• 4 فروری, 2023

فقہی کارنر

زکوٰة صرف امام وقت کو پیش کی جاتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہر ایک پہلو سے خدا کی اطاعت کرو اور ہر ایک شخص جو اپنے تئیں بیعت شدوں میں داخل سمجھتا ہے اس کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے مال سے بھی اس سلسلہ کی خدمت کرے۔ جو شخص ایک پیسہ کی حیثیت رکھتا ہے وہ سلسلہ کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے اور جو شخص ایک روپیہ ما ہوار دے سکتا ہے وہ ایک روپیہ ما ہوار ادا کرے۔ کیونکہ علاوہ لنگر خانہ کے اخراجات کے دینی کا روائیاں بھی بہت سے مصارف چاہتی ہیں۔ صدہا مہمان آتے ہیں مگر ابھی تک بوجہ عدم گنجائش مہمانوں کے لئے آرام دہ مکان میسر نہیں جیسا کہ چاہئے۔ چارپائیوں کا انتظام نہیں۔ توسیع مسجد کی ضرورتیں بھی پیش ہیں تالیف اور اشاعت کا سلسلہ بمقابل مخالفوں کے نہایت کمزور ہے۔ عیسائیوں کی طرف سے جہاں پچاس ہزار رسالے اور مذہبی پرچے نکلتے ہیں ہماری طرف سے بالالتزام ایک ہزار بھی ماہ بماہ نکل نہیں سکتا۔ یہی امور ہیں جن کے لئے ہر ایک بیعت کنندہ کو بقدر وسعت مدد دینی چاہئے تا خدا تعالیٰ بھی انہیں مدد دے۔ اگر بے ناغہ ماہ بماہ ان کی مدد پہنچتی رہے گو تھوڑی مدد ہو تو وہ اس مدد سے بہتر ہے جو مدت تک فراموشی اختیار کر کے پھر کسی وقت اپنے ہی خیال سے کی جاتی ہے۔ ہر ایک شخص کا صدق اس کی خدمت سے پہنچانا جاتا ہے۔ عزیزو! یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا چاہئے کہ زکوٰة دینے والا اسی جگہ اپنی زکوٰة بھیجے اور ہر شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگا وے اور بہر حال صدق دکھاوے تا فضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام اُن لوگوں کے لئے تیار ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ83)

(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاذ جامعہ احمدیہ یو کے)

پچھلا پڑھیں

مسجد فتح عظیم کے افتتاح کے موقع پر

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 نومبر 2022