• 30 نومبر, 2020

اسلامی تعلیم کو پہلے سے بڑھ کر اپنے اوپر لاگو کریں تاکہ دنیا کے منہ خود بخود بند ہوجائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پرچار کرے۔ باقی رہا یہ کہ جو اسلام پر استہزاء کرنے سے باز نہیں آتے ان سے کس طرح نپٹا جائے۔ اس بارہ میں خداتعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے لوگوں کی بدقسمتی نے ان کے فعل ان کو خوبصورت کرکے دکھائے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھی باتیں کررہے ہیں اور ان لوگوں نے آخر پھر اس زندگی کے بعد خداتعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور جب وہ خداتعالیٰ کی طرف لوٹ کرجائیں گے تو خداتعالیٰ انہیں آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ پھر ان سے وہ سلوک کرے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ۔ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِ ۣ۔ الَّذِیۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَاَلۡقِیٰہُ فِی الۡعَذَابِ الشَّدِیۡدِ (قٓ:25 تا 27) یعنی اے نگرانو! اور اے گروہو!! تم دونوں سخت ناشکری کرنے والے اور حق کے سخت معاند کوجہنم میں جھونک دو۔ ہر اچھی بات سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور شک میں مبتلا کرنے والے کو۔ وہ جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود بنا رکھا تھا۔ پس تم دونوں اسے سخت عذاب میں جھونک دو۔

تو یہ اللہ تعالیٰ ان داروغوں کو فرمائے گا۔ اگلے جہان میں ان سے یہ سلوک فرمائے گا۔ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہواہے اس بارے میں ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج کل رشدی کے بارے میں بڑا شور ہے۔ اس قسم کے جولامذہب ہوتے ہیں ان کا بھی کوئی نہ کوئی معبود ہوتا ہے۔ یا دنیا کی تنظیمیں یا دنیا کے کوئی بڑے آدمی، یا دنیا کی حکومتوں کو انہوں نے اپنا معبود بنایا ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے انتظام کیا ہوا ہے۔ ہمارے توڑ پھوڑ کرنے یا یہ کہنے سے کہ خود کش حملے جائز ہیں اور یہ ردّ عمل ہونا چاہئے۔ اس طرح کی باتیں کرنے سے اسلامی اخلاق کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش ہو گی اور اس غلط تصویر پیش کرنے کے علاوہ ہم کچھ نہیں حاصل کر رہے ہوتے۔ یا تو ڑ پھوڑسے اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔ جو بکواس اس نے اسلام کے خلاف یا آنحضرتﷺ کے خلاف کی ہے بلکہ فرشتوں اور خدا کے خلاف بھی تھی۔ تو وہ سالوں پہلے کی ہے۔ اس کی فطرت ہے کرتا چلا جا رہاہے۔ اب اگر اس کی حرکتوں پر یا جس وجہ سے بھی کوئی حکومت مسلمانوں کے جذبات کا خیال نہ رکھتے ہوئے اُسے کوئی بھی ایوارڈ دیتی ہے یا خطاب دیتی ہے تو ان سب کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں خود ان سے نپٹوں گا۔ دوسرے یہ کہ یہ نہیں ہے کہ یورپ میں بالکل ہی شرافت نہیں رہی اور یہاں یورپ میں مغرب میں شرفاء نہیں رہے۔ بے شمار لوگوں نے یہاں بھی، انگلستان میں بھی اس پر اعتراض کیاہے۔ ممبرز آف پارلیمنٹ نے بھی اعتراض کیا ہے کہ اس حرکت کا (جو یہ نائٹ ھُڈ کا خطاب دیا گیا ہے) اس کا سوائے دنیا کے سلامتی و امن برباد کرنے کے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کوئی مقصد اس سے حاصل نہیں ہو گا۔ اسی طرح جب اس نے آج سے دس بارہ سال پہلے یہ کتاب لکھی تھی بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس سے یہ کتاب لکھوائی گئی تھی کیونکہ اب تو ثابت ہو رہا ہے کہ یہ لکھوائی گئی تھی۔ تو اس پر بھی یہاں کے بعض تبصرہ نگاروں نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ یہ اب ثابت شدہ ہے کہ اس کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہے۔ یہ اکیلا نہیں ہے۔ اور اسلام کے خلاف ایک بڑی زبردست سازش ہے کہ اسلام کے خلاف مزید ردّ عمل ظاہرکرنے کے لئے اس طرح بھڑکاؤ اور پھر اس موقع سے مزید فائدہ اٹھاؤ۔ اور اس کا موقع مسلمان دے رہے ہیں۔ دو چار جلوس نکالنے سے اور پھر خاموش ہو کر بیٹھ جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ جتنی بڑی سازش ہے یہ جھنڈے جلانے، تصویریں جلانے، پتلے جلانے یا جلوس نکالنے سے یہ سازش ختم نہیں ہو جائے گی۔ ان چیزوں سے تو جو مقصد یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل کریں گے۔ ان کے موقف کی مزید تائید ہو گی کہ اسلام ایسا ہی مذہب ہے۔ تو بہرحال ایسی حرکتوں کا حقیقی ردّ عمل مسلمانوں میں پیدا ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کو پہلے سے بڑھ کر اپنے اوپر لاگو کریں تاکہ دنیا کے منہ خود بخود بند ہوجائیں۔ آنحضرتﷺ پر درود بھیجیں جس سے آپؐ کی اُمّت روحانیت میں بھی ترقی کرنے والی ہو۔ آپؐ کے اسوہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ لیکن یہ کام آج اگر کوئی کر سکتا ہے تو احمدی کر سکتا ہے جس نے آنحضرتﷺ کے عاشق صادق کو مانا ہے۔ آج اگرمعترضین کے جواب دے سکتے ہیں تو احمدی دے سکتے ہیں۔ آج اگر اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو دکھا سکتے ہیں تو احمدی دکھا سکتے ہیں۔ پس آج احمدی کا فرض ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اس بارے میں کوشش کرے، پہلے سے بڑھ کر آنحضرتﷺ پر درودبھیجے۔ جب رشدی نے بدنام زمانہ کتاب لکھی تھی اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ارشد احمدی صاحب سے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھوائی تھی۔ جس کا نام تھا Rushdi-Haunted by his unholy ghost۔ اب سٹاک میں نہیں تھی یا تھی تو بہت تھوڑی۔ مزید کچھ تبدیلیاں بھی ہونی تھیں ایک باب کا جو مزید اضافہ ہے جس کے بارے میں کچھ ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے دی تھیں ان کو سمجھا گئے تھے تو مَیں نے انہیں کہاتھا کہ اس کو دوبارہ شائع کریں۔ کچھ عرصہ ہوا ایک پبلشنگ کمپنی نے نام تو مجھے یاد نہیں رہا بہرحال اس نے اس کو شائع کیا تھا جو خود ہی اس کی مارکیٹنگ بھی کر رہے ہیں اور جماعت بھی اب اس کو شائع کر رہی ہے۔ اب جلد انشاء اللہ آ جائے گی۔ اس کا اُردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔ یہ پڑھے لکھے طبقے اور سنجیدہ طبقے کو دینی چاہئے تاکہ دنیا کے سامنے حقیقت بھی آئے۔ تو یہ ہے خدمت جس سے اسلام کے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتہ چلے گا اور دنیا کے فساد دور کرنے کے حقیقی راستوں کا بھی علم ہو گا۔

(خطبہ جمعہ 22؍ جون 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 نومبر 2020