• 27 نومبر, 2021

خطبہ جمعہ 3 اپریل 2020ء کا آنکھوں دیکھا حال

خطبہ جمعہ 3 اپریل 2020ء کا آنکھوں دیکھا حال
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ، مؤذن، خالی مسجدمبارک اور دنیا بھر کےکروڑوں ناظرین و سامعین

آج 3 اپریل 2020ء ہے جمعہ کا دن ہے۔ آج پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مبارک، یوکے سے خطبہ جمعہ ارشاد فرمانا تھا۔

میں نے آج اس سلسلہ میں خاص کوشش کی کہ باوجود اس کے کہ آج اسلام آباد سے کوئی بھی جمعہ کی نماز میں شامل نہیں ہو رہا تھا لیکن میں پھر بھی اپنے معمول کے مطابق جمعہ کے لئے تیاری کروں گا۔

یہ ایک نا قابل یقین دن تھا ۔ جس کی مثال نہ پہلے کبھی میں نے اپنی زندگی میں دیکھی اور نہ سنی۔12:15 بجے کے قریب میں پرائیویٹ سیکریٹری صاحب کے دفتر میں گیا تا کہ یہ یقین دہانی کر سکوں کہ سب کچھ خیریت سے ہے نیز روزمرہ کی سرگرمیوں کے متعلق بات چیت کرنے اور جمعہ کے انتظام اور پلاننگ وغیرہ کے لئے گیا۔ یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ حضور انور مسجد کے اندر سے خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں گے اور مسجد میں صرف مؤذن اور کیمرے ہونگے۔ پھر تقریبا 12:20 پر میں مسجد کا جائزہ لینے کے لئے گیا۔سب تیاریاں معمول کے مطابق کی گئی تھیں۔ ایم ٹی اے کے کارکنان نے ٹرانسمیشن وین کاجائزہ لے لیا تھا، ساری تاریں بچھا دی گئی تھیں اور مسجد میں کیمرے وغیر ہ لگا دئیے گئے تھے۔جب میں مسجد کے علاقے میں پہنچا تو میں نے ایم ٹی اے کے کارکنان کو مسجد کے باہر ٹرانسمیشن وین کے ساتھ کھڑے دیکھا ۔ سب اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے مستعد کھڑے تھے لیکن ان میں کچھ بات معمول سے ہٹ کر تھی۔ ایم ٹی اے کے کارکنان اپنے کام میں خدمت کے جذبہ سےحقیقتاً سرشار ہوتے ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ ان میں ہلکا پھلکا مزاح بھی چل رہا ہوتا ہے لیکن آج وہ سب معمول سے ہٹ کر خاموش تھے۔میں ایم ٹی اے کے عملہ کے ساتھ مسجد کے اندر گیا، اور ہم نے حضور انور ایدہ الله تعالی کے پوڈیئم اور مسجد میں دوسری چیزوں کو صاف (sanitize) کیا۔ پھر میں وہ نرم کارپٹ، جو کہ اس جگہ پر رکھا جاتا ہے جہاں کھڑے ہو کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ ارشاد فرماتےہیں، لے کر آیا۔ اس کے بعد حفاظتی تدابیر کے مطابق مسجد کا جائزہ لیا جو کہ ہر جمعہ کیا جاتا ہے۔ پھر ہم نے Sound System کا جائزہ لیا جو کہ معمول ہے۔جیسے جیسے خطبہ کا وقت قریب آتا گیا، وہ تمام شعبہ جات جو کہ جمعہ کے دن معمول کے مطابق جمعہ کی تیاری میں شامل ہوتے ہیں اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے ، گو کہ اس دن تیاری ایک مختلف پیمانے پر تھی۔ حفاظتی عملہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام Posts پر عملہ موجود ہے۔ صفائی کے عملہ نے اسلام آباد کو جمعہ کے لئے تیار کیا۔ ایم ٹی اے نے تمام تر انتظامات مکمل کئے اور اسی طرح باقی تمام شعبہ جات نے بھی اپنے سب کام پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ سب تیاریاں مکمل تھیں۔

پھر سب سے آخر میں مَیں نے حضور انور کا جائے نماز محراب میں بچھا دیا۔ تقریبا 12:35ً پر سفیر احمد صاحب مربی سلسلہ جو جامعہ احمدیہ یوکے سے 2019 میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اذان کیلئے آئے۔ وہ مسجد میں مردوں کے راستے سے داخل ہوئے اور مجھے مسجد کی مخالف سمت میں دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کی جانب بلند کیا گویا کہ وہ مجھے دعا کیلئے کہہ رہے ہیں۔ وہ مجھے کچھ فکر مند لگ رہے تھے۔ پھرجمعہ کی پہلی اذان شروع ہوئی، جب اذان دی جارہی تھی تو یہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔ عام دنوں میں جمعہ کے وقت یہ مسجد نمازیوں سے اپنی گنجائش تک بھری ہوئی ہوتی ہے۔ لیکن آج مسجد کے اندر کوئی بھی نہ تھا۔جمعہ کا وقت سرعت سے قریب آرہا تھا تاہم مسجد میں صرف ایک ہی فرد بیٹھا ہوا تھا یعنی مؤذن۔ یہ صورت حال آج کل کے مشکل حالات کی طرف نشاندہی کر رہی تھی۔ باہر قدرے بادل چھائے ہوئے تھے جبکہ سورج کی شعاعیں مسجد کی لمبی کھڑکیوں سے اندر جھانک رہی تھیں اور مسجد میں ایک خاص چمک تھی۔ گو میں مسجد میں چل رہا تھا اور تمام چیزوں کا جائزہ لے رہا تھا، مگر جونہی مربی صاحب نے حی علی الصلوۃ کے الفاظ دہرائے تو میں ایک دم رک گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میرے دل کو جھٹکا لگا کہ یہ الفاظ تو نمازیوں کو مسجد بلانے کے لئے ہوتے ہیں اور سننے والے حی علی الصلوۃ کے الفاظ کو سن کر اپنے آپ کو مسجد سے کس طرح دور رکھیں گے اور مسجد میں نہ آسکیں گے۔ یہ ایک غمگین لمحہ تھا، تاہم میرا غم ایک ساعت میں ہی غائب ہو گیا کیونکہ اس غم کی کیفیت کی جگہ ان خیالات نے لے لی کہ ان شاءاللہ حضورانور مسجد میں تشریف لائیں گے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں گے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ لوگ ضرور جسمانی طور پر ہی آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں یا نہ۔ بہر صورت حضور انور خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں گے، انشاءاللہ۔ اس پر مجھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی جبکہ آپ نے فرمایا تھا کہ ’’اگرساری جماعت بھی پھر گئی تو میں اس دین اور (مسیح موعود علیہ السلام کے) اس سلسلہ کی اشاعت کیلئے کھڑا رہوں گا۔‘‘

(خطبات محمود، خطبہ مورخہ یکم اپریل 1938ء)

دوپہر ایک بجے سے دس منٹ پہلے میں نے حضور انور کے لئے قہوہ بنایا اور اسے پوڈیئم پر رکھ کر مسجد سے باہر آگیا۔ اب مسجد میں صرف ایک شخص بیٹھا تھا۔ اوروہ مؤذن تھا ! اس شخص کی تو کیا ہی قسمت تھی!

قریباً ایک بج کر پانچ منٹ پر حضور انور قصر خلافت سے باہر تشریف لائے اور مسجد کی طرف چلنا شروع کیا۔ بالعموم جب حضور مسجد کی طرف جارہے ہوں ، تو میں آپ کی طرف براہ راست نہیں دیکھتا۔ آج کسی چیز نے مجھے اس بات پر مجبور کر دیا کہ میں آپ کی طرف دیکھوں۔ آپ کے چہرہ پر قطعاً کوئی افسردگی یا پریشانی نہ تھی۔ اس کے برعکس آپ کے چہرے پر امید اور بشاشت چمک رہی تھی۔ آپ مسجد کے اندر تشریف لے گئے۔ میں صرف جو تیوں کی جگہ تک آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔ حضور اکیلے محراب کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے السلام علیکم کے بعد اذان دینے کا ارشاد فرمایا اور خود بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ شروع کیا جو براہ راست کل عالم میں ایم ٹی اے پر ٹیلی کاسٹ کیا جارہا تھا۔ میں جوتیاں رکھنے کی جگہ پر بیٹھ گیا۔ چونکہ مسجد میں داخل ہونے والا دروازہ کھلا تھا، اس لئے یہ سارہ نظارہ میرے سامنے تھا: ایک طرف حضور خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اور دوسری طرف ایک تنہا سننے والا مسجد میں حاضر تھا جو کہ محراب کی دائیں جانب بیٹھا تھا۔ ایسے موقع پر طبعی طور پر انسان کے دل میں افسردگی کے جذبات اُبھرتے ہیں۔ یہ دنیا میں وہ واحد مسجد ہے جہاں نمازی کشاں کشاں چلے آتے ہیں اپنے آقا کا دیدار بھی ہوتا ہے اور خطبہ سننے اور ان کی اقتداء میں نماز بھی پڑھتے ہیں جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ جمعہ کے دن تو خاص طور پر اس میں جگہ کے حصول کے لئے صبح نو بجے سے ہی لائنیں لگ جاتی ہیں ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ مسجد کے اندر بیٹھ کر براہ راست حضور انور کے چہرہ مبارک کو دیکھے، خطبہ سنے اور نماز پڑھے ۔میں اس لئے بھی افسردہ تھا، بالخصوص ایسا نظارہ دیکھ کر جو میں دیکھ رہا تھا کہ حضور خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں اور حاضرین میں محض ایک شخص بیٹھا ہے ۔ وہ شخص یعنی مؤذن یہ تصور دل میں لا کر سر جھکائے ہوئے، پریشان حال اور لرزہ خیز حالت میں بیٹھا تھا کہ ساری انسانیت کے لیے اس کٹھن موقع اس کا نام شاید دنیا کے خوش قسمت ترین لوگوں میں لکھا جائےگا۔ اس شخص نے شاید ہی کوئی ہل جل کی ہو۔ بلکہ وہ بالکل ساکت بیٹھا رہا۔ الحمد للہ، الحمدللہ، الحمدللہ، سب کچھ خیریت سے گزرا۔ جہاں تک میں دیکھ سکا، حضور انور کے تاثرات سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ حضور انور کے سامنے اس ایک شخص کے سوا اور کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔ حضور انور اپنی جماعت سے مخاطب ہوئے، ایک جماعت سے جو ہمارے خالق واحد و لاشریک خداتعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ حضور انور صرف ان چند سو احباب سے مخاطب نہیں ہوئے جو مسجد مبارک میں موجود ہوسکتے تھے، بلکہ حضورانور دنیا بھر کے ہر کونہ میں بسنے والے ہر احمدی سے مخاطب تھے۔

مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ آج، عام دنوں سے زیادہ، احمدی احباب حضور انور کا خطبہ دیکھ رہے تھے۔

شاید یہ ہمارے خالق کی طرف سے آزمائش کے دن ہیں، لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ ایک دن وہ اکیلا شخص جو حضور انور کے سامنے بیٹھا ہوا تھا دس لاکھ میں تبدیل ہو جائے گا۔ وہ سب حضور انور کے سامنے بیٹھے ہوں گے، حضور انور کوبراہ راست دیکھ رہے ہوں گے، حضرت مسیح موعودؑ کے خلیفہ کی باتوں کو سن رہے ہوں گے اور سب اپنے پیارے امام کی موجودگی کی برکتوں میں شرابور ہوں گے، ان شاءاللہ ۔

جب حضور انور مسجد سے باہر تشریف لائے ، حضور انور نے منیر عودہ صاحب کو اپنے پاس بلایا جو کہ MTA کے Director Production ہیں۔ حضور انور نے دریافت فرمایا سب ٹھیک ہو گیا؟منیر عودہ صاحب نے جوابا ً کہا جی حضور ۔

حضور انور نے دریافت فرمایا: آپ نے صرف میرا چہرا دکھا یا تھا؟ منیر عودہ صاحب نے جوابا ً کہا : حضور انور کا چہرا اور مسجد کی دیواریں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: صفات باری تعالیٰ؟منیر عودہ صاحب نے جوابا ً کہا: جی حضور، حضور انور نے فرمایا : ٹھیک ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوا کہ حضور انور کا صفات باری تعالٰی کے بارے میں دریافت فرمانا بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔کیونکہ ان آزمائش کے دنوں میں حضورانور نے جماعت کو بار بار نمازوں، عبادات اور اپنے خالق کی طرف ایک نئے جذبہ کے ساتھ رخ کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ حضور انور نے امید کا نظارہ دکھایا۔ حضور انور مبارک ذات میں امن ،تسلی اور اطمینان تھا۔

(بشکریہ۔ ریویو آف ریلیجنز۔ لندن)

(سید محمد احمد ناصر ۔ اسلام آباد ٹلفورڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ