• 25 ستمبر, 2020

عزمِ نو

سال نو کا آغاز ہوچکا ہے۔ امام وقت کی قیادت میں احمدیت کا قافلہ الہٰی تائیدونصرت کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا بیج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اس کو اکھاڑ پھینکنے کا دعویٰ کرنے والے ندامتوں اور ذلتوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ جو عزت عظمت و شان وشوکت خدا تعالی ہمیں عطا فرما رہا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ہم دل و جان سے اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے اپنے امام کے حقیقی سلطان نصیر بنیں۔ ان کی ہدایت اور ارشادات پرکما حقہ عمل کرنے کی کوشش کریں ۔خدا تعالی نے ہمیں عزت دی ہے۔ ہمیں اپنے حزب میں شامل کیا ہے یعنی حزب اللہ میں ہمارا شمار کیا ہے دوسری طرف حزب الشیطان اپنی تمام تر کوششوں سے اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ایک ہیں جوپاک بندے ایک ہیں جو دلوں کے گندے
جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے
الہی تقدیر یہی ہے جَآءَاَلْحقُ وَزَھَقَ البَاطِلُ
جب حق آجائے تو باطل بھاگ جاتا ہے۔

جماعت احمدیہ اپنے وعدوں کو نبھاتے ہوئے قربانیوں کے ہر میدان میں نہایت قابل ذکر و قابل فخر نمونہ پیش کر رہی ہے۔ ان قربانیوں نے ابتدائے اسلام کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی ہے اور جماعت کا قدم قربانیوں کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ قربانیاں عظیم مقصد کے حصول کے لئے دی جارہی ہیں کہ دنیا میں خدا تعالی کی توحید قائم ہو اور نیکی غالب آئے اور برائی اپنی تمام تر نحوستوں کے ساتھ ملیامیٹ ہو جائے شیطان کے لشکرپسپا ہوں ان کی صفیں لپیٹ دی جائیں۔جان مال وقت اور عزت کی قربانی کا ہم نے عہد کیا ہے اور ہم اس پر قائم رہتے ہوئے پہلے کی طرح اس سال کے تمام ٹارگٹ بھی خدا تعالی کے فضل سے پورے کرنے والے بنیں۔ دینی، علمی، اخلاقی اور روحانی میدان میں بھی قدم آگے بڑھانا ہے نظام جماعت کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے ہی کامیابی ملتی ہے۔

اَلِدّیْنُ نَصِیْحَۃُ ۔ نصیحت سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔؛ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں؛ اسی مضمون کی وضاحت کا نعرہ ہے۔

باہمی محبت ،مروت اورالفت ہی الہٰی جماعتوں کی خاص علامت ہوتی ہے۔ان کی ساری طاقت اتحاد و اتفاق میں ہوتی ہے نہ کہ افتراق و انتشار میں۔

حسد ،بغض، کینہ، نفرت، عداوت کے اگر دلوں پر داغ دھبے ہوں گے تو ان پر خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر نہیں پڑھ سکتی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔

اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان،کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقوی سرایت کر جاویے۔ تقوی کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلی نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی اطاعت تمام کامیابیوں کی کلید ہے دینی انعامات ہوں یا روحانی مدارج و مراتب سب کا انحصار اس اطاعت پر ہے۔دنیاوی نظام میں بھی یہی روح اور جذبہ قابل قدر اور قابل ستائش متصور ہوتا ہے۔

اس خلق کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں۔

اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔

اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔

(الحکم نمبر 5 1901)

اطاعت کے نتیجہ میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں جو بظاہر ناممکن نظر آتی تھیں جیسے آنحضرت صلی اللہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت کے نتیجہ میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں جو بظاہر ناممکن نظر آتی تھیں جیسے آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں جنگ کے لیے جانے والا لشکر کامیاب لوٹتا ہے اور عدم اطاعت کے نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں تبدیل ہوجاتی ہے جیسے جنگ احد میں آنحضرت ﷺ کی تاکید کے باوجود تیراندازوں کا درہ خالی کر دینے کا واقعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اطاعت کا خلق اپنانے اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی برکات کا وارث بنائے۔ (آمین)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ