• 1 اکتوبر, 2020

بابرکت ثمرات

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’جہاں تک اس دَورِ ابتلا کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اللہ کی نصرتیں عجیب رنگ میں ظاہر ہو رہی ہیں اور اُن کے بیان کی انسان میں طاقت نہیں ہے … پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک پروگرام یہ ہے کہ قرآن کریم کے تراجم پر قدغن لگا دی جائے اور جماعت احمدیہ سے یہ حق چھین لیاجائے کہ وہ قرآن کریم کے تراجم شائع کرے اور دوسرا اُ ن کا پروگرام کا حصہ یہ ہے کہ مساجد کو مسمار کیا جائے اُن کے گنبد مٹائے جائیں اُن کے مینار مسمار کر دیئے جائیں اور مساجد کی شکل اور قبلے تبدیل کر دئیے جائیں۔ ایک وہ خدمت … ہے جو وہاں ہو رہی ہے اور ایک وہ توفیق ہے جو خدا ہمیں یہاں نصیب فرما رہا ہے ۔ تمام دنیا میں نئی نئی مساجد کی، عظیم الشان مشنوں کے قیام کی توفیق بخشتا چلا جارہا ہے… دو سال کے اندر 25 زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی توفیق پانا جماعت کے لئے خدا تعالیٰ کی دین ہے۔ اُس کی عطا کے سوا ممکن ہی نہیں تھا۔‘‘

(خطبہ عید الفطر فرمودہ 9جون 1986ء خطبات طاہر عیدین صفحہ 58,57)

اگلا پڑھیں

الفضل اسلام کی سچی خدمت کرنے والا اخبار ہے غیر از جماعت افراد کا اظہار حقیقت