• 5 جون, 2020

عبادت کے بغیر زندگی بے حقیقت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

  • ’’اپنی اگلی نسلوں کی تربیت کی کوشش کریں ان کو بار بار یہ بتائیں کہ عبادت کے بغیر تمہاری زندگی بالکل بے معنی اور بے حقیقت بلکہ باطل ہے۔ ایک اسی چیز ہے جو خداتعالیٰ کے ہاں کسی شمار میں نہیں آئے گی اس لئے جانوروں کی طرح یہیں مر مٹی ہو جاؤ گے۔ مگر فرق صرف یہ ہے کہ جانور مر کر نجات پاجاتے ہیں، تم مرنے کےبعد جزاسزا کے میدان میں حاضر کئے جاؤ گے۔ پس یہ شعور ہے جسے ہمیں اگلی نسلوں میں پیدا کرنا ہے اور رمضان المبارک میں ایک بہت اچھا موقع ہے کیونکہ فضاسازگار ہو جاتی ہے۔
  • رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ایسے چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں مساجد میں جو پہلے کبھی دکھائی نہیں دیتے اور ان کو دیکھ کر دل میں کسی حکم کی تحقیر کے جذبے پیدا ہوتے۔ کیونکہ اگر کوئی انسان ان چہروں کو دیکھے اور تحقیر کی نظر سے کہ اب آگیا ہے رمضان میں، پہلے کہاں تھا تو میرا یہ ایمان ہے کہ ایسی نظر سے دیکھنے والے کی اپنی عبادتیں بھی سب باطل ہو جائیں گی اور ضائع ہو جائیں گی۔ کیونکہ اللہ کے دربار میں اگر کوئی حاضرہوتاہے،ایک دفعہ بھی حاضرہوتا ہے اگر آپ کو اللہ سے محبت ہے تو پیار کی نظر ڈالنی چاہئے اس پر اور کوشش کرنی چاہئے کہ اس کو اور قریب کریں اور اس کو بتائیں کہ الحمدللہ تمہیں دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوتی ہے۔تم اٹھے، تکلیف کی ہے، پہلے عادت نہیں تھی اب آ گئے ہو۔ بسم الله جی آیاں نوں کہو اس کو اور اس کو پیارکے ساتھ سینے سے لگائیں تاکہ آپ کےذریعے سے اور آپ کے اخلاص کے اظہار کے ذریعے سے وہ ہمیشہ کے لئے خدا کا ہو جائے۔

یہ وہ طریق ہے جس سےآپ اپنے گھر میں پنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کر سکتے ہیں۔ جب وہ صبح اٹھتے ہیں تو ان کو پیار اور محبت کی نظر سے دیکھیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کو بتائیں کہ تم جو اٹھے ہو تو خدا کی خاطر اتھے ہو اور ان سے یہ گفتگو کیا کریں کہ بتاؤ آج نماز میں تم نے کیا کیا۔ کیا اللہ سے باتیں کیں۔ کیا دعائیں کیں اور اس طریق پر ان کے دل میں بچپن ہی سے خدا تعالیٰ کی محبت کے بیج مضبوطی سے گاڑ ے جائیں گے یعنی جڑیں ان کی مضبوط ہوں گی۔ ان میں وہ تمام صلاحیتں جو خدا کی محبت کے بیج میں ہوا کرتی ہیں وہ نشوونما پا کر کونپلیں نکالیں گی۔ پس رمضان اس پہلو سے کاشتکاری کا مہینہ ہے۔ آپ نے بچوں کے دلوں میں خدا کی محبت کے بیج بونے ہیں۔ اس طریق پر ان کی آبیاری کرنی ہے یعنی روزمرہ ان کو نیک باتیں بتا بتا کرکر ان بیجوں سے بڑی سرسبزی خوشنما کونپلیں پھوٹیں اور رفتہ رفتہ وہ بچے ایک شجرہ طیبہ کی صورت اختیار کر جائیں جس کی جڑیں تو زمین میںپیوستہ ہوتی ہیں مگر شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔

تو رمضان المبارک کو روزوں کے لحاظ سے جیسے گزارنا ہے وہ تو عام طور پر یہ سب جانتے ہی ہیںمگر میں اُن فائدوں پر نگاہ رکھ رہا ہوں جو رمضان میں خاص طور پر ہجوم کر کے آ جاتے ہیں اور اس وقت آپ اس ہجوم سے استفادہ کریں اور زیادہ سے زیادہ برکتیں لوٹ لیں۔ یہ مقصد ہے اس نصیحت کا جس کے لئے میں آج آپ کو متوجہ کر رہا ہوں۔ بعض لوگ جانتے ہیں کنکوے اڑائے جاتے ہیں مگر بسنت میںجو کنکووں کے اڑنے کا عالم ہے وہ چیز ہی اور ہو جاتی ہے۔ پس خدا کی یادوں کے لئے یہ مہینہ بسنت بن گیا ہے اور بار بار ذکر الہٰی کے جو گیت ہیں وہ گھر گھر سے بلند ہوتے یں۔ مختلف وقتوں میں اٹھتے ہیں، صبح شام تلاوت کی آوازیں آتی ہیںاور طرح طرح سے انسان اللہ کی یاد کو زندہ اور تازہ اور دائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ جو یاد آئے وہ پھر ہاتھ سےنکل نہ جائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 17جنوری 1998ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ13۔مئی 2020ء