• 9 جولائی, 2020

باجماعت نماز کے دوران مقتدی کہاں کھڑا ہو؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 27 مارچ 2020ء کو جماعت کے نام ایک اہم پیغام میں کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں نماز باجماعت کا اہتمام کرنے کی تلقین فرمائی۔ گھر میں میاں بیوی اور دوسرے افراد کی صف بندی کے حوالہ سے دوست احباب سوالات کررہے تھے۔ ادارہ الفضل نے اس حوالہ سے افتاء کی جانب سے ایک مضمون مورخہ 06 اپریل 2020ء کو شامل اشاعت کیا۔ اس کے ساتھ ایک نقشہ بھی دیا گیا ہے۔ جس میں معمولی غلطی رہ گئی جسے درستگی کے بعد یہاں دوبارہ دیا جارہا ہے۔

(نوٹ: باپ یا شوہر کی بجائے کوئی بھی مرد نماز پڑھا سکتا ہے۔ اس نقشہ میں صرف پوزیشن واضح کی گئی ہے۔)

اس مضمون میں بعض قارئین نے حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا تعمل بھی بھجوایا ہے جو ازدیاد علم کی خاطر قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ تحریر کرتے ہیں: ’’ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔ میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آجایا کرتا ہے۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 637-636)

حضرت آپا مریم صدیقہ صاحبہ بیان کرتی ہیں:

’’(حضرت مصلح موعودؑ کو) نماز باجماعت کا اتنا خیال تھا کہ جب بیمار ہوتے اور مسجد نہ جا سکتے اور گھر ہی میں اپنے ساتھ عموماً مجھے کھڑا کر لیا کرتے اور جماعت سے نماز پڑھا دیتے کہ نماز باجماعت کی ادائیگی ہوجائے۔‘‘

(ماہنامہ مصباح جنوری، فروری 1967ء صفحات 3 تا 7 بحوالہ گلہائے محبت، حضرت مصلح موعودؑ کی حسین یادیں، حضرت سیده مریم صدیقہ صاحبہ (ام متین) صفحہ 51)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ