• 25 ستمبر, 2020

الفضل کی توسیع اشاعت اور مطالعہ کے حوالہ سے خلفاء سلسلہ کی توقعات و ارشادات

’’الفضل ہمارے سلسلہ کا آرگن ہے،یہ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے اخبارات میں سے سب سے مقدم ہے۔‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر گھر میں الفضل پہنچے اور الفضل سے ہر گھر فائدہ اٹھارہا ہو ۔‘‘ (حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ)

الفضل کا دستور العمل

حضرت حافظ حکیم مولانا نورالدین بھیروی خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں۔
’’برادران و عزیزان و بزرگان اخبار میں وہ مضمون دو جس میں نفسانیہ خواہشات ،سوء ظن،تفرقہ و امراء پر اعتراض اور اس میں ناعاقبت اندیشی خودغرضی، طمع، دین الہٰی سے بے خبری، نفاق جو بدعہدیوں سے پیدا ہوتا ہے اور حکام کی نااہلی، ترک افشاء سلام (خصوصاً ہندوستان میں یہ مبارک دعا معیوب یقین کی گئی) ترک جمعہ و جماعات امراء میں تعلّی،عادات بدنی نے کہاں نوبت پہنچائی ہے کا علاج۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔‘‘

(الفضل 18 جون 1913ء)

الفضل کے اجراء کا پس منظر

حضرت مصلح موعودؓ الفضل کے اجراء کا پس منظر بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں۔
’’اس بات کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی جان سکتا ہے کہ کن کن دعاؤں اور استخاروں کے بعد ہم نے الفضل کی اشاعت کا کام اپنے ذمہ لیا ہے چونکہ خداتعالیٰ کے سوا علیم و خبیر اور کوئی ہستی نہیں۔اس لئے ہمارے اس دکھ اور تکلیف کا بھی کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا جو اس اخبار کے اجراء کا موجب ہوا۔

……تمام بنی نوع انسان کے لئے بالعموم میرے دل میں پوشیدہ تھے۔سمجھنا ہر ایک انسان کا کام نہ تھا اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا تھا کہ کس دکھ اور درد نے مجھے اس طرف مائل کیا کہ میں ایک اخبار کے ذریعہ سے ان نقائص کو دور کرنے کی کوشش کروں۔جو اس وقت (جماعت احمدیہ) میں پیدا ہورہے ہیں۔

’’میں جب اس کام کے لئے اٹھا تو دور تاریکی میں ایک آواز تھی جس کے بلانے پر میں اٹھا اور ایک صدا تھی جس کے جواب دینے کے لئے میں نے حرکت کی میں نہیں جانتا تھا کہ دراصل کیا ضرورت ہے جس کے پورا کرنے کے لئے میں جدوجہد کرنے لگا ہوں۔ میں لوگوں کو ضروریات بتاتا تھا۔ مگر خود غافل تھا جس طرح خواب میں ایک شخص آنے والے واقعات کو اونچی آواز سے بیان کر دیتا ہے۔ سننے والے سن لیتے ہیں اور وہ خود بے خبر ہوتا ہے یہی میری حالت تھی کہ میں لوگوں کو آنے والے خطرات سے ڈراتا تھا لیکن خود ان کی اہمیت سے ناواقف تھا کیونکہ مستقبل کی آفات سے کوئی شخص کیونکر واقف ہوسکتا ہے۔میں بھی ایک انسان تھا اور میرا معاملہ دوسروں سے علیحدہ نہ تھا آخر وقت نے ثابت کر دیا کہ میں نے جو نہ سمجھا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا اورجس کا مجھے علم نہ تھا وہ خدا کے علم میں تھا زمانہ نے خود بتادیا کہ الفضل کی ضرورت تھی اور سخت تھی۔ یہ ڈوبتے ہوؤں کے لئے ایک تنکا تھا اور کہتے ہیں کہ ڈوبتے ہوؤں کے لئے ایک تنکا کا بھی سہارا کافی ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بارش تھی جو عین وقت پر ہوئی میں نہیں جانتا کہ الفضل نے کیا کیا اور اس کا اثر کیا ہوا۔ خداتعالیٰ خود اسے ثابت کرے گا اور مستقبل کے تاریک پردہ میں سے اس کے اثرات کی روشن تصویرخود بخود سامنے آجائے گی نہ مجھے اس کا علم ہے اور نہ مجھے اس کے جاننے سے کچھ فائدہ ہے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ اس اخبار کی ضرورت تھی اور یہی وجہ ہے کہ ایک قدوس ذات مجھے آگے دھکیل رہی تھی۔ میں جو پہلے لوگوں کو اس کی ضروریات سمجھاتا رہا تھا۔ آنکھ کھلنے پر حیران ہوں کہ میں خود ناواقف تھااورلوگوں کو واقف کرتا رہتا تھا۔‘‘

(روزنامہ الفضل 15 اکتوبر 1913ء)

ایک اور موقع پر آپؓ نے فرمایا:
’’آج لوگوں کے نزدیک الفضل کوئی قیمتی چیز نہیں مگر وہ دن آرہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے جب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپیہ ہوگی لیکن کوتاہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشیدہ ہے۔‘‘

(الفضل 28 مارچ 1946ء)

لکھنے والوں کو بعض نصائح

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ الفضل میں مضامین لکھنے والوں کو بعض نصائح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’اسی طرح دوستوں کو اور علمی مسائل کے متعلق کتابیں لکھنی چاہئیں،مگر وہ مسائل علمی ہونے چائیں۔ دوسروں کی اندھی تقلید میں رٹ نہیں لگانی چاہئے۔……پس جو اصولی نیکیاں ہیں ان کو پیش کرنا چاہئے اور انہی پر زیادہ زور دینا چاہئے۔لیکن اگر کسی کی کوئی ایسی نیکی پیش کرتے ہیں جو رسول کریم ﷺ یا حضرت مسیح موعود ؑمیں نہیں پائی جاتی تھی تو ہم حضرت عمرؓ یا کسی اورکی تعریف نہیں کرتے بلکہ رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کی ہتک کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح آگے چل کر فرمایا کہ

’’الفضل ہمارے سلسلہ کا آرگن ہے لیکن اس میں متعدد دفعہ ایسے مضامین شائع ہوئے ہیں۔پہلے ایک لکھتا ہے اور دو چار مہینے کے بعد وہی مضمون اپنے الفاظ میں نقل کر کے کوئی دوسرا دوہرا دیتا ہے اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھا جاتا کہ ان مضامین کے نتیجہ میں رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ پر اعتراض واقعہ ہو جائے گا اور مخالف کہے گا کہ اگر یہ نیکی ہے تو آیا یہ نیکی ان میں بھی پائی جاتی تھی جن کو تم نبی،رسول اور دنیا کا نجات دہندہ سمجھتے ہو۔‘‘

(خطبات شوریٰ جلد دوم صفحہ217 تا 218)

الفضل کی اشاعت میں اضافہ کی ضرورت

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1938ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’روزنامہ الفضل سلسلہ احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے اخبارات میں سے سب سے مقدم الفضل ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت اخبارات اور لٹریچر کی اشاعت کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنا متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اتنی وسیع جماعت میں جو سارے ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی سینکڑوں انجمنیں ہیں صرف دو ہزار کے قریب الفضل کی خریداری ہے حالانکہ اتنی وسیع جماعت میں الفضل کی اشاعت کم از کم پانچ سات ہزار ہونی چاہئے۔ایک علمی اور مذہبی جماعت میں الفضل کی اس قدر کم خریداری بہت ہی افسوسناک ہے۔‘‘

(الفضل 16 نومبر 1960ء)

الفضل خرید کر پڑھنے کی تحریک

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔
’’میرے سامنے جب کوئی کہتا ہے کہ الفضل میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اسے خریدا جائے تو میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو اس میں کئی باتیں نظر آجاتی ہیں آپ کا علم چونکہ مجھ سے زیادہ وسیع ہے اس لئے ممکن ہے کہ آپ کو اس میں کوئی بات نظر نہ آتی ہو۔

اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کے دل کی کھڑکی بند ہوجائے تو اس میں کوئی نور کی شعاع داخل نہیں ہو سکتی پس اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے اپنے دل کا سوراخ بند ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا۔
اس سستی اور غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اخباری زندگی اتنی مضبوط نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے حالانکہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اس زمانہ میں اشاعت کے مراکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 543)

کم از کم 20 ہزار احمدی احباب اخبار خرید سکتے ہیں

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔
’’میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر اخبارات کے متعلق ہماری جماعت کی وہی حالت ہو جائے جو حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں تھی تو اخبار الفضل کے روزانہ ہونے کے باوجود کم ازکم پانچ ہزار خریدار پیدا ہوسکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہمارے دوستوں کے اندر وہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کہیں ہم نے بہرحال اخبار خریدنا ہے چاہے ہمیں پڑھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو اور اسی روح سے کام کرنے کے نتیجے میں باقی رسائل وغیرہ کے بھی ہزار دو ہزار خریدار ہوسکتے ہیں کیونکہ اس وقت پنجاب میں ہماری ایک لاکھ سے زیادہ معلوم جماعت ہے۔ وہ لوگ جوکمزوری کی وجہ سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتے یا دل میں تو احمدی ہیں مگر ہمیں ان کی احمدیت کا علم نہیں وہ اس سے الگ ہیں اور اگر سارے ہندوستان کو دیکھا جائے تو اس میں جو ہماری معلوم جماعت ہے اس کو شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد 2 لاکھ تک ہو جاتی ہے اور اگر بیرون ہند کی معلوم جماعت کو اس میں شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد تین ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ گویا وہ احمدی جو ہمارے ریکارڈ کے لحاظ سے ہمیں معلوم ہیں اور جو اپنے آپ کو ایک نظام میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ وہ تین چار لاکھ سے کم نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اندر زندگی کی حقیقی روح پیدا کریں اور عورتوں اور بچوں اور ان لوگوں کو نکال بھی دیا جائے جو انتہائی غربت کی وجہ سے کسی اخبار کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم ازکم بیس ہزار لوگ یقیناً ہماری جماعت میں ایسے موجود ہیں جو سستا یا مہنگا کوئی نہ کوئی اخبار خرید سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی اور ان کا نفس یہ عذر تراشنے لگ جاتا ہے کہ اور چندوں کی کثرت کی وجہ سے ہم اخبار نہیں خرید سکتے حالانکہ اس قسم کے چندے حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں بھی تھے اور گو اس وقت عام چندہ کم تھا مگر ایسے مخلص بھی موجود تھے جو اپنا تمام اندوختہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں پیش کردیتے تھے۔‘‘

(انوار العلوم جلد 14 ص 543)

خریداروں میں اضافہ کی ضرورت

حضرت مصلح موعودؓ نے 7 نومبر 1954ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’ہمارے ملک میں اخبارات اور رسائل پڑھنے کا شوق بہت کم ہے۔الفضل ہمارا مرکزی اخبار ہے لیکن اس کی اشاعت بھی ابھی دو ہزار ہے حالانکہ ہماری جماعت بہت بڑھ چکی ہے۔اگر جماعت کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ فیصدی بھی اخبار کی اشاعت ہوتی تو دس ہزار اخبار چھپنا چاہئے تھا اور صرف مردوں میں اس کی خریداری ہوتی تب بھی پانچ ہزار خریدار ہونے چاہئے تھے۔ مگر الفضل کا خطبہ نمبر 24 سو چھپتا ہے اور یہ تعداد بھی بڑا زور مارنے کے بعد ہوئی ہے ورنہ پہلے تو بہت ہی بدتر حالت تھی۔صرف گیارہ بارہ سو اخبار چھپتا تھا۔میں نے زور دیا تو چھبیس سو تک اس کی خریداری پہنچ گئی لیکن پارٹیشن کے بعد چونکہ میں نے ذاتی طور پر اس کی اشاعت میں دلچسپی نہیں لی اس لئے پھر اس کی خریداری بیس سو تک آگئی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اگر جماعت توجہ کرے تو چار پانچ ہزار تک اس کی بِکری ہوسکتی ہے اور پھر ایسی صورت میں الفضل کا حجم بھی بڑھایا جاسکتا ہے اور اس کے مضمون میں بھی تنوع پیدا کیا جاسکتا ہے۔‘‘

(مشعل راہ جلد اول ص701)

خریداری کی میں سفارش کرتا ہوں

حضرت مصلح موعودؓ بانی الفضل نے جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1941ء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’پس دوستوں کو اخبارات کی اشاعت کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے اور دوسروں کو بھی اس کی تحریک کرنی چاہئے۔ ہماری جماعت اتنی ہی نہیں جتنی یہاں موجود ہے۔ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے بہت زیادہ ہے۔ کسی زمانہ میں ساری جماعت عورتیں 2 بچے ملا کر بھی اتنی ہی ہوگی جتنی اب یہاں موجود ہے مگر اس وقت سلسلہ کے اخبارات کی اشاعت ڈیڑھ دوہزار ہوتی تھی۔ مگر اب الفضل کے خریدار صرف بارہ سو ہیں حالانکہ اگر کچھ نہیں تو پانچ چھ ہزار اس وقت ہونے چاہئیں۔ لوگ غیرضروری باتوں پر روپے خرچ کردیتے ہیں۔ امراء کے گھروں میں بیسیوں چیزیں ایسی رکھی رہتی ہیں جو کسی کام نہیں آتیں۔……ایسی غیر ضروری چیزوں پر تولوگ روپے خرچ کردیتے ہیں لیکن خداتعالیٰ کی باتوں پر نہیں کرتے۔ ان کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ وہ دہرائی جاتی ہیں حالانکہ اخبارات نہ صرف ان کے فائدہ کی چیز ہیں بلکہ ان کی اولادوں کے لئے بھی ضروری ہیں۔ میں تو یہاں تک کوشش کرتا ہوں کہ جہاں تک ہوسکے ایک کتاب کی کئی کئی جلدیں مہیا کر کے رکھوں۔ میرے دل پر یہ بوجھ رہتا ہے کہ میری اولاد خداتعالیٰ کے فضل سے زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ سب کے لئے کتب مہیا نہ ہوسکیں۔میرے پاس بعض کتابوں کے تین تین چارچار نسخے ہیں۔……تو کتابوں کا رکھنا اولاد کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔ایک دن آئے گا کہ وہ دنیا میں نہ ہوں گے اس وقت ان کی اولادیں ان اخبارات کو پڑھیں گے اور اپنے ایمان کو تازہ کریں گی۔ بعد میں ان کے لئے ان کا حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

دیکھو آج پرانے الفضل اور ریویو وغیرہ کے پرچے کس قدر مشکل سے ملتے ہیں۔کئی دوستوں نے مجھ سے بھی شکایت کی ہے کہ پرانے پرچے نہیں ملتے۔پس آج دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور ان چیزوں کو خرید کر فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر اپنی اولادوں کے لئے ان کو محفوظ کر دینا چاہئے۔

سلسلہ کے اخبارات میں سے الفضل روزانہ ہے۔جہاں کوئی فرد نہ خرید سکے وہاں کی جماعتیں مل کر اسے خریدیں۔مجلس شوریٰ میں بھی اس سال یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جن جماعتوں کے افراد کی تعداد بیس یا اس سے زیادہ ہے وہ لازمی طور پر روزانہ الفضل خریدیں اور جس جماعت کے افراد کی تعداد بیس یا اس سے کم ہو وہ الفضل کا خطبہ نمبر یا فاروق خریدے……دوستوں کو چاہئے کہ کثرت سے ان اخبارات اور رسائل کو خریدیں اور انہیں خریدنا اور پڑھنا ایسا ہی ضروری سمجھیں جیسا زندگی کے لئے سانس ضروری ہے۔ یا جیسے وہ روٹی کھانا ضروری سمجھتے ہیں۔……
اخباروں اور رسائل کا خریدنا اور بھی ضروری سمجھا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ ضرور احباب توجہ کریں گے اور اخبارات و رسائل کی خریداری کو ضروری سمجھیں گے۔الفضل،فاروق،نور،سنرائز اردو انگریزی،ان سب کی خریداری کی سفارش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میری اس دفعہ کی سفارش کو دوست ضرور قبول کریں گے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد 16 ص 245)

الفضل کا مطالعہ ضروری ہے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:

’’خصوصیات سلسلہ کے لحاظ سے یہاں کے اخباروں میں سے دو اخبار الفضل و مصباح کا مطالعہ ضروری ہے اس سے نظام سلسلہ کا علم ہوتا ہے بعض لوگ اس وجہ سے ان اخباروں کو نہیں پڑھتے کہ ان کے نزدیک ان میں بڑے مشکل اور اونچے مضامین ہوتے ہیں ان کے سمجھنے کی قابلیت ان کے خیال میں ان میں نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیک ان میں ایسے چھوٹے اور معمولی مضامین ہوتے ہیں کہ وہ اسے پڑھنا فضول خیال کرتے ہیں۔ یہ دونوں خیالات غلط ہیں۔……پس تکبر مت کرو اور اپنے علم کی بڑائی میں رسائل اور اخبار کو معمولی نہ سمجھو۔قوم میں وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک خیال بنانے کے لئے ایک قسم رسائل کا پڑھنا ضروری ہے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد 11 صفحہ 67)

الفضل بطور تریاق

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

’’ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست تھے جو اب فوت ہوچکے ہیں۔ ان کے لڑکے نے ایک دفعہ مجھے لکھا کہ میرے والد صاحب میرے نام الفضل جاری نہیں کرواتے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ کیوں اس کے نام الفضل جاری نہیں کراتے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مذہب کے معاملہ میں اسے آزادی حاصل رہے اور وہ آزادانہ طور پر اس پر غور کرسکے۔ میں نے انہیں لکھا کہ الفضل پڑھنے سے تو آپ سمجھتے ہیں اس پر اثر پڑے گا اور مذہبی آزادی نہیں رہے گی۔ لیکن کیا اس کا بھی آپ نے کوئی انتظام کر لیا ہے کہ اس کے پروفیسر اس پر اثر نہ ڈالیں۔ اس کی کتابیں اس پر اثر نہ ڈالیں۔ اس کے دوست اس پر اثر نہ ڈالیں اور جب یہ سارے کے سارے اثر ڈال رہے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے زہر تو کھانے دیں اور تریاق سے بچایا جائے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 7 ص 329)

ہرگھر کو الفضل لگوانے کی تحریک

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں:

’’سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر گھر میں الفضل پہنچے اورالفضل سے ہر گھر فائدہ اٹھارہا ہو۔ابھی جماعت کے حالات ایسے ہیں کہ شاید ہر گھر میں الفضل نہیں پہنچ سکتا۔لیکن جماعت کے حالات ایسے نہیں کہ ہر گھر اس سے فائدہ بھی نہ اٹھا سکے۔اگر ہر جماعت میں الفضل پہنچ جائے اور الفضل کے مضامین وغیرہ دوستوں کو سنائے جائیں تو ساری جماعت اس سے فائدہ اٹھاسکتی ہے۔خصوصاًخلیفہ وقت کے خطبات اور مضامین اور درس اور ڈائریاں وغیرہ ضرور سنائی جائیں۔خصوصاًمیں نے اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو امربالمعروف کا مرکزی نقطہ بنایا ہے۔……ہر جماعت میں کم ازکم ایک پرچہ الفضل کا جانا چاہئے اور اس کی ذمہ داری امراء اضلاع اور ضلع کے مربیان پر ہے اور اس کی تعمیل دومہینے کے اندر اندر ہوجانی چاہئے۔ورنہ بعض دفعہ تو میں یہ سوچتا ہوں کہ ایسے مربیوں کو جو ان باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کام سے فارغ کردیا جائے اگر ان لوگوں نے خلیفہ وقت کی آواز جماعت کے ہر فرد کے کان تک نہیں پہنچانی تو اور کون پہنچائے گا اس آواز کو اور اگر وہ آواز جماعت کے کانوں تک نہیں پہنچے گی تو جماعت بحیثیت جماعت متحد ہو کر غلبہ اسلام کے لئے وہ کوشش کیسے کرے گی جس کی طرف اسے بلایا جارہا ہے۔پس الفضل کی اشاعت کی طرف جماعت کو خاص توجہ دینی چاہئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الفضل خریدنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کانوں تک وہ آواز پہنچنی چاہئے جو مرکز کی طرف سے اٹھتی ہے اور خلیفہ وقت جو امربالمعروف کا مرکزی نقطہ ہے اس کی طرف آپ کے کان ہونے چاہئیں اور اس کی طرف آپ کی آنکھیں ہونی چاہئیں اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں اسلام جلد تر غالب ہوجائے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 28 مارچ 1967ء)

الفضل کی ضرورت

بحیثیت قوم ترقی کرنے کے لئے الفضل کا مطالعہ ضروری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں:

’’لوگ کہہ دیتے ہیں الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا ہونا چاہئے۔ میں بھی کہتا ہوں الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کاہونا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں(بعض لوگ) کہ اگر الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا نہیں ہوگا تو اس کو لے کے پڑھنے کی کیا ضرورت۔ میں کہتا ہوں کہ اگر الفضل کا ایک مضمون بھی اعلیٰ پایہ کا ہے تو اسے لے کے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ میں اس سے بھی آگے جاتا ہوں میں کہتا ہوں اگر الفضل میں ایک ایسا مضمون ہے جس میں ایک بات ایسی لکھی ہے جو آپ کو فائدہ پہنچانے والی ہے تو اس فائدہ کو ضائع نہ کریں آپ۔ اگر آپ نے بحیثیت قوم ترقی کرنی ہے۔‘‘

(خطاب جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1979ء) (الفضل 24 فروری 1980ء)

پریس کے قیام کی تحریک

جماعت کا اپنا پریس نہ ہونے کی وجہ سے اشاعت قرآن کے منصوبہ میں دیرہوئی تھی اور دیگر مشکلات پیش آئی تھیں۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اللہ تعالیٰ کی منشاء سے 9 جنوری 1970ء کے خطبہ میں پریس کے قیام کی تحریک فرمائی۔ حضورؒ نے فرمایا :۔

’’بڑے زور سے میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دو چیزیں ہمارے پاس اپنی ہوں۔ ایک تو ہمارے پاس بہت اچھا پریس ہو … اس اچھے پریس کے لئے ہمیں 10,5 لاکھ روپیہ کی ضرورت ہو گی …اگر اپنا پریس ہوگا تو قرآن کریم سادہ یعنی قرآن کریم کامتن بھی ہم شائع کرلیا کریں گے اس کی اشاعت کا بھی تو ہمیں بڑا شوق اور جنون ہے یہ بات کرتے ہوئے بھی میں اپنے آپ کو جذباتی محسوس کررہا ہوں ہمارا دل تو چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر گھر میں قرآن کریم کا متن پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ہی اس میں برکت ڈالے گا تو پھر بہتوں کو یہ خیال پیدا ہوگا کہ ہم یہ زبان سیکھیں یا اس کا ترجمہ سیکھیں پھر اور بھی بہت سارے کام ہیں جو ہم صرف اس وجہ سے نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس پریس نہیں لیکن میرے دل میں جو شوق پیدا کیا گیا ہے اور جو خواہش پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں اس جیسا اچھا پریس کوئی نہ ہو اور پھر اس پریس کو اپنی عمارت کے لحاظ سے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھ کر اچھا رکھا جائے۔ عمارت کو ڈسٹ پروف (Dust Proof) بنایا جائے تاہم ایک دفعہ دنیا میں اپنی کتب کی اشاعت کر جائیں۔‘‘

(خطبات ناصر جلد3 ص25 ,24)

اس تحریک کی روشنی میں جدید پریس کی بنیاد رکھی گئی۔

شکر گزاری کے لئے الفضل پڑھیں

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ 15، اکتوبر 1971ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:

’’بڑا افسوس ہے کہ جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو الفضل کو پڑھتے نہیں ایک نظر ڈالا کریں شاید اس میں دلچسپی کی کوئی چیز مل جائے اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کے جو فضل جماعت پر نازل ہورہے ہیں ان کو پڑھا کریں،اس کے بغیر آپ شکر نہیں ادا کرسکتے کیونکہ جس شخص کویہ احساس ہی نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کتنی رحمتیں اور برکتیں اس پر نازل کررہا ہے وہ اللہ کا شکر کیسے ادا کرے گا اور احساس کیسے پیدا ہوگا جب تک آپ اپنے علم کو up to date نہ کریں یعنی آج تک جو فضل نازل ہوئے ہیں اس کا پورا علم نہ ہو۔‘‘

(خطبات ناصر جلد 3 ص 463)

20 ہزار اشاعت کی تحریک

جلسہ سالانہ 1982ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے الفضل کی اشاعت 10 ہزار تک بڑھانے کی تحریک فرمائی اور جب مارچ 1984ء میں مینیجر الفضل کی طرف سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں ایک چھٹی لکھی گئی جس میں یہ ذکر تھا کہ ماہ فروری 1984ء میں الفضل کی اشاعت سات ہزار تھی (خطبہ نمبر کی اشاعت آٹھ ہزار تھی) اس پر حضور انور نے اپنے دست مبارک سے رقم فرمایا۔
’’ابھی تک اشاعت تھوڑی ہے۔ دس ہزار تومیں نے کم سے کم کہی تھی۔ پندرہ بیس ہزار ہونی چاہئے۔‘‘

الفضل کے لئے دعائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے 1988ء میں الفضل کی بندش کے بعد اجراء پر ایڈیٹر الفضل کے نام لکھا:

’’الفضل شائع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ بے حد خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مبارک کرے اور پہلے سے بہت بڑھ کر ہر پہلو سے ترقی کرے۔ علمی معیار بھی بلند ہو اور تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہو۔ … سب کارکنان کو میری طرف سے محبت بھرا سلام کہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔‘‘

(الفضل 21 دسمبر 1988ء)

32 دشمن دانتوں میں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ایڈیٹر الفضل کے نام خط میں تحریر فرمایا:

’’بڑی توجہ سے الفضل کا مطالعہ کر رہا ہوں۔الفضل اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن ترقی کررہا ہے۔ … آپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ میں دعا میں اس نکتے کو یاد رکھتا ہوں کہ الفضل کی زبان محض 32 دانتوں میں نہیں بلکہ 32 دشمن دانتوں میں گھری ہوئی عمدگی سے مافی الضمیر ادا کرنے کی توفیق پا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائے۔ چشم بد دور۔ اپنے ساتھیوں کو میری طرف سے محبت بھرا سلام کہیں۔ آپ سب کو نیا سال مبارک ہو۔ قارئین الفضل تک میرا محبت بھرا سلام اور سال نو کی مبارک بھی پہنچا دیں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔‘‘

(الفضل 18 جنوری 1989ء)

الفضل پڑھنے کی تلقین

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ تعالیٰ نے اجتماع انصاراللہ یوکے سے خطاب کرتے ہوئے 4۔اکتوبر 2009ء کو فرمایا:

’’کوئی یہ دعویٰ کرہی نہیں سکتا کہ ہم نے کتب کو پڑھ لیا ہے۔ یا قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لیا ہے یا تفسیریں پڑھ لی ہیں یا کچھ احادیث پڑھ لی ہیں اس لئے اب ہم اتنے قابل ہوگئے ہیں کہ اب مزید علم کی ضرورت نہیں۔علم کو تو بڑھاتے چلے جانا چاہئے۔ جو اپنے آپ کو اپنے زعم میں بہت بڑا علمی آدمی سمجھتے ہیں ان کی سوچیں بڑی غلطی ہیں۔

حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ الفضل جماعت کا اخبار ہے۔ لوگ وہ نہیں پڑھتے اور کہتے ہیں کہ اس میں کون سی نئی چیز ہوتی ہے، وہی پرانی باتیں ہوتی ہیں۔حضرت مصلح موعود ؓجن کے بارے میں خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بتایا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا، وہ فرماتے ہیں کہ شائد ایسے پڑھے لکھوں کو یا جو اپنے زعم میں پڑھا لکھا سمجھتے ہیں کوئی نئی بات الفضل میں نظر نہ آتی ہو اور وہ شائد مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہوں لیکن مجھے تو الفضل میں کوئی نہ کوئی نئی بات ہمیشہ نظر آجایا کرتی ہے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 546 ,545)

تو جس کو علم حاصل کرنے کا شوق ہو وہ تو پڑھتا رہتا ہے اور بغیر کسی تکبر کے جہاں سے ملے پڑھتا رہتا ہے۔جو علم رکھتے ہیں انہیں اپنا علم مزید بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو کم دینی علم رکھتے ہیں ان کو بھی اس طرف توجہ دینے چاہئے تا کہ پھر یہ علم جہاں ان کی اپنی معرفت بڑھانے کا باعث بنے وہاں ان کے بچوں کے لئے بھی نمونہ قائم کرنے والا ہو۔جب بچے دیکھیں گے کہ گھروں میں اپنی کتابیں پڑھی جارہی ہیں تو ان میں بھی رحجان پیدا ہوگا۔اکثر ان گھروں میں جہاں یہ کتابیں پڑھی جاتی ہیں ان کے بچے شروع میں ہی چھوٹی عمر میں ہی کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور یہ علم پھر سب سے بڑھ کر دعوت الی اللہ کے میدان میں کام آتا ہے۔

(الفضل 28 جنوری 2010ء)

الفضل کا پہلا صفحہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جامعہ احمدیہ یو۔کے کی کلاس سے 17 مارچ 2007ء کو خطاب کرتے ہوئے دریافت فرمایا:۔

’’الفضل ربوہ آتا ہے‘‘ اور تلقین فرمائی کہ الفضل کا پہلا صفحہ ملفوظات والا پڑھا کرو۔ اگر کوئی کتاب نہیں پڑھ رہے تو وہی پڑھو، رسالوں میں کوئی نہ کوئی اقتباس چھپا ہوتا ہے۔ اس میں سے پڑھا کرو۔ ابھی سے یادداشت میں فرق پڑ جائے گا اور عادت پڑ جائے گی‘‘۔

(الفضل 18 جون 2008ء)

الفضل کا ایک مضمون

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 8مئی 2009ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔

’’گزشتہ دنوں میں الفضل میں ایک مضمون دیکھ رہا تھا۔مالی قربانی پہ کسی لکھنے والے نے لکھا۔ربوہ میں کسی احمدی کا واقعہ تھا کہ وہ صاحب گوشت کی دکان پر کھڑے گوشت خرید رہے تھے۔ وہاں سے سیکرٹری مال کا سائیکل پرگزر ہوا تو اس شخص کو دیکھ کر جو سودا خرید رہا تھا، سیکرٹری مال صاحب وہاں رک گئے اور صرف یاددہانی کے لئے بتایا کہ آپ کا فلاں چندہ بقایا ہے۔ تو اس شخص نے پوچھا کہ کتنا بقایا ہے؟ جب سیکرٹری مال نے بتایاتو وہ کافی رقم تھی۔ تو انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے وہ سیکرٹری مال کو ادا کر دی اور رسید لے لی۔ اور قصائی سے جو گوشت خریدا تھا وہ اس کو واپس کر دیا کہ آج ہم گوشت نہیں کھا سکتے۔ سادہ کھانا کھائیں گے۔‘‘

(الفضل 23 جون 2009ء)

الفضل کی سعادت

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے جلسہ سالانہ 2009ء کے انتظامات کا معائنہ کرتے ہوئے 19جولائی 2009ء کو فرمایا:

’’چند دن ہوئے میں نے الفضل میں ایک مضمون پڑھا، پروازی صاحب کا تھاکہ جلسہ کے دنوں میں ایک خاتون بڑی مستعدی سے اپنے ٹائلٹ میں جو بھی کوئی جاتا تھا اس کے بعد فوری طور پر صفائی کرتی تھیں اور بڑا صاف رکھا ہوا تھا۔ Gloves پہنے ہوئے اور دیکھنے میں بڑی رکھ رکھاؤوالی خاتون لگتی تھیں۔ تو خیر ایک خاتون جو اندرگئی Washroom استعمال کرنے کے بعد ان کو بڑا خیال آیا پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ کیونکہ یہ لگتا ہے بڑی رکھ رکھاؤ والی خاتون ہیں۔ لیکن مستعدی سے یہ کام کر رہی ہیں عورتوں کے لئے میں خاص طور پر یہ بات کر رہا ہوں۔ بتانے والے نے ان کو بتایا کہ چوہدری شاہنواز صاحب کی بیگم ہیں اور ہر سال یہ کہہ کر یہاں ڈیوٹی لگواتی ہیں۔ کہ میری ڈیوٹی جو ہے وہ صفائی میں لگائی جائے……لکھنے والے نے لکھا کہ کئی دفعہ ان کو کہا بھی گیا کہ کہیں اور ڈیوٹی دے دیں لیکن وہ زور دے کر صفائی کے اوپر ڈیوٹی لگواتی تھیں اور بڑی مستعدی سے کام کیا کرتی تھیں۔‘‘

(الفضل 18 جون 2010ء)

الفضل علم بڑھانے کا اہم ذریعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو کلاس مورخہ 12 دسمبر 2010ء میں فرمایا:۔

’’الفضل اخبار جو ہے اس میں مختلف مضمون لوگ لکھتے ہیں۔ تو اس کی اشاعت بہت کم تھی۔ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے خطبہ میں کہا کہ لوگ الفضل نہیں پڑھتے کہ اس میں تو بہت سے مضمون آتے ہیں، ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، ہمارا اتنا علم ہے۔ جیسے لوگ مضمون لکھتے ہیں اتنا ہمیں علم ہے۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس پر لکھا کہ شاید لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ الفضل کوئی ایسی کام کی چیز نہیں ہے، ہمارا علم اس سے زیادہ ہے۔ ان کا شاید علم زیادہ ہوتا ہو لیکن میرا علم تو اتنا زیادہ نہیں میں تو الفضل روزانہ پڑھتا ہوں اور کوئی نہ کوئی نئی بات مجھے پتہ لگ جاتی ہے۔

اور وہ آدمی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے الہام کیا تھا کہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔ ان کو تو علم مل رہا ہے الفضل سے اور بعض جو نام نہاد ہوتے ہیں اپنے آپ کو صرف ظاہر کرنے والے ہم بہت علمی آدمی ہوگئے ہیں، ان کو نہیں ملتا تو نہ ملے۔ اس لئے ہر چیز جو یہاں سنو کسی نہ کسی میں کوئی کام کی بات ہوتی ہے۔ ہر لڑکا جو کہتا ہے کچھ نہ کچھ بات، کام کی بات کر جاتا ہے۔‘‘

(الفضل 18 جون 2011ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ