• 5 جون, 2020

مضمون نگار مضامین لکھتے وقت اس ارشاد کو مدّنظر رکھیں

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔
سارا اخبار ہی دینی مضامین سے نہیں بھرنا چاہئے مگر اس طرف بھی کوئی توجہ نہیںکی جاتی۔ اگر ہم سارا دن نمازیں نہیں پڑھتے رہتے بلکہ اور بھی بیسیوں کام کرتے ہیں تو سارے اخبار میں دینی مضامین ہی اگر ہوں تو وہ کب لوگوں کیلئے دلچسپی کا موجب بن سکتے ہیں۔ قرآن کریم کو بھی دیکھ لو اس میں صرف خدا اور اس کے رسولوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ کہیں پانیوں کا ذکر ہے، کہیں بادلوں کا ذکر ہے، کہیں ہواؤں کا ذکر ہے، کہیں زمین کی حرکتوں کا ذکر ہے، کہیں حیوانات کا ذکر ہے، کہیں لڑائیوں کا ذکر ہے، کہیں سیاسیات کا ذکر ہے غرض مختلف قسم کے اذکار اس میں پائے جاتے ہیں مگر کیا الفضل قرآن سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے کہ اگر وہ علمی اور تاریخی اور اقتصادی اور صنعتی مضامین لکھے تو اس کی زبان صاف نہیں رہے گی۔ میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ مضامین میں تنوع پیدا کرو۔ علمی اور تاریخی مضامین لکھو، مختلف عنوانات پر مختصر نوٹ لکھو اس طرح تعلیمی، صنعتی، مذہبی اور اقتصادی مضامین لکھو، مختلف اقوام میں جو رسوم پائی جاتی ہیں ان پر وقتاً فوقتاً روشنی ڈالو، غیر مذاہب کے حالات لکھو، دلچسپ خبریں شائع کرو اور ان کے دَوران میں مذہبی مضامین بھی لکھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری کونین شکر میں لپٹی ہوئی ہوگی اور ہر کوئی شوق سے اسے کھانے کیلئے تیار رہے گا۔

(بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے۔انوارا لعلوم جلد15صفحہ6،7)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ13۔مئی 2020ء