• 29 فروری, 2024

صنعتِ توشیح

(تمام پہلے حروف ملا کر نام بنایا جاتا ہے)

ر۔ ر سے روز آنا ترا سو سال تک
اپنے ہاتھوں، مصلح موعود نے
ہیں تراشے تیرے خدوخال تک

ل۔ ل سے لشکر لئے الفاظ کا
نظم لکھ کر صنعت توشیح میں
جشنِ صد سالہ میں آ شامل ہوا

ز۔ ز سے ہے زادِ سفر، علم و ادب
اک صدی سے راہِ حق پہ گامزن
ہے صلے کی نہ ستائش کی طلب

ن۔ ن سے نظمیں بھی ہیں غزلیں بھی ہیں
دینی موضوعات پر مضمون بھی
سائنس و طب کی نئی فصلیں بھی ہیں

ا۔ الف سے اللہ کا فضل خاص ہے
اک صدی سے پا پیادہ چل کے بھی
تازگی کا آج بھی احساس ہے

م۔ م سے محمود ہے بانی ترا
سو برس کے معرکۂ علم میں
کون سا اخبار ہے ثانی ترا

ہ۔ ہ سے ہر گز آندھیوں سے تو نہ ڈر
ہے لڑائی جس کی اندھیروں کے ساتھ
اس دیئے کو کیا ہواؤں کا خطر

ا۔ الف سے الفضل سو سالہ جواں
جابجا پاؤں میں چھالے ہیں مگر
سر اٹھائے اپنی منزل کو رواں

ل۔ ل سے لازم ہے سب اس کو پڑھیں
ہاتھ میں لے کر دلیل روشنی
ہم صراطِ صدق میں آگے بڑھیں

ف۔ ف سے فانوس محبت تیرا نام
افراتفری کے اٹے ماحول میں
امن و صلح و آشتی تیرا پیام

ض۔ ض سے ضائع نہ ہو گا وہ کبھی
ہر گھڑی اس عہد بے توقیر میں
فکر جس کو اپنے عملوں کی رہی

و۔ و سے وارث اصولوں کا ہے تُو
بوستانِ فکرِ مہدی کا امیں
اور حدی خواں اس کے پھولوں کا ہے تُو

(عبدالکریم قدسی)

پچھلا پڑھیں

استغفار تمام انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ

اگلا پڑھیں

خطبہ جمعہ فرمودہ 11مئی 2018ء