• 9 جولائی, 2020

بے چینی

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’سسٹس میں بسا اوقات جلد کے اوپر خارش کی علامتیں نہیں ملتیں بلکہ جلد کے اندر دب جاتی ہیں۔ اس لیے جلد میں بے چینی سی اور کچھ رینگنے اور چیونٹیاں چلنے کا احساس ہوتا ہے۔ اس سے مریض کے دل کو بھی سخت گھبراہٹ ہوتی ہے اور وہ بار بار دل پر ہاتھ مارتا رہتا ہے۔ زیادہ خارش کرنے سے یہ دبا ہوا مرض جلد پر آتا ہے اور چھالے بن جاتے ہیں جنہیں چھیلنے سے خون بہنے لگتا ہے۔‘‘

(ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ص304)

اگلا پڑھیں

الفضل اسلام کی سچی خدمت کرنے والا اخبار ہے غیر از جماعت افراد کا اظہار حقیقت