• 25 مئی, 2020

آنحضرت ﷺ کے معجزات حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے اپنے انبیاء دُنیا میں بھیجتا رہاہے۔جو نسل انسانی کو اپنے حقیقی معبود کی عبادت کی طرف بُلاتے ہیں۔چنانچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک بڑی تعداد انکار کرتی ہے اور اُس نبی کی مخالفت کرتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے مختلف معجزات دکھاتا ہے۔جن کا ذکر ہمیں قرآن، بائبل اور اسی طرح دوسری کتب سماوی میں کثرت سے ملتا ہے۔ ان معجزات میں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں اور آپؐ کے معجزات کا ظہور ہر زمانہ میں ہوتاہے۔ہر زمانہ میں رسول اللہ ﷺ سے فیض پاکر اولیاء اللہ بھی کرامات دکھاتے چلے آرہے ہیں۔اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ہاتھ پر اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئےمعجزات دکھائے ہیں ۔ اس مضمون میں بھی رسول اللہ ﷺ کے بعض معجزات کا ذکر کیا جائے گاجن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں کیا ہے ۔

معجزہ کی حقیقت

حضرت مسیح موعود ؑ معجزہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
’’معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ایک اَمر خارق عادت یا ایک اَمر خیال اور گمان سے باہر اور اُمید سے بڑھ کر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اُس کے مخالفین کے عجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دُعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات و حدانیت و تقدّس و کمال سے منافی و مغائر نہ ہوا ور کسی دوسرے کی وکالت یا کارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔‘‘

(ازالہ ٔ اوہام ،روحانی خزائن جلد 3صفحہ261)

رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی دو اقسام

فرمایا ’’ہمارے نبی ﷺ کے نشان اور معجزات دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو آنجناب کے ہاتھ سے یا آپؐ کے قول یا آپؐ کے فعل یا آپؐ کی دُعا سے ظہور میں آئے اور ایسے معجزات شمار کے رو سے قریب تین ہزار کے ہیں اور دوسرے وہ معجزات ہیں جو آنجناب کی اُمّت کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور ایسے نشانوں کی لاکھوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اور ایسی کوئی صدی بھی نہیں گزری جس میں ایسے نشان ظہور میں نہ آئے ہوں۔‘‘

(کتاب البریّہ، روحانی خزائن جلد13 ص154)

پھر فرمایا۔ ’’آنحضرت ﷺ کے معجزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں وہ کیونکر چھپ سکتے ہیں صرف معجزات جو صحابہؓ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہے اور پیش گوئیاں تو شاید دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو وقتوں پر پوری ہو گئیں اورہوتی جاتی ہیں۔‘‘

(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جواب، روحانی خزائن جلد4 ص445)

رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ
’’جیسے انسان میں قویٰ موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے جیسے ہمارے سید و مولیٰ نبی ﷺ کے روحانی قویٰ جو دقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز وقوّی تھے سو انہی کے موافق قرآن شریف کا معجزہ دیا گیا جو جامع جمیع دقائق و معارف الٰہیہ ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 ص255)

فرمایا ’’خداتعالیٰ نے قرآن شریف کو جو معجزہ عطافرمایا ہے وہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم اور اُصول تمدن کا ہے اور اس کی بلاغت اور فصاحت کا ہےجس کا مقابلہ کوئی انسان کر نہیں سکتا اور ایسا ہی معجزہ غیب کی خبروں اور پیشگوئیوں کا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 ص482)

قرآن کریم کے معجزات کی چار اقسام

فرمایا: ’’معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں (1) معجزات عقلیہ (2) معجزات علمیہ (3) معجزات برکات ِروحانیہ (4) معجزات تصّرفاتِ خارجیہ۔ نمبر اول دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالیشان اور بدیہی الثبوت ہیں جن کو ہر یک زمانہ میں ہریک شخص تازہ بتازہ طور پرچشم دید ماجرا کی طرح دریافت کر سکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنی تصّرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں۔ انہیں میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد2 ص60)

فرمایا: ’’قرآن معجزات سے بھرا ہے اور خود وہ معجزہ ہے توجہ سے دیکھیں اور پیشگوئیاں تو اس میں دریا کی طرح بہہ رہی ہیں۔ اسلام کےصاحب نے ضُعفِ اسلام کے وقت اسلام کے غالب آنے کی خبردی ۔سلطنت روم کے غلبہ کی اُن کے مغلوب ہونے کے پہلے خبر دی ۔شق القمر کا معجزہ بھی موجود ہے۔‘‘

(جنگِ مقدس، روحانی خزائن جلد6 ص279)

رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا جاری رہنے کا معجزہ

فرمایا ’’ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہوگئی او ر معجزات نابود ہوگئے اور اُن کی اُمت خالی اور تہی دست ہے۔صرف قصّے اُن لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت ﷺ کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ معجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملین اُمت جو شرفِ اتباع سے مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا زندہ ہے۔‘‘

(چشمہ ٔ مسیحی، روحانی خزائن جلد20 ص351)

شاہ ایران کا معجزانہ طور پر قتل ہونا

فرمایا ’’جب شاہ ایران نے ہمارے نبی ﷺ کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کردیا ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی، روحانی خزائن جلد20 ص353)

رسول اللہ ﷺ کے معجزات

فرمایا ’’دُعائے آنحضرت ﷺ سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصّرف دکھلایا اور چاند کو دوٹکڑے کردیا۔ دوسرے و ہ تصّرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دُعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔تیسرے وہ تصّرف اعجازی جو آنحضرت ﷺ کو شرّ کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروزِ ہجرت کیا گیا یعنی کفار مکہ نے آنحضرت کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے اُس پاک نبی کو اِس بدارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی۔ بدھ کا روز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا۔ اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرتﷺ ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا۔تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیاگیا تھا ۔ جانبازی کے طور پر آنحضرت ﷺ کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مُو نہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت ﷺ کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اُسی کو رسو ل اللہ ﷺ سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں ………سو جب آنحضرت ﷺ اپنے اس وفاداراور جانثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اورچاہا کہ راہ میں کسی جگہ پاکر قتل کر ڈالیں………اس پُر خطر سفر میں وہ مولیٰ کریم ساتھ تھا جس نے اپنے……… اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصّرف اس راہ میں دکھلائے جو اجمالی طور پر قرآن شریف میں درج ہیں منجملہ ان کے ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت ﷺ کے گھر کا محاصرہ کررہے تھے سوخدائے تعالیٰ نے جیساکہ سورۂ یٰسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ………ایک یہ کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجود یکہ مخالفین اُس غار تک پہنچ گئے تھے۔ جس میں آنحضرت ﷺ معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرﷺ کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنا دیااور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذن ِالٰہی سے عنکبوت نے اُس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑکر ناکام واپس چلے گئے ۔از انجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت ﷺ کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آنحضرت ﷺ کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بد دُعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں سُم زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑا………چوتھی و ہ تصرف اعجازی کہ جب دُشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہوکر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر چڑھائی کی ………تب اللہ جلّ شانہٗ نے جناب موصوف کے ایک مُٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقامِ بدر میں دُشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور اُن کے لشکر کو شکست فاش ہوئی اور خدائے تعالیٰ نے اُن چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کر کے وہیں رکھا اور اُن کی لاشیں اُنہیں مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت ﷺ نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصّرفاتِ الٰہیہ کا (جو خارق عادت ہیں) قرآن شریف میں ذکر ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائین جلد2 ص64-67)

جنگ بدر میں معجزہ

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے سید و مولیٰ سیدالرسل حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے جنگ بدر میں ایک سنگریز وں کی مُٹھی کفار پر چلائی اور وہ مُٹھی کسی دُعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مُٹھی نے خدائی طاقت دِکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی اُن میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اَندھوں کی طرح ہوگئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی اُن میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔ وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔(الانفال: 18) یعنی جب تُو نے اُس مُٹھی کو پھینکا وہ تُونے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔ یعنی درپردہ الہٰی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔‘‘

(آئینہ کمالات ِاسلام، روحانی خزائن جلد5 ص65)

شق القمر کا معجزہ اور اس کی حقیقت

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں ۔
’’دوسرا معجزہ آنحضرت ﷺ کا جو شق القمر ہے اسی الٰہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کہ کوئی دُعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہٰی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آ گیا تھا اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺ نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دُعا نہ تھی ۔‘‘

(آئینہ کمالات ِاسلام، روحانی خزائن جلد5 ص66)

پھر فرمایا ’’شق القمر دراصل ایک قسم کا خسُوف ہی تھا اور آنحضرت ﷺ کے اشارہ سے ہوا۔‘‘

(ملفوظات جلد2 ص42)

شق القمر کے معجزہ میں حکمت

’’آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی شق قمر کی یہی حکمت تھی کہ جن کو پہلی کتابوں کے علم کانور ملا تھا وہ لوگ اس نور پر قائم نہ رہے اور ان کی دیانت اور امانت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔سو اس وقت بھی آسمان کے شق القمر نے ظاہر کردیا کہ زمین میں جو لوگ نور کے وارث تھے اُنہوں نے تاریکی سے پیار کیا ہے۔‘‘

(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد11 ص295)

رسول اللہ ﷺ کے متفرق معجزات

فرمایا ’’کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کردیا کہ تمام لشکر اور اُونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدارپر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا اُن سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ ا س سے بھر دیا اور بعض اوقات شورآب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اُس کو نہایت شیریں کردیااور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُن کواچھاکردیا اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جاپڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کردیا۔‘‘

(آئینہ کمالات ِاسلام، روحانی خزائن جلد5 ص66)

آنحضرت ﷺ کے چار بڑے معجزے

فرمایا ’’آنحضرت ﷺ کا کروڑ معجزوں سے بڑھ کر معجزہ تو یہ تھا کہ جس غرض کے لئےآئے تھے اُسے پورا کر گئے۔یہ ایسی بے نظیر کامیابی ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی میں کامل طور سے نہیں پائی جاتی۔حضرت موسیٰ ؑبھی رستے ہی میں مرگئے اور حضرت مسیح کی کامیابی تو اُن کے حواریوں کے سلوک سے ہویدا ہے۔ ہاں آپؐ کو ہی یہ شان حاصل ہوئی کہ جب گئے تو رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا (النّصر: 3) یعنی دینِ اللہ میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوتے دیکھ کر۔

دوسرا معجزہ۔ تبدیلِ اخلاق ہے کہ یا تو وہ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ (الاعراف:180) چارپایوں سے بھی بدتر تھے یا یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا (الفرقان:65) رات دن نمازوں میں گزارنے والے ہوگئے۔

تیسرا معجزہ۔ آپؐ کی غیر منقطع برکات ہیں ۔کُل نبیوں کے فیوض کے چشمے بند ہوگئے ۔مگر ہمارے نبی کریم ﷺ کا چشمہ ٔ فیض ابد تک جاری ہے چنانچہ اسی چشمہ سے پی کر ایک مسیح موعود اس اُمّت میں ظاہر ہوا۔چوتھی یہ بات بھی آپؐ ہی سے خاص ہے کہ کسی نبی کے لئے اس کی قوم ہر وقت دُعا نہیں کرتی مگر آنحضرت ﷺ کی اُمّت دُنیا کے کسی نہ کسی حصّہ میں نماز میں مشغول ہوتی ہے اور پڑھتی ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔ اس کے نتائج برکات کے رنگ میں ظاہر ہورہے ہیں چنانچہ انہی میں سے سلسلہ مکالمات ِالہٰی ہے جواس اُمّت کو دیا جاتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 ص205)

آنحضرت ﷺ کے اخلاقی معجزات

فرمایا ’’یک خوارق تو شقّ القمر وغیرہ کے علمی رنگ کے ہیں اور دوسرے حقائق و معارف کے۔تیسرا طبقہ معجزات کا اخلاقی معجزات ہیں۔اخلاقی کرامت میں بہت اثر ہوتا ہے ۔فلاسفر لوگ معارف اور حقائق سے تسلی نہیں پاسکتے ۔مگر اخلاقِ عظیمہ اُن پر بہت بڑا اور گہرا اثر کرتے ہیں۔ حضور سیّد المرسلین ﷺ کے اخلاقی معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے سوئے پڑے تھے کہ ناگاہ ایک شوروپُکار سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنگلی اعرابی تلوار کھینچ کر خود حضور پر آپڑا ہے۔اُس نے کہا ۔ اے محمد ﷺ ! بتا ،اس وقت میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے پورے اطمینان اور سچی سکینت سے جو حاصل تھی فرمایا کہ اللہ۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا عام انسانوں کی طرح نہ تھا۔ اللہ جو خداتعالیٰ کا ایک ذاتی اِسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کاملہ کا مستجمع ہے …………الغرض ایسے طور پر اللہ کا لفظ آپ ﷺ کے منہ سے نِکلا کہ اُس پر رُعب طاری ہو گیا اور ہاتھ کانپ گیا۔ تلوار گِرپڑی حضرت ﷺ نے وُہی تلوار اُٹھا کر کہا کہ اب بتلا۔ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟وہ ضعیف القلب جنگلی کس کا نام لے سکتا تھا۔ آخر آنحضرت ﷺ نے اپنے اخلاقِ فاضلہ کانمونہ دکھایا اور کہا۔ جاتجھے چھوڑ دیا اور مروّت اور شجاعت مُجھ سے سیکھ۔ اِس اخلاقی معجزہ نے اُس پر ایسا اثر کیا کہ وہ مسلمان ہوگیا …………

اسی طور پر آنحضرت ﷺ کے اخلاقی معجزات میں ایک اور معجزہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک وقت بہت سی بھیڑیں تھیں۔ ایک شخص نے کہا ۔ اس قدر مال اس سے پیشتر کسی کے پاس نہیں دیکھا ۔حضور ﷺ نے وہ سب بھیڑیں اُس کو دے دیں۔اُس نے فی الفور کہاکہ لارَیب آپ ﷺ سچےّ نبی ہیں سچے نبی کے بغیر اس قسم کی سخاوت دوسرے سے عمل میں آنی مشکل ہے۔ الغرض آنحضرت ﷺ کے اخلاق ِفاضلہ ایسے تھے کہ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ (القلم:5) قرآن میں وارد ہوا۔‘‘

(ملفوظات جلد1 ص64-63)

رؤیا کے ذریعہ ہدایت ملنا بھی رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے

فرمایا ’’جو لوگ فطری اُمور کی استعداد نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ اُن کو بذریعہ رؤیا کے سمجھا دیتا ہے ۔آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے بھی یہ بات تھی کہ لوگ رؤیا دیکھتے اور بعض وہ تھے جو کہ آپؐ کے جودوسخا کو دیکھ کر ایمان لائے۔‘‘

(ملفوظات جلد 3ص 334)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ مقام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
’’مَیں ہمیشہ تعجّب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ﷺ ہے(ہزار ہزار دُرود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دُنیا سے گم ہوچکی تھی وُہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دُنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی ۔اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مُرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 ص118)

(مبارک احمد منیر۔برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ13۔مئی 2020ء