• 27 فروری, 2021

لاہور سے پیرس کے ایفل ٹاور تک

ایفل ٹاور کا بانی انجینئر مسٹر ایفل
(Gustave Eiffel)

28مئی 2010 کے سانحہ لاہور کو ایک ماہ ہوا تھا کہ مجھے انٹرنیشنل انسانی حقوق کی کانفرنس میں شرکت کے لئے فرانس کے شہر Nantes جانا پڑا ، یہ ماہ جون کے آخری ایام تھے ۔ فرانس میں خاکسار کا قیام مشن ہاؤس پیرس میں تھا ۔ فرانس کے امیر صاحب محترم اشفاق ربانی صاحب مش ہاؤس پہنچنے پر بہت محبت سے ملے اورمجھے میری رہائش کے بارہ میں بتایا، میں نے اپنی آمد، پروگرام اور کانفرنس کےبارہ میں بتایا اور کسی دوست کومیرے ساتھ کانفرنس میں بھجوانے کی درخواست کی تاکہ وہاں جماعت سےمتعلق بھی بات ہو سکے، امیر صاحب نے میری باتوں کو توجہ سے سنا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ ۔ امیر صاحب نے دوران قیام کمال محبت کا سلوک کیا اور عاجز کا بہت خیال رکھا ،مجھے مشن ہاؤس کی سیر کرائی اور قیام کے دوران بہت سی تاریخی باتوں سے آگاہی دی خصوصاً خلفائے احمدیت کے ایمان افروز واقعات سنائے، چونکہ یہ میرا کسی بھی یورپی ملک کا پہلا دورہ تھا، لہذا امیر صاحب نے ایک موقع پرمسکراتے ہوئے یہاں کےکھانوں کے متعلق مجھے بتایا، لہذا میں ذہنی طور پر تیار تھا کہ دیکھی جائے گی، لیکن جب کھانے میں لمبی اور دو منہ والی سوٹی نما روٹی دیکھی تو سچ مچ گھبراہٹ ہوئی کہ یہ کیسے کھائی جائے گی، اور پکڑوں کیسے ؟ میں نے دائیں ، بائیں دیکھا تو ایک دوست ویسی ہی روٹی کو توڑ کر نوالہ کی شکل میں کھا رہے تھے، یوں میری مشکل کا خاتمہ ہوا تھا ۔

اگلے دن مجھے کانفرنس میں شرکت کرنا تھی، جس شہر میں کانفرنس میں شرکت کرنا تھی وہ شہر Nantes فرانس کے نارتھ ویسٹرن ریجن Pays de la Loire کا دارالخلافہ ہے اور دریائے Loire کے کنارے آباد ہے اور یہ فرانس کا چھٹا بڑا شہر ہے یہ بندرگاہ اور صنعتی تاریخ کے حوالے سے ایک اہم اور قابل ذکر شہر ہے ۔ مکرم امیر صاحب کی اجازت سے محترم نصیر احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ و مبلغ انچارج نے خاکسار کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کی ۔ ہم جب وہاں پہنچے تو کانفرنس شروع ہو چکی تھی اور مختلف بڑے بڑے ہالوں میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ہم نے مشاورت سے ایک موضوع کا انتخاب کیا کہ اس ہال میں بولنا چاہیے، محترم نصیر احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ نے ایک بڑے فورم میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا اور بعد ازاں پاکستان میں جماعت کےساتھ امتیازی اور پرتشدد صورتحال پر ایک جاندار تقریر کی، پھر ہم نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، یونیسف سمیت دیگر تنظیموں کے سٹالوں پر رابطے کئے، گفتگو کی ۔ مجھے یاد ہے کہ وہاں گھومتے پھرتے انہوں نے کہا تھا کہ یہاں ابھی تک جماعت کا پیغام نہیں پہنچا لہذا کچھ تبلیغ کرنی چاہئے۔ اس کے بعد مجھے پاکستان سے نکل کرپہلی بار تبلیغ کرنے کا موقع ملا اور ہم نے وہاں سے پیرس کے لئے روانگی سے پہلے اس شہر میں تبلیغی فلائیر تقسیم کئے، بذریعہ کار پیرس کا سفر کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا ۔

مشن ہاؤس میں لاہور ہی کے ایک مخلص خادم افتخار احمد طاہر صاحب سے اچانک ملاقات ہوئی جن کا تعلق میری ہی جماعت گلشن پارک سے تھا۔ وہ اس وقت سیکرٹری ضیافت فرانس کی حیثیت سے خدمت دین کی توفیق پارہے ہیں ۔ محترم امیر صاحب نے خاکسار کو بتایا کہ افتخار صاحب تو آپ کے اپنے لاہور ہی کے نکلے ہیں ، کل یہ آپ کو پیرس کی سیر کرادیں گے اور اس طرح پروگرام کے مطابق اگلے دن ہم پیرس کی سیر کو نکلے۔ دیگر مقامات تو تھے ہی لیکن ٹارگٹ ایفل ٹاور ہی تھا ۔ بلاشبہ ایفل ٹاور پیرس کا ایک شاہکار ہے جس نے ایک سو سال سے دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے ۔ ایفل ٹاور دیکھنے کے بعد اس کی طرز تعمیر پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ اس کو انقلاب فرانس کی100 ویں سالگرہ کے تاریخی دن کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ 131 سال بعدیہ ایک بہت بڑے عالمی تفریحی مقام کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی فرانس میں ایفل ٹاور پہلی ترجیح ہوتی ہے، میرااپنا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ ہر سال کم وبیش70 لاکھ افراد اس کی سیرکرتے ہیں ، ریکارڈ کے مطابق اب تک اس کو دیکھنے والوں کی تعداد30 کروڑ سے تجاور کر چکی ہے۔ ایفل ٹاور دیکھنے کے دن اور رات کے مناظر بالکل ہی مختلف ہیں ، ایک سیاح کی کوشش ہوتی ہے کہ دن میں وہ پیرس اور ساتھ بہتے دریا کے کرشماتی حسن اور بلند و بالا عمارتوں کے مسحور کن مناظر سے لطف اندوز ہو اور رات کو روشنیوں سے جگمگاتے پیرس کی چکا چوند دنیا کو دیکھے ۔ میں جب مکرم افتخار صاحب کے ہمراہ ایفل ٹاورپہنچا تو ٹاور کے چاروں ستونوں کے درمیان کھڑا حیرت سے اس عجوبہ نما ٹاور کو دیکھنے لگا،ٹکٹ لےکر اوپر جانے والوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی ، میں نے ایک انجانا خوف محسوس کرتے ہوئے اوپر جانے سے انکار کردیا ، اور انسانی ذہن نما مشینوں کے پھیلے اس پیچیدہ جال کو دیکھنے لگا ۔ افتخار صاحب مجھے اوپر جانے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن میری توجہ لائن میں کھڑے ان لوگوں کی طرف تھی گویا وہ محاذ جنگ پر جا رہے ہیں ۔ آخری حربہ کے طور پر افتخار صاحب نے میرے کانوں کے قریب آکر سرگوشی کرتے ہوئے پنجابی میں کہا کہ ’’بندہ پیرس آوے تے ٹاور دی سیر نہ کرے، اے چنگی گل نہیں ہوندی‘‘، میں نے ان کی طرف خوفزدہ نظروں سے دیکھا اور کہا، اچھا، اے گل اے، پھر چلتے ہیں ۔

ایفل ٹاور سچ مچ کئی پہلوؤں سے حیرت انگیز تخلیق کا حامل ہے کمزور دل والے اس کی سیر کرنے سے اجتناب ہی کریں تو بہتر ہےورنہ بصورت کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیش آنےکےخود ہی ذمہ دار ہونگے۔ اندر داخل ہو کر پہلی منزل سے اختتام تک آپ کو مسلسل حیرت انگیزجھٹکوں کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔ ایفل ٹاورکی آخری منزل تک پہنچنے کے لئے جہاں لوہے کی بڑی بڑی عجیب و غریب مشینوں والی 9 لفٹیں موجود ہیں وہیں سیڑھیاں بھی ہیں جن کی تعداد1660 ہے،مہم جو فطرت کے حامل لوگ سیڑھیوں کی مدد سے ایفل ٹاور پر چڑھنا اور پیرس کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔منفرد اور انوکھی طرز تعمیر والا یہ لوہے کا مینارپیرس میں بہنے والے دریا ‘‘سین’’ کے کنارے واقع ہے ۔ تاریخ کے اوراق کو اگرپلٹا جائے تو اس کی انتہائی دلچسپ تاریخ پڑھنے کو ملتی ہے ،ایفل ٹاور کا نام اس کے تخلیق کار انجینئر گستاف ا یفل کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ اس کی پیدائش دسمبر1832 کو ہوئی تھی اور اس کا انتقال1932 میں فرانس میں ہوا تھا، اس نے کالج آف آرٹ اینڈ مینوفکچرنگ سے انجیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ ایفل ٹاور کی تعمیر کا آغاز 28جنوری 1887ء کو ہوا اور 15مارچ 1889ء کو اس کی تکمیل ہوئی اور 31مارچ 1889 کو اس کا افتتاح کردیا گیا۔ گویا اس عظیم الشان یادگار کی تعمیر دو سال اور دو ماہ میں مکمل ہوئی۔ ایفل ٹاور کے دو بنیادی ستونوں کی تعمیر دسمبر 1887 میں مکمل ہوئی اور پہلی منزل مارچ1888 میں مکمل ہوئی ۔ ٹاور کی دوسری منزل کا آغاز مئی 1888 میں ہوا اور اگست1888 میں مکمل ہوئی جبکہ بالائی ،تیسری اور آخری منزل کی تکمیل 15مارچ 1889 کو ہوئی۔اس سال اکتیس مارچ 2021 کو ایفل ٹاور 132سال کا ہو جائےگا ۔ 300یٹر بلند لوہے کا مینار ہے اور اس کا وزن 7300 ٹن بتایا جاتا ہے ،یہ انسانی ذہن کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے اور تاریخی یادگار ہے ۔ اس کی تعمیر1889 کو مکمل ہوئی تھی ، یہ وہی بابرکت سال ہے جب دنیا میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ 1930تک اس کو دنیا کے بلند ترین ٹاور کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ سو سال قبل بنے لوہے کے اس مینار کے اندر ہر طرف مشینوں، لوھے کی تاروں کا حیرت انگیز جال بچھا نظر آتا ہے اور لفٹوں کے چلنے سے عجیب و غریب آوازیں سننے کو ملتی ہیں ۔ اس انسانی انوکھے ٹاور کی تین منزلیں ہیں ،پہلی منزل57 میٹر کی بلندی پر ہے، دوسری منزل115 میٹر کی بلندی پر اور تیسری اور آخری منزل276 میٹر بلند ہے ۔ ہر منزل پر پہنچ کر انسان حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے ایک تو اندرونی مشینوں کو دیکھ کر اور دوسرا باہر کے منظر دیکھ کر ۔ پہلی دو منزلوں تک جانے کے لئے لفٹ اور سیڑھیاں دونوں کی سہولت میسر ہے، آپ کسی ایک کے ذریعے دوسری منزل تک جاسکتے ہیں لیکن تیسری اور آخری منزل پر صرف لفٹ کے ذریعے جایا جاسکتا ہے اور دوسری منزل پر لائن میں لگ کر آپ لفٹ کے ذریعے آخری منزل پر پہنچتے ہیں کیونکہ وہاں رش بہت ہوتا ہے اور جگہ کم ہوتی ہے لہذا ترتیب سے لفٹ میں داخل ہو کر تیسری منزل پر پہنچنا ہوتا ہے جہاں سے آپ نیچےکی دنیا کو نئے زاویے سے مشاہدہ کر سکتےہیں۔ نیچے بہتا دریا اور اس میں چلتے جہاز، اور کشتیاں، بل کھاتی سڑکیں اس پر دوڑتی ہوئی قیمتی گاڑیاں ، بلند و بالا عمارتیں اور دیگر دلفریب نہ بھولنے والے مناظر سمیت بہت کچھ دیکھنے کوملتا ہے ۔ یقیناً اس کا ڈیزائن بنانے والوں نے انتہائی دور اندیشی کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھا ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ وہیں پر آپ ایفل ٹاور کے تخلیق کاروں کے مجسمے بھی دیکھ سکتے ہیں جو ناقابل یقین حد تک جیتے جاگتے انسان لگتے ہیں۔

(از م ۔ع ۔ش(جرمنی))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2021