• 30 نومبر, 2020

قرآن کریم کی حکیمانہ ترتیب

تبرکات حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ
قرآن کریم کی حکیمانہ ترتیب
(قسط نمبر 5)

دوسرا دورِ زندگی

دوسرا دور حضور علیہ السلام کی زندگی میں دعویٰ نبوت سے ہجرت تک کا ہے۔ یعنی تیرہ سال کا عرصہ اس دورکے متعلق فرمایا۔ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی (الضحٰی:8) یعنی خدا نے تجھے راستہ کا متلاشی پایا۔ پس تجھے ایک درست راستہ دکھلایا۔ سبحان اللہ کیا صداقت بھرا کلام ہے اور کیسا راستی سے بھرپور قول ہے۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ جب حضور علیہ السلام کی عمر چالیس سال کے قریب پہنچی تو حضور کو لوگوں کے اختلاط اور ملنے جلنے سے اضطراب ہونے لگا اور قوم کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ کر حضور کو گھبراہٹ شروع ہوئی۔ بخاری میں لکھا ہے۔ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَاءُ (صحیح البخاری کتاب الوحی باب بدء الوحی) یعنی حضورؐ خلوت پسند ہو گئے۔ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔

بُرائی کا دور دورہ

حضور جدھر دیکھتے بدی کا بازار گرم نظر آتا۔ جوئے اور شراب کی کثرت، زنا اور قتل و غارت پر فخر، لڑکیوں کو زندہ گاڑنا، یتیموں پر ظلم، بیواؤں پر زبردستی۔ غرض ہر طرف بُرائی ہی بُرائی نظر آتی۔ تو حضور راہِ حق اور کسی درست راستہ کے متلاشی ہوئے۔ اہل کتاب بگڑ چکے تھے اور مکہ والے کوئی ضابطہ یا قانون اور شریعت نہ رکھتے تھے۔ غرض ظَھَرَالْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) کے مطابق کہیں نیکی اور صلاحیت امن اور آسائش صلح اور آشتی کا وجود نہ ملتا تھا۔ عقائد تھے تو نہایت گندے کہ خدائے واحد کے گھر میں تین سو ساٹھ بت پوجا جاتا تھا یعنی قریباً سال کے ہر دن کے لئے الگ الگ بت تھا۔ اعمال ایسے کہ جن سے جنگل کے درندے بھی پناہ مانگیں۔ اخلاق ایسے کہ انہیں دیکھ دیکھ کر شیطان بھی شرمندہ ہو۔

خلوت پسندی

جب یہ حالت حضور سے برداشت نہ ہو سکی تو حضور بن دیکھے خدا اور حواسِ خمسہ سے نہ محسوس ہونے والے وراء الوراء وجود سے راہِ حق طلب کرنے لگے۔ لوگوں کی ملاقات سے نفرت ہو گئی۔ آبادی میں رہنا چھوڑ دیا۔ حضرت خدیجہ کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کا ایک مشکیزہ حضور کے ہمراہ کر دیتیں اور حضور مکہ سے تین میل غارِ حرا کی تاریکیوں میں اپنے مولا سے آہ و زاری کرنے لگے۔ جب ذخیرہ ختم ہو جاتا پھر گھر واپس آتے اور تازہ توشہ یعنی قوت لایموت لے کر پھر اسی غار کی تاریکیوں میں مصروف گریہ و بکا ہو جاتے۔

نزول روح امین

معلوم نہیں کتنے دن کتنے مہینے حضور دنیا سے الگ ہو کر اپنے مولا کی درگاہ میں چیخ و پکار کرتے رہے کہ اچانک ایک دن خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ نہ صرف فرشتہ بلکہ تمام فرشتوں کا سردار ہاں وہی روح امین ہاں وہی ناموسِ اکبر جو شریعت اور وحی کی امانت پہنچانے کے لئے آدم سے حضور تک تمام انبیاء کی طرف بھیجا گیا انسانی شکل میں حضور کے پاس پہنچا اور حضور کو اپنے سینہ سے لگا کر بھینچ بھینچ کر روحانیت کے تمام انوار حضور کے سینہ میں داخل کر کے صاف لفظوں میں خدا کا پاک کلام پہنچا کر حضور کو خدا کی طرف سے خلعت نبوت و رسالت پہنایا۔

رُشد و ہدایت کا دور

اس کے بعد احکام پر احکام، شریعتوں پر شریعتیں، قوانین پر قوانین، ضابطوں پر ضابطے نازل ہونے شروع ہوئے۔ توحید کا ثبوت بت پرستی کی تردید، معبودانِ باطلہ کا ابطال، اخلاق کی اصلاح، اعمال کی درستی، عقائد کی عمدگی کا دور چل پڑا اور سچ مچ یہ الفاظ صادق آنے لگے کہ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰیO یعنی تجھے راہ حق کا متلاشی پا کر تجھے راہِ حق دکھا دی۔ بلکہ تجھے اس پر چلا دیا۔

دیکھو کیسی عجیب بات ہے کہ یا تو حضور اپنی قوم کی بُرائیاں دیکھ کر حیران تھے کہ ان بدیوں کو کس طرح دور کیا جائے اور موجودہ بُرے عقائد، بُرے اعمال اور بُرے اخلاق کی جگہ کونسے عقائد، کونسے اعمال اور کونسے اخلاق اختیار کئے جائیں۔ مگر باوجود شدید حیرانی کے حضور کوئی راہ نہ پاتے تھے اور یا تو یہ حالت ہے کہ قرآن مجید جیسی وحی مَتْلُوّ اور حدیث جیسی وحی غیر مَتْلُوّ اُترنی شروع ہوئی اور ہر رات کوئی نہ کوئی حکم اُترتا۔ اور 23 برس تک یہ سلسلہ جاری رہ کر حضور کو ایسی سیدھی راہ دکھائی گئی کہ اس سے بڑھ کر کوئی راہ سیدھی نہیں اور حضور کو ایسے راستہ پر چلایا گیا کہ اس سے بڑھ کر نہ دنیا میں پہلے کوئی راستہ سیدھا تھا اور نہ بعد میں ایسا سیدھا راستہ کوئی ہو گا۔ پس دوسرے دور کا خلاصہ یہ ہے کہ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّایعنی حضور نے خدا سے ایک قانون، ایک ضابطہ، ایک شریعت اور ایک راہ طلب کی جس پر فَھَدٰی یعنی خدا نے کامل ترین، افضل ترین، درست ترین ضابطہ اور قانون اور شریعت اور راہ حضور کو عطا فرمائی کہ اُس سے بڑھ کر نہ دنیا میں کسی کو عطا ہوئی اور نہ قیامت تک عطا ہو گی۔ اس دور کا ذکر قرآن مجید میں خداتعالیٰ ایک اور جگہ بھی کرتے ہوا فرماتا ہے۔

اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْھَا

(الانعام:123)

یعنی ایک وہ زمانہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے جان تھے۔ نہ زندگی تھی، نہ زندگی کا نور، نہ روحانیت کا کبھی علم تھا اور نہ اُس کوچہ میں گزر ۔کہ اچانک ہم نے اس شخص کو زندہ کیا اور نہ صرف زندہ کیا بلکہ ساری دنیا کو زندہ کرنے کے لئے اس کے ہاتھ میں ایک روشن کتاب دی کہ جسے لے کر یہ ساری دنیا کے اندھیروں کو دور کرنے لگا۔ لوگو! بتاؤ کہ کیا یہ شخص دنیا کے لئے بہتر ہے یا تمہارے بت جو بے جان، بے نور اور سراسر بے فیض ہیں۔

تیسرا دور

اس کے بعد حضور کی زندگی کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے یعنی ہجرت سے وفات تک۔ اس دور میں گو قرآن نازل ہو رہا ہے راہِ حق بھی مل چکی ہے۔ سیدھے راستہ پر بھی آپ چل رہے اور لوگوں کو چلا رہے ہیں مگر کفار کا غلبہ ہے۔ اور حضور کے وسائل محدود ہیں۔ روپیہ نہیں، سامان نہیں کہ کفار سے جہاد کر سکیں۔ اسلام کو ان کے حملوں سے بچا سکیں۔ قوم کے فقراء کی مدد کر سکیں۔ یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری کر سکیں۔ صدقات کے ذریعہ قوم کے پسماندہ افراد کی حالت درست کر سکیں۔ غرض شریعت تو ہے مگر اس کو عملی شکل دینے کے لئے سامان نہیں۔ خلاصہ یہ کہ نہ مسلمانوں کی مدد، نہ کفار کا د فعیہ لیکن خداتعالیٰ نے اس دور میں بھی حضور کی امداد فرمائی اور غنیمتوں پر غنیمتیں، تحفوں پر تحفے، زکوٰۃ پر زکوٰۃ، جزیہ پر جزیہ آیا اور اس کثرت سے آیا کہ حضور کو جو حصہ ملا اس سے حضور غریب سے امیر بلکہ امیر الامراء بن گئے۔ جیسا کہ فرمایا وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی (الضحٰی:9) یعنی ہم نے تجھے غریب یعنی ایسا شخص پایا جو اپنے مقاصد پورے نہ کر سکے۔ اپنا مشن نہ چلا سکے۔ اپنا کاروبار جاری نہ رکھ سکے اور اپنے اغراض کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ لیکن یہ حالت جاتی رہی اور تو غریب سے امیر ہو گیا اور تیرے پاس اور دوسرے مسلمانوں کے پاس اتنا مال آیا کہ قرآن کے احکام عملی جامہ پہننے لگے۔ یتیموں کی پرورش ہونے لگی۔ جہاد کا سامان جمع ہو گیا۔ بیواؤں کو گزارہ ملنے لگ گیا۔ قربانیاں ذبح ہونے لگیں اور مؤلفۃ القلوب کی وہ مدد ہوئی کہ ایک قریشی سردار کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اس شخص کی طرح خرچ کرتا ہے کہ جس کا خزانہ کبھی ختم ہی نہ ہونے والا ہو۔ حدیثوں میں لکھا ہے کہ حضور نے فتح مکہ کے بعد مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کو ایک ایک وادی بھر کر بکریاں اور اونٹ دیئے۔ مسجد نبوی میں درہموں کے ڈھیر لگ جاتے اور غریبوں میں تقسیم کئے جاتے۔ کپڑے اور غلہ کھجوریں اور منقّٰی، نقدی اور چاندی، زمینیں اور جائیدادیں لگاتار اور کثرت سے حاصل ہوئیں۔ اور اسی سرعت سے مستحقین میں تقسیم ہوئیں۔ صرف ایک غزوہ خیبر ہی میں گاؤں کے گاؤں، علاقے کے علاقے مسلمانوں کو ہاتھ لگے۔ اس ایک جنگ میں کھجوروں کے چالیس ہزار درخت تقسیم کئے گئے۔ خود حضور علیہ السلام کے حصہ میں فدک نام گاؤں سالم اور دوسری متفرق زمینیں آئیں اور حضور نے دل کھول کر صدقہ دیا اور خیرات کی۔ حجۃ الوداع میں حضورؐ نے اپنے ذاتی مال سے پورے ایک سو اونٹ کی قربانی کی۔ غرض یہ تیسرا دور فتوحات، صدقات، قربانیوں، صلہ رحمیوں، یتامیٰ کی پرورش، بیواؤں کی پرداخت اور اسلام کے احکام کو عملی جامہ پہنانے کا تھا۔ پس بالکل ٹھیک ہے اور پوری طرح درست ہے وہ نقشہ جو ہمارے خدا نے کھینچا ہے۔ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی یعنی حضور کی زندگی کا تیسرا دور فتوحات کا دور تھا۔

تین نصیحتیں

ان تین واقعات کے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نبی! تیری زندگی کے تینوں واقعات کے ساتھ تیرے لئے اور تیری امت کے لئے تین نصیحتیں بھی وابستہ ہیں اور وہ یہ ہیں:

یتیمی کی تلافی کر ۔ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلاَ تَقْھَرْ (الضّحٰی:10) یعنی تیری زندگی کے پہلے دور میں ہم نے تیری یتیمی دور کر کے تجھے بہتر سے بہتر سرپرست دیئے۔ اس لئے جب تیری یتیمی کی تلافی خدا نے کی تو تیرا بھی فرض ہے کہ اس کے شکریہ میں دنیا کے یتیموں کی یتیمی کی تلافی کرے۔ پس اے نبی اور اس کی امت کے لوگو! تمہاری سوسائٹی میں کوئی یتیم زمانے کے حوادث یا لوگوں کے ہاتھوں سے قہری سلوک نہ اُٹھانے پائے۔ بلکہ اے نبی اور اے مسلمانو! تم کمر ہمت باندھ کر اس کوشش میں لگ جاؤ کہ کوئی یتیم بے کس نہ رہے۔ کوئی یتیم بغیر گارڈین کے نہ رہے۔ کوئی یتیم کسی قسم کے قہر کا نشانہ نہ بن سکے۔ نہ انسانی ہاتھ سے نہ زمانے کے ہاتھ سے۔

سائل کے سوال کو پورا کر

پھر فرمایا وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْھَرْ (الضّحٰی:11) یعنی تیری زندگی پر تیسرا دور یہ آیا تھا کہ تو بے سامان تھا۔ ہم نے تجھے باسروسامان کر دیا۔ تو غریب تھا ہم نے تجھے مالدار کر دیا۔ اس کے شکریہ میں تجھے چاہئے کہ دنیا کے اَور امیروں کی طرح نہ بن جانا کہ جو پہلے غریب ہو کر جب امیر بنتے ہیں تو پچھلی حالتوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں اور خدا کے احسانات کا ذکر تک نہیں کرتے اور لوگوں کے سامنے زبان پر بھی نہیں لاتے کہ دیکھو ہم بالکل مفلوک تھے مگر خدا نے ہمیں امیر کر دیا۔ بلکہ تجھے چاہئے کہ تو علی الاعلان لوگوں میں ذکر کر کے کہ میں غریب تھا خدا نے مجھے امیر بنا دیا۔ میں بےسروسامان تھا خدا نے مجھے سامان دیا۔ میں بے اسباب تھا خدا نے مجھے ہر قسم کے اسباب سے مالا مال کیا۔ حدیثوں میں لکھا ہے کہ مکہ کی فتح کے دوسرے دن جبکہ حضور ہزاروں جانثاروں کے مجمع میں مکہ والوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے دربار میں بیٹھے تھے۔ ایک شخص کانپتا ہوا حضور کی مجلس میں پہنچا۔ حضور نے فرمایا مجھ سے کیوں خوف کھاتا ہے میں تو ایک ایسی بیوہ عورت کا بیٹا ہوں جو غربت کی وجہ سے کئی دن کا خشک کردہ باسی گوشت کھالیا کرتی ۔ سبحان اللہ کیسے عجیب طریقے سے حضورؐ نے اس چھوٹے سے جملہ میں خدا کے لاکھوں کروڑوں احسانات کا اظہار کیا۔ اسی طرح بہت سے امیر اپنے اموال اور اپنے روپیہ کو چھپاتے ہیں تاکہ غریب رشتہ داروں یا مسکینوں اور محتاجوں یا اَور رفاہِ عام کے کام کرنے والی سوسائٹیوں کی طرف سے امداد کا مطالبہ نہ ہو۔ مگر حضور کو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی! تو خدا تعالیٰ کے انعامات اور اس کے عطاکردہ اموال کو لوگوں سے چھپا نہیں بلکہ اپنے تموّل کا ڈھنڈورا پیٹ تاکہ بھوکے آئیں اور تیرے دستر خوان سے کھائیں۔ یتیم آئیں اور تو ان کی امداد کرے۔ بیوائیں آئیں اور وہ اپنی مشکلات تجھ سے حل کرائیں۔ ہر قسم کے محتاج حاضر ہوں اور تو ان کی احتیاج دور کرے۔ قبیلوں کے وفد آئیں اور تو انہیں مالا مال کر دے۔ مجھے اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک عربی شعر یاد آیا جس میں حضور نے اپنی غربت کے بعد اپنی امارت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنی پہلی بے کسی کو بالکل نہیں چھپایا۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :

لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکْلِیْ
وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ

ایک زمانہ تھا کہ میں دوسروں کے دسترخوان کے ٹکڑے کھایا کرتا تھا۔ لیکن آج یہ حالت ہے کہ میرے دسترخوان پر خاندانوں کے خاندان کھاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس امر سے ذرا بھی نہیں گھبرائے کہ لوگ یہ معلوم کر لیں گے کہ ایک زمانہ میں حضور باوجود رئیس اعظم اور صاحب جائیداد ہونے کے اپنی جائیداد سے بے سروکار ہو کر اور خدا کی راہ میں تارک دنیا اور درویش بن کر اپنے بھائی اور بھاوج نے سالن بھیج دیا تو وہ کھا لیا۔ دال بھیج دی تووہ کھا لی۔ کسی کے ساتھ روٹیاں بھیج دیں تو وہی قبول فرمالیں۔ صرف روٹیاں بھیج دیں تو انہیں ہی شکریہ کے ساتھ آسمانی مائدہ سمجھ لیا۔ سبحان اللہ! اللہ کے نبی اور ولی اس کے احسانات کی کس قدر منادی کرتے ہیں۔

خلاصہ

پس ان آیات میں حضور علیہ السلام کی زندگی کے تین دور جو زمانے کے لحاظ سے ترتیب وار تھے اسی ترتیب زمانی سے بیان کئے گئے ہیں اور پھر تین نصیحتیں اسی ترتیب سے بیان کی گئی ہیں جس ترتیب سے وہ واقعات ظہور پذیر ہوئے تھے۔ اور یہ حکیمانہ اور نہایت دلچسپ ترتیب یقینا قرآن مجید کو الہامی کتاب اور خدا کا کلام ثابت کرتی ہے۔ ورنہ ایک انسانی دماغ اور وہ بھی ایک اُمّی کا بغیر الہام الٰہی کے کبھی بھی ایسی ترتیب پیش نہیں کر سکتا۔ اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

(روزنامہ الفضل 4 اکتوبر 1941ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 نومبر 2020