• 1 اکتوبر, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا مجلس خدام الاحمدیہ کو پیغام

مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 18 اکتوبر 1968ء کے افتتاح کے موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا:

کوئی معمولی مقام نہیں ہے۔ جس پر آپ کو کھڑا کیا گیا ہے۔ اس لئے جو ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوتی ہیں انہیں سمجھنے اور ان ذمہ داریوں کو پوری کوشش اور پوری جدوجہد سے نباہنے کی طرف آپ کو متوجہ ہونا چاہئے اور بنیادی طور پر دو خصوصیتیں آپ کے اندر پیدا ہونی چاہئیں جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہیں کہ… جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے پانی پر اپنے تربیتی اور مجاہدانہ سفر میں پہنچے تو وہاں خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے آپ کو ایک نیکی کی توفیق عطا کی اور وہ یہ کہ کچھ عورتیں اپنے جانوروں کو پانی پلانا چاہتی تھیں۔ لیکن چونکہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہ تھا اس لئے وہ ایک طرف کھڑی ہوئی اس بات کا انتظار کر رہی تھیں کہ جب مرد چلے جائیں تو پھر آرام سے اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا جب وہ اپنے گھر گئیں تو انہوں نے اپنے والد سے کچھ باتیں کی ہوں گی ان باتوں میں سے بعض باتیں اصولی تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل کتاب میں پر حکمت زبان میں بیان کیاہے اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں بیان کیا ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی نے اپنے والد سے کہا کے جسے خادم رکھنا ہو اُس کے متعلق یہ دیکھ لینا چاہئے کہ وہ القوی اور الامین ہے یا نہیں کیونکہ بہتر خادم وہی ہوا کرتا ہے جو قوی اور امین ہو۔ جب ایک شخص کسی کو خادم رکھتے ہوئے ان دو صفات کو دیکھتا ہے تو وہ جو خدا کے خادم بننے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں اپنے اندر ان صفات کو بدرجہ اولیٰ پیدا کرنا چاہئے ایک القوی او ردوسرے الامین ہونا۔

اسی طرح بالواسطہ … خدام کا ذکر قرآن کریم میں آجاتا ہے۔ کیونکہ جو اجرت پر رکھا جاتا ہے۔ وہ خادم ہوتا ہے اور اگرچہ اللہ تعالیٰ سے انسان اجرت تو مقرر نہیں کرواتا کہ اس کا حق نہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو بے انتہاء فضل اور رحم کرنے والا ہے اس نے اپنے بندوں سے یہی وعدہ کیا ہے کہ اگر تم میری خدمت میں مصروف رہو گے تو میرے انعامات کے وارث بنتے چلے جاؤ گے ۔پہلی صفت ایک خادم میں القوی کی ہونی چاہئے جب ہم لغت کو او رقرآن کریم کی اصطلاح کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ القوۃ کے ایک معنی القدرۃ کے ہیں اور یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں لیکن آگے پھر ہر قسم کی قوتوں کے معنی میں اس لفظ کو عربی زبان اور اللہ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے ۔ اس کے معنی بدن کی قوت کے بھی ہیں۔

اس کے معنی دل کی قوت اور مضبوطی کے بھی ہیں۔ اس کے معنی اس قوت کے بھی ہیں جو خارجی اموال اور اسباب سے حاصل کی جاتی ہے او ر اس کے معنی اللہ تعالیٰ کی قوت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بھی ہیں اس معنی میں بھی قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ایک بے مثل رنگ میں کامل قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے اس لئے اس معنی میں تو انسان کے متعلق اس لفظ کو استعمال نہیں کیا جاسکتا سوائے ظلی طور پر لیکن جو تین معنی دوسرے ہیں ان میں یہ لفظ انسان کے لئے استعمال ہوسکتا ہے اور قرآن کریم ان تینوں معنوں میں اسے استعمال کرتا ہے۔

(الفضل 15۔اکتوبر 1969ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ