• 29 مئی, 2020

حضرت مرزا کبیر الدین احمدؓ ۔لکھنؤ

حضرت مرزا کبیر الدین احمدؓ ولد مولوی امیرالدین قریبًا 1869ء میں پیدا ہوئے۔آپ اکبر آباد کے رہنے والے تھے لیکن بعد میں لکھنؤ آگئے اسی لئے زیادہ لکھنوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ پہلے آپ پولیس میں تھےبعدمیں ریلوے گارڈ کے طور پر ملازمت کی۔اس کے ساتھ آپؓ کو دینی علوم کا بھی خوب شوق تھا اس کے لیے دینی کتب کامطالعہ بغور کرتے۔خصوصًا آپؓ کو ردّ عیسائیت اوروفاتِ مسیح ؑ کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کا کافی شوق تھا۔اسی شوق اور لگن کا نتیجہ تھا کہ ایک ذخیرہ دینی کتب کا آپؓ کی ذاتی لائبریری میں موجود تھا۔آپؓ کے بھانجے مکرم سید ارشد علی احمدی لکھنوی آپؓ کے مختصر حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’1901ء سے پہلے مرزا کبیر الدین احمد صاحب مرحوم اور مرحوم کے چھوٹے بھائی مرزا حسام الدین صاحب جھانسی میں پولیس میں ملازم تھے۔وہاں ایک اوورسیر مشتاق احمد صاحب تھے اُنہیں کہیں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ازالہ اوہام مل گئی۔مشتاق احمد صاحب شاعر اور علم دوست آدمی تھے اور مرحوم کے دوست تھے۔انہوں نے مرزا صاحب مرحوم کے پاس مولوی رحمت اللہ صاحب اور پادری فنڈر کی کتابیں دیکھی تھیں وہ یہ جانتے تھے کہ مرحوم کو ردّ عیسائیت کا شوق ہے اس لیے انہوں نے ازالہ اوہام مرزا صاحب مرحوم کو دے دی، ازالہ اوہام پڑھنے کے بعد مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عریضہ لکھا اور بیعت کرلی ۔

ایک مرتبہ میں عزیز مکرم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر ممدوح سے باتیں کر رہا تھا۔دوران گفتگو میں چوہدری صاحب نے فرمایاکہ مرزا صاحب کیسے ہیں؟ میں نے کہا اچھے ہیں لیکن اب بہت بوڑھے ہونے کی وجہ سے سلسلے کے نو عمر کارکنوں کی کم سنتے ہیں، مکرم چوہدری صاحب نے گھبرا کر اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایاکہ یہ بہت قابلِ قدر لوگ ہیں جس زمانہ میں انہوں نے بیعت کی ہے وہ بڑا عجیب زمانہ تھا۔ چودہری صاحب کی اس روحانی کیفیت کا میرے اوپر بڑا گہرا اثر ہوااور اُس دن سے میں بالکل محتاط ہوگیا‘‘

(ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 28 جنوری 1953ء)

آپؓ قلمی جہاد میں بھی پیش پیش تھے آپ کے کئی مضامین جماعت احمدیہ کے پرانے لٹریچر میں محفوظ ہیں۔بعض مضامین ’’تحفۂ کبیر‘‘ اور ’’صحیفۂ کبیر‘‘ کے نام سے چھپتے رہے۔ حضرت قاضی ظہور الدین اکملؓ ایک جگہ آپؓ کے مضمون سے پہلے چند سطور میں لکھتے ہیں۔

’’برادر مکرم مرزا کبیرالدین صاحب احمدی جو اپنے اندر ایک کام کرنے والی روح رکھتے ہیں وقتًا فوقتًا کوئی نہ کوئی تحفہ اپنے احمدی بھائیوں کو بوساطت تشحیذ بھیجتے رہتے،چنانچہ اس دفعہ بھی ان کی طرف سے دو اہل علم کی تحریریں شائع کی جاتی ہیں جو وفات مسیح کا اقرار کرتے ہیں۔ برادر کبیر نے شیعہ مسجد امین آباد پارک لکھنؤ میں معرکہ جیتا اور آخر محمد حسن بن محمد عباس مجتہد و استاد مدرسہ ناظمیہ سے تحریر لکھوالی….‘‘

(تشحیذ الاذہان اپریل 1921ء)

خلافت اولیٰ کے زمانے میں فتنہ پھیلانے والے گمنام ٹریکٹس جب آپؓ تک پہنچتے تو آپؓ اُن سے وہی سلوک کرتے جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ چنانچہ اخبار بدر نے ایک مرتبہ تمام احباب جماعت کو ایسی تحریرات کے متعلق ہدایت دیتے ہوئے لکھا۔

’’ایسے ٹریکٹوں کو ہمارے احباب مثل مولوی کبیر الدین احمد صاحب آگ میں ڈال دیا کریں۔‘‘

(بدر 27نومبر 1913ء)

بعد میں جب یہ صاحبِ ٹریکٹ لوگ کھل کر سامنے آگئے تو ایک جید اکابر پیغامی نے آپؓ کو خلافت ثانیہ سے علیحدہ ہونے کا مشورہ دیا، آپؓ نے جواب دیتے ہوئے لکھا۔

’’عاجز تو راہ مستقیم پر ہے دنیوی line پر بھی سیدھا راستہ اختیار کئے ہوئے ہوں۔کون نہیں جانتا کہ میں گارڈ ہوں جس کا مفہوم یہ ہے کہ ابن السبیل کو منزل مقصود تک پہنچا دینا سو آپ کو خوشخبری پہنچاتا ہوں کہ دیکھو محمود احمد ہی غلام احمد ہے ….مجھ سے محبت آپ کی تو جب ہی ثابت ہو کہ جب آپ کتاب حقیقۃالنبوۃ کے مصنف کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔‘‘

(اخبار ’’فاروق‘‘ 20 جنوری 1916ء)

ایک دفعہ ایک صاحب سجاد حسین جوہری لکھنؤ کے ایک خط کے جواب میں آپؓ نے اپنی ایک نظم اور مضمون بھیجا جو رسالہ تشحیذالاذہان میں شائع ہوا۔نظم کے چند اشعار کچھ اس طرح ہیں۔

کیا یہ تحقیق ہے اَڑ بیٹھے ہو اس رائے پہ تم
ان تفاسیر کو بھی ہاتھ لگایا ہوتا
دیکھتے حضرت رازی کی جو تفسیر کبیر
سوچتے، مردے کو زندہ نہ بتایا ہوتا
آل عمران میں ہے لفظ توفّی اس سے
زندہ عیسیٰ کو بھلا کرکے دکھایا ہوتا
بعثت ثانی احمد کے سمجھنے کے لیے
سورۂ جمعہ ذرا دل میں بسایا ہوتا
جوہری! لعل محمد کے پرکھنے کے لیے
جوہر صدق و صفا تم نے دکھایا ہوتا

(تشحیذ الاذہان ستمبر 1921ء صفحہ 33)

تبلیغ کے میدان میں آپؓ ہندوستان کے بڑے علماء کے ساتھ بھی رابطے رکھتے۔ اس سلسلہ میں مولوی عبدالباری فرنگی محل، مولانا ابو الکلام آزاد اور خواجہ حسن نظامی صاحب وغیرہ کے ساتھ خط و کتابت اور گفتگو جماعتی لٹریچر میں محفوظ ہے۔

تبلیغ احمدیت کرکے جہاں آپؓ قرآنی بیان وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعٰی اِلَی اللّٰہِ کے مصداق تھےوہاں اسی بیان کے اگلے حصے وَعَمِلَ صَالِحًا اور اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ کو بھی احسن رنگ میں اپنائے ہوئے تھے اور اپنے نیک نمونے سے معاندین کے دلوں کو بھی مفتوح کر لیتے تھے، حضرت مولانا غلام رسول راجیکیؓ نے ایک مرتبہ دارالیمن ربوہ میں ایک لیکچر کے دوران آپ کا ایک دلچسپ اور مفید ایمان واقعہ سناتے ہوئے فرمایا۔

’’مجھے ایک دفعہ لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی مرزا کبیرالدین ؓ صاحب بھی تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایک دن بازار میں سے گزر رہے تھے کہ کسی شخص نے انہیں آواز دے کر بلایا اور کہا کہ مجھے ذرا مرزا صاحب کے متعلق ضروری بات تو سمجھادو، مرزا کبیرالدین صاحب فرماتے ہیں کہ مَیں اس دکاندار کے ساتھ ابھی اس سلسلہ میں مصروف گفتگو ہی تھا کہ اتنے میں کسی شخص نے میری پیٹھ اور سرین پر زور زور سے ڈنڈے مارنے شروع کیے، میں نے دیکھا کہ اس علاقہ کے ایک مشہور مولوی صاحب سخت غضبناک حالت میں یہ حرکت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ گالیاں بھی دے رہے ہیں انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ میری کمر اور سرین زخمی ہوگئے جب وہ ذرا مدہم ہوئے تو مَیں نے ان سے دست بدست عرض کیا کہ مولوی صاحب! آپ نے مجھے آپ کے بھائی کی خدمت کا یہ صلہ دیا ہے مجھے تو آپ کے ایک بھائی نے ایک خدمت کے لیے بلایا تھا مَیں ان کو بتا کر ان کی ایک خدمت بجا لا رہا تھا اگر اس خدمت کا صلہ یہی ہے تو اس میں بھی مَیں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اگر آپ حقیقتاً اس خدمت کا میرے لیے یہی صلہ سمجھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس صلہ کی اور توفیق دے اور اگر میں آپ کی خدمت اس طرح کر سکتا ہوں کہ آپ سیر ہوکر مجھے زد و کوب کرلیں تو مَیں حاضر ہوں، اس پر مولوی نے اور گالیاں دیں اور کہا تم یہاں مرزا صاحب کا نام ہی کیوں لیتے ہو؟ بہر حال مرزا صاحبؓ گھر آگئے اور آکر خیال کیا کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مصرعہ “ گالیاں سن کے دعا دو پاکے دکھ آرام دو” کے ایک حصہ پر تو عمل کر لیا ہے دوسرے حصہ پر عمل کرنا باقی ہے جب میں نے دکھ پایا ہے تو حضور علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق آرام پہنچانا بھی ضروری ہے چنانچہ مرزا کبیر الدین صاحب نے پھلوں کی ایک ٹوکری لی اور مولوی صاحب کے دروازہ پر دستک دے دی، اندر سے مولوی صاحب نے گرج کر کہا کہ کون ہے؟ اور دروازہ کھولنے کے لیے باہر آگئے جب انہوں نے دروازہ کھولا تو میں نے عرض کیا خادم کبیر الدین جناب کی خدمت میں یہ نذرانہ لے کر حاضر ہوا ہے۔ مرزا صاحب نے بیان فرمایا کہ مولوی صاحب نے وہ پھل تو ہاتھ میں لے لئے لیکن ان کے بدن پر لرزہ طاری ہوگیا اور فوراً رو پڑے اور کہا کہ مرزا صاحب مَیں بہت گنہگار ہوں، مَیں بہت بد دیانت ہوں، مَیں بہت شیطان اور بدکار ہوں (بہت سی گالیاں اپنے آپ کو دیں) مَیں نے آپ پر بہت ظلم کیا ہے۔آپ مجھے معاف کردیں مَیں توبہ کرتا ہوں مجھ سے بہت غلطی ہوئی۔یہ کہہ رہے تھے اور بے تحاشا رو رہے تھے اور کہتے تھے کہ جس شخص نے ایسے پاکباز لوگ تیار کئے ہوں وہ جھوٹا نہیں ہوسکتاْ۔مرزا کبیرالدین! تم واقعی سچے ہو، مرزا صاحب واقعی سچے ہیں،تمہارا نمونہ واقعی اسلام کا نمونہ ہے مَیں ہی کافر ہوں۔ چنانچہ اس کے بعد مولوی صاحب نے مخالفت بند کردی اور مدّاح ہوگئے، شہر کے علماء کو بھی یہ علم ہوگیا کہ مولوی صاحب کی طبیعت نصیبِ دشمناں کچھ خراب ہے انہوں نے ایک اجلاس عام کیا جس میں سرِفہرست مولوی صاحب کا نام لکھا اور مولوی صاحب سے یہ درخواست کی کہ وہ اس اجلاس میں مرزا صاحب کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں، مولوی صاحب نے کہا کہ بے شک تم لوگوں نے میرا نام رکھا ہے سو دفعہ رکھو لیکن میں مرزا صاحب کے متعلق کچھ نہ کہوں گا وہ میرے نزدیک سچے ہیں اُنہوں نے جو جماعت قائم کی ہے اس نے نہایت اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے۔‘‘

(ماہنامہ ’’مصباح‘‘ فروری 1953ء صفحہ 30۔31)

آپؓ نے اپنی ٹوپی پر نمایاں طور پر لفظ ’’احمدی‘‘ لکھوا رکھا تھا تاکہ لوگوں کو بغیر بتائے ہی اپنا تعارف کروادیں کہ آپؓ جماعت احمدیہ سے وابستہ ہیں، اس لئے چلتے پھرتے احمدیت کی پرچار کرتے تھے۔

(بدر 14 جون 1912ء)

آپؓ کی تبلیغی مساعی کے متعلق حضرت عبدالمغنی ناظر بیت المال قادیان نے 1930ء میں ایک رپورٹ میں لکھا۔

’’لکھنؤ …. اس جماعت کی بنیاد جہاں تک دفتر ہذا کو علم ہے مرزا کبیرالدین احمد صاحب کے ہاتھ سے پڑی ہے جنہوں نے اپنے طریق پر اس جماعت کے قیام و ترقی کے لئے ابتدا میں وہ سعی کی ہے جس سے بڑھ کر سعی کرنا ان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانی طاقت سے باہر معلوم ہوتا ہے کچھ عرصہ کے بعد مرزا کبیرالدین احمد صاحب کے تین نوجوان عزیز سید ارتضیٰ علی صاحب وارشد علی صاحب اور سیٹھ خیرالدین صاحب بھی اس کوشش میں ان کے شریک ہوگئے اور یہ سب احمدیت کی تبلیغ کا حق ادا کرتے رہے۔‘‘

(الفضل 28 جنوری 1930ء)

آپؓ کی مدلل اور علمی تبلیغ کے جواب میں مخالفین علمی جوابات سے تو عاجز تھے لہٰذا علمی جواب کی بجائے کسی شرارت یا فتنہ کی صورت میں جواب دینے کی تلاش میں تھے۔ ایک مرتبہ کسی فتنہ پرداز نے آپ کے تمام گھر کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے گھر کا سارا قیمتی سامان جل کر خاکستر ہوگیا، اخبار الحکم نے ’’آشیانہ کبیر جلا دیا گیا۔ ذلیل دشمن کا پاجیانہ حملہ‘‘ عنوان کے تحت اس خبر کی تفصیل دی۔

(الحکم 28مئی و 7جون 1915ء)

جماعت کے کاموں کو نہایت ذمہ داری اور احسن رنگ میں سر انجام دیتے، حضرت مفتی محمد صادق ؓاپنے ایک دورۂ لکھنو کے متعلق لکھتے ہیں۔

’’مولوی کبیر الدین احمد صاحب نے تمام حساب و کتاب ایسا باقاعدہ رکھا ہوا ہے کہ جب میں ان کے دولت خانہ پر پہنچا تو وہ موجود نہ تھے۔مگر ان کے رجسٹر مجھے مل گئے جن کو بغیر ان کی موجودگی کے میں بہ آسانی تمام ملاحظہ کر سکا اور کسی بات کے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔

….مولوی کبیرالدین احمد صاحب ایک بڑے مخلص اور جوشیلے احمدی ہیں ان کے مکان کا در و دیوار احمدیت کی صداقت کا اعلان کر رہا ہے اور ان کے اس دلی جوش میں اُن کے گھر کے تمام چھوٹے بڑے زن ومرد ان کے ہم رنگ ہیں، ان کے مکان کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے اور میرے رفقاء …. کو ایسی محبت کی خوشبو آئی کہ ہم ایک سیکنڈ میں باوجود ہمارے میزبان کے اس وقت گھر میں نہ ہونے کے ایسی بے تکلفی محسوس ہوئی کہ گویا اپنے گھر میں ہیں۔‘‘

(بدر 27 اکتوبر 1910ء)

محترم محمد عطاء الرحمن احمدی آف آسام آپؓ کے حسن خلق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’میں آج اخویم کبیرالدین احمد صاحب احمدی سے مل کر اس قدر خوش ہوا کہ بیان سے باہر ہے، آپ خاص طور سے احمدیت کے رنگ میں رنگین ہیں، بڑے تپاک اور خلق سے ملے اُن کے اخلاص اور محبت کا ذکر کرنا عبث ہے۔میرے خیال میں یہی لکھنا کافی ہوگا کہ آپ ہماری جماعت کا ایک بہترین نمونہ ہیں، لکھنؤ کی انجمن احمدیہ کے سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے آپ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت میں سرگرم ہیں اور باوجود یہ کہ اُن کی ملازمت ایسی ہے کہ مستقل طور پر ایک جگہ رہنے کو اجازت نہیں دیتی۔تاہم آپ تبلیغ اور اشاعت اسلام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ انجمن احمدیہ کا آفس بھی میں نے معائنہ کیا رسید بھی اور دیگر رجسٹرات کمال حفاظت کے ساتھ مکمل رکھے ہوئے تھے اور تمام حساب کتاب آئینہ کی طرح صاف پایا۔اُن کا نظم و نسق و انتظام واقعی قابل تعریف ہے۔سب سے بڑی صفت جو میں نے اُن میں پائی وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب موصوف اظہار عقائد اور علانیہ تبلیغ بڑی جرأت کے ساتھ کرتے ہیں اور مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔یہ اخلاقی جرأت فی الواقع قابل تقلید ہے اور میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ بہت سی باتوں میں کبیرالدین صاحب ہمارے برادران احمدیہ کے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ میری یہ دعا ہے کہ خدائے ذوالجلال اُن کے مساعی جمیلہ کو بابرکت ثابت کرے اور اس اطراف میں احمدیت کو بیش از پیش پھیلانے میں اُن کو روح القدس سے تائید کرے۔ آمین ثم آمین‘‘

(بدر 3 تا 10 نومبر 1910ء)

ایک مرتبہ آپؓ نے عید الفطروالے دن نماز عید سے قبل ایک مسکین مفلس کو عید کی خوشی میں آٹے دال کی دکان کھول دی اس پر آپؓ کے بھائی مرزا حسام الدین نے کہا کہ قبل از نماز عید یہ فعل درست نہیں، آپؓ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہنمائی کے لئے تحریر کردیا جس کے جواب میں حضورؓ نے فرمایا۔

عزیز من! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔ آپ نے بہت ہی اچھا کام کیا کہ عید کے روز ایک مفلس کی دستگیری فرمائی۔ عید سے پہلے ہی تو فطرانہ بھی دیا جاتا ہے اگر دوکان نکلوا دی تو اور بھی زیادہ ثواب کاکام کیا۔ شرعاً ایسا فعل ہرگز ممنوع نہیں۔

نورالدین۔ 13۔اکتوبر 1908ء قادیان

(بدر 27 اکتوبر 1910ء)

تقسیم ملک کے بعد آپؓ لکھنؤ (بھارت) میں ہی رہےاور 15 جنوری 1953ء کو وفات پائی اِنَّاللّٰہ وَ اِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون۔ حضرت قاضی ظہور الدین اکمل رضی اللہ عنہ کا آپؓ کے متعلق مضمون اخبار الفضل 29 جنوری 1953ء صفحہ 6 پر شائع شدہ ہے۔

آپؓ کے والد محترم مکرم مولوی امیرالدین نے مورخہ 11جون 1920ء کو بعمر 80سال وفات پائی مرحوم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق تھے۔

(الفضل 8جولائی 1920ء)

(غلام مصباح بلوچ۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ13۔مئی 2020ء