• 27 فروری, 2021

ہم قرآن کے قریب جارہے ہیں

اس سے قبل بھی خاکسار اپنے مختلف اداریوں اور آرٹیکلز میں یہ لکھتا آیا ہے کہ Covid 19 میں SOPs اور مختلف حکومتوں کی طرف سے عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے ایک نئے لائف اسٹائل کا دنیا کی تمام مخلوق کو سامنا ہے۔ یہ لائف اسٹائل مسلمانوں کے لئے نیا نہیں۔ ہمیں انسانی زندگی کے لئے یہ اسٹائل قرآن کریم سے ملتا ہے۔ آنحضورﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور بعد ھم سلف صالحین اور آج کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آپؑ کے خلفاء اور تمام احباب جماعت اپنے عملوں، ارادوں اور پختہ خیالات سے قرآن کریم کی تعلیمات، رسول خداؐ کے ارشادات اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہیں۔ اس لئے SOPs نے ہمارے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کی۔ تاہم اسلام کے حقیقی فرمانبرداروں اور پیروکاروں کے علاوہ دیگر دنیا میں بسنے والوں کے لئے اس کو اپنانا مشکل تھا۔ لیکن حالات و واقعات نے تمام دنیا کے باسیوں کو SOPs پر عمل کروا کے اسلام اور قرآن کے قریب لاکھڑا کیا ہے۔ اس کا اظہار ایک برطانوی مسلم صحافی رابرٹ کارٹر نے ایک ایرانی نیوز ویب سائیٹ پریس ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں مغرب کو مخاطب ہوکر کہا ہےکہ موجوہ دور میں وبا سے بچنے کے لئے عائد کی جانے والی پابندیا ں جنہیں بعض لوگ ایک نیا طرز زندگی بھی کہتے ہیں اصل میں نیا نہیں بلکہ اسلامی طرز زندگی ہے ۔ تمام مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن جو ایک مقدس کتاب ہے انہیں ایک صحتمندانہ اور بامقصد زندگی گزارنے کے اسلوب سکھاتی ہے۔مسلمانو ں کی روزمرہ کی زندگی چاہے وہ نماز پڑھنے اور روزہ جیسی عبادات سے تعلق رکھتی ہو یا لباس جو وہ پہنتے ہیں سب کے لئے راہنمائی یا تو قرآن میں بیان کی گئی ہے یا حضرت محمد ﷺکے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ حالانکہ یہ لائف اسٹائل ایک عرصہ سے مغربی اقوام کے طنز کا نشانہ بنتا رہا ہے چاہے وہ مسلمانوں کو بیک ورڈ (Backward) اور عجیب کہنے کی صورت میں ہو یا اشتعال انگیزی دکھانے کے ذریعہ۔

لیکن اب ہم سب کو مسلمانوں کی طرح برتاؤ کرنا پڑ رہا ہے۔ تمام شراب خانے ، جؤا خانے، کلب اور قحبہ خانے بند کرنے پڑے ہیں۔ بعض صورت میں طبی ماہرین شراب کے استعمال پر مکمل کنٹرول کی بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ وائرس کو جسم میں زیادہ خطرناک بنا سکتا ہے۔کچھ ممالک نے اس کے فروخت پر (عارضی) پابندی بھی لگائی ہے۔

جیسے مسلمان دن میں پانچ وقت نماز کے لئے وضو کرتے ہیں عام لوگ ترجیہی بنیادوں پر روزانہ متعدد بار صفائی ستھرائی اور ہاتھ دھونے کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہاتھ نہ ملانا بھی معاشرتی طور پر قابل قبول ہو چکا ہے جوکہ مرد و عورت کے معاملہ میں ایک روائتی مسلم طریقہ کار ہے جو کہ بعض اوقات مغرب میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا بھی باعث بنا ہے۔ مزید یہ کہ لوگ اپنا چہرہ اور سر وغیرہ بھی ڈھانپنا شرو ع کر چکے ہیں تاکہ وبا سے محفوظ رہا جا سکے بشمول ان کے جو ماضی میں متعدد بار اس وجہ سے مسلمان خواتین کی توہین کر چکے ہیں۔یہاں تک کہ وہ ریاستیں جو نقاب اور حجاب پر پابندی لگا چکی تھیں اب پہلے سے کہیں زیادہ مسلم دکھائی دے رہی ہیں۔بعض یورپی ممالک جیسا کہ آسٹریا اس حد تک چلے گئے ہیں کہ چہرہ ڈھانپنے کی پابندی کروانے کے لئے قانون بنا دیا جائے اور نقاب یعنی چہرے کا ماسک حکومتیں ضروری قرار دے رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مزید یہ کہ معاشی سطح پر بعض صورتوں میں شرح سود صفر تک گرادی گئی ہے جو کہ بعینہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
مسلمان خاندانوں نے گزشتہ لاک ڈاؤن میں رمضان خود ساختہ تنہائی کے ساتھ عبادات اور روزہ کے ساتھ گزارا جب غیر مسلم ساحلوں پر ریاستی احکامات کی نافرمانیوں میں مصروف تھے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ایک عرصہ صرف اپنے دین اور ایمان سے محبت رکھنے کی وجہ سے نفرت کا نشانہ بنتے رہے ہیں ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے مسلمانوں کو درست ثابت کرنے کے لئے ایک عالمی وبا کو آنا پڑا جب کہ اس کے مقابلہ پر مغربی طور طریقوں کی اصلاح کی ضرورت ہے نہ کہ قرآنی تعلیمات کی اورآئندہ اسلام کے بارہ میں کچھ غلط کہنے سے پہلے اس بات کو ذہن میں ضرور رکھیےگا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2021