• 11 اگست, 2020

ذیلی تنظیموں کونماز کی طرف توجہ دلانے میں اوّلین کرداراداکرناچاہئے

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’تنظیمیں نسبتاً زیادہ بیدار رہ سکتی ہیں اگر وہ ایک معین پروگرام بنالیں کہ ہر ہفتے یا مہینے میں ایک دفعہ اسی موضوع پر بیٹھا کریں۔ ایک مجلس عاملہ کا اجلاس مقرر ہو جائے ہمیشہ کے لئے آج سے جس کا موضوع سوائے نماز کے کچھ نہ ہو۔ اس دن لجنہ بھی نماز کے اوپر غور کر رہی ہوں۔ خدام بھی نماز پر غور کر رہے ہوں، انصار بھی نماز پر غور کر رہے ہوں اور یہ فیصلہ کرلیں ہمیشہ کے لئے کہ اب ہم نے ہر مہینہ کم ازکم ایک مرتبہ اس موضوع پر بیٹھنا ہے۔ غور کرنا ہے اور جہاں حالات ایسے ہیں کہ ہر مہینے نہیں بیٹھ سکتے۔ وہاں دو مہینے مقرر کرلیں۔ تین مہینے مقرر کرلیں، مگر جہاں مقرر کریں پھر اس پر قائم رہیں۔ اس پر صبر دکھائیں اور وہ ہر دفعہ جائزہ لیا کریں کہ ہمارے Gains کیا ہیں یعنی کتنا ہمیں فائدہ پہنچا ہے۔ اس عرصے میں کتنے نمازی بنائے۔ کتنوں کی نمازوں کی حالت ہم نے درست کی۔ کتنوں کو نماز میں لطف حاصل کرنے کے ذرائع بتائے اور ان کی مدد کی اور بہت سے پہلو ہیں وہ ان سب پہلوؤں پر غور کیا کریں اور ہر دفعہ اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کچھ مزید حاصل کرسکے ہیں یا نہیں کرسکے۔ اگر اس جہت سے اس طریق پر وہ کام شروع کریں گے تو امید ہے کہ انشاءاللہ بہت تیزی کے ساتھ ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ جس کی خاطر ہمیں پیدا کیا گیا ہے اور جب ہم مقصد کی طرف بڑھ جائیں گے اور جب مقصد کو حاصل کررہے ہوں گے تو پھر فتح ایک ثانوی چیز بن جاتی ہے۔ عددی اکثریت اور نصرت اور ظفر کے خواب جو آپ دیکھ رہے ہیں اس سے بڑھ کر یہ خواب آپ کے حق میں آپ کی ذاتوں میں پورے ہوچکے ہوں گے۔پھر یہ خدا کا کام ہوگا کہ آپ کی حفاظت فرمائے۔ پھر یہ خدا کا کام ہوگا کہ اس دن کو قریب تر لائے جو ظاہری فتح کا بھی دن ہوا کرتا ہے۔ جنگ بدر کے موقع پر یہی تو واسطہ دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کو کہ اے خدا! یہ تھوڑی سی جماعت میں نے تیار کی تھی تیری عبادت کرنے والوں کی۔ میری ساری محنتوں کا پھل ہے یہ اور تو کہتا ہے کہ کائنات کا پھل ہے یہ اگر آج یہ لوگ مارے گئے۔ تو پھر تیری عبادت کرنے والا دنیا میں کبھی کوئی پیدا نہیں ہوگا۔ اس قسم کے عبادت کرنے والے آپ بن جائیں۔ تو اللہ کے اس پاک رسول ﷺ کی دعائیں آپ کو بھی پہنچ رہی ہوں گی۔ وہ خدا کا رسول ﷺ آج بھی اس لحاظ سے زندہ ہے آج بھی وہ دعا آپ کے حق میں خدا کو یہ واسطہ دے گی کہ اے خدا اگر یہ عبادت گزار بندے تیرے ہلاک ہو گئے۔ یا ناکام مر گئے تو پھر کبھی تیری دنیا میں عبادت نہیں کی جائے گی کیسے ممکن ہے پھر کہ آپ کو وہ فتح اور ظفر کا دن نصیب نہ ہو۔‘‘

(خطبات طاہر جلد چہارم ص898,897)

اگلا پڑھیں

الفضل اسلام کی سچی خدمت کرنے والا اخبار ہے غیر از جماعت افراد کا اظہار حقیقت