• 29 مئی, 2020

لاک ڈاؤن (کورونا وائرس) کی حالت میں جماعت احمدیہ امریکہ کی تعلیم و تربیت اور خدمتِ خلق کے میدان میں مساعی

دنیا کا ہر خطہ اس وقت ایک وبائی مرض کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر شخص فکر مند نظر آرہا ہے۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر خبروں کا بازار گرم ہے، ہر شخص ورطہ حیرت میں ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس وبا سے نجات دے۔جو بیمارہیں انہیں بکلی شفا دے اور ہر ایک کو آستانہ الٰہی پر جھکنے کی توفیق دے۔ آمین

جیسا کہ میں نے لکھا کہ ہر شخص ہی پریشان اور متفکر ہے اس کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنے عجز اور بے بسی کا اظہار کر رہی ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ:

’’نیک کو کچھ غم نہیں گو بڑا گرداب ہے۔‘‘

ہمیں فکر ضرور ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے ناامیدی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری دعائیں سنے گا اور اس بلا اور آفت سے جو سب پر نازل ہوئی ہے اپنے فضل اور رحم سے چھٹکارا عطا فرمائے گا۔

ایسا اس لئے ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے “خلافت” کے انعام سے نوازا ہے جو ہر وقت صحیح طور پر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا اور خلیفہ حضرت سیدنا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ عالمگیر جماعت کو بار بار اس امر کی طرف رہنمائی فرما چکے ہیں کہ دنیا کے حالات پتہ نہیں کیسے ہوں اس لئے تمام احمدی 3 سے 6 ماہ تک کا راشن اور دیگر اشیائے زندگی خرید کر رکھیں جو نہ صرف اپنے کام آسکے بلکہ ضرورتمندوں کی ضرورت بھی پوری کی جاسکے کیونکہ خدمت خلق کرنا بھی جماعت احمدیہ کا ایک اہم فرض ہے۔الحمدللہ کہ جماعت احمدیہ کے ممبران نے دنیا کے ہر شہر اور بستی میں اپنے خلیفہ کی آواز پر کان دھرا اور دوسروں کی خدمت بجا لارہے ہیں ۔اس کےعلاوہ اس وقت دنیا میں حکومتوں نے یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ اجتماع میں شامل ہونے سے پرہیز کریں۔حتی کہ عبادت کی جگہوں پر بھی اکٹھے ہونا خطرے سےخالی نہیں ہے اس لئے ہر جگہ جماعتی پروگرامز کینسل کر دئیے گئے ہیں۔

اپنے ایک حالیہ پیغام میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہی فرمایا ہے کہ جبکہ حکومتوں کی طرف سے پابندیاں ہیں ان پابندیوں پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ نماز باجماعت کا اہتمام تو مساجد میں نہیں ہوسکتا مگر تمام احباب اپنے اپنے گھروں میں اپنے بیوی بچوں اور عزیزوں کے ساتھ نماز باجماعت اور جمعہ کا اہتمام کریں۔ نیز گھروں میں بھی قرآن، حدیث، ملفوظات کا درس دیں۔ الفضل سے بھی الحکم سے بھی یا حضرت مسیح موعودؑ کی کتب سے پڑھ کر خطبہ دیا جاسکتاہے۔ حضور انورنے یہ بھی فرمایا ہے کہ متعددی بیماریوں میں ایک دوسرےسے ملنا ٹھیک نہیں ہے۔ حضور انور نے اس سے قبل خدمت خلق کی طرف بھی سب کو توجہ دلائی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اور بس کی بات ہو دوسروں کی خبرگیری اور ان کی مدد کریں۔

جماعت احمدیہ کے افراد تو ہر سطح پر روزانہ ،ہفتہ وار اور خصوصاً ہفتہ اور اتوار کو لوکل جماعتی سطح اور ریجنل سطح پر احباب کی دینی ،روحانی اور علمی استعدادوں کو تیز کرنے کے لئے میٹنگز اور اجلاسات کرتی ہے ۔لیکن گزشتہ 2ہفتوں سے حکومت کی جانب سے میٹنگز اور اکٹھے ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے جماعت کے افراد نے خدا تعالیٰ کے فضل سےاحباب جماعت کی تعلیم و تربیت کا متبادل نظام ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کے لئے جماعتوں سے رابطہ کیا گیا اور ان سے رپورٹس لی گئیں ہیں۔ درج ذیل جماعتوں کی رپورٹس سے مختصراً احباب کی دلچسپی کے لئے وہ حصہ نقل کرتا ہوں ۔

بے پوائینٹ (Bay Point) : یہ کیلیفورنیا سٹیٹ کی ایک جماعت ہے وہاں کی جماعت کے صدر لکھتے ہیں۔

  1. جماعت کی عاملہ کی دو میٹنگز آن لائن منعقد کی گئیں۔ (یعنی ٹیلیفون کے ذریعہ)
  2. اسی طرح وہاں کے مربی صاحب قرآن کریم کی کلاسز کو بھی آن لائن لے رہے ہیں۔
  3. قرآن کلاس میں ترجمہ قرآن کریم لفظ بلفظ بھی پڑھایا جارہا ہے۔
  4. ہفتہ میں ایک بار ملفوظات کے درس بھی آن لائن بھی دیا جارہا ہے۔
  5. جن لوگوں کو کرونا وائرس کی ہومیوپیتھی دوائی چاہئے تھی۔ فون پر رابطہ کر کے ان کو دوائی مہیا کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
  6. مسیح موعودؑ ڈےبھی 29مارچ کو آن لائن کیا گیا۔ جس میں 45 فیملیز قریباً 120 احباب نے شرکت کی۔
  7. ایک دفعہ طاہر اکیڈمی کلاس بھی آن لائن پڑھائی گئی۔
  8. اسی طرح ہیڈ کوارٹر میری لینڈ سے آمدہ ہدایات جو نیشنل سیکورٹی امور عامہ صاحب نے دی تھیں خوراک کے پیکٹ بنائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور گروپ تیار کیا گیا ہے جو ممبران اور دیگر لوگوں کو جن کو ضرورت ہوگی یہ پیکٹ خوراک تقسیم کرے گی۔

9. انصار کی لوکل میٹنگ بھی آن لائن منعقد کی گئی۔

صدر مجلس خدام الاحمدیہ یوایس اے نے بتایا کہ مجلس خدام الاحمدیہ بار بار سب خدام کو حضرت خلیفۃ المسیح کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کر رہی ہے۔اس وقت سب سے اہم ضرورت اس ملک میں خون کے عطیہ دینے کی ہے۔ اس وقت ہم ہیومینیٹی فرسٹ اور ریڈ کراس آرگنائزیشن کے ساتھ کام کررہے ہیں کہ سارے ملک میں جہاں جہاں ممکن ہے ہماری مساجد میں خون کے عطیہ دینے کا انتظام کر رہے ہیں۔اسی طرح خدام الاحمدیہ اپنے خدمت خلق کے شعبہ کے تحت ہر جگہ ہمسائیگی میں معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کس کس کو اشیاء خوردنی ،فرسٹ ایڈ یا ضروریات زندگی کی اشیاء درکار ہیں اسے مہیا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے 600 فیملیز کو یہ اشیاء خوردنی مہیا کی ہیں۔الحمدللہ

مکرم صدر مجلس نے مزید بتایا کہ ہم اس وقت اکٹھے ہو کر میٹنگز تو نہیں کر پارہے لیکن سوال و جواب آن لائن کر رہے ہیں تاکہ مربیان کے ذریعہ خدام کے سوالوں کے جواب دئیے جاسکیں۔ اس پروگرام کا نام ہے (Quran Supreme) یعنی قرآن کو مقدم اور اعلیٰ سمجھو۔

اسی طرح خدام کے تعلیم ڈیپارٹمنٹ بھی پوری طرح مستعدی سے کام کر رہا ہے۔جس کے ذریعہ خدام کے ساتھ مختلف عناوین پر گفتگو ہورہی ہے خصوصاً موجودہ حالات کے حوالہ سے۔

اسی طرح صحت و جسمانی کے مہتمم صاحب کا ویڈیوبنا کر گھروں میں بھجوا رہے ہیں کہ گھروں میں کس طرح حفظانِ صحت کے اصولوں اور ورزش وغیرہ کی جاسکتی ہے تاکہ سب لوگ صحت مند رہیں۔

اطفال بھی یو ٹیوب اور زوم کے ذریعہ باقاعدگی کے ساتھ کلاسیں اٹینڈ کر رہے ہیں۔

تبلیغ ڈیپارٹمنٹ بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی کاوشوں میں مصروف ہے۔ الحمدللہ

نیویارک: مکرم محمود کوثر مربی سلسلہ لکھتے ہیں:

کہ ہم ان حالات میں جماعت کے احباب کے ساتھ باقاعدہ رابطوں میں ہیں۔ 4 جماعتوں میں سوموار تا جمعہ روزانہ درس دیا جارہا ہے یہ سب کچھ آن لائن روزانہ کی بنیاد پر ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ آن لائن زوم کے ذریعہ 3جماعتیں طاہر اکیڈمی کلاسز بھی کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یوم مسیح موعودؑبھی منایا گیا۔ اسی آن لائن زوم کے ذریعہ 500 سے زائد افراد اس میں شامل ہوئے۔ اور گھروں میں انہوں نے یوم مسیح موعود کی ساری تقاریر پر سنیں۔ اسی طرز پر تبلیغ بھی جاری ہے۔

Pacific North west ریجن کے مربی سلسلہ مکرم اکرم اعظم لکھتے ہیں کہ یہاں سی آٹل اور پورٹ لینڈ میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ سب لوگ گھروں میں بند ہیں۔ ہم نے جماعت کے ساتھ رابطہ رکھا ہوا ہے جس کے لئے آن لائن سٹریمنگ ہورہی ہے۔ اسی طرح یوٹیوب کے ذریعہ روزانہ درس دیا جارہا ہے۔ جس پر صرف لوکل جماعت کے احباب درس سن سکتے ہیں اور سوال بھی کر سکتے ہیں۔ یوم مسیح موعودؑ ڈے بھی اسی طرح منایا گیا جو کہ 2 گھنٹے کا پروگرام تھا۔ درس القرآن اور ملفوظات بھی دیا جار ہا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ تنظیمیں بھی آن لائن اپنے اپنے پروگرام کر رہی ہیں ۔زوم کے ذریعہ اطفال کی کلاسز بھی لگائی جا رہی ہیں۔

ڈلس: مکرم ظہیر احمد باجوہ لکھتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ بذیعہ فون رابطہ رکھا جارہا ہے۔ انہیں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے اقتباسات انگریزی میں بھجوائے جا رہےہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

’’گریہ و بکا کا پانی گناہوں کو دھو دیتا ہے۔‘‘

’’گناہوں کے ساتھ پانی کا تعلق ہر قوم نے رکھا ہے عیسائی بھی پانی سے بپتمسہ دیتے ہیں اور دوسری بعض قومیں بھی کسی نہ کسی پانی کے ذریعہ اپنے گناہوں کی معافی چاہتی ہیں۔ اسلام نے ایک پانی گناہوں کی معافی کے لئے رکھا ہے جو دوسری قوموں کو نصیب نہیں۔ وہ گریہ و بکا کا پانی ہے۔ دوسرے بیرونی اور غیر حقیقی پانی ہیں۔لیکن یہ پانی دل کے چشمہ سے پھوٹتا ہے۔ اور گناہوں کی تیرگی اور تاریکی کو لے جاتا ہے اور یہی حقیقی پانی ہے جس سے گناہ دھوئے جاتے ہیں۔‘‘

(الحکم 10نومبر1902ء)

آرلینڈو: مکرم صدر صاحب جماعت آرلینڈو لکھے ہیں کہ جماعت نے یہاں پر مسیح موعودؑ ڈے بذریعہ فون کانفرنس منایا کیونکہ مسجد میں احباب کو کرونا وائرس کی وجہ سے اکھٹے ہونا منع ہے۔ 28مارچ کو پروگرام تلاوت قرآن مع ترجمہ اور نظم ہے ترجمہ پیش کرنے کے بعد صدر جماعت نے یوم مسیح موعودؑ کی آمد کے بارے میں بتایا۔ ان کے بعد مکرم سید محمد عبداللہ مربی سلسلہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت پر تقریر کی۔ ایک اور دوست اسداللہ محمد نے حضرت مسیح موعودؑ کی محبت قرآن پر تقریر کی۔

اس کے بعد ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جس میں مکرم ڈاکٹر احسن شاہ، مکرم ڈاکٹر مرزا حارث، ڈاکٹر مونیح ورک (Moneeh Virk) نے کرونا وائرس کے بارے میں حفظ ماتقدم کے طور پر معلومات دیں اور سوالوں کے جواب دئیے۔دعا پر یہ جلسہ ختم ہوا۔

ڈیٹرائیٹ:مکرم ناصر بخاری جنرل سیکرٹری ڈیٹرائیٹ جماعت نے رپورٹ دی ہے کہ مشی گن سٹیٹ میں بھی کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جماعت کے ہر فرد کے ساتھ ممکنہ رابطہ رکھا جارہا ہے۔ ان کے لئے مکرم مقبول احمد طاہر صدر جماعت، خاکسار سید شمشاد احمد ناصر مربی سلسلہ اور نسیم خان صاحب سیکرٹری امور عامہ کی سرپرستی میں ٹیمیں تیار کی جاری ہیں۔ اور کھانے کے سٹاک نیز بوقت ضرورت تقسیم کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئیں ہیں۔ نیز مسجد میں فوڈ کا سٹاک رکھا گیا ہے۔ حلقہ جات میں بھی فوڈ کے سٹاک رکھا گیا ہے تا بوقت ضرورت کام آسکے۔

حضور انور کی ہدایات کے مطابق اس وقت تک ہم نے 200سے زائد فیملیز کو ہومیوپیتھی کی ادویات بھی تیار کر دی ہیں۔حلقہ جات میں بھی ادویات دینے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ غیرازجماعت کو بھی دوائی دی جارہی ہے۔

روزانہ درس۔جماعت کے ساتھ روزانہ تعلق رکھنے اور کی علمی و روحانی تربیت کے لئے روزانہ شام ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے تک Pzoom کے ذریعہ خاکسار درس دے رہا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے 65 سے زائد فیملیاں اس میں شامل ہو رہی ہیں اور یہ 200سے زائد احباب کی تعداد بنتی ہے۔

درس میں حضرت مسیح موعودؑ کے ملفوظات اور دیگر اخلاقی و روحانی واقعات پیش کئے جارہے ہیں خصوصاً سیرت اسلامی سے اور آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کے اس کے علاوہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ بھی روزانہ سوال و جواب ہورہے ہیں۔

نماز جمعہ کے بارے میں مرکزی ہدایات دی گئیں۔نماز جمعہ کا طریق بھی بتایا گیا۔شام کو درس میں بھی نماز جمعہ اور سوال و جواب ہوئے۔

طاہر اکیڈمی کی میٹنگز بھی اسی طور پر کی جارہی ہیں۔نیز جماعت کی مجلس عاملہ کی میٹنگ بھی اسی طرز ہوں گی ۔ان شاء اللہ

نوٹ:محترم امیر صاحب یوایس اے صاحبزادہ مرزا مغفور احمد نے تمام جماعت کے نام ایک پیغام بھجوایا ہے اس پیغام میں آپ نے احباب جماعت کو بتایا کہ 131سال پہلے 23مارچ 1889ء کو لدھیانہ انڈیا کے ایک گھر میں چند لوگ اکٹھے ہوئے۔حافظ حامد علی باہر کھڑے تھے اور جو لوگوں کو باری باری اندر بلا رہے تھے۔ اس کمرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے تھے۔ ہر آدمی آپ کے سامنے بیٹھتا اور اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دیتا اور دس شرائط بیعت کی پابندی اختیار کرنے پر بیعت کرتا تھا۔

40 مقدس روحوں نے بیعت کی جو ایک جماعت بنی اور جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔اور ہر جگہ یہ دن مسیح موعود ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن بطور خاص حضرت مسیح موعودؑ کے مشن، آپ کی سیرت و اخلاق اور ذمہ داریوں کے بارے کے بارے میں اور آپ کی آمد کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔

محترم امیر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب سے اقتباسات بھی بیان کئے جن میں آپ کی آمد کا مقصد بیان کیا گیا تھا۔

(1) ’’پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں۔‘‘
(2) ’’میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کے وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں۔ ’’کتاب البریہ‘‘
(3) ’’میں ظاہر ہوا ہوں تا خدا میرے ذریعہ سے ظاہر ہو… مگر اے عزیزوں!تم جو خدا کی طلب میں لگے ہوئے ہو،میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قرآن نازل کیا۔وہی ہے جس نے میرے پر تجلی کی اور جو ہردم میرے ساتھ ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی تحریرات کی رو سے۔

محترم امیر صاحب نے اپنے پیغام میں حضرت مسیح موعود ؑکا یہ حوالہ آئینہ کمالات اسلام ص79 سے نوٹ کیا۔

(4) ’’کون ہے دوست! جس نے نشان دیکھنے سے پہلے بھی قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہا نشان دیکھ لئے ہیں ، سو یہی میری جماعت ہے یہی میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مددکی اور مجھے غمگین دیکھا اور سارے غمخوار ہوئے اور نا آشنا ہوکر پھر آشناؤں کا سا ادب بجا لائے اور خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمت ہو۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام)

محترم امیر صاحب نے جماعت کے ممبران کو نصیحت کی کہ دیکھو اس کرہ ارض پر جماعت احمدیہ جیسی کوئی اور جماعت نہیں ہے۔ہم تو خدا تعالیٰ کے زندہ نشانوں کو مشاہدہ کرتے ہیں آپ نے کشتی نوح سے یہ اقتباس بھی پیش کیا کہ:

(5) ’’اگر تم خدا تعالیٰ کے ہوجاؤگے تو یقیناًسمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے اگر تم سوئے ہوئے ہوگے اور خدا تمہارے لئے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہوگے اور خدا اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا۔ تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کے لئے سخت غمگین ہو جاتے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 ص22)

آپ نے اپنے پیغام کو حضرت مسیح موعودؑ کی اس دعا پر ختم کیا۔

(6) ’’میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت اُن لوگوں میں ہوجائے جو خداتعالیٰ سےڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں اور میں امید رکھتاہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں۔‘‘ آمین

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص504 ،503)

جیسا کہ میں نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے لوگ اکٹھے نہیں ہو سکتے محترم امیر صاحب کا یہ پیغام ای میلز کے ذریعہ احباب جماعت امریکہ تک پہنچایا گیا۔

(سید شمشاد احمد ناصر ۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ