• 4 اکتوبر, 2022

ڈاکٹر عبدالرحمان صدیقی اور ان کے بیٹے ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی کی خدمت خلق

ہمدردِ انسانیت ۔ صدّیقی صاحبان

ہماری رہائش محمد آباد اسٹیٹ سندھ میں تھی۔ میں اُس وقت پرائمری اسکول کا طالب علم تھا۔ اسٹیٹ کے منتظمین کو متعدد بار صدّیقی صاحب کا ذکر کرتے سنا۔ اسٹیٹ کا کوئی کام ہو۔ کسی بڑے سرکاری افسر سے ملنا ہو، یا کوئی اور مسئلہ ہو، اسٹیٹ کے ذمہ دار لوگ مکرم صدّیقی صاحب کا نام لیتے اور اُن سے مدد لے کر اُس مسئلہ کو حل کرنے کی باتیں ہوتیں۔ اسٹیٹ میں کوئی مرد یا عورت زیادہ گہرے مریض ہوتے تو تب بھی مکرم ڈاکٹر صدّیقی صاحب کا تذکرہ ہوتا۔ میں نے ان کو دیکھا تو نہیں تھا لیکن میرے ذہن پر یہ تاثر ضرور تھا کہ صدّیقی صاحب کوئی بڑی شخصیت ہیں۔ بعد میں جب میں نے اُن کو دیکھا تو اُن کو اپنی سوچ سے کہیں بڑھ کر پایا۔

ڈاکٹر عبد الرحمٰن صدیقی صاحب، حیدر آباد ڈویژن کے امیر تھے۔ وہ امراض سینہ و قلب کے ماہر تھے۔ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور خلافت کے شیدائی تھے۔ میر پور خاص سند میں ان کی رہائش تھی اور وہیں اُن کا کلینک تھا۔ صبح سے شام تک مریضوں کا تانتا بندھا رہتا۔ بعض اوقات ڈاکٹر صاحب لمبے عرصہ کے لئے جلسہ سالانہ، اجتماعات یا جماعتی شوریٰ میں شرکت کی غرض سے ربوہ چلے جاتے۔ ان دنوں میں ان کا کلینک خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا۔ لیکن جونہی ڈاکٹر صاحب کی واپسی ہوتی، دوبارہ مریضوں کی بھیڑ لگ جاتی۔ دیکھنے والا حیران ہوکر سوچتا کہ ان مریضوں کو ڈاکٹر صاحب کی واپس آمد کا پتہ کیسے لگا ہے؟ میر پور خاص میں سرکاری اسپتال موجود تھے۔ اس کے باوجود مریض، ڈاکٹر عبد الرحمن صدّیقی صاحب سے علاج کروانے کے خواہش مند ہوتے۔ تمام بڑے بڑے سرکاری افسران ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے مفت علاج کرواتے۔ پورے علاقہ میں ڈاکٹر صاحب کی بے انتہاء عزت تھی۔ ڈاکٹر صاحب غریبوں کے ہمدرد اور بے سہارا لوگوں کا سہارا تھے۔ غریبوں کا علاج مفت کرتے اور ہر طرح ان کا خیال رکھتے۔

ڈاکٹر صاحب پارٹیشن کے بعد حضرت مصلح موعود ؓ کے ارشاد پر میر پور خاص میں آباد ہوئے اور خدمت انسانیت کے جذبہ کے تحت ‘‘فضل عمر کلینک’’ بناکر مخلوق خُدا کی خدمت میں مصروف عمل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی۔ کلینک میں لیبارٹری ایکس رے اور فارمیسی کی سہولت بھی موجود تھی۔ ضرورت پڑنے پر مریض کےلئے خون کا انتظام بھی موجود تھا۔ ان وجوہات کی بناء پر ڈاکٹر صاحب کے پاس مریضوں کا تانتا بندھا رہتا۔ نہ صرف میر پور خاص شہر میں بلکہ اس پورے علاقے میں ڈاکٹر صاحب کی بے انتہاء عزت تھی۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد خان جو نیجو کی والدہ صاحبہ نے تو ڈاکٹر عبد الرحمٰن کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب بسا اوقات شام کے وقت محمد خان جونیجو کی گوٹھ (گاؤں) ‘‘سندھڑی’’ جاتے اور رات کو بہت دیر کے بعد واپس آتے۔ آپ کی کوٹھی سلسلہ کے بزرگان اور خدام دین کی آماجگاہ تھے۔ خاندان حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے افراد بھی تشریف لاتے اور ڈاکٹر صاحب کے گھر کو برکتیں بخشتے۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد تشریف لائے اور ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی میں رونق افروز ہوئے۔ اس موقع پر اس عاجز کو بھی حضرت صاحبزادہ موصوف کی صحبت صالحہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔

خاکسار بطور مربیّ حیدرآباد میں متعین تھا۔ جماعتی ضروریات کےلئے بسا اوقات میر پور خاص جانا ہوتا۔ میں عمر کے لحاظ سے مکرم ڈاکٹر عبد الرحمٰن صدیقی کے بچوں جیسا تھا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب مربیّ ہونے کی وجہ سے عاجز کا بے حد احترام کرتے۔ اُس دور میں میر پور خاص میں ‘‘ماموں جی کا ہوٹل’’ خاصا مشہور تھا۔ مکرم مولانا محمد دین مرحوم اُن ایاّم میں میر پورخاص میں مربیّ تھے۔ مکرم ڈاکٹر صدّیقی مرحوم ہم دونوں کو ‘‘ماموں جی کے ہوٹل’’ میں لے جاتے اور ہمارے ساتھ مل کر کھانا کھاتے اور اس طرح خاکسار کی عزت افزائی ہوتی۔

اُس زمانہ میں سندھ میں ملیر یا بخار بہت عام تھا۔ میری چھوٹی ہمشیرہ عزیزہ ذکیہ فردوس بیمار ہوگئیں۔ اُس کا بخار اتر نہیں رہا تھا۔ ہم اُسے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں لے گئے۔ آپ نے معائنہ کرنے کے بعد ایکسرے کروانے کی ہدایت دی۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں ہی بچّی کا ایکسرے کروایا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے کا معائنہ کیا اور کچھ سوچ کر فرمایا کہ دوبارہ ایکسرے کروائیں۔ چنانچہ ایک بار پھر بچی کا ایکسرے کروایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب دوبارہ ایکسرے کو غور سے دیکھا اور فرمایا الحمد اللہ کوئی خطرے کی بات نہیں۔ عاجز کے استفسار پر فرمانے لگے کہ پہلی دفعہ ایکسرے دیکھ کر مجھے کچھ شک سا ہوا تھا۔ میں نے سوچا بچی چھوٹی ہے۔ کہیں میری غفلت سے بچی کی آئندہ زندگی خطرے میں نہ پڑجائے۔ اس لئے دوبارہ ایکسرے کروانا چاہئے۔ اب دوسرا ایکسرے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔ معمولی ملیریا بخار ہے۔ انشاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے کلینک کے میڈیکل اسٹور سے دوائی لے کر دی اور ہم سے اس سارے عمل کی کوئی قیمت وصول نہیں کی۔
ایک مرتبہ ڈاکٹر صدیقی صاحب اپنی کار میں کہیں جا رہے تھے۔ خاکسار اور مکرم مولانا محمد دین مربی سلسلہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ راستہ میں کار میں کو ئی خرابی واقع ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب گاڑی سے باہر نکل آئے۔ کچھ ہی دیر کے بعد ایک سندھی وڈیرے کا وہاں سے گزر ہوا۔ اُنہوں نے فوراً اپنی جیپ کھڑی کی اور ڈاکٹر صاحب کے پاس آکر پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ جب اُن کو پتہ لگا کہ ڈاکٹر صاحب کی کار خراب ہوگئی ہے تو بڑی لجاجت سے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب! میری جیپ حاضر ہے۔ آپ میری جیپ لے لیں اور جتنے دن چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ میری دوسری گاڑی آرہی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔ اس واقعہ سے بھی پتہ لگتا ہے کہ محترم ڈاکٹر عبد الرحمن صدیقی مرحوم کی اُس علاقہ میں کس قدر عزّت تھی۔

ڈاکٹر صاحب کو دل کی تکلیف تھی۔ آپ کے پاس ایک فولڈنگ چیئر تھی جو واکنگ سٹک کے طور پر بھی کام کرتی تھی۔ ایک دفعہ آپ جلسہ سالانہ پر جا رہے تھے ۔ راستہ میں آپ احمدی احباب سے ملنے اُ ن کے اسپیشل کمپارٹمنٹ میں تشریف لے گئے۔ چلتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ فولڈنگ چیئر کو بچھا کر اُس پر بیٹھ کر آرام کرتے اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ چلنے لگتے۔ ریل کے ڈرائیور اور گارڈ کو بتا دیا گیا تھا جب تک ڈاکٹر صاحب احمدی احباب سے مل کر واپس اپنی سیٹ پر نہیں پہنچ جاتے ریل کے منتظمین نے ڈاکٹر صاحب کے احترام میں گاڑی کو روکے رکھا۔

ڈاکٹر صاحب کے دل میں خلیفہ وقت کا بے حد احترام تھا۔ حضور بھی ڈاکٹر صاحب سے بہت پیار کرتے تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور اقدس ڈاکٹر صاحب کے لئے ربوہ اسٹیشن پر گاڑی بھجواتے۔ اجتمائی ملاقات کے موقع پر بھی آپ حضور اقدس کے قریب ہوتے۔ ایک دفعہ ایک ملکی انتخاب کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر اجتماعی ملاقات میں حضور نے ڈاکٹر صاحب کے کام کی تعریف فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ یہ تو محض حضور کی دعاؤں کے طفیل سب کچھ ہو رہا ہے۔ میری کوشش کا تو اس میں کوئی دخل نہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا بیٹا عبد المنان صدیقی چھوٹا سا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ کسی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا بیٹا بھی انشاء اللہ ایک دن ڈاکٹر بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فی الحال تو وہ چھوٹی چھوٹی مشینوں اور کھلونوں وغیرہ کی جوڑ توڑ میں مصروف رہتا ہے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ اس کا رجحان انجینئر نگ کی طرف ہے۔ بعد میں آپ کا بیٹا بھی ڈاکٹر بنا۔ یہ سب والدین کی توجہ اور دعاوْں کا نتیجہ تھا۔ عبد المنان کو اُس کے والدین پیار سے ‘‘منّو’’ کہتے تھے۔ منّو ، مکرم ڈاکٹر عبد الرحمن صدیقی کا بیٹا اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ کا نواسہ تھا۔ بچپن سے ہی اس کی تربیت اچھے ماحول میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عبد المنان صدیقی، غریبوں کا ہمدرد، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا اور خلافت احمدیہ کا فدائی تھا۔

پاکستان سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد خصوصی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ امریکہ کے ایک اسپتال میں کام کیا۔ پھر اپنے والد کی خواہش پر واپس پاکستان پہنچ کر اپنے والد صاحب کے کلینک میں کام شروع کیا۔ ڈاکٹر عبد الرحمٰن صدیقی نے کلینک کی تمام ذمہ داری اپنے بیٹے کے سپرد کردی۔ ڈاکٹر عبد المنان صدیقی نے اپنے بزرگ والد کی قائم کردہ حسین روایات کو زندہ رکھا۔ آپ غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا تھے۔ ڈاکٹر صاحب سندھی وڈیروں و رئیسوں کو تبلیغ کرتے اور اُنہیں ربوہ لے کر جاتے۔ مجھے ایک بار ڈاکٹر صاحب کے پاس جانے کا موقع ملا جس کی حسین یادیں اب تک دل میں تازہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مجھے ساتھ لے کر مٹھّی کے دورہ پر روانہ ہوئے۔ مٹھی میں جماعت کا کلینک ہے۔ جس کے عین سامنے سڑک پر ایک گیٹ بنا ہوا ہے اور اُس پر کلمہ طیبہ بہت بڑے حروف میں لکھا ہوا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا دیکھئے ہم پر کلمہ طیبہ کی پابندی عائد ہے۔ مولا کریم نے ہمارے اسپتال کے لئے کلمہ طیبہ کا انتظام فرمادیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب خود تو مریضوں کے معائنہ میں مشغول ہوگئے اور ڈرائیور کو کہا کہ مجھے مٹھی کی سیر کروائے۔ چنانچہ خاکسار نے ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کے علاوہ مٹھی شہر کی بھی سیر کی اور احمدیہ مشن ہاؤس بھی دیکھا۔ نیز وہاں پر متعین مربی صاحب سے ملاقات بھی کی۔ مربی صاحب نے یہ ایمان افروز بات بیان کی کہ مٹھی کے ریتلے علاقہ میں جہاں سالہا سال ایک قطرہ بارش نہیں ہوتی ایک بار اتنی بارش ہوئی کہ سارا شہر ڈوب گیا اور پاکستان آرمی کے جوانوں نے فوجی کشتیوں کے ذریعہ لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔ یہ واقعہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ ڈاکٹر عبد المنان صدیقی نے مٹھی کے بعد بعض اور مقامات پر بھی میڈیکل کیمپ لگا کر غریب مریضوں کا علاج کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک بکرا صدقہ بھی کیا۔ جمعہ کی نماز محمد آباد اسٹیٹ میں ادا کی اور شام کو محمود آباد اسٹیٹ میں (بحثیت امیر ضلع) صدران ضلع کی میٹنگ میں بھی شرکت کی اور رات کو دیر سے واپس اپنے گھر پہنچے۔

عزیزم ڈاکٹر عبد المنان صدیقی نے بچپن میں میرے چھوٹے بھائی عزیزم نصیر احمد نجم کے ساتھ بھائی بننے کا عہد کیا اور پھر تا دم اُس پر قائم رہے۔ اسی تعلق کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب مرحوم اس عاجز کا بے حد احترام کرتے اور مجھے اپنا بڑا بھائی سمجھتے تھے۔ جن دنوں خاکسار کو ترکی میں اسیر راہ مولیٰ بننے کی سعادت نصیب ہوئی، اُن ایام میں ڈاکٹر صاحب مرحوم، عزیزم نصیر احمد کو فون کرکے عاجز کے بارہ میں پوچھتے رہے۔ جس روز عاجز کراچی ایئر پورٹ پر اترا تو ڈاکٹر صاحب سات آٹھ احباب کے ساتھ عاجز کے استقبال کےلئے وہاں موجود تھے۔ واپسی پر خود مجھے ائیر پورٹ پر الوداع کرنے کے لئے تشریف لائے۔ اور مجھے شلوار قمیض کا اتنا قیمتی جوڑا تحفہ کے طور پر پیش کیا جس کی قیمت عام جوڑے سے تین گنا زیادہ تھی۔ جتنے روز میں میر پور خاص میں مقیم رہا ڈاکٹر صاحب نے اپنی کوٹھی میں میری رہائش کا انتظام کیا اور اپنی کار ہمہ وقت خاکسار کے لئے وقف کردی۔ علاوہ ازیں میرے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام بھی کیا جس میں شہر کے بڑے افسران اور معززین کو بھی مدعو کیا۔ ایک روز خود مجھے ساتھ لے کر شہر کی سیر بھی کروائی اور اور معززین شہر سے میری ملاقات بھی کروائی جن میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے افسران کے علاوہ نیشنل اسمبلی کے ممبر بھی شامل تھے۔

عزیزم ڈاکٹر عبد المنان صدیقی نے اپنے بزرگ والد صاحب کے قائم کردہ کلینک کو بہت وسعت دی۔ اُس کو مزید وسیع کرکے اُس میں نئے وارڈز کا اضافہ کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ آؤٹ ڈور مریضوں کے علاوہ ان ڈور مریضوں کےلئے چالیس بیڈ مہیا کرکے کلینک کو اسپتال میں تبدیل کردیا۔ ڈاکٹر صاحب اس کو دو صد بیڈز پر مشتمل اسپتال بنانا چاہتے تھے کہ آپ کے سر پر شہادت کا تاج رکھ دیا گیا ۔ آپ کی شہادت سے پہلے آپ کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور گمنام فون آتے رہے لیکن اِس بہادر شہزادے نے ایک ذرہّ بھی پرواہ نہیں کی۔ آپ فی الواقع انسانیت کے ہمدردتھے۔ ہر عید کے موقع پر احمدی بچوں، بچیوں کو نقد رقم تقسیم کرتے۔

عزیزم ڈاکٹر عبد المنان صدیقی کی شہادت پر حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس کو سن کر ایک دوست کہنے لگے اگر مجھے علم ہو کہ میری وفات پر حضور اس طرح کا خطبہ ارشاد فرمائیں گے تو میں بخوشی شہادت کی تمنا کروں۔ اللہ تعالیٰ صدیقی صاحبان اور ان کے وفات شدہ بزرگان اور اعزّاء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان بالخصوص ڈاکڑ عبد المنان صدیقی شہید کی اہلیہ اور بچوں کا ہمیشہ حافظ و ناصر ہو۔ آمین۔

بناء کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کندا یں عا شقان پاک طینت را

(ڈاکٹر محمد جلال شمسّ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جنوری 2020