• 14 جولائی, 2024

مصنوعی ذہانت سے کاروبار کامیاب بنائیں

دنیا بھر کے 78 فیصد کاروبار میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جارہا ہے۔2017ء میں یہ اعداد وشمار 61 فیصد جبکہ 2016ء میں 38فیصد تھے۔سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس قدر تیزی سے زندگی کے تمام شعبہ جات کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ چلنے والی زیادہ تر مشینیں نیچرل لینگوئج پروسیسنگ اور پیشن گوئی کے تجزیات پر مشتمل ہوتی ہیں۔کچھ لوگ اس ٹیکنالوجی کی نشوونما کے حوالہ سے پریشان ہوسکتے ہیں ،کیونکہ انہیں نوکری اور دیگرمواقع کےکم ہونے کا ڈر ہے ۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، مصنوعی ذہانت کے آجانے سے دیگر لاتعداد مواقعوں کی راہ ہموار ہوگی۔

درست طریقے سے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کاروبار کے معمول کے کاموں کو خودکار طور پر کروایا جاسکتا ہے جس سے وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہوگی ۔اے آئی سے پیداواری صلاحیت اور آپریشنل معاملات کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی ۔اس ٹیکنالوجی سے غلطیوں سے بچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔کیونکہ مصنوعی ذہانت انسانی غلطی کو ختم کرنے میں معاون ہے۔اسی طرح یہ ٹیکنالوجی زیادہ تیزی سے درست فیصلے لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔اگرا س کی رسائی انٹرنیت یا کمپنی کے کاروباری معاملات تک دے دی جائے تو یہ معیاری لیڈز کو شروع کرنے اور کسٹمر لیڈز کو بڑھانے کے لئے اعداد وشمار کی ایک بڑی مقدارنکال سکتی ہے۔یہ ٹیکنالوجی اعدادو شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے گاہک کی ترجیحات بتاسکتی ہے ،جبکہ انسان بذات خود اس طرح کے نتائج بتانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔

مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی یقینی طور پر کاروباری صنعت میں انقلاب لائے گی، کیونکہ اس سے عملے کی بھرتی اور برخاستگی سے متعلق غیر شعوری اور شعوری طور پر امتیاز کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، یہ کاروبار کی پالیسیاں اور ہیومن ریسورس کے فرائض میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔ایچ آر سپورٹ ٹریننگ کے سلسلہ میں، اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔یہ اقدام بہت سے کال سنٹرز میں کامیاب ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے سوالات کے جوابات کو مستقل رکھنے میں مدد ملتی ہے اور اسی طرح صارفین کو مطمئن کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ساتھ مسائل بھی آئیں گے۔بینک آف انگلینڈ کے ذریعہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2026ء تک کارپوریٹ ملازمتوں میں سے 30 فیصد غائب ہوسکتی ہیں ۔تاہم سب ختم نہیں ہوا ،کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ضائع ہونے والی ملازمتوں میں سے زیادہ تر دفتری کام ہوں گے جو اکثر ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں ۔جبکہ تخلیقی کام اور ریسرچ کے لئے انسانوں پر ہی انحصار کیا جائے گا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل اسلام کی سچی خدمت کرنے والا اخبار ہے غیر از جماعت افراد کا اظہار حقیقت

اگلا پڑھیں

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1938ء