• 25 مئی, 2020

اعلیٰ اخلاق کا اسوہ آنحضرتؐ تھے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’آپؑ فرماتے ہیں ’’ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہئے۔ اکثر آدمیوں کو میں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں‘‘ (بڑے سخی ہیں۔لوگوں کو دیتے بھی ہیں) ’’لیکن ساتھ ہی غصہ وَراور زُودرنج (بھی ہوتے) ہیں۔‘‘ (غصہ میں فوراً آ جاتے ہیں) ’’بعض حلیم توہیں لیکن بخیل ہیں۔‘‘ (بڑے حلیم ہیں، نرم مزاج ہیں لیکن کنجوس ہیں) ’’بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مارمار کرگھائل کردیتے ہیں مگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں۔ بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو اُن میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے۔‘‘ (یا تو غصہ میں آ گئے تو انکساری اور عاجزی کوئی نہیں۔ اگر انکساری اور عاجزی دکھائیں گے تو پھر جہاں بہادری کی ضرورت ہے وہ خُلق ان میں ختم ہو جاتا ہے) پھر آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی شان میں فرمایا کہ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ اور زندگی کے ہر میدان میں آپ نے اپنے خُلق کے وہ نمونے قائم کر دئیے جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن پر اپنی طاقت اور بساط کے مطابق چلنا ہر مومن کا فرض ہے … ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔ سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔ حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض رسول اللہ ﷺ کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔ اُس کا پھل، اُس کا پھول، اُس کی چھال، اس کے پتّے غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ مؤرخہ 9جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ13۔مئی 2020ء