• 6 مئی, 2021

پس ہمارا کام یہ ہے کہ جب بھی ہم اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم پردشمنوں کے غلیظ حملوں کو دیکھیں تو سب سے پہلے اپنے عملوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ہٰذَا الْقُرْآنِِ لِیَذَّکَّرُوْا۔ وَمَا یَزِیْدُہُمْ اِلَّا نُفُوْرًا

(بنی اسرائیل: 42)

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ وَ لَا یَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا

(بنی اسرائیل: 83)

… مَیں نے جو آیات تلاوت کی ہیں اِن میں بھی خدا تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے کہ قرآن تو سچ ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ پہلی آیت جو مَیں نے پڑھی تھی اس کا ترجمہ یہ ہے۔ اور یقینا ہم نے اس قرآن میں (آیات کو) بار بار بیان کیا ہے تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ بایں ہمہ یہ اُنہیں نفرت سے دور بھاگنے کے سوا کسی اور چیز میں نہیں بڑھاتا۔ یہ سورۃ بنی اسرائیل کی بیالیسویں نمبر کی آیت ہے۔

پس قرآنِ کریم نے تو اِن لوگوں کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اِن لوگوں کا بھی وہی حال ہے جو کفار کا تھا۔ قرآنِ کریم کی ہر آیت جہاں اپنی پرانی تاریخ بتاتی ہے وہاں پیشگوئی بھی کرتی ہے۔ تو ایسے لوگ تو اسلام کی دشمنی میں پیدا ہوتے رہے اور پیدا ہوتے چلے جائیں گے جو باوجود قرآنِ کریم کی واضح تعلیم کے ہر پہلو کی وضاحت کے اور مختلف زاویوں سے وضاحت کے پھر بھی اس پر اعتراض ہی نکالیں گے۔ اور نہ صرف اعتراض نکالتے ہیں بلکہ فرمایا کہ قرآنِ کریم کی اس خوبصورت تعلیم کو جو ہم مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ یہ وضاحت جو ہے، مختلف پہلو سے بیان کرنا جو ہے یہ اِن لوگوں کی آنکھیں کھولے وَمَا یَزِیْدُہُمْ اِلَّا نُفُوْرًا۔ یہ اُن کو اس خوبصورت تعلیم سے نفرت کرتے ہوئے دُور بھاگنے میں ہی بڑھاتا ہے۔ یعنی وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے اس سے دور ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ پھر اسی سورۃ میں جو بنی اسرائیل کی ہے، آگے جا کے پھر ایسے لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ جو میں نے تلاوت کی ہے اُس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم قرآنِ کریم میں سے سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی اور چیز میں نہیں بڑھاتا۔

پس یہاں مزید وضاحت فرمائی کہ جیسا کسی کی فطرت ہو ویسا ہی اُسے نظر آتا ہے۔ کہتے ہیں یرقان زدہ مریض جو ہے اُس کی آنکھیں زرد ہو جاتی ہیں تو اُس کو ہر چیز زردنظر آتی ہے۔ جو بدفطرت ہے اُس کو اپنی فطرت کے مطابق ہی نظر آتا ہے۔ قرآنِ کریم نے جب ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ: 3) کا اعلان فرمایا ہے تو ابتدا میں ہی فرما دیا ہے کہ یہ جو ہدایت ہے اور اس قرآنِ کریم میں جو خوبصورت تعلیم ہے، جو سب سابقہ تعلیموں سے اعلیٰ ہے، یہ صرف انہی کو نظر آئے گی جن میں کچھ تقویٰ ہو گا۔ ہدایت اُنہی کو دے گی جن کے دل میں کچھ خوفِ خدا ہو گا۔ پس یہ لوگ جتنی چاہے دریدہ دہنی کرتے رہیں ہمیں اس کی فکر نہیں کہ اس ذریعہ سے یہ نعوذ باللہ قرآنِ کریم کی تعلیم کو نقصان پہنچا سکیں گے۔ قرآنِ کریم کے اعلیٰ مقام اور اس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ خود ذمہ دار ہے بلکہ یہ دوسری آیت جو مَیں نے پڑھی تھی اس میں تو مومنوں کو خوش خبری ہے کہ قرآنِ کریم تمہارے لئے رحمت کا سامان ہے۔ اور ہر لمحہ رحمت کا سامان مہیا کرتا چلا جائے گا۔ تمہاری روحانی بیماریوں کا بھی علاج ہے اور تمہاری جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، ہر قسم کی تعلیم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اور اگر اس سے پہلے کی آیت سے اس کو ملا لیں تو حقیقی مومنین کو یہ خوشخبری ہے کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (بنی اسرائیل: 82) کہ جھوٹ، فریب، مکاری اور باطل نے بھاگنا ہی ہے، یہ اُس کی تقدیر ہے۔ پس یہاں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سروں کی قیمت مقرر کرنے سے یا توڑ پھوڑ کرنے سے یا غلط قسم کے احتجاج کرنے سے قرآنِ کریم کی عزت قائم نہیں ہو گی بلکہ حقیقی مومن اپنے پر قرآنی تعلیم لاگو کر کے ہی قرآنِ کریم کی برتری ثابت کر سکتا ہے اور کرنے والا ہو گا۔ وہ اس کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کو دکھا کر حق اور باطل میں فرق ظاہر کریں گے۔ اور جب یہ تعلیم دنیا پر ظاہر ہو گی تو پھر اللہ تعالیٰ کی غالب تقدیر مومنوں کے لئے رحمت اور اُن زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کا نظارہ دکھائے گی۔ قرآنِ کریم کی فتح اور مومنین کی فتح ہو گی۔ دنیا کو اس کے بغیراب کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیم سے اپنی روحانی اور مادّی ترقی کے سامان پیدا کرے۔ اپنے اوپر یہ تعلیم لاگو کرے۔ پس ہمیں خاص طور پر احمدیوں کو ان لوگوں کے غلیظ اور اوچھے ہتھکنڈوں سے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ہم تو اُس مسیح موعود کے ماننے والے ہیں جس کو اس زمانہ میں قرآنِ کریم کی تعلیم کو دنیا میں دوبارہ پھیلانے کے لئے بھیجا گیا ہے جس کے بارے میں قرآنِ کریم سورۃ جمعہ میں فرماتا ہے کہ:

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ۔ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ۔ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ

(الجمعۃ آیات 2تا 4)

کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدوس ہے۔ کامل غلبہ والا ہے۔ (اور) صاحبِ حکمت ہے۔ وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے۔ انہیں پاک کرتا ہے۔ انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا ًکھلی کھلی گمراہی میں تھے۔ اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

… پھر اسلام نے جتنا انصاف پر زور دیا ہے کسی اور کتاب نے نہیں دیا۔ مثلاً ایک جگہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (الممتحنہ: 9) اور اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا یعنی اس بات سے، لوگوں سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیاکہ تم اُن سے نیکی کرو اور اُن سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

جو تم سے ڈرتے نہیں، تمہیں نقصان نہیں پہنچا رہے، اُن سے قطع تعلق کرنے سے یا اُن سے نیکی کرنے سے، یا اُن کو انصاف مہیا کرنے سے تمہیں اللہ تعالیٰ منع نہیں کرتا۔ پھر فرمایا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَٓاءَ بِالْقِسْطِ۔ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ اِعْدِلُوْا۔ ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

(سورۃ المائدۃ آیت 9)

کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو۔ یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرو یقینا ًاللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔
پھر فرماتا ہے:

وَاعْبُدُوااللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا

(سورۃالنساء: 37)

اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی، اور یتیموں سے بھی، اور مسکین لوگوں سے بھی، اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی، اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی، اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی، اور مسافروں سے بھی، اور اُن سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔ یقینا اللہ اُس کو پسندنہیں کرتا جو متکبر اور شیخی بگاڑنے والا ہے۔

اب اِن آیات میں پہلے وہ کفار جو دشمنی نہیں کرتے اُن سے نیکی اور انصاف کا حکم ہے۔ پھر سورۃ مائدہ کی آیت ہے اس میں فرمایا دشمنوں سے بھی عدل اور انصاف کروکہ دشمنی کی بھی کچھ حدود اور قیود ہوتی ہیں۔ دشمن اگر کمینی اور ذلیل حرکتیں کر رہا ہے تو تم انصاف سے ہٹ کر غیر ضروری دشمنیاں نہ کرو۔ جرم سے بڑھ کر سزا نہ دو۔ جیسے گندے اخلاق وہ دکھا رہا ہے تم بھی ویسے نہ دکھانے لگ جاؤ۔

پھر تیسری آیت جو سورۃ نساء کی آیت ہے اس میں والدین سے لے کر ہر انسان سے احسان کے سلوک کا ارشاد فرمایا ہے۔ یعنی کُل انسانیت سے حسنِ سلوک کرو اور احسان کرو تاکہ دنیا میں امن قائم ہو۔ تو امن کے قیام کے لئے، ایک پُر امن معاشرے کے لئے یہ اعلیٰ تعلیم ہے جو قرآنِ کریم نے ہمیں دی ہے اور یہی آج امن کی ضمانت ہے۔ نہ کہ وہ عمل جو ظالم امریکی پادری نے قرآنِ کریم کی توہین کر کے کیا ہے۔ ایسے لوگ یقیناً خدا تعالیٰ کے عذاب کو آواز دینے والے ہیں۔ پس ہمارا کام یہ ہے کہ جب بھی ہم اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم پردشمنوں کے غلیظ حملوں کو دیکھیں تو سب سے پہلے اپنے عملوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، پھر معاشرے میں اس خوبصورت تعلیم کا پرچار کریں اور اس کے لئے جو ذرائع بھی میسر ہیں اُنہیں استعمال کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ 25؍ مارچ 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اپریل 2021