, 2020

عورتوں کی اصلاح کا طریق

مر د اگر پا رسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے ۔ہاں اگر مرد خودصالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔ قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چا ہیئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہو تا ہے عورت تو درکناراور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی ما نتا ہے ۔

اگر مرد کو ئی کجی یا خا می اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے۔ اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لا یا ہے تو میں کیوں حرام کہوں ۔غرض کہ مرد کااثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بنا تا ہے ۔اسی لیے لکھا ہے۔

الْخَبِيْثَاتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبَاتِ

(النور 27)

اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنوورنہ ہزارٹکریں ما روکچھ نہ بنے گا ۔جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے ؟ نہ ایسے مو لویوں کا وعظ اثر کر تا ہے نہ خاوند کا ۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کر تا ہے۔ بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے۔ روتا ہے تو عورت ایک دودن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیا ل آوے گا اور ضرور متاثر ہو گی ۔عورت میں متا ثر ہو نے کا مادہ بہت ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیر ہ ہو تے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیر ہ ہو جا تی ہیں۔ ان کی درستی کے واسطے کو ئی مدرسہ بھی کفا یت نہیں کر سکتا خاوند کا عملی نمونہ کفا یت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیر ہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہو تا ۔

خدا نے مردعورت دونو کا ایک ہی وجود فر ما یا ہے ۔

یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں ۔ان کو چا ہیئے کہ عورتوں کو ہر گز ایسا موقعہ نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کر تا ہے بلکہ عورت ٹکریں مار مار کر تھک جا وے اور کسی بدی کا پتہ اُسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہو تا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے ۔

مر د اپنے گھر کا امام ہو تا ہے۔ پس اگر وہی بد اثر قائم کر تا ہے تو کس قدر بد اثرپڑنے کی امید ہے مرد کو چاہیئے کہ اپنے قویٰ کو بر محل اورحلال موقعہ پر استعمال کرے۔ مثلا ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیا دہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہو تی ہے۔ جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فر ق ہے۔ جو آدمی شدید الغضب ہو تا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جا تا ہے بلکہ اگر کو ئی مخا لف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگونہ کرے۔

مرد کی ان تمام با تو ں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ میر ے خاو ند میں فلا ں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت۔حلم۔ صبر ۔ اور جیسے اسے پر کھنے کا موقعہ ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔ اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندرہی اندراخلاق کی چوری کر تی رہتی ہے حتیٰ کہ آخر کا ر ایک وقت پورا اخلا ق حا صل کر لیتی ہے ۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 156 تا 158ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 نومبر 2020