• 6 مئی, 2021

ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب مرحوم ایک قابلِ رشک زندگی

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ

خدائے عرش کی تقدیر پوری ہوئی اور ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کو میں بچپن سے جانتا ہوں کیونکہ وہ سکول کے زمانہ میں میرے شاگرد رہے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے ہمیشہ خط و کتابت اور ملاقات کے ذریعہ تعلق قائم رکھا۔ میں اپنے ذاتی مشاہدہ اور ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر بدرالدین صاحب مرحوم بے حد شریف اور بے شر اور مخلص اور نیک فطرت انسان تھے۔ بچپن سے ہی وہ نمازوں کے پابند، قرآن کے عاشق اور دعاؤں میں شغف رکھتے تھے اور اصطلاحی طور پر غیر واقفِ زندگی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی ساری زندگی عملاً خدمتِ دین کے لئے وقف رکھی۔ تبلیغ ان کی روح کی غذا تھی اور سلسلہ کے لئے قربانی اور امام کی فرمانبرداری ان کا طرّہ امتیاز۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم سے بورنیوکے دور دراز ملک میں جا کر آباد ہو گئے اور وہیں اپنی بقیہ زندگی خدمتِ سلسلہ میں گزار دی اور اس ملک کو اس وقت چھوڑا جب انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا وقت آچکا ہے اور اب مجھے اپنے آشیانہ میں واپس پہنچ جانا چاہئے۔ چنانچہ ربوہ پہنچتے ہی چند دن کے اندر اندر اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہو گئے۔ ان کی زندگی حقیقتاً قابلِ رشک تھی۔ بے حد شریف، بے نفس، تہجد گزار، دعا گو اور قرآن خوان انسان تھے۔ ان کے سب قدیم و جدید دوست ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ غالباً تریسٹھ سال کی عمر تھی اور یہ وہی عمر ہے جس میں ہمارے محبوب آقا حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کے وصال کا پیغام آیا تھا۔ وَ کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت کرے اور ان کے بیوی بچگان کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔ آمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔

(محررہ یکم فروری 1961ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 7 فروری 1961ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اپریل 2021