• 15 جنوری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 18)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 18)

’الانتشار العربی‘ اخبار نے اپنے عربی سیکشن میں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ ¼ صفحہ پر حضور انور کی تصویر کے ساتھ اپنی اشاعت 9 جون 2005ء صفحہ 20 پر شائع کیا ہے۔ یہ خطبہ جمعہ حضور نے دارالسلام تنزانیہ مشرقی افریقہ میں 13 مئی 2005ء کو ارشاد فرمایا تھا۔

اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے روحانی امام مرزا مسرور احمد نے یہ خطبہ دارالسلام تنزانیہ میں دیا جبکہ وہ افریقن ملکوں کے وزٹ (دورہ) پر تھے۔ آپ نے اس خطبہ جمعہ میں ’’تقویٰ‘‘ کی تشریح فرمائی ہے کہ :
صرف یہ دعویٰ ہی کافی نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور اس کا تقویٰ اختیار کرتا ہوں بلکہ اگر اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کرو گے کہ اگر مجھے کوئی خوف ہے تو صرف خدا کا خوف ہے …… دنیا کی ہر چیز سے زیادہ مجھے خدا محبوب ہے اور پھر یہی نہیں کہ کبھی اس کا اظہار ہو گیا اور کبھی نہ بلکہ اب یہ تمہاری زندگیوں کا حصہ بن جانا چاہئے۔

حضور نے مزید فرمایا: جماعت احمدیہ کی فتح اور اس کا غلبہ دنیاوی ہتھیاروں کے ذریعہ نہیں ہونا بلکہ یہ نیکیاں اور تقویٰ ہے جو ہماری کامیابی کا ضامن ہیں ورنہ دنیاوی لحاظ سے تو نہ ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ طاقت ہے۔ ہم تو غیروں کا اپنے وسائل کے ساتھ ایک منٹ بھی مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن اگر ہم میں تقویٰ پیدا ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں وہ طاقتیں عطا کروں گا جن کا کوئی غیر اور بڑی سے بڑی طاقت بھی مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خاص تبدیلی پیدا کرے اپنے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں شامل ہو کر ہم نے جو عہد کیا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں گے۔ اس کی عبادات بجا لائیں گے، اس کے حکموں پر عمل کریں گے دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، مخلوق کے حقوق ادا کریں گے، اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھائیں گے…… جیسا کہ میں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ آپ اپنا ہر فعل کر رہے ہوں گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور آپ نہ صرف جماعتی لحاظ سے مضبوط ہوں گے بلکہ ذاتی طور پر بھی معاشرے میں آپ کا مقام بلند ہو گا۔ آپ کے مال اور اولاد میں خداتعالیٰ برکت نازل فرمائے گا اور آپ کو عزت کا مقام عطا کرے گا۔

اخبار لکھتا ہے کہ (امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے سورۃ الطلاق کی آیت وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ (الطَّلَاق 3-4) کو بیان کر کے فرمایا کہ جو شخص خداتعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے۔ خداتعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا ہے اور اسے ایسے مواقع سے بچا لیتا ہے جو خلافِ حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔

حضور انور کے خطبہ سے اخبار نے حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ حوالہ بھی نقل کیا ہے کہ :
پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔ خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔

جماعت احمدیہ تنزانیہ کے بارے میں امام (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ:
پس دیکھیں آپ لوگ جو افریقہ کے اس ملک میں بیٹھے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کے درخت وجود کی شاخیں ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپؑ کی جماعت کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والوں اور تقویٰ سے ہٹے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ سلوک فرماتا ہے۔ پس یہ مخالفین جھوٹے ہیں اور یقیناً جھوٹے ہیں۔

اخبار نے حضور انور کے اس خطبہ جمعہ کے آخر میں جو فرمایا اس کو لکھا کہ:
امام (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم ہمیشہ صدق کے قدم پرچلنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تقویٰ پر قائم رکھتے ہوئے اس مضبوط بندھن کو اور مضبوط کرنے کی توفیق دے۔ آپ مجھے پیارے ہیں اس لئے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں اور ہر وہ شخص مجھے پیارا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے محبت کرتا ہے اور آپ کے روحانی فرزند سے آپ سے محبت کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے یہ سب تقاضے پورا کرنے کی توفیق دے۔ آمین

’الاخبار‘ نے اپنے عربی سیکشن میں 18 جون 2005ء صفحہ 25 پر ہمارے طوسان ایریزونا میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی خبر دو تصاویر کے ساتھ شائع کی ہے۔

ایک تصویر میں سٹیج پر خدام کا عہد دہرایا جا رہا ہے اور ایک تصویر میں امام شمشاد ناصر صاحب ایک طفل کو انعام دے رہے ہیں اور سید وسیم صاحب ساتھ کھڑے ہیں۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ 28 تا 29 مئی کو طوسان میں خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا جس میں لاس ویگاس اور فی نکس سے خدام و اطفال شامل ہوئے یہ اجتماع جماعت احمدیہ کی مسجد یوسف میں ہوا۔ اس اجتماع میں ریجنل قائد امجد محمود خاں اور ناظم اطفال ناصر رانا کے علاوہ امام شمشاد ناصر، سید وسیم بھی شامل ہوئے۔ اجتماع سے ان سب نے خطاب بھی کیا۔ امجد محمود خان نے نیکیوں میں مسابقت اختیار کرنے۔ امام شمشاد ناصر نے خدام نوجوانوں کو وقت کے ضیاع سے بچنے کے لئے اور سستی و غفلت دور کرنے اور جماعتی ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں اداکرنے کی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کی خدمت کرنا ایک بہت بڑی سعادت اور نعمت ہے اور انہیں ہر روز اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ اجتماع کے موقع پر اکرم کاشمیری صدر جماعت نے بھی خطاب کیا۔ عطاء کشمیری نے تقریر بعنوان بڑوں کا ادب و احترام، طٰہٰ قریشی نے انفاق فی سبیل اللہ پر، امیر قریشی نے سچائی کے عنوان پر اور کاشف ملک نے بانی جماعت احمدیہ کے بچوں سے حسن سلوک اور تربیت کے واقعات سنائے۔ اس اجتماع میں علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی ہوئے اور جیتنے والے بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ دعا پر اجتماع ختم ہوا۔ آخر میں مسجد بیت الحمید کا فون نمبر دیا ہوا ہے کہ مزید معلومات امام شمشاد سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

’الانتشار العربی‘ اخبار اپنی 21 جولائی 2005ء کی اشاعت صفحہ 20 کے ¼ صفحہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصویر کے ساتھ 7 جولائی کی پریس ریلیز شائع کرتا ہے جو لندن سے موصول ہوئی تھی۔

اس پریس ریلیز کا مضمون اور متن وہی ہے جس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لندن میں بم دھماکوں کی مذمت کی تھی کہ یہ دھماکے انسانیت کے احترام کے خلاف تھے۔ اور آپ نے متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ تعزیت اور اظہار ہمدردی کیا تھا۔

پریس ریلیز کے آخر میں جماعت احمدیہ کا تعارف بھی عربی زبان میں شائع ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کا قیام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ (1835-1908) کے ذریعہ عمل میں آیا اور یہ کہ آپ ہی موجودہ زمانے میں امام مہدی ہیں۔ آپ کے ذریعہ ایک نیک اور پاک جماعت کا قیام عمل میں آیا جو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرتی ہے اور دنیا میں عالمی اخوت و برادری قائم کرتی ہے۔ اس جماعت کا قیام خدا کے منشاء کے مطابق عمل میں آیا ہے تا دنیا میں اخلاق اور روحانیت کا صحیح قیام ہو اور مختلف مذاہب کے درمیان عزت و احترام قائم ہو اور‘‘لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ’’ کا منشاء یہ ہے کہ مذہب میں کسی قسم کا جبر نہیں ہے۔ آخر پر جماعت احمدیہ مسجد بیت الحمید کا فون نمبر ہے اور خاکسار کا تعارف ہے کہ امام شمشاد احمد ناصر نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے اور وہ امریکہ آنے سے پہلے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی خدمت کی سعادت پا چکے ہیں۔

الاخبار اپنی انگریزی سیکشن کے صفحہ 29 پر 21 جولائی 2005ء کی اشاعت میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی فوٹو کے ساتھ ہماری ایک پریس ریلیز شائع کرتا ہے۔ پریس ریلیز کے اوپر لکھا ہے کہ یہ پریس ریلیز جماعت احمدیہ کی مسجد بیت الحمید کے امام سید شمشاد احمد ناصر نے آج صبح جاری کی ہے۔ اس کا عنوان ہے:

’’لندن میں جو بم کا حملہ ہوا ہے وہ انسانیت کے خلاف ہے‘‘

جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا مسرورصاحب احمدایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔

آپ نے کہا ہے کہ آج صبح (7 جولائی2005ء) لندن میں جو بم دھماکے ہوئے ہیں، وہ کھلم کھلا فساد اور دہشت گردی ہے۔ مَیں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ حملہ آوروں نے انسانیت کی بے حرمتی کی ہے اور اس واقعہ کی اور بم دھماکوں کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔

اسلام تو انسانیت کی اقدار قائم کرنے کے لئے آیا تھا نہ کہ معصوموں کی جان لینے کے لئے۔اسلام کی تعلیم کےمطابق جو کوئی ایک شخص کی جان لیتا ہے وہ تمام انسانیت کا قاتل ہے۔

حضرت مرزا مسرور احمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو ہمدردی کا پیغام بھی بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں دلی ہمدردی کے ساتھ فوت ہونے والوں کے خاندانوں سےتعزیت کرتا ہوں اور دیگر زخمی ہونے والوں اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کرتا ہوں۔

میں سب کے لئے دعا کر رہا ہوں اور اس مشکل وقت میں ہم سب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر رحم فرمائے۔

ڈیلی بلٹن اپنی اشاعت 2 اگست 2005ء کےصفحہ A3 پر ایک خبر شائع کرتا ہے جس کا عنوان ہے:

’’چینو کی مسجد کی لیڈرشپ حملہ کی مذمت کرتے ہیں‘‘

اخبار لکھتا ہے کہ مسجد بیت الحمید کے امام شمشاد ناصر جو احمدیہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے لندن بم حملہ کی شدید مذمت کی ہےاور کہا ہے کہ حملہ آوروں نے انسانیت کے تقدس کو پامال کیا ہے اور قرآن اس بات سے منع کرتا ہے کہ کسی کی جان لی جائے۔ اخبار نے لکھا کہ بم کے ذریعہ لندن میں ٹرین اور بس پر جو حملہ ہوا تھا اس میں 52 لوگ مارے گئے ہیںاور سینکڑوں زخمی ہوئےہیں۔ پولیس نے 4 مسلمانوں پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ یہ خبر میسن سٹاک سٹل نے دی ہے۔

مسلم ورلڈ ٹوڈے نے اپنی اشاعت 5 اگست 2005ء کے صفحہ 19 پر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے ’’لندن میں بم کے ذریعہ حملہ اور دہشت گردی کی سخت مذمت کی ہے۔‘‘ اوریہ بھی کہاہےکہ یہ انسانیت کے خلاف دہشت گردی ہے۔ اخبار نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصویر بھی دی ہے اور لکھا :
حضرت مرزا مسرور احمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا ہیں، نے لندن میں بم کے ذریعہ حملہ کوانسانیت کے خلاف کھلم کھلا دہشت گردی قراردیاہے اوراس کی شدید مذمت کی ہے۔ حملہ آور نے مکمل طور پر انسانیت کی قدروں کے خلاف کام کیا ہے اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے۔

دہشت گردی خواہ کسی قسم کی بھی ہو اس کی مذہب میں بالکل گنجائش نہیں ہے اور اسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں کیونکہ اسلام تو ہے ہی امن کا مذہب۔ قرآن کریم نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو ایک معصوم کی جان لے اس نے گویا ساری انسانیت کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔

حضرت مرزا مسرور احمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے متاثرین کے خاندانوں کو ہمدردی کا پیغام بھجوایا ہے اور سب کے ساتھ مخلصانہ تعزیت کی ہے ۔ جو لوگ زخمی ہوئے ہیںان کے لئے آپ نے دعا کی۔

خبر کے آخر پر جماعت احمدیہ کا تعارف بھی دیا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ اس وقت 175 ممالک میں قائم ہے (یہ 2005ء کی بات لکھی گئی ہے) جماعت احمدیہ کا قیام 1889ء میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ذریعہ عمل میں آیا۔ آپ ہی وہ ہیں جن کا آخری زمانے میں امام مہدی، ریفارمر، مسیح موعودؑ کے طور پر انتظار ہو رہا ہے۔ جماعت احمدیہ مختلف محاذوں پر خدمات بجا لا رہی ہے۔ جماعت احمدیہ کو امن پسند جماعت، قانون کی پابند جماعت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ جماعت احمدیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مذہب کو طاقت کے ذریعہ نہیں پھیلانا چاہئے جیسا کہ قران مجید میں حکم ہے کہ مذہب کے معاملہ میں کسی قسم کا بھی جبر نہیں ہے۔ جماعت احمدیہ مکمل طور پر کھلم کھلا دہشت گردی اور فساد کے خلاف ہے۔ اسلام اس کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔

العرب۔ اخبار نے اپنی اشاعت 10 اگست 2005ء میں صفحہ 25 پر خدام الاحمدیہ کے ریجنل اجتماع کی تصویر کے ساتھ خبر دی ہے۔ یہ اخبار کے انگریزی سیکشن میں ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ لاس اینجلس سے قریباً 55 خدام و اطفال نے سلی کین ویلی کا سفر کیا اور 19 ویں ریجنل اجتماع میں شامل ہوئے۔ یہ اجتماع 15 تا17 جولائی 2005ء کومنعقد ہوا۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ ہر سال خدام و اطفال یہ اجتماع کرتے ہیں تاکہ ان کے نوجوان علمی اور وروزشی مقابلہ جات میں حصہ لیں ۔کچھ عرصہ پہلے لندن میں جو بم کے ذریعہ حملہ کیا گیا اس حوالہ سے اس سال کےاجتماع کا موضوع قدرے مختلف ہے۔ جویہ ہےکہ نوجوانوں کو دہشت گردی کی حقیقت کے بارے میں بتایا جائے اور اسلام کی صحیح تصویر اور واضح تعلیمات سے انہیںآگاہی دی جائے کہ اسلام میں یا دیگر مذاہب میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مذہب یہ سکھاتا ہے۔

اس اجتماع کے موقعہ پر ریجنل قائد خدام الاحمدیہ مکرم امجد محمود صاحب نے کہا کہ جماعت احمدیہ عالمگیر گزشتہ 116 سال سے محبت اور پیار اور بھائی چارے کا درس دے رہی ہے اور دہشت گردی کی کھلم کھلا مذمت کر رہی ہے۔ اس قسم کے اجتماع نوجوانوں کی تربیت کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں تاکہ وہ معاشرہ کا امن پسند حصہ بنیں۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے امام شمشاد ناصر مسجد بیت الحمید چینو نے کہا کہ قرآن کریم ہمیں آپس میں پیار محبت کی تعلیم دیتا ہے اور ہمیں نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے سبقت لے جانے کی تلقین کرتا ہے۔ امام شمشاد نے آنحضرت ﷺ کے نوجوان صحابہ کے سنہری کارنامے بھی بیان کئے تا نوجوان انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔

امام ارشاد ملہی آف شمالی کیفلیورنیا نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ خدام و اطفال کو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئے کیونکہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس اجتماع کے موقع پر خدام و اطفال میں انعامات بھی تقسیم ہوئے۔ خبر کے آخر پر جماعت احمدیہ کا عمومی تعارف بھی شامل ہے۔

انڈیا ویسٹ نے 12 اگست 2005ء کےشمارےکےصفحہ 31A پر اس عنوان سے خبر دی ہے:

’’احمدیوں کے لیڈر نے لندن حملہ کی مزمت کی ہے‘‘

اخبار اپنے سٹاف رپورٹر کے حوالہ سے خبر دیتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا نے لندن میں بم حملہ کی شدید مذمت کی ہے جس سے 50 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ مسجد بیت الحمید سے جو اس سلسلہ میں پریس ریلیز شائع ہوا ہے اس کے مطابق جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا مسرور احمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ دہشت گردی اور فساد پھیلانے والا ہے۔ دہشت گردوں اور حملہ آوروں نے انسانیت کے تقدس کا بالکل احترام نہیں کیا۔ یہ ظالمانہ اقدام انسانیت اور انصاف دونوں کے خلاف ہے۔ دہشت گردی خواہ کسی بھی قسم کی ہو اس کا مذہب کےساتھ کچھ تعلق نہیں ہے اور اسلام کے ساتھ تو اس کا کچھ بھی جوڑ نہیں ہے۔ اسلام سراسر امن کا مذہب ہے۔ آپ نے کہا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو شخص کسی ایک معصوم کی جان لیتا ہے گویا اس نے تمام انسانیت کا قتل کیا۔ امام جماعت احمدیہ نے متاثرین افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیاہے۔انہوں نے سب کے لئے دعا بھی کی۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 18 اگست 2005ء کےصفحہ 20 پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے خطبۂ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح کا خلاصہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصویر کے ساتھ اپنے ¼ سے زائد صفحہ پر شائع کیا ہے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ خطبہ امانت دیانت، اور عہد کی پابندی سے متعلق آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع و پیروی اور آپ ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے واقعات کی روشنی میں ارشاد فرمایا۔

اخبار نے لکھا کہ امام جماعت احمدیہ کا یہ خطبہ ایم ٹی اے پر 178 ممالک میں سنا اور دیکھا گیا۔ اپنے خطبۂ جمعہ میں امام (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے فرمایا کہ آج آنحضرت ﷺ کی سیرت اور اسوہ پر جس پہلو کا میں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ہے امانت ودیانت اور عہد کی پابندی۔ یہ ایک ایسا خلق ہے جس کی آج ہمیں ہر طبقے میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ بظاہر جو ایماندار نظر آتے ہیں، عہدوں کے پابند نظر آتے ہیں جب اپنے مفاد ہوں تو نہ امانت رہتی ہے، نہ دیانت رہتی ہے اور نہ عہدوں کی پابندی رہتی ہے۔ دو معیار اپنائے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے ہادی ٔکامل ﷺ نے اپنے عمل سے اوراپنے اسوہ سےاپنی امت کو ان باتوں کی پابندی کرتے ہوئے عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ اب وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکتا ہے۔ اس سے باہر کوئی چیز نہیں۔

اخبار لکھتا ہےکہ امام (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے فرمایا:
اب دیکھیں آجکل بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ اپنے آپ کو بڑی پڑھی لکھی اور مہذب کہنے والی قومیں کمزور قوموں کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے حربے استعمال کررہی ہوتی ہیںکہ انسانیت شرماجائے۔ آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی حالت میں (یعنی جنگ کےد وران) جب کہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دشمن کو ایسی حالت میں لایا جائے جس سے وہ مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے، آپ نے امانت و دیانت کے کیا اعلیٰ نمونے دکھائے اور تاریخ اس کی گواہ ہےکہ جب اسلامی فوجوں نے خیبر کو گھیرا تو اس وقت وہاں کے یہودی سردار کا ایک ملازم، ایک جانور چرانے والا، جانوروں کا نگران جانوروں سمیت اسلامی لشکر کے علاقہ میں آگیا اور مسلمان ہو گیا اور کہا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں میں واپس نہیں جانا چاہتا۔یہ بکریاں میرے پاس ہیں ان کا میں کیا کروں؟ ان کا مالک یہودی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان بکریوں کا منہ قلعے کی طرف پھیر کر ہانک دو، وہ خود اپنے مالک کے پاس پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے (امام جماعت احمدیہ عالمگیر نے) فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے منافق کی یہ تین نشانیاں ہیں: جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ جب امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔

امام (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)نے آنحضرت ﷺ کی زندگی کے مزید حالات بیان کئے جن سے امانت اور عہدوں کی پاسداری ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ نے حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کے چند اقتباسات پیش کئے۔ آخر میں آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق دے اور ان خوش قسمتوں میں شامل فرمائے جو آنحضرت ﷺ کی اپنی امت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث بننے والےہوں اور حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی جماعت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث بھی بننے والے ہوں۔

آپ نے فرمایا کہ مَیںایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ انڈونیشیا میں ہمارا جلسہ ہو رہا تھا کہ مخالفین نے حملہ کیا ۔کچھ احمدی زخمی بھی ہوئے۔ آج وہاں ایک اور شہر پر حملہ کرنا تھا۔ وہاں پر بھی کچھ احمدی زخمی ہوئے ہیں اور انتظامیہ کا تعاون بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انتظامیہ نے ہمارے احمدیوں سے مسجد بھی خالی کرالی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان مخالفین سے نمٹے اور جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔

بیروت ٹائمز۔ یہ بھی عربی کا بڑا مشہور اخبار ہے جو لاس اینجلس ہی سے نکلتا ہے۔ خاکسار نے اس اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹرز سے متعدد مرتبہ بذریعہ فون بات کی ہے اور جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا ہے۔ اس کے ایڈیٹر بھی عیسائی ہیں۔ اس اخبار نے اپنی اشاعت 18 اگست 2005ء میں صفحہ 32 پرموجودعربی سیکشن میں ہمارے خدام الاحمدیہ کی ایک تصویر کے ساتھ خبر لگائی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ 15تا17 جولائی 2005ء کو جماعت احمدیہ کے خدام الاحمدیہ کا ریجنل اجتماع ہوا جس میں قریباً 55 نوجوان شامل ہوئے۔ جبکہ تمام ریجن سے 170 خدام و اطفال شامل ہوئے۔ یہ اجتماع سلی کین ویلی میں ہوا۔ مکرم امجد محمودصاحب نے خدام کو بتایا کہ ہم دنیا میں محبت اور عفو کا پیغام دے رہیں ہیں۔

امام شمشاد ناصر مسجد بیت الحمید چینو نے بھی اس موقع پر خدام سے خطاب کیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے زمانے کے نوجوانوں کی قربانیوں کی مثالیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں اور وفا جو انہوں نے دکھائے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں ان کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔

شمالی علاقہ جات کے مبلغ امام ارشاد ملہی صاحب نے بھی اس موقعہ پر خطاب کیا جس میں انہوں نے نوجوانوں کو کہا کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔

خبر کے آخر میں لکھا گیا ہے کہ اگر آپ کو جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات درکارہیں تو جماعت کی ویب سائٹ الاسلام ڈاٹ آرگ پر جائیں۔

الانتشار العربی نے اپنے اگست کے شمارہ کےصفحہ 20 پر ’’مسجد بیت الحمید چینو‘‘ کے عنوان سے عربی سیکشن میں عربی زبان میں خبر دی کہ خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کا 15تا17 جولائی سالانہ اجتماع سلی کین ویلی میں ہواجس میں لاس اینجلس سے 55 خدام واطفال شریک ہوئے۔ اس اجتماع کی کل حاضری 170 تھی اور 12 مجالس سے خدام واطفال شامل ہوئے۔ اجتماع میں علمی وورزشی مقابلہ جات بھی ہوئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ گزشتہ 116سال سے یہ تعلیم دے رہی ہے کہ خداتعالیٰ کی عبادت کرو اور مخلوق کے حقوق ادا کرو۔ جماعت احمدیہ محبت سب کے لئےاور نفرت کسی سے نہیں پر یقین رکھتی ہے۔ مکرم امجد محمود خان صاحب ریجنل قائد نے اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے مسابقت الی الخیرات کی طرف توجہ دلائی۔

امام شمشاد ناصر آف مسجدبیت الحمید نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں محبت و اخوت اور مسلمان نوجوانوں کے سنہری کارنامے مثالوں کے ذریعہ بیان کئے۔

امام ارشاد ملہی صاحب نے بھی اس موقع پر نوجوانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔ خبر کے آخر میں ہماری ویب سائٹ اور مسجد بیت الحمید کا فون نمبر درج ہے۔

چینو چیمپئن نے بھی اپنی اشاعت 20 اگست 2005ءکے صفحہ A-8 پر تصویر کے ساتھ یہی مذکورہ بالا خبر دی ہے۔ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ احمدیہ مسلم نوجوانوں نے اپنے سالانہ اجتماع میں شرکت کی۔ مسجد بیت الحمید سے تعلق رکھنے والے قریباً 70 خدام و اطفال شمالی کیلیفورنیا میں اجتماع کے لئے گئے۔

الانتشار العربی نے اپنی یکم ستمبر 2005ء صفحہ 20 پر حضر ت اقدس مسیح موعود ؑکی تصویر کے ساتھ یہ عنوان لگایا کہ یہ وقت تیر و تلوار کا نہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی کتاب ’’مواہب الرحمان‘‘ سے ایک اقتباس شائع کیا گیا ہے جس میں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ زمانہ جنگ و جدل اور تیر وتفنگ کا نہیں بلکہ خداتعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ اپنے آپ کو توبہ و پاکبازی سے مسلح کریں۔ خداتعالیٰ کی نصرت اسی طریق پر آئے گی۔ دنیا اس وقت کثرت گناہ سے بھر گئی ہے اور یہ وقت شمشیر زنی کا نہیں ہے۔ بلکہ تزکیہ نفس کرنے کا ہے اور اس وقت جس طرح فساد دشمنوں کے دلوں میں ہے اسی طرح قریباً مسلمانوں کے دلوں میں بھی ہو گیا ہے۔ اس وقت بجز عفت اور تقویٰ کے کچھ نہیں ہو گا۔ خدا مسلمان بادشاہوں کی غفلت اور سستی کی وجہ سے مدد نہیں کرے گا اور وہ لوگ دین سے بالکل بے پرواہ اور غافل ہو گئے ہیں بلکہ اپنا غضب نازل کرے گا۔ کیونکہ وہ خدا کی حدود کو بالکل بھول گئے ہیں اور خدا کے حکموں کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ اور وہ متقی نہیں ہیں۔

الاخبار یہ بھی عربی کا اخبار ہے۔ اس کے ایڈیٹر ایک عیسائی ہیں ’’سام سبا‘‘ بہت اچھے شریف النفس ہیں۔ جب بھی حضورانور ایدہ ا للہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں بڑے ادب اور احترام کے ساتھ۔ اس اخبار کے ساتھ بھی خاکسار نے رابطہ کیا۔ اور اب قریباً پندرہ برس ہو رہے ہیں کہ ان کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ رمضان المبارک اور دیگر مواقع پر خاکسار کو توجہ دلائے گا کہ عربی میں مضمون لکھ کر دیں اور اخبار کو بھجوائیں۔ باوجود عیسائی ہونے کے اب آنحضرت ﷺ کا نام بھی بہت ادب اور احترام سے لیتا ہے۔

اس کی خصوصیت کے ساتھ وجہ یہ بنی کہ جب سے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات پڑھنے اور اپنے اخبار میں دینے شروع کئے ہیں ان کا علم بھی بڑھا اور انہیں جماعت کے عقائد کا بھی علم ہوا اور جو عقیدت ہمیں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے اس کا بھی علم ہوا۔ اس لئے ہمیشہ ادب و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا یہ حضور انور کے خطبات کا ہی اثر ہے الحمد للہ علیٰ ذالک۔ حالانکہ خود عیسائی ہے۔

یہ اخبار اپنی ستمبر 2005ء کی اشاعت کے صفحہ 30 پر (انگریزی سیکشن) میں ہمارے جلسہ سالانہ امریکہ کی خبر دیتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ امریکہ کا 57واں جلسہ سالانہ ورجینیا کے ایکسپو سنٹر میں جو کہ 2تا4ستمبر 2005 منعقد ہوا بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ جس میں قریباً 4 ہزار سے زائد مندوبین سارے امریکہ سے شامل ہوئے۔ امریکہ کے علاوہ کینیڈااور پاکستان سے بھی لوگ شامل ہوئے۔ جمعہ کے دن جماعت امریکہ کے نیشنل صدر ڈاکٹر احسان اللہ صاحب ظفر نے پہلے سیشن کی صدارت کی۔ سیشن شروع ہونے سے پہلے انہوں نے لوائے احمدیت بھی لہرایا۔

انہوں نے احباب کو جلسہ میں خوش آمدید کہا اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس جو کہ عالمگیر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا ہیں ، کا اس موقعہ کے لئے پیغام پڑھ کر سنایا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جماعت کے لوگوں کو تقویٰ اختیار کرنا چاہئے تا وہ خداتعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں۔ ممبران جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کے لئے وقف رکھیں۔ نیز وہ ہر قسم کی بدعات وشروعات سے بھی اجتناب کریں۔ خصوصیت کے ساتھ شادی بیاہ کے مواقع پر غیرشرعی و غیراسلامی رسومات سے بچیں۔

ہفتہ کے دن مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفرصاحب نے مہمانوں کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی اور آپ کے صحابہ کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے کس طرح ہر موقع پر ہر قسم کی قربانی دے کر بھی امن کو قائم کیا اور برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا سلوک کیا باوجود اس کے کہ انہیں سخت تکالیف دی گئیں۔ مکرم ڈاکٹر ظفر صاحب نے اسلام کے بارے میں جو شبہات اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کا ازالہ بھی کیا۔ اس کے بعد مہمانوں کی خدمت میں ڈنر پیش کیا گیا۔

اس کے بعد ایک پینل نے مہمانوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔ پینل میں امام شمشاد ناصر آف کیلیفورنیا، امام مبشر صاحب آف شکاگو، امام انعام الحق کوثر آف نیویارک، مسٹر ناصر ملک، سیکرٹری تربیت نے احباب کے سوالوں کے جوابات دیئے۔

مہمانوں نے جماعت احمدیہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ 3 دن کے جلسہ میں جن عناوین پر تقاریر ہوئیں ان میں ’’اللہ تعالیٰ پر توکل، آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی سیرت کے پہلو، اخوت و محبت، اطاعت‘‘
چیئرمین ہیومینیٹی فرسٹ مکرم منعم نعیم صاحب نے گزشتہ 2 سال کی ہیومینیٹی فرسٹ کی خدمات اور جو ہدف حاصل کئے کو بیان کیا۔ انہوں نے خاص طور پر بتایا کہ ہیومینیٹی فرسٹ کے ذریعہ انڈونیشیا کے سونامی سے متاثر ہونے والے خاندان، اسی طرح گیانا میں، پھر امریکہ میں قطرینہ سونامی سے متاثرین کی مدد کی گئی۔

جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ویسٹ کوسٹ کے علاقہ سے بھی مقررین نے تقاریر کیں جن میں امام شمشاد ناصر، مکرم ڈاکٹر وسیم سید صاحب اور مکرم امجد محمود خان صاحب شامل ہیں۔

مکرم ڈاکٹر سید وسیم صاحب نے نظام وصیت میں شمولیت کی طرف توجہ دلائی۔ مکرم امجد محمود خان صاحب نے بتایا کہ اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے آنے کی غرض یہ تھی کہ تلوار کی بجائے قلم سے جہاد کیا جائے۔ اور امام شمشاد ناصر نے بتایا کہ خلافت کی پوری پوری اطاعت کی جائے کیونکہ اس میں جماعت کی ترقیات ہیں اور خلافت کے ذریعہ ہی اتحاد قائم ہو گا۔ اور خلافت کے ذریعہ ہی ہر مشکل آسان ہوتی ہے۔

انڈیا ویسٹ نے 9 ستمبر 2005ء صفحہ C-34 پر ہمارے خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی خبر ایک تصویر کے ساتھ اس عنوان سے دی ہے۔

’’مسلم نوجوان اکٹھے ہوئے ہیں‘‘ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ مسلمان نوجوان اور امام شمشاد ناصر سلی کین ویلی میں اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ :
ویسٹ کوسٹ کی 12 مجالس سے قریباً 270 خدام و اطفال (مسلم نوجوان) یہاں اکٹھے ہوئے ہیں تا 3 دن روحانی اور دینی ماحول میں رہ کر اپنی علمی استعدادوں کو بڑھائیں ۔ دوران اجتماع علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی ہوئے۔ ریجنل قائد مکرم امجد محمود خان صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو شروع دن سے ہی دہشت گردی اور فساد کے خلاف ہیں اور اسی بات کی تعلیم دے رہے ہیں اور اس قسم کا اجتماع اس مقصد کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

امام شمشاد ناصر نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کی تاریخ کو بھی پڑھنا چاہئے، کہ کس طرح نوجوانوں نے اسلامی تاریخ میں سنہری کارنامے سرانجام دیئے، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ اجتماع میں مقابلہ جات میں جیتنے والوں کو انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مرسلہ: مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جنوری 2021